اسلام کا آفاقی پیغام "امن اور نجات"

SZ Shaikh نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 7, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    73
    "اے ایمان والو! اللہ کے واسطے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو، انصاف کرو کہ یہی بات تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ اس سے خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو"۔ (قران 5:8)

    معاشرے کی اصل روح انسانیت ہے ساتھ ہی ساتھ "عدل " انصاف" حقوق "اور" آزادی " یہ ایسی اصطلاحات ہیں جوانسانیت کی تکمیل کے لئے ناگزیر ہے اور یہ الفاظ جتنے معروف ہے۔ اتنے ہی زیادہ بحث و تکرار کا اہم ترین موضوع اور مسئلہ رہا ہے. یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے، لہٰذا اس نعرہ کی گونج پوری دنیا میں شدومد سے جاری و ساری ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ آزادی ، امن اور سکون حاصل ہو اور وہ اسی کے پیش نظر کئ ادارے تنظیمیں وجود میں آئے ہیں اور ہر خاص و عام کی کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے معاشرہ کو بہترین معاشرہ بنائے. سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم سب کی کوشش کے باوجود انسان اس امن اور سکون کو حاصل کرنے میں کیوں ناکام ہے.؟ حالات سنگین اور بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں انسان کی جان مال عزت آبرو پامال ہو رہے اور نہ اسے کسی طرح کا امن اور سکون ہے. انصاف حاصل کرتےکرتے انسان اپنی زندگی کھو دیتا ہے. ترقی کے نام پر کئ طرح کے فریب، دھوکہ اور برائی کو عام کیا جارہا ہے اگر حق کے لے اگر لب کشائی کی تو اس کو طرح طرح کی مصیبتوں اور صعوبتیں کا سامنا کرنا پڑتا ہے آخر دنیا اتنی بدل کیوں گئ ہے کہ انسان انسان کا دشمن بن گیا ہے انسانیت دم توڑ رہی ہے...ایسا کیوں .؟ کسطرح انسانیت کی نشأته ثانیہ کی جائے؟

    انسانیت کے اس بگاڑ اور حالات کی کئی وجوہات ہے - فخر، لالچ، انکار حق، خودمختاری، ظلم، خوغرضی اور سب سے بڑھ کر اس کائنات کے تخلیق کرنے والے کا انکار یہ برے عناصر آہستہ آہستہ حق اور اس سے جوڑے تمام خیر مثلاً بھلائی، نیکی، رحمدلی، ایثار اور قربانی کو اس حق سے تمام بھلائیوں کو منقطع کرتا چلا جاتا ہے اور انسان اپنے آپ کو آزاد تصور کرنے لگتا ہے اور انسان حق اور باطل، برائی اور بھلائی کی تمیز کھو دیتا ہے اور جھوٹ کے آئینہ میں تمام برائیوں کو قبول کرتا چلا جاتا ہے. اور باطل کی تمام برائیوں پر اکتفا کرتا چلا جاتاہے تو پھر معاشرہ سے أقدار (values) أخلاق (morality) مساوات (equality) جومعاشرے کی بقا اور امن کے لئے حد ضروری ہے ختم ہوتے چلے جاتے ہیں.اور معاشرے میں بدامنی، ناانصافی اور حق تلفی عام ہو جاتی ہے. تو کیا ہم اس سماج کو اسی طرح چھوڑ دے؟ اگر آج ہم نےاس کام کو انجام نہیں دیا تو آنے والا دور اور آئندہ نسل کے بگاڑ کے ذمے دار ہم خود ہونگے. اگر ہم اپنی ذمے داری سے روگردانی کی تو وہ ممکن ہے بارگاہِ الہی میں ہم دعا بھی کرے اور ہماری دعا قبول نہ ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف (بھلائی) کا حکم دو اور منکر (برائی) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“ (مسلم)

    سوال یہ پے کہ اس سماج کو کس طرح امن کا گہوارہ بنایا جائے اور تمام لوگوں کس طرح ایک دھاگہ میں جوڑا جائے تاکہ اور ایک ایسا سماج اور معاشرہ جس میں تمام لوگوں کو عدل، انصاف ،حقوق اور آزادی ملے اس کا ایک ہی حل پے کہ ہم اپنے آپ کو رب کائنات کے سپرد کر دیا جاے .اس کے قانون کے مطابق عمل کرنا اور اپنی "خواہشات" کو اس کے قانون کے تابع کرنا اور اس کی پاسداری کرنا ہی اصل آزادی ہے دراصل ہم نے آزادی کا مطلب یہ سمجھ رکھا ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی تکمل میں لگ جائے اور وہ ہر قید سے آزاد ہوتاچلا جاے. ان دونوں میں جب توازن ہوگا توآپ سے آپ امن قائم ہوگا مگر یہی بنیادی نکتہ ہے جس کا لوگ انکار کرتے ہیں اور اس کا سبب بتاتے ہیں کہ "ہم اپنی آزادی نہیں دیں گے." دراصل انسان کا سب سے بڑا دشمن اور دوست اسکا اپنا نفس ہے۔ یہ ایک سرکش گھوڑا ہے جو اگر قابو میں آ جائے تو اس سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں۔

    أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى ( 36 )
    کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟


    مگر سوال یہ ہےکہ وہ کیا پیمانہ ہو وہ کیا معیار اور وہ کونسے قوانین ہو جو سب کے ساتھ انصاف کر سکے. وہ صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جس نے ہمیں پیدا کیا وہی ہمارامالک ہے وہی ہمارے تمام مسائل کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہی انسان کو صحیح امن اور تحفظ فراہم کر سکتا پے. جب انسان اس پیدا کرنے والے کو اپنا رب اور حاکم تسلیم کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے قانون (divine law) کے حوالے کرتا ہے۔جو نوع انسانی کو ایک رشتے میں جوڑ دیتا ہے اورکوئی امتیاز باقی نہیں رہتا نہ کوئی چھوٹا نہ بڑا،نہ ذات پات ان سب سے انسان کو اوپر اٹھاتا ہے. اسی ایک رب کی حاکمیت اوربرتری کو قبول کرنا اور اسی کے آگے سر تسلیم خم کرنا اسی میں ہماری حقیقی نجات ،فلاح اور امن ہے.

    "اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں"۔ (قرآن 104 : 3)


    اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کچھ لوگ امر المعروف ونہی عن المنکر اس فریضہ کو انجام دیتے رہے۔ اس پیغام کو پہچانےکی سعی وجہد کرتے رہنا ہے ۔ تاکہ ہم سب مل جل کر ایک مثالی معاشرہ قائم کرسکے اور معاشرے کو برائیوں سے بچایا جاسکے اور امن أور نجات کے صحيح مفہوم سےلوگوں کو آگاہ کرا سکے۔ اسی میں ہماری ابدی فلاح ہے. آمین
     
    • مفید مفید x 3
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,295
    جزاک اللہ خیرا، بہت عمدہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    73
    وایاک ۔۔ حوصلہ افزائی کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    جزاک اللہ خیرا
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں