جلسے کیوں ہوتے ہیں . سرفراز فیضی

ابوعکاشہ نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏اپریل 3, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,088
    جلسے کیوں ہوتے ہیں
    تحریر : سرفراز فیضی


    اس وقت ہم امت کا کوئی ایسا مسئلہ پیش نہیں کرسکتے جس کی بنیا دمیں امت کی دین سے دوری اور کتاب وسنت سے بیزاری بحیثیت سبب موجود نہ ہو۔ امت کا ہر مسئلہ خواہ کتنی کڑیوں سے گزرے، بہرحال دین بیزاری سے جاکر جڑ جانے والا ہے ۔
    اس مضمون میں میں کوشش کروں گا کہ معاصر جلسوں کی عدم افادیت بلکہ نقصانات کے بعض اسباب کی نشاندہی کروں۔ واضح رہے کہ یہاں معاصر جلسوں سے میری مرادخاص طورپر دیہاتوں میں ہونے والے یک شبی، دوشبی یا سہ شبی کانفرنسیں ہیں ۔ شہروں خصوصاًممبئی میں ہونے والے دروس ، اجتماعات اور کانفرنسیں یہاں بحث کا موضوع نہیں ہوں گی۔ گرچہ ان اجتماعات اور کانفرنسوں کی تنظیم کے متعلق بھی گفتگو کسی موقع پر کی جاسکتی ہے ۔
    ہماری شکایت ہے کہ جلسے ،کانفرنسیں ، اجتماعات ، اجلاس عام اتنی کثیر تعداد میں اتنے بڑے بڑے پیمانوں پر ہورہے ہیں ،لیکن دعوت ، تربیت ، تعلیم ، تزکیہ چھوٹی سے چھوٹی مقدار میں بھی ان سے مستفاد نہیں ہورہے۔حالانکہ اس سے پہلے اس سوال پر غور کرنا ضروری ہے کہ کیا یہ دعوت، تعلیم ، تزکیہ اور تربیت ان جلسوں کے مقاصد میں دور دور تک شامل بھی ہیں؟…تو اس سے پہلے کہ اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ یہ جلسے غیر مفید کیوں ہیں؟ آئیے اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ آخر یہ جلسے ہو ہی کیوں رہے ہیں ؟
    جلسوں کے تین اہم ارکان ہوتے ہیں:
    1⃣منتظمین
    2⃣مقررین
    3⃣سامعین
    منتظمین جلسے کیوں منعقد کراتے ہیں ؟
    منتظمین کا تعلق اگر کسی ادارہ سے ہے تو جلسوں کا مقصد عام طور پر ادارہ کا تعارف، چندہ کی وصولی ، حسب رسم سالانہ تقریب ، یا سیاسی شخصیتوں سے ادارہ کے لیے فنڈ پاس کروانا ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ کبھی منتظمین کا مقصد سیاسی اور سیٹھ لوگوں سے رابطے بحال کرنا یا اپنے کسی قریبی کو لانچ کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ آخر آپ اس شخص کی خوشی کا اندازہ بھی لگاسکتے ہیں جو صحیح سے دومنٹ گفتگو کرنا بھی نہ جانتا ہواور اس کا نام اجلاس عام کے بڑے بڑے پوسٹروں میں کبار علماء اور دانشوران کے ساتھ لکھا گیا ہو ؟گر چہ منتظمین اور مہمانان خصوصی کی ہی فہرست میں ۔ مجھے آج تک پوسٹر پر معاونین اور مہمانان خصوصی کے نام درج کرنے کا مقصد سوائے چاپلوسی کے اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ آپ کو سمجھ میں آیا ہو تو بتائیے ۔
    بعض مرتبہ جلسے، مخالف مسلک کے جلسوں کے خلاف جوابی کاروائی کے طور پر منعقد کیے جاتے ہیں ۔ یہاں بھی مقصد دعوت کے بجائے مناظرہ آرائی ہوتی ہے۔ اور اس زمانہ کے مناظروں کومیں دعوت کی صنف میں شمار نہیں کرتا ۔
    الحاصل اس وقت جلسوں کے منتظمین کے جتنے چہرے میرے ذہن کی اسکرین پر آرہے ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ دعوت وغیرہ دور دور تک بھی ان کے مقاصد میں شامل ہوں گے ۔
    مقررین/جلسہ انڈسٹری
    مقررین سے یہاں میری مراد وہ ٹیپی کل(Typical) مقررین ہیں جن کی جلسوں میں کثرت سے مانگ ہوتی ہے ۔ مقررین کے لیے جلسہ ایک انڈسٹری ہے۔ اور خطابت کریر۔ یہاں ہر وہ چیز آپ کو دیکھنے کے لیے مل جائے گی جو ایک کمرشیل انڈسٹری میں ہوتی ہے ۔کریربنانے کی ٹینشن، ایڈورٹائزمنٹ ،اسٹیج کی تلاش،منتظمین سے روابط، جوڑ توڑ، شہرت کی فکر ، اور جب وہ حاصل ہوجائے تو بھاوٴ تاوٴ ، ناز نخرے ۔ وہ بھی کیسے؟
    ▪دیکھئے سلیپر میں سفر کرنے کی عادت نہیں مجھے…
    کیا ایسا انتظام ہوسکتا ہے کہ میں ایک دن میں بہار جاکر ممبئی واپس آسکوں؟
    ▪ڈیٹ چاہیے؟ سیکریٹری سے رابطہ کریں …
    ▪چار مہینے سے پہلے ٹائم نہیں دے سکتا…
    ▪مولانا ابھی دبئی میں ہیں۔ آپ کو پروگرام کرانا ہے تو دبئی سے آنے اور واپس جانے کا کرایہ برداشت کرنا پڑے گا۔
    ▪بیس ہزار ؟ کسی اور کو دیکھ لیجیے ؟ ستر سے کم نہیں چلنے والا…
    ▪اس سے زیادہ آپ میرے نام سے چندے بٹورلیتے ہیں …
    ▪اچھا ایسا کریے چندے کا بیس پرسنٹ دے دیجیے گاجتنا بھی ہو…
    ▪دیکھئے میں دیسی مرغے نہیں کھاتا، مجھے بائلر ہی چلیں گے…
    تزکیہ اور تربیت ایسے مقررین کے مقاصد میں کیا شامل ہوں گے، یہ بے چارے تو خود تعلیم وتزکیہ کے محتاج ہیں ۔
    سامعین
    سامعین کے لیے جلسے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جلسوں میں مقررین کا لیول انٹرٹین کرنے کی ان کی صلاحیت کے حساب سے طے ہوتا ہے۔ طنز ، مزاح، لطیفے، استہزاء، قصہ گوئی، سر تال،راگ الاپ، گھن گرج، یہ سارے معیارات ہیں جن پر مقررین کا ریٹ اور ریٹنگ طے ہوتی ہے ۔ بعض تقریروں کا آڈیو سننے پر ہمیں اسٹینڈ اپ کامیڈی شو کا گمان ہوتا ہے ۔
    جلسے کہیں نہ کہیں اسلام سے ہمارے ظاہری تعلق کا رسمی اظہار بھی ہوتے ہیں ۔ اس اعتبار سے جلسے ایک طرح کے قومی جشن ہوتے ہیں ۔اسلام کے پاس دو ہی عیدیں ہیں ۔ اس ہندو اکثریتی ماحول میں رہنے والے ہم مسلمانوں کے لیے یہ ناکافی ہیں۔ تو جلسے اس خلا کو پر کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں ۔اسی حوالے سے جلسے میلہ اور بازار کا کام بھی دیتے ہیں ۔
    عوام کے لیے جلسے ایک طرح کے میٹنگ پوائنٹ کا کام بھی دیتے ہیں جہاں بہت سارے لوگوں سے ایک وقت میں ملاقات ہوجاتی ہے۔ خواتین کے لیے زیور اور جوڑوں کی نمائش کا ایک ذریعہ بھی یہ جلسے ہوتے ہیں ۔ جوانوں کے لیے عشق بازی ، نظر بازی اور محبتوں کو پروان چڑھانے کا ایک بہانہ ہوتے ہیں ۔
    الغرض جلسوں میں جٹنے والی بھیڑ تعلیم اور تربیت کے حصول کے لیے آتی ہی نہیں تو آپ ان کی تعلیم اور تزکیہ کیا کریں گے ؟
    یہ عمومی صورت حال ہے جو میں نے جلسوں کے متعلق محسوس کی ہے ۔
    ممکن ہے کہ آپ مجھ پر سوچ کی منفیت کا الزام لگائیں ۔ لیکن میرے لیے یہ کڑوی سچائیاں ہیں۔ کچھ لوگوں کو اگر لگے کہ وہ اس فہرست میں شامل نہیں ہیں تو وہ اپنے آپ کو شاذ کی کٹیگری میں رکھیں۔ یہاں اکثریت کی صورت حال پر کل کا حکم لگایا گیا ہے ۔
    اصلاح کیسے ہو؟
    ہمارے تجزیے کے حساب سے کیونکہ مسئلہ بنیادی ہے اس لیے علاج کی ابتدا بھی بنیاد سے ہی ہونی چاہیے ۔یہ جلسے گرچہ دین کے حوالے سے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر دین سوائے حوالے کے اور کہیں نہیں ہوتا۔ دین کی سوچنے والے مقررین صرف خانہ پری کے لیے ہوتے ہیں اور وہ زندگی بھر خانہ پر ی ہی کرتے رہ جاتے ہیں ۔ بڑے مقررین جو جلسوں میں ہیروکا رول ادا کرتے ہیں عوام کی ضرورت کے بجائے عوام کی چاہت کا خیال زیادہ رکھتے ہیں ۔ بڑا مقرر بننے کے لیے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ عوام آپ سے کیا سننا چاہتی ہے ۔
    تو بڑا مسئلہ سوچ کی اصلاح کا ہے ۔ اس کے بغیر جلسوں کی اصلاح کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ جب دین دلوں ہی میں نہیں ہوگا تو وہ جلسوں میں کہاں سے آجائے گا؟
    یہاں ایک بات اور واضح کردینے کی ہے ، جو ہمارے بعض قلمکاروں نے کہی ہے۔ وہ یہ کہ ان جلسوں کا متبادل تلاش کیا جائے ۔ متبادل کا لفظ مجھے صحیح نہیں لگتا۔ ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں مزید وسائل تلاش کرنے چاہئیں۔
    اور مزید وسائل کی تلاش سے بھی پہلے ایک بڑا سوال یہ اٹھایا جانا چاہیے کہ آخراسلام نے جمعہ کے خطبات اور مساجد کے دروس کا جو اجتماعی دعوتی نظام ہمیں دیا ہے وہ فیل کیوں ہے ؟ اس سے وہ فائدہ کیوں نہیں حاصل ہورہا جو ہونا چاہیے ۔
    مخیرین حضرات کو آگے آنا چاہیے ۔ بڑی سوچ والے چندہ مانگنے کا فن نہیں جانتے ۔اتنی سی کمی کی وجہ سے ان کو ضائع مت ہونے دیجیے۔
    البتہ ایک سوال ہمارے موضوع کا جز بن سکتا ہے ۔ دعوت کی ترویج کے لیے جلسوں سے کیا کام لیا جاسکتا ہے ؟
    پہلی بات :
    دعوت جس چیز کا نام ہے اس کے لیے صرف جلسوں پر منحصر نہیں رہا جاسکتا۔ دعوت کا کام ہمیشہ زمین پر ہوتا ہے ۔ جلسے اس کام کو سپورٹ کر سکتے ہیں۔ جلسوں سے دعوت کی شروعات کی جاسکتی ہے ۔ لیکن ضروری ہے کہ اس کو کیش کرنے کے لیے زمین پر افراد موجود ہوں ۔
    دوسری بات:
    ہمارے یہاں خطیبوں کی تعداد اچھی ہے الحمد للہ۔ لیکن داعیوں سے میدان خالی ہے۔ پہلے بڑے علماء بڑے خطیب بھی ہوا کرتے تھے ۔ علامہ ثناء اللہ امرتسری، مولانا صادق سیالکوٹی ، علامہ محمد اسماعیل سلفی ، مولانا محمد جوناگڑھی، مولانا عبدالجلیل سامرودی وغیرہ کے ہندوستان بھر کے دوروں نے دعوت حق کی اشاعت میں جو عظیم کردار ادا کیا ہے اس کے اثرات آج بھی کئی علاقوں میں محسوس کیے جاسکتے ہیں ۔ سلفی دعوت کی تاریخ جاننے والے بزرگان اس فہرست میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں ۔
    لیکن اب صورت حال مختلف ہے ۔ اب جو بڑے خطیب ہیں ان کی اکثریت پر علماء کا اطلاق نہیں ہوسکتا ۔ اور جو بڑے علماء ہیں وہ بڑے خطیب نہیں ہیں۔ خطابت کے لیے ضروری ہے کہ خطیب عوام کی ذہنی سطح کو سمجھے اور وہا ں اتر کر اس سے گفتگو کرے ۔ بڑے علماء اپنی علمی سطح سے اترنے کے لیے تیار نہیں ۔
    تیسری بات:
    خطابت کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خطابت دعوت کا ایک اہم اور موٴثر میڈیم ہے ۔اس وقت ہمیں دعوت کا درد رکھنے والے خطیبوں کی ضرورت ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ خطابت اب پیشہ بن چکی ہے ۔ دعوت کے لیے جس درد ، تڑپ، خلوص اور قربانی کی ضرورت ہے کوئی پیشہ اس کا ساتھ نہیں دے سکتا ۔
    ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہمارے مدرسوں سے داعی نہیں پیدا ہورہے۔ دعوت مدرسوں کے لیے ایک اجنبی لفظ ہے ۔دعوت کو بحیثیت مضمون پڑھانا تو دور کی بات ہم نے اپنی طالب علمی کی زندگی میں دعوت لفظ تک درس گاہ میں نہیں سنا۔ تزکیہ جو ہر داعی کی بنیادی ضرورت ہے مدرسوں سے غائب ہے ۔ ہم نے مدرسوں سے جیسے تیسے دین کا علم تو حاصل کرلیا ہے پر دین حاصل نہیں ہوا۔ اور دین کا علم بغیر دین کے مصیبت کے سوا کچھ نہیں ۔
    مدرسہ سسٹم سے جڑا ہر شخص اس سوال پر غور کرے کہ کیا ہمارے مدارس میں طلبہ کے تزکیہ کے لیے کوئی نظام موجود ہے ؟دعوت کا درد ہمارے بچوں کے دلوں میں پیدا کرنے کے لیے ہمارے پاس کیا انتظامات ہیں ۔ طریقہ کا ر کی تعلیم تو اس کے بعد کا مرحلہ ہے ۔
    دعوت زمین پر ہونے والا کام ہے ۔ داعی کے لیے زمینی ہونا بہت ضروری ہے ۔ عوام سے رابطہ کے بغیر دعوت کا کا م نہیں ہوسکتا ۔ لیکن بڑا مسئلہ ہے کہ مدارس کے اساتذہ کا اگر عوام سے رابطہ ہے بھی تو محض منبر اور اسٹیج کے حوالوں سے ۔ مدارس کے علماء کا حال یہ ہے کہ وہ عوام کے سماجی مسائل تو دورکی بات ان میں فروغ پارہے دینی رجحانات اور منہجی اور اعتقادی فتنوں تک سے ناواقف ہیں۔ ایسے اساتذہ کی تربیت کے نتیجے میں علماء کا جو گروہ میدان میں آئے گا اس سے ہم دعوت کی امید بھی کیسے رکھ سکتے ہیں؟
    آخری بات:
    جلسوں کا انتشار بڑا مسئلہ ہے ۔ ضروری ہے کہ ان جلسوں کو کسی مرکزی نظام کے تابع کیا جائے۔ جمعیت کے امانت دار ذمہ داروں کے سپرد کیا جائے یا صوبائی سطح پر علماء،دعاة اور انتظامی ماہرین پر مشتمل منتظمہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو مقررین کے تقرر، موضوعات کے انتخاب سے لے کر انتظامی معاملات تک کی نگہبانی کرے ۔ اچھے کام کے لیے پلاننگ بہت ضروری ہے ۔مشورہ میں اللہ نے برکت رکھی ہے ۔
    دعاؤں کا طالب : سرفراز فیضی
     
    • پسندیدہ x 1
    • اعلی x 1
    • معلوماتی x 1
    • حوصلہ افزا x 1
    • دلچسپ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,088
    @ابو حسن بھائی
    اس فکری تعمیری سوچ کو بدلتی ہوئی تحریر میں دلچسپی کی بات کیا تھی. امید ہے کہ آپ اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے.
     
  3. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    351
    مقررین/جلسہ انڈسٹری

    اس کے زیرتحت مضمون کی ہر ہر سطر میرے لیے دلچسپ بھی ہے اور اس پر رونا بھی آتا ہے کہ دین کی دعوت کو چند خواص نے صرف خطابت میں منتقل کرکے اپنی تجارت بنا لیا ہے اور اسکا مفصل بیان اسی مضمون میں مکتوب ہے تو ان سب باتوں کو یہانپر دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں اور چونکہ رونے والا کوئی آئیکون نہیں ہے تو میں نے دلچسپ کو ہی دبا دیا
     
    Last edited: ‏اپریل 4, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    98
    بر صغیر کے اکثر خطباء کی حالت نہایت ہی سادہ زبان میں پیش کی گئی ہے۔

    اور اس سے ملتا جلتا ایک بات کسی قاری صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ وہ برصغیر کے عادات کے تحت رمضان کی آخری عشرے کی ہر رات کو مختلف شہروں میں جا کر ایک پارہ ٹراویح پڑھایا کرتے تھے۔

    (شبینہ)

    اور مقصد وہی پیسہ اور مشہوری کا لالچ بڑے بڑے غیر حقیقی القابات اور نام جوڑ کر پوسٹر میں لکھوانا۔۔۔۔

    لیکن اچھی اجرت نہ ملنے پر اس بات سے ٹھیس پہنچنے کی بات بھی بتائی۔۔۔
    اور اصل مسئلہ شائد طبقہ متدینین میں پایا جانے والی فقیری اور غربت ہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں