رونگ نمبر

صدف شاہد نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏مارچ 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    کچھ دن پہلے اسکے موبائل پر انجانے نمبر سے کال آنے لگی. اس نے یہ سوچ کر کہ کسی دوست یا جاننے والی کی کال ہوگی, کال ریسیو کرلی. مگر دوسری طرف سے مردانہ آواز سنتے ہی رانگ نمبر کہہ کر کال منقطع کردی. بس وہ دن ہے اور آج کا دن میسجز اور کالز کا ایسا تانتا بندھا جو رکنے کا نام ہی نہ لیتا.
    کال تو اس نے کوئی رسیو نہ کی مگر میسجز پڑھتی رہی. نام پوچھا جاتا، فون اٹھانے پر اصرار کیا جاتا اور اسکی آواز کی خوب تعریف کی جاتی، اپنے بارے میں بتایا جاتا،
    جواب نہ دینے کے باوجود میسجز اور کالز کا سلسلہ مستقل مزاجی سے جاری تھا.
    عِفّت کے لیے یہ سب نیا تھا، چھوٹی سی عمر کا ایک انجانا سا احساس تھا جسے وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی.
    کیا ہوا اگر میں بھی ایک میسج کردوں یہی پوچھ لیتی ہوں کہ کون ہو اور کیوں مجھے تنگ کررہے ہو، اس لمحے اسکے دماغ میں خیال آیا. رات کے تین بج رہے تھے. کتنی ہی بار اس نے میسج لکھ کر مٹایا, عجیب شش و پنج کا شکار تھی. کوئی اس سے بات کرنے کے لیۓ بےچین تھا، یہ خیال اسے نہ جانے کیوں ایک انجانی سی خوشی دے رہا تھا.
    بالآخر سوچ بچار کے بعد اس نے ایک میسج ٹائپ کرلیا. جس میں اس نے لکھا کہ وہ کون ہے اور رات کے اس پہر اسے کیوں تنگ کررہا ہے. ہاں کوئی بات نہیں ایک میسج ہی تو ہے اور پوچھ لینے میں قباحت ہی کیا ہے, اس نے خود کو تسلی دی.
    بٹن دبانے ہی لگی تھی کہ اچانک اک چہرہ اسکی دماغ کی اسکرین پر ابھرا.
    "میری بیٹی تو میرا مان ہے"
    یہ جملہ جو اسکے بابا اس کا ماتھا چومتے ہوۓ اکثر دہرایا کرتے تھے. اس کے حلق میں کانٹے چبھنے لگے.
    "بیٹیاں جب معاشرے میں سر جھکا کر چلتی ہیں تب ہی اس کےبھائی اور باپ سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوتے ہیں"
    شفقت و محبت سے کہا گیا بابا کا ایک اور جملہ دل کی تار چھیڑ گیا.
    جب کبھی امی جی بابا کو اسے سر چڑھانے کا طعنہ دیتیں تو بابا کی طرف سے ایک مخصوص جواب آتا کہ
    "عِفّت تو اپنے بابا کا غرور ہے"
    اور ہمیشہ ہی اسے یہ جملہ سرشار کر دیتا.
    اسے اپنا سارا وجود سن ہوتا ہوا محسوس ہوا، بڑی مشکل سے بستر سے اٹھی. پسینے سے شرابور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بالکونی میں جا کھڑی ہوئی.
    "میری بیٹی تو میرا غرور ہے"
    "میری بیٹی تو میرا مان ہے"
    "میری بیٹی بہت بہادر ہے"
    کانوں میں گونجتی بابا کی آواز اب تک سنائی دے رہی تھیں.
    جی بابا جانی میں کمزور نہیں ہوں, آپکی عِفّت آپکا غرور نہیں توڑے گی ان شاءاللہ.
    آپکا سر کبھی جھکنے نہیں دے گی، آپکا یہ مان ہمیشہ قائم رکھے گی. آپ کی دی گئی محبت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاۓ گی.
    وہ سرگوشی میں بولتی گئی، آنسو اسکے گالوں کو بھگو رہے تھے.
    اس نے جلدی سے اس نمبر کو بلاک کیا. سکون کے احساس کے ساتھ اس نے گہرا سانس لیا اور آسمان کی جانب دیکھنے لگی رات کی آخری پہر تھی کچھ دیر میں سحر ہونے کو تھی.
    نیچے صحن کی طرف دیکھا تو بابا تہجد پڑھنے کے بعد اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ پھیلاۓ دعا مانگنے میں مصروف نظر آۓ.
    باپ اللہ سے اسکی عزت و آبرو کی دعا مانگیں اور اللہ پاک اسے گناہوں کی دلدل سے نہ بچائیں ایسا کیسے ہوسکتا تھا.
    اسے اس لمحے اپنے بابا پر بےحد پیار آیا. انکی صحت و سلامتی کی دعا کرتی وہ وضو کے لیۓ اٹھ کھڑی ہوئی.
    انجان نمبروں کے ذریعے پھینکا ہوا یہ شیطان کا جال ہوتا ہے جو وہ صنف نازک پر پھینکتا ہے, ایک جگہ سے نشانہ چھوٹ جاۓ تو دوسری جگہ آزماتا ہے اور جہاں نشانہ لگ گیا رسوائی و پچھتاوا لڑکی کے حصے میں ہی آتی ہے.
    قابل تعریف ہیں وہ لڑکیاں جو ان جالوں سے اپنی اور اپنے سے وابستہ رشتوں کی ناموس کو بچالیتی ہیں اور اپنے والدین کا مان ٹوٹنے نہیں دیتیں.
    اللّٰہ پاک تمام بہن بیٹیوں کی حفاظت فرمائے آمین۔

    منقول
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • متفق متفق x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,207
    اللہ تعالی ہم سب کی بیٹیوں ، بہنوں کی حفاظت فرماۓ اور ہر فتنے سے محفوظ رکھے آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,281
    جزاک اللہ خیرا، بہت عمدہ تحریر، لیکن ایسے واقعات کا فوراً گھر کے کسی بڑے سے ذکر کر دینا مناسب رہتا ہے۔ تاکہ و اس کا بروقت تدارک کر سکیں۔
     
    • متفق متفق x 2
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    بہت عمدہ شراکت

    ہمارء نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو نازک شیشے سے تشبیہہ دی جس کی حفاظت کرنا اس سے وابستہ مردوں کے ساتھ ساتھ اس عورت کی خود بھی ذمہ داری ہے۔


    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268

    بے شک سسٹر
    کچی عمر کی لڑکیاں ناسمجھ ہوتیں ہیں ،وہ اپنے وجود کی نزاکت کو کہاں سمجھتی ہیں یہ سر پرستوں کی بھی ذمے داری ہے
    خاص کر ماؤں کی کہ اپنی بچیوں پر خصوصی توجہ دیں ۔جن بچیوں کا تعلق انتہائی متوسط طبقے سے ہوتا ہے وہاں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہتے ہیں اور ایسے گھرانوں کی بچیاں اسکول، کالجوں میں چوری چھپے کہیں کونے کھدروں میں موبائل پر ایس ایم ایس کر رہی ہوتیں ہیں
    یا گفت و شنید
    نت نئے ، قیمتی موبائلز ہاتھوں میں لیے
    جن کا علم گھر والوں کو نہیں ہوتا
    کہ یہ موبائل اُن کے پاس آئے کہاں سے؟
    تصدیق کی جائے تو قریبی سہیلی کا دیا تحفہ ظاہر کیا جاتا ہے اور موبائل پر جب بچی کا لگایا پاسورڈ ملے تو عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے لیکن زیادہ ترعقلبندی کا مظاہرہ ہی کیا جاتا ہے آنکھیں تب کھلتی ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے
     
    • متفق متفق x 2
  6. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    جی بالکل
    یہ ضروری ہے موبائل کوئی گھر کا فرد اگر رسیو کرےیا ایسےبلا بلا سے میسجز پڑھے تو کم سے کم آپ کا کردار شک و شبہات کی زد میں نہیں آتا ۔
    بعض اوقات اس کے نتائج سنگین بھی ہوتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    535
    جزاک اللہ خیرا
    بہت عمدہ تحریر ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    آمین یا رب العالمین
    شاد و آباد رہیں
     
  9. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    پسندیدگی کے لیے شکریہ
    سلامت رہیں
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں