اسلام نے لڑکیوں کو زندگی کا حق دیا

صادق تیمی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مارچ 28, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صادق تیمی

    صادق تیمی نوآموز

    شمولیت:
    ‏مارچ 21, 2018
    پیغامات:
    14
    *اسلام نے لڑکیوں کو زندگی کا حق دیا *
    تحریر: اسد الرحمان تیمی
    زمانہ جاہلیت میں جب کسی شخص کو لڑکی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو اس کی کیا کیفیت ہوتی تھی، اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے قرآن کریم گویا ہے: (ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا، اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا پھرتا، کہ کیا اس کوذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا مٹی میں دبادے، آہ کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں)[النحل: ۸۵-۹۵]
    اسلام سے قبل جزیرہ نمائے عرب کے ریگستان میں کتنی لڑکیاں زندہ دفن ہوئیں اس کی صحیح تعداد صرف اللہ ہی کو معلوم ہوگی، کیوں کہ ایک جاہل باپ کی سوچ یہ تھی کہ لڑکی محض خرچ کا ذریعہ ہے، اس سے کوئی فائدہ نہیں، وہ قبیلے کا دفاع بھی نہیں کرسکتی۔ وہ اسے اپنی عار اور شرمندگی کا سبب سمجھتا، مثال کے طور پر جب وہ دشمن قبیلے سے جنگ میں پکڑلی جاتی ہے اور دشمن اس کے ساتھ بالجبر یا بالرضا زنا کرتا ہے تو یہ اس کے اور قبیلے کا شرمندگی کا بہت بڑا باعث ہے۔
    جب اسلام آیا اور اللہ نے اس جاہلی فعل کی شناعت وقباحت بیان کرتے ہوئے کہا :(اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا کہ کس جرم کی بنیاد پر ہو قتل کی گئی؟) [التکویر: ۸-۹]تو جن لوگوںکا دل اسلام کے نور سے منور ہوا، انہیں اب احساس ہوا کہ اپنی بیٹیوں کو دفن کرکے انہوںنے کتنی سنگ دلی کا مظاہرہ کیا ہے، چنانچہ روایت ہے کہ کہ ایک صحابی قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے ایام جاہلیت میں آٹھ بیٹیاں زندہ دفنائی ہے(میرے بارے میں اب کیا حکم ہے؟) فرمایا کہ تم کفارہ کے طور پر ان میں سے ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ کی قربانی پیش کرو۔ دوسری روایت میں ہے کہ انہوںنے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے زمانہ جاہلیت میں بارہ بیٹیاں (اورایک روایت کے مطابق تیرہ) زندہ دفن کی ہے آپ نے فرمایا اتنی ہی جان آزاد کرو، تو انہوںنے بارہ یا تیرہ غلام آزاد کئے، اگلے سال وہ سو اونٹ لے کر آئے اور عرض کیا کہ میری قوم کا مسلمانوں کے تئیںجو رویہ تھا اس کے بدلہ انہوںنے یہ سواونٹ دئے ہیں (آپ انہیں قبول فرمالیجئے)۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان اونٹوں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری ہماری تھی ہم انہیں ”قیسیة“ کہا کرتے تھے۔ (اسدالغابة: ۴۲۳۴) یہ صرف ایک مثال ہے۔
    قیس کوئی معمولی آدمی نہ تھے، قبیلہ تمیم کے سردار تھے ۹ھ میں ایک وفد کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضرہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے، آپ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا تھا ”یہ دیہاتیوں کو سردار آرہا ہے“ بڑے ہی عقلمند ،سنجیدہ اور صابر انسان تھے۔ ایام جاہلیت میں انہوںنے اپنے اوپر شراب حرام کررکھی تھی۔ احنف بن قیس جن کا صبر وتحمل ضرب المثل ہے، ان سے پوچھا گیا کہ تم نے صبر کس سے سیکھی؟ کہا کہ قیس بن عاصم سے، ایک دن میں نے انہیں اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ تلوار پر تلے سے خود کو لپیٹے ہوئے قوم سے مخاطب تھے، اسی دوران ان کے پاس ایک مقتول اوراس کا قاتل ، جس کی مشکیں کسی ہوئی تھیں، لیا گیا انہیں بتایا گیا کہ یہ تیرا بھتیجا ہے جس نے تیرے بیٹے کو قتل کردیا ہے، احنف کہتے ہیں قسم بخدا نہ تو انہوںنے اپنی نشست کا اندازہ بدلانہ ہی سلسلہ¿ کلام توڑا، جب پوری بات کہہ چکے تو بھتیجے کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ بیٹے! تم نے بہت برا کیا، پروردگار کی نافرمانی کی، رشتے کا تقدس پامال کیا، اپنے بھائی کومارکر تونے گویا اسے ہی تیر سے خود کو ہلاک کیا اوراپنی تعداد میں کمی کی۔ پھر اپنے ایک بیٹے کو حکم دیا کہ اٹھو اس کی مشکیں کھول دو، اپنے بھائی کو دفنا آﺅ، اور اپنی ماں کے پاس سو اونٹ بطور دیت لے جاﺅ کیوں کہ وہ پردیسی ہے۔
    قیس نے اپنے پیچھے بتیس نرینہ اولاد چھوڑی، اور موت کے وقت یہ نصیحت کرگئے کہ ان پر نوحہ نہ کیا جائے کیوں کہ رسولﷺ پہ نوحہ نہیں کیا گیا تھا، ان کے بارے میں بہت ساری روایات ہیں جن سے ان کی فضیلت وعظمت کا پتہ چلتا ہے۔
    جب زمانہ جاہلیت کے عقلمند اوردانا سرداروں کی یہ بات ہے تو پھر کم عقل ، جاہل اورعام لوگوں کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ کیا رویہ رہا ہوگا؟ اسے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔


    جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس نے سختی سے قتل اولاد کی مخالفت کی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (اور اپنی اولاد کوافلاس کے سبب قتل مت کرو، ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں۔ [الانعام: ۱۵۱]دوسری جگہ فرمایا: (اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو مارنہ ڈالو ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں یقینا ان کا قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے)[الاسراء: ۱۳۱]۔
    علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ عربوں میں اولاد کشی کی رسم تھی، وہ لڑکیوں کو عار کے خوف سے زندہ دفن کردیتے، اور بسا اوقات لڑکوں کو غربت کے ڈرسے مارڈالتے، اوراسی لئے صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ بتائیے سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ فرمایا کہ تم فقر وفاقہ کے ڈر سے اپنی اولاد کو ماڈالو، میں پھر عرض کیا اس کے بعد کونسا؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(اور مومن تو وہ ہیں)[الفرقان: ۸۶] جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبودکو نہیں پکارتے، اور کسی ایسے شخص کو، جسے قتل کرنا اللہ نے منع کردیا ہو، وہ بجز حق کے قتل نہیں کرے اور نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔
    اور اس طرح اسلام نے مذکر ومونث دونوں کو زندہ رہنے کا برابر حق دیا، اس حق کی پامالی کو حرام قرار دیا اوراسے ان کبیرہ گناہوں میں بتایا جو انسان کی عظمت کے منافی ہیں۔
    زمانہ¿ جاہلیت میں معیشت اوردفاع کے رو سے لڑکیوں کو لڑکوں پرترجیح دینے کی فکر کے برعکس اسلام نے لڑکیوں کو لڑکوں پر ایک واضح امتیاز دی ہے، چنانچہ نبیﷺ نے لڑکیوں کے باپ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: (جوآدمی لڑکیوں کے ذریعہ آزمائش میں دالاگیا، اس کے لئے یہ لڑکیاں جہنم کی آگ سے آر ہوں گی، لیکن بشرطیکہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے [بخاری]، جیسا کہ دوسری روایت میں ہے:(جوکوئی اپنی بیٹیوں کی اچھی پرورش وپرداخت اور نگہداشت کرے گا یہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے حفاظت کا سبب ہوں گی۔ (ہدایة الباری: ۲۷۹۱-۸۹۱)، امام مسلم اور ترمذی نے بھی اس مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اوراسی حدیث کو طبرانی نے اوسط کے اندر حضرت ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: (جس کے یہاں تین لڑکیاں پیدا ہوئیں اوراس نے ان کی احسن طور سے کفالت کی تو وہ جنت میں جائے گا، پوچھا گیا کہ اگر دو ہوں تو؟ فرمایا کہ دو کا بھی یہی حکم ہے پھر پوچھا گیا اگر ایک ہوں تو؟ فرمایاکہ ایک کا بھی یہی حکم ہے)۔
    بعض روایات میں آپ نے لڑکی کی پیدائش کو آزمائش سے تعمیر کیا ہے، جیسا کہ اوپر ایک حدیث میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ جن لوگوں سے خطاب فرمارہے تھے ان کے زمانہ جاہلیت کو گزرے ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، وہ لڑکی کی پیدائش کو ایک بڑی مصیبت تصور کرتے تھے، اور یہ سوچ آج بھی بہت سارے لوگوں میں باقی ہے۔ لہٰذا آپ نے دل کی گہرائیوں میں جمے اس احساس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر لڑکی کی پیدائش آزمائش ہے جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو اس آزمائش کے بدلے جنت ہے اس شخص کے لئے جس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اوراس کے سلسلے میں اللہ کے احکام کی رعایت کی۔
    دوسری بات یہ ہے کہ آزمائش اچھی اور بری دونوں چیزوں کے ذریعہ ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اور ہم تو کو برائی اور اچھائی کے جانچتے ہیں آزمانے کے لئے اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کرآنا ہے)[الانبیاء: ۵۳] ۔
    اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ وہ ہمارے لئے اچھی ہوتی ہے اور کسی چیز کو پسند کرتے حالانکہ وہ ہمارے لئے بری ہوتی ہے۔ (ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لئے بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اچھی سمجھو حالانکہ وہ تمہارے لئے بری ہو، حقیقی علم اللہ ہی کو ہے تم محض بے خر ہو) [البقرة: ۶۱۲]مزید کہ (تمہارے لئے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے ہوں، تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہنچانے میں زیادہ قریب ہے[النساء: ۱۱]۔
    اور خود ہمارے نبیﷺ چار لڑکیوں کے باپ تھے، آپ نے جس طرح ان کی پرورش وپرداخت کی وہ ہمارے لئے نمونہ ہے۔
    کوئی یہ گمان نہ کرے کہ زمانہ جاہلیت کے خاتمے کے ساتھ لڑکیوں کے زندہ دفنانے کی رسم بھی ختم ہوگئی، آج بھی یہ مختلف شکلوں میں رائج ہے، چین جس کی آبادی ایک ارب سے متجاوز ہے وہاں قانونی اعتبار سے صرف ایک بچے کی پیدائش کی اجازت ہے۔ الٹرا ساﺅنڈ جس کے ذریعہ ماں کے پیٹ میں زیر پرورش جنین کو دیکھنا اور جنس کی تشخیص ممکن ہوگئی، ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو لڑکی کی تشخیص ہونے پہ حمل ساقط کرادیتے ہیں اور باربار ایسا کرنے سے بھی نہیں چکتے، گاﺅں، دیہات اور پہاڑی علاقے جہاں الٹراساﺅنڈ دستیاب نہیں وہاں لڑکی ہونے کے فورا بعد ماردی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے اب دنیا میں لڑکیوں اور لڑکوںکے درمیان زبردست عدوی عدم توازن کاخطرہ پید اہوچکا ہے، چنانچہ اب چینی حکومت ایک سے زائد باچہ کی پیدائش پر جرمانہ عائد کرنے کے قانون پر غور کرنے لگی ہے۔ اس تعلق سے وہاں کے بارے میں اخباروں میں بڑی المناک خبریں بھی شائع ہوتی رہتی ہےں، چونکہ ایک چینیوں کے یہاں معذور بچہ تندرست بچی سے افضل ہے۔


    ہندوستان جو قدیم تہذیب کا گہوارہ ہے یہاں آج بھی سماجی نظام کی رو سے لڑکی کی جانب سے لڑکے کو بھاری بھرکم جہیز دینا ضروری ہے، جو کہ شادی کے وقت لڑکی کے سرپرست کے سر پر بہت بڑا بوجھ ہوا کرتا ہے اس لئے بہت سارے غریب خاندان بچی کی پیدائش کے فورا بعد اسے ماردیتے ہیں یا فحاشی کے سوداگروں کے ہاتھوں اسے بیچ ڈالتے ہیں ، بہت سارے ایشیائی ممالک میں آج بھی بردہ فروشی کا بازار ہے جہاں لوگ اپنی لڑکیوں کو فقر وفاقہ اور مالی پریشانیوں کی بنا پر فروخت کردیتے ہیں اور خریدار ان سے فحاشی کا روبار چلاتے ہیں۔
    ان تمام صورت حال کو پیش نظر رکھ کر ایک انصاف پسند قرآن وسنت میں موجود اسلام کے ان نصوص کی قدروقیمت کا اندازہ لگاسکتا ہے یہ نصوص جو سماج میں عورت کی عظمت کا سبب بنے اور جن کی بنیاد پر اسے وہ باعزت زندگی گزارنے کا حق ملا جو اللہ تعالیٰ نے سارے نوانسانی کے لئے مقدر کررکھا ہے اور جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے، (یقینا ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اسے خشکی وتری کی سواریاں مہیا کرائی، پاکیزہ روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر اسے فضیلت عطا کی)[الاسراء: ۰۷]۔
    اور تب اسے معلوم ہوگا کہ اکیسویں صدی میں قدم رکھنے اور ”ترقی“ و ”تہذیب کے بلندبانگ دعوﺅں کے باوجود انسانیت عورت کے احترام کے معاملے میں اسلامی وسعت تک نہیں پہنچ سکی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,089
    جزاک اللہ خیرا، بہت عمدہ! بے شک اسلام ہی ہے جو عورت کو ہر روپ میں قابل احترام قرار دیتا ہے اور اس کے حقوق کا خیال رکھتا ہے ورنہ دیگر مذاہب اور دور جدید میں لبرلز کے ہاں تو اسے ایک پراڈکٹ سے زیادہ کی اہمیت نہیں دی جاتی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,060
    مفید. جزاک ربی خیرا
    اسلام کے عورت کو دیے گئے حق کو نا چاہتے ہوئے بھی تسلیم کرنے لگے ہیں. مگر مسلمانوں کا کیا کیا جائے. جن کو ہر جگہ حقوق میں نا انصافی نظر آتی ہے.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں