ایک دعا : جس میں کلمہ توحید اپنی تفسیر خود کرتا ہے

عبد الرحمن یحیی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مارچ 23, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,314
    ایک دعا : جس میں کلمہ توحید اپنی تفسیر خود کرتا ہے
    صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ
    (بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ)
    حکم : صحیح

    صحیح مسلم: کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں
    (باب: نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ)
    مترجم: ١. پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

    594 . وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» وَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ»
    594 . جناب ابو زبیر نے حدیث بیان کی ، کہا : (سیدنا عبداللہ ) ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنھما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے : ’’ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ،حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے اور وہی شکر و ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے (ملتی )ہے ، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں ۔ ہم اس کےسوا کسی کی بندگی نہیں کرتے ، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے ، خوبصورت تعریف کا سزا وار بھی وہی ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں ، چاہے کافر اس کو (کتنا ہی ) ناپسند کریں ۔ ‘‘ اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے لا الہ الا اللہ والے یہ کلمات کہا کرتے تھے ۔
    اس دعا میں کلمہ توحید لا الہ الا اللہ تین دفعہ آیا ہے
    اور تینوں دفعہ اس کلمہ کے بعد جو الفاظ آئے ہیں وہ اس مبارک کلمہ کی تشریح اور وضاحت کر رہے ہیں
    پہلے اس کلمہ توحید کی اہمیت اور فضیلت میں چند باتیں جو امام حرم مدنی نے ایک خطبہ جمع میں بیان کی پیش خدمت ہیں :
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 6 جمادی الاول 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ’’لا الہ الّا اللہ کی فضیلت اور فوائد‘‘ کے عنوان پر ارشاد فرمایا :
    '' خوشی، سرور، لذت اور خوشگوار لمحات صرف اللہ تعالی کی معرفت، اسے ایک ماننے اور اس پر ایمان لانے میں ہے، افضل اور محبوب ترین کلام وہ ہے جس میں اس کی حمد و ثنا ہو، اور اللہ تعالی کی بہترین ثنا کلمہ توحید: لا الہ الا اللہ ہے۔ اسی کلمے کی بنیاد پر آسمان و زمین قائم ہیں، اسی کے لیے موجودات کو وجود دیا گیا، اللہ تعالی نے اپنی کتابیں بھی اسی کے لیے نازل کیں اور رسولوں کو مبعوث فرمایا، فرمانِ باری تعالی ہے: اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہذا صرف میری ہی عبادت کرو. [الانبياء: 25]
    ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ جلیل القدر، سب سے عظیم، مبنی بر عدل اور سچی گواہی ہے ، اس گواہی کے شاہد اور مشہود دونوں ہی جلیل القدر ہیں.
    تمام شریعتوں کی بنیاد یہی کلمہ ہے، اور دین سارے کا سارا اسی لا الہ الا اللہ کے حقوق پر مبنی ہے، ثواب اسی پر موقوف ہے، اور عذاب اس کلمے کو ترک کرنے یا اس کے حقوق میں کمی کرنے پر ہوگا۔ ''
    ( daleel.pk اور شیخ شفقت الرحمن مغل کے شکریہ کے ساتھ )

    اب آتے ہیں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنھما کی حدیث کی طرف جس میں یہ کلمہ مبارکہ کلمہ توحید تین مرتبہ آیا ہے اور ہر دفعہ اس کلمے کے بعد اس کی وضاحت اور تاکید ہے مثلا ؛
    پہلی دفعہ : ''
    لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ۔۔۔ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ
    یعنی اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، ۔ ۔ ۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ''
    '' ہمیں ملاحظہ کرنا چاہیئے کہ کلمۂ توحید
    لاَ إِلَہَ إِلآَ اللہُ دو ارکان پر مشتمل ہے، اور توحید کے اثبات کے لئے ان دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ اور یہ دونوں ارکان نفی اور اثبات ہیں۔ جمیع معبودات کی نفی ہے اور لاَ إِلَہَ إِلآَ اللہُ میں بندگی کو محض اللہ کے لئے ثابت کیا گیا ہے۔
    اس مسئلہ کی عظمت و جلالت کے پیش نظر اس کی تاکید فرمائی یعنی "
    وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ”سے "وحدہ”وہ اکیلا ہے۔ اس میں اثبات کی تاکید ہے اور "لاَ شَرِیکَ لَہُ”(اس کا کوئی بھی شریک نہیں ہے ) میں نفی کی تاکید ہے۔ اور تاکید بعد از تاکید، توحید کے مقام اور علو شان کی وجہ سے لائی گئی ہے۔ '' (بشکریہ بزم اردو لائبریری)
    دوسری مرتبہ کلمہ توحید اس حدیث مبارکہ میں یوں آیا ہے :

    '' لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ۔ ۔ ۔ ۔ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ
    اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ہم اس کےسوا کسی کی بندگی نہیں کرتے ''
    یہاں بھی یہ کلمہ اپنی تفسیر خود کر رہا ہے کہ جب اللہ تعالٰی کے سوا کوئی الہ نہیں تو بندگی ، عبادت ، دعا و پکار ، عاجزی و انکساری ، نذر و نیاز اسی کے لیے ہے
    مشکلات ، تکالیف ، تنگی ، آسانی ہر حالت میں اُسی کو پکارا جائے گا
    تیسری مرتبہ اس مبارک دعا میں کلمہ توحید اس طرح آیا ہے :

    لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ۔ ۔ ۔ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
    '' اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ۔ ۔ ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں ''
    یہاں بھی کلمہ توحید اپنی تفسیر آپ کر رہا ہے کہ جب اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو عبادت بھی خالص اُسی کی ہوگی
    اور اسی چیز یعنی دین خالص اور خالص عبادت کا قرآن کریم میں بارہا دفعہ حکم دیا گیا ہے :
    یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے (2) خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے . (الزمر)
    آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے (162) سورة الأنعام
    غرضیکہ یہ ایک بہترین دعا ہے ، اسے یاد کرنا اور ہر نماز کے بعد پڑھنا چاہیئے اور سوچ سمجھ کر پڑھنا چاہیئے
    اور اس میں موجود کلمہ توحید اور اس کی تفسیر پر غور و فکر اور پھر عمل کرنا چاہیئے
    نوٹ :
    یہ تحریرشيخ عبد الرزاق بن عبد المحسن العباد البدر کے ایک درس میں اس مبارک حدیث کی جو شیخ نے تشریح کی اس سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے – آپ محدث مدینہ شيخ علامہ عبد المحسن العباد البدر کے بیٹے ہیں اور مدینہ یونیورسٹی میں استاد ہیں ۔ اور کئی کتب کے مصنف ہیں ۔
    حفظھما اللہ تعالٰی
     
    Last edited: ‏مارچ 23, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,314
    حدیث شریف کے درمیان میں کلمہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ آیا ہے
    [لاحول ولا قوۃ الا باللہ] جامع کلمہ ہے۔ حول سے مراد ہر نقصان اورخرابی سے بچنے کی طاقت اور قوۃ سے مراد ہر اچھی چیز حاصل کرنے کی قوت ہے۔ ظاہر ہے ہر چیز ان میں آ جاتی ہے۔ شاید اسی لیے اس کلمے کو جنت کا خزانہ کہا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,283
    جزاک اللہ خیرا، ما شاء اللہ بہت عمدہ اور جامع تحریر، اللہ یبارک فیک! اللہ ہمیں اس کلمے کو حقیقی طور پر سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!
     
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    535
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں