مسلمان غیرت مند ہوتا ہے

عبد الرحمن یحیی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 6, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,306
    مسلمان غیرت مند ہوتا ہے
    غیرت کی تعریف کرتے ہوئے مولانا زاھدالرشدی لکھتے ہیں :
    ’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے۔

    شیخ حسن مدنی لکھتے ہیں :
    ''غیرت دل کی حالت بدل جانے اور غصہ کے سبب ہیجانی کیفیت طاری ہوجانے کو کہتے ہیں، جس کا سبب کسی ایسے شے میں دوسرے کی دخل اندازی ہوتا ہے جس کو انسان اپنے ساتھ مخصوص سمجھتا ہے۔'' جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ آدمی نے اپنی بیوی کے بارے میں فلاں شخص پر غیرت کھائی۔اور فلاں عورت نے فلاں دوسری عورت پر (اپنے شوہر کےبارے میں)غیرت کھائی۔ یہ الفاظ اُسوقت بولے جاتے ہیں جب کسی کی غیرت وحمیّت خاک میں مل جائے اور وہ مرد؍عورت دوسرے شخص کی اپنے حق میں دخل اندازی کو برا جانے۔''
    اسلامی شریعت کی رو سے 'غیرت'ایک مبارک اور قابل تعریف وصف ہے جیساکہ نبی کریمﷺ نے اس وصف کو اللہ تعالیٰ، اپنے ساتھ جوڑتے ہوئے فرمایا :

    صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لاَ شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ» وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ: «لاَ شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ»)
    7483 : سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے ہمراہ دیکھوں تو سیدھی تلوار سے اسے قتل کردوں ۔ رسول اللہ ﷺ کو ان جذبات کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا: تم سعد کی غیرت پر اظہار تعجب کرتے ہو؟ اور اللہ کی قسم ! یقیناً میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے غیرت ہی کی وجہ سے بے حیائی کی ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو حرام قرار دیاہے ۔کسی شخص کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ عذر خواہی محبوب نہیں۔ اس لیے اس نے خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے اپنے رسول بھیجے ہیں نیز کسی کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ مدح وثنا محبوب نہیں۔ اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے (تاکہ لوگ اس کی تعریف کرنے اسے حاصل کریں) ۔ (راوی حدیث) عبید اللہ بن عمرو نے عبدالملک کے حوالے سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں۔ ”اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی شخص نہیں ۔“
    بظاہر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس غیرت میں آکر اگر وہ اس زانی کو قتل کردے تو عنداللہ ماخوذ نہ ہوگا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
    سند میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا ہے، ان کی کنیت ابوثابت ہے، انصاری ہیں ساعدی خزرجی ۔ بارہ نقیبوں میں سے جو بیعت عقبہ اولیٰ میں خدمت نبوی میں مدینہ سے اسلام قبول کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ انصار میں ان کو درجہ سیادت حاصل تھا۔ عہد فاروقی پر اڑھائی برس گزرنے پر شام کے شہر حوزان میں جنات کے ہاتھ سے شہید ہوئے ۔

    مومن بھی غیرت مند ہوتا ہے :
    صحیح مسلم ۔ جلد سوم ۔ توبہ کا بیان ۔ حدیث 2494
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ غیرت کرتا ہے اور مومن بھی غیرت مند ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن ایسا عمل کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہے ۔
    شیخ الحدیث حافظ عبدالستار الحماد اسی مفہوم کی ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    غیرت اللہ کی ایک صفت ہے۔ اہلحدیث اس کو بھی اور صفات ہی کی طرح اپنے ظاہر پر محمول کرتے ہیں اور اس کی تاویل نہیں کرتے اورکہتے ہیں کہ اس کی حقیقت اللہ ہی خوب جانتا ہے۔

    امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب کی غیرت کا بیان :
    صحيح البخاري: كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الجَنَّةِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ)
    3263 . سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: " میں نے بحالت نیند خود کو جنت میں دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک عورت محل کے گوشے میں وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ۔ مجھے ان کی غیرت کا خیال آیا تو میں پیچھے کی طرف واپس آگیا۔ " اس پر سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں۔
    اردو حاشیہ: ان جملہ احادیث کو یہاں لانے سے حضرت امام کا مقصد جنت اور اس کی نعمتوں کا ثابت کرنا ہے نیز یہ بھی کہ جنت محض کوئی خواب و خیال کی چیز نہیں ہے بلکہ وہ ایک ثابت اور برحق چیز ہے جس کو اللہ پاک پیدا کرچکا ہے اور اس کی ساری مذکورہ نعمتیں اپنا وجود رکھتی ہیں۔ اس سلسلہ میں حضرت امام نے ان مختلف نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے جنت کے مختلف کوائف پر استدلال فرمایا ہے۔ جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود جنت کے بارے میں کسی شیطانی وسوسہ میں گرفتار ہوں، ان کو فوراً توبہ کرکے اللہ اور رسول کی فرمودہ باتوں پر ایمان ویقین رکھنا چاہئے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بہشت موجود ہے، پیدا ہوچکی ہے۔ وہاں ہر ایک جنتی کے مکانات اور سامان وغیرہ سب تیار ہیں۔ سیدنا عمررضی اللہ عنہ کا قطعی جنتی ہونا بھی اس حدیث سے اور بہت سی حدیثوں سے ثابت ہوا۔ سیدنا عمررضی اللہ عنہ خوشی کے مارے رو دئیے اور یہ جو کہا کہ کیا میں آپ پر غیرت کروں گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تو میرے بزرگ ہیں۔ میرے مربی ہیں۔ میری بیویاں سب آپ کی لونڈیاں ہیں۔ غیرت تو برابر والے سے ہوتی ہے نہ کہ مالک اور مربی سے ۔

    سیدنا زبیر بن العوام کی غیرت کا بیان :
    صحيحة صحیح بخاری: کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان (باب: غیرت کا بیان)
    5264 . سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنھما ست روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس پانی لانے والے ایک اوںٹ اور ایک گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، الغرض کوئی چیز نہ تھی۔ میں ہی ان کے گھوڑےکو چارہ ڈالتی اور پانی پلاتی تھی نیز ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی تھی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ میری ہمسائیاں انصاری عورتیں روٹیاں پکا دیتی تھیں۔ وہ بڑی اچھی اور باوفا خواتین تھیں۔ سیدنا زبیر رضٰ اللہ تعالٰی عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ ﷺ نےانہیں دی تھی، میں وہاں سے اپنے گھر دو میل کے فاصلے پر تھی، ایک روز میں آرہی تھی جبکہ گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوگئی۔ آپ کے ہمراہ قبیلہ انصار کے چند لوگ بھی تھے۔ آپ نے بلایا اور اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے اخ اخ کیا۔ آپ چاہتے تھے کہ مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیں لیکن مجھے مردوں کے ہمراہ چلنے میں شرم محسوس ہوئی اور سیدنا زبیر رضی اللہ تعالٰٰی عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ بہت ہی با غیرت انسان تھے۔ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھ گئے، اس کے بعد میں سیدنا زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آئی ان سے واقعے کا ذکر کیا کہ راستے میں رسول اللہ ﷺ سے میری ملاقات ہوئی تھی جبکہ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں۔ آپ کے ہمراہ چند صحابہ کرام ؓم بھی تھے۔ آپ ﷺ نے مجھے سوار کرنے کے لیے اپنا اونٹ بٹھایا لیکن مجھے شرم دامن گیر ہوئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا سر پر گھٹلیاں اٹھانا مجھ پر آپ ﷺ کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ گراں تھا ۔ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا، وہ گھوڑے کے متعلق سب کام کرنے لگا اور میں بے فکر ہوگئی گویا انہوں نے مجھے آزاد کردیا
    اردو حاشیہ: حافظ نے کہا اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ حجاب کا حکمرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے خاص تھا اور ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ حجاب ( پردہ ) کا حکم اترنے سے پہلے کا ہے اور عورتوں کی ہمیشہ یہ عادت رہی ہے کہ وہ اپنے منہ کو بیگانے مردوں سے ڈھانکتی یعنی گھونگٹ کرتی ہیں۔

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی غیرت کا بیان :
    صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ (بَابُ تَزْوِيجِ النَّبِيِّ ﷺ خَدِيجَةَ وَفَضْلِهَا ؓ)
    3848 . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں کی جس قدر سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنھا پر کی، حالانکہ میں نے ان کو دیکھا تک نہیں مگر وجہ یہ تھی کہ نبی ﷺ ان کا بکثرت ذکر کرتے رہتے تھے۔ اور جب آپ کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے کاٹ کر سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کی سہیلیوں کو بھیجتے تھے۔ جب کبھی میں آپ سے کہتی کہ گویا دنیا میں کوئی عورت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے سوا تھی ہی نہیں تو آپ فرماتے: "وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور میری اولاد بھی انہی کے بطن سے ہوئی ہے۔"
    اردو حاشیہ: اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا درجہ بہت زیادہ تھا ، فی الواقع وہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین محسنہ تھیں ان کے احسانات کا بدلہ ان کو اللہ ہی دینے والا ہے رضی اللہ عنھا وارضاھا ( آمین )

    غیرت کا اظہار بہت اچھی چیز ہے لیکن جو حقوق عورت کو شریعت نے دے رکھے ہیں انہیں غیرت کے نام پر ان سے روکنا درست نہیں ہے :
    صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ (بَابٌ)
    912 . سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالٰی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زوجہ محترمہ فجر اور عشاء کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں جاتیں اور جماعت میں شریک ہوتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ تم باہر کیوں نکلتی ہو جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یہ ناگوار گزرتا ہے اور انہیں اس پر غیرت آتی ہے؟ زوجہ محترمہ نے جواب دیا کہ وہ مجھے روکتے کیوں نہیں ہیں، ان کے لیے کیا رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان باعث رکاوٹ ہے: " اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو ۔"

    جس شخص میں غیرت نہ ہو اسے شرعی اصطلاح دیوث کہتے ہیں :
    جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ دیوث ہے۔ ایسے شخص کے بارے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت والے دیکھے گا بھی نہیں ۔
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تین طرح کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ دیکھے گا، ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسری وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، تیسرا دیوث (بے غیرت) اور تین شخص ایسے ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے۔ ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسرا عادی شرابی، اور تیسرا دے کر احسان جتانے والا"۔

    تخریج دارالدعوہ: تفرد به المؤلف، (تحفة الأشراف: 6767) حم۲/۶۹، ۱۲۸، ۱۳۴ (حسن صحیح)

    ہمارے شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ لکھتے ہیں :
    رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے دیوث کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ بےحیائی اور خباثت کو اپنے گھر میں برداشت کرتا ہے ۔
    مزید لکھتے ہیں :
    اپنے گھر میں کنجر خانہ بنالے اور اسکو برداشت ہو کہ اسکی بہو بیٹیاں غیر محرموں کو سکرین پر دیکھیں یا بازاروں میں غیر محرموں کے ساتھ گھومیں یا گھر میں غیر محرموں کے ساتھ "گپ شب " کریں , تنگ لباس پہنیں زیب وزینت غیر محرموں کے سامنے ظاہر کریں عشقیہ اشعار سنیں اور گنگنائیں وغیرہ وغیرہ
    الغرض ایک مسلمان کو ، اللہ مالک الملک ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام ، امھات المؤمنین ، آئمہ دین ، اپنے اہل خانہ ، اسلام اور اہل اسلام کے بارے میں غیرت مند ہونا چاہیئے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,089
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
Loading...
Similar Threads
  1. ابو حسن
    جوابات:
    2
    مشاہدات:
    84
  2. سیما آفتاب
    جوابات:
    3
    مشاہدات:
    87
  3. کنعان
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    81
  4. کنعان
    جوابات:
    4
    مشاہدات:
    112
  5. ابو حسن
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    88

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں