ذہانت ایک آزمائش

سیما آفتاب نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مارچ 21, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    377
    [​IMG]
    ذہین آدمی کا فتنہ
    تحریر: مولانا وحیدالدین خان​

    ذہانت ایک عظیم نعمت ہے- مگر اسی کے ساتھ ذہانت ایک عظیم فتنہ بهی ہے- جو آدمی زیاده ذہین هو، اس کے اندر بہت جلد اپنے بارے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر، برتری کا احساس پیدا هوتا جاتا ہے- اس احساس برتری کی بنا پر ایسا هوتا ہے کہ وه کسی دوسرے شخص کا اعتراف نہیں کر پاتا- اس بے اعترافی کی مختلف صورتیں ہیں-

    اس بے اعترافی کی بنا پر بعض افراد کا یہ حال هوتا ہے کہ ان سے کوئی بات کہی جائے تو فوراً وه اس کے لیے اپنا کوئی ذاتی حوالہ ڈهونڈ لیں گے- وه کہیں گے کہ میں نے فلاں موقع پر یہ بات کہی تهی- کچھ افراد اپنے اس مزاج کی بنا پر ایسا کرتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات کہی جائے تو وه فوراً اس کو کاٹ دیں گے اور پهر اسی بات کو خود اپنے لفظوں میں بیان کریں گے- اسی طرح بعض افراد پوری بات کو نظر انداز کر کے ایک شوشہ نکال لیں گے، اور پهر وه اس شوشے پر اس طرح تقریر کریں گے، جیسے کہ یہی شوشہ اصل ہے اور بقیہ باتوں کی کوئی اہمیت نہیں-

    ایک اور قسم ان افراد کی ہے جن کے سامنے کچھ باتیں کہی جائیں تو وه اس کو مثبت ذہین کے ساتھ نہیں سنیں گے- ان کا ذہن اس تلاش میں رہے گا کہ مختلف باتوں میں سے وه کوئی ایک بات ڈهونڈ لیں جس میں بظاہر کوئی کمزور پہلو موجود هو، اور پهر اسی ایک بات کو لے کر وه بقیہ کہی هوئی باتوں کو رد کردیں گے-

    اس مزاج کا یہ نقصان ذہین آدمی کے حصے میں آتا ہے کہ اس کا ذہنی ارتقا صرف محدود طور پر هوتا ہے، وسیع تر انداز میں ذہنی ارتقا نہیں هوتا- جو چیزیں اس کے لیے ذاتی انٹرسٹ کی حیثیت رکهتی ہیں، مثلا اپنا جاب یا اپنے بچوں کا مسقبل، اس طرح کے معاملے میں وه پوری طرح سنجیده هوتا ہے- اس لیے ایسے معاملے میں اس کا ذہن اچهی طرح کام کرتا ہے- بقیہ معاملات میں وه سنجیده نہیں هوتا، اس لیے بقیہ اعتبار سے اس کا ذہنی ارتقا بهی نہیں هوتا- اس طرح عملاً وه ایک ذہین بے وقوف، یا بے وقوف ذہین بن کر ره جاتا ہے-
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    160
    بہت عمدہ۔۔۔۔
    اور ایسے بے وقوف ذہین خسارے میں ہیں
    لیکن یہ احساس ِ برتری کسی دوسرے کو ضرور احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے ،جو ایسے بے وقوف ذہین ہوں وہ کسی دوسرے کو پنپنے کا موقع ہی فراہم نہیں کرتے ، مستحق کی حق تلفی ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔ہمارے ملک کے اقتدارِ اعلی ایسے ہی ذہین بے وقوف ہیں
    انسان میں کونسی صلاحیتیں موجود ہیں اور کونسی صلاحییت کو کس طرح، کس جگہ، کب، کیسے بوقتِ ضرورت استعمال کیا جائے یہ ذہانت کا امتحان ہوتا ہے

    ایماندار انسان کسی دوسرے کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے میں کسی بخیلی سے کام نہیں لیتا وہ اپنی صلاحیتوں کا بھی لوہا منواناتا ہے دوسرے کو بھی تھپکی دے کر متحرک کرتا ہے ایسے انسان اب کمیاب ہیں
     
    • متفق متفق x 1
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    377
    بالکل ایسی ذہانت کا کیا فائدہ ؟؟

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    500
    عمدہ انتخاب
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    500
    مولانا وحید الدین خان کے عقائد و نظریات کی وضاحت کردیں تو عین نوازش ہوگی۔
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,064
    حافظ بھائی.آپ اس حوالے سے ایک تحریر لکھ کر پوسٹ کردیں. تو بہتر ہے. اس طرح اراکین وحید الدین خان صاحب کے نظریات و عقائد جان لیں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    500
    اس سلسلہ میں تفصیل تو میرے علم میں نہیں ہے البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ السلام ہونے کا دعوی کیا (اللہ اعلم)
    یہ بات اس وقت کی ہے جب میں عالمیت سال دوم میں تھا اس وقت ایک محفل جامعہ دار السلام عمرآباد (تمل ناڈو) میں قائم کی گئی اس وقت ایک داعی (جو میرے خیال کے مطابق وہ میسور کے رہنے والے ہیں) انہوں نے یہ بات کہی تھی۔

    دوسرے دن دوران درس استاد محترم مولانا عبد المالک سیفی عمری حفظہ اللہ نے ہم طلباء سے یہ کہا کہ مولانا وحید الدین خان کی کتابوں کے مطالعہ سے اجتناب کریں کیونکہ مولانا کا عقیدہ اب درست نہیں ہے ان کے کتب کے مطالعہ سے چند علماء کا عقیدہ بھی بدل گیا ہے اور مزید یہ بھی کہا کہ مولانا کی جو بھی کتابیں سن 2010ء کے بعد کی ہیں ان کتابوں کا مطالعہ نہ کریں البتہ 2010ء سے قبل کی کتابوں کے مطالعہ میں کوئی حرج نہیں ۔(اللہ اعلم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. صادق تیمی

    صادق تیمی نوآموز

    شمولیت:
    ‏مارچ 21, 2018
    پیغامات:
    16
    بات دراصل یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان ایک اچھے قلم کار و مصنف و مفکر ہیں لیکن ان کا اشہب قلم صحت و انصاف کے دایرے سے نکلا ہوا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  9. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    اپنی کتاب " قیامت کا الارم " میں کچھ انکے مندرجہ ذیل عقائد ہیں
    یہ عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں " یہی عقیدہ مرزا غلام قادیانی لعین کا تھا " جو کہ اہلسنۃ کے عقیدہ کے خلاف ہے

    کہتے ہیں کہ میرے نزدیک عیسی علیہ السلام کی وفات اسی طرح ہوچکی ہے جسطرح دوسرے پیغمبروں کی ہوئی ہے

    پھر یہ عیسی علیہ السلام کے نزول کے قائل نہیں اور کہتے ہیں قرآن و سنت میں اسکی کوئی دلیل نہیں

    کہتے ہیں کہ لوگوں میں یہ جو تصور پھیلا ہوا ہے اور جو بات جو مشہور ہوچکی ہے کہ عیسی علیہ السلام جسمانی طور پر آئیں گے اور دجال کو قتل کرینگے " یہ نہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نہ حدیث سے " دو درجن سے زیادہ روایتوں میں ذکر ہے لیکن کسی حدیث میں صراحتا یہ موجود نہیں کہ مسیح جسمانی طور پر آئیں گے

    قرآن و حدیث سے ثابت شدہ مسئلہ پر انکا صریح انکار ہے جو کہ سیدھا سیدھا کفر ہے اور مولانا وحید الدین خان کا یہی عقیدہ انکو کفر جانب لے جارہا ہے

    اور ظاہری طور پر ان سب باتوں سے وہ اپنے آپ کو ان سب کا محور بناکر پیش کررہے ہیں کہ جو کچھ قرب قیامت میں وقوع پذیر ہورہا ہے اور ہوگا اسکا میں اور میرا مشن ہی مصداق ہیں اور اگر آپ انکی کتب کا مطالعہ کرینگے تو سب کچھ روز روشن کی طرح آپ پر عیاں ہوجائے گا

    ----------------------

    اپنے رسالہ معرفت الہی "
    الرسالہ" میں کچھ انکے مندرجہ ذیل عقائد ہیں (شمارہ جون 2011)
    کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنی معرفت حاصل کرنے پر ابھارا اور ترغیب دلائی ہے لیکن معرفت کیا ہے ؟ کس چیز کا نام ہے ؟ اسکا پورے قرآن میں کہیں ذکر نہیں اور نہ اللہ نے کہیں بیان کیا ہے " جوکہ مولانا کا صریح جھوٹ ہے " خود مثال بیان کررہے ہیں اور مثال میں بھی دھوکہ دے رہے ہیں

    کہتے ہیں مثال کے طور پر قرآن کی سورۃ المائدۃ میں یہ آیت آئی ہے

    وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ
    اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی

    کہتے ہیں اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ایک گروہ کلام اللہ سن کر معرفت ملی لیکن قرآن کے اس بیان سے معلوم نہیں ہوتا کہ متعین طور پروہ معرفت کیا تھی ؟ جو اس گروہ کو حاصل ہوئی

    حالانکہ واضح طور یہ بتایا گیا ہے کہ انکو حق کی معرفت ہوئی کیونکہ وہ کفر پر تھے اور جب انہوں کلام اللہ سنا تو انکوحق کی معرفت حاصل ہوئی مگرمولانا آیت ذکر کرکے بھی اس معرفت کے پہلو کو گول کر گئے اور دعوی یہ کررہے ہیں کہ اللہ تعالی نے معرفت کا ذکر نہیں کیا
    اب انکا خود کا معرفت کے بابت تصور کیا ہے اور انکا اپنا تجربہ ذیل میں غور فرمائیں

    کہتے ہیں کہ
    ایک مرتبہ سورج کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا اچانک ایک لمحہ کیلئے ایسا محسوس ہوا جیسے میں خدا کے دیکھنے کودیکھ رہا ہوں " نعوذ باللہ " میں خدا کے دیکھنے کا تجربہ کررہا ہوں اسکے بعد اچانک مجھ کو خیال آیا کہ خدا بھی اسی طرح دیکھتا ہوگا

    اسی طرح میں نے ایک بارکسی کے بولنے کو سنا تو اسوقت مجھے خیال آیا کہ خدا بھی اسی طرح بولتا اور سنتا ہوگا " نعوذ باللہ "

    اسی طرح میں نے ایک بار کسی بات کو سوچا تو مجھے محسوس ہوا کہ خدا بھی اسی طرح سوچتا ہوگا " نعوذ باللہ "

    اور یہ سب مولانا موصوف کی معرفت ہے
     
    Last edited: ‏مارچ 22, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  10. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    500
    مختصر مگر جامع انداز میں آپ نے بہت ہی عمدہ معلومات پیش کی ہیں ۔
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں