“ شجرہ طیبہ “

SZ Shaikh نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 11, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    " اگرجڑیں خراب اور بیکار ہوں تو کیا تم لوگ اسی سے چمٹے رہو گے اور اپنا نقصان کروگے. کیا اب یہ مناسب نہ ہوگا تمہارے لئے کہ تم اپنی روش کو بہتر بناؤ اور ایک بہترین تبدیلی لائی جائے."

    قرآن مجید بالکل اسی انداز میں بیان کرتا ہے

    " اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں کہ ہمیں وہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ علم رکھتے ہوں نہ انہوں نے ہدایت پائی ہو". (قرآن 5 : 104)

    یہ قرآن مجید کی بہت ہی معنی خیز آیتیں ہے جو،آج اکسویں صدی کے انسان کی عقل کو چیلنج (challenge) کررہی ہے۔ جو ترقی کی انتہا کو پہنچ گیا ہے اسے کہا جارہا ہے کہ کائنات کی تخلیق پر ہی نہیں بلکہ کائنات کی حقیقت پر بھی غور کرو اور یہ بات آپ سے آپ واضح ہو جائے گی کہ اس کائنات کو بنانےوالا ایک معبود ہے اور اسی کی عبادت کی جائے۔ اوراسے ہر طرح کی گمراہی سے بچایا جائے یہ انسان کو، روحانی اور ذہنی طور پر مثبت رویہ اور صحیح سمت کی طرف لے جاتی ہے۔ آج انسان نے ترقی کے مفہوم کو بالکل محدود کر دیا ھے کہ وہ صرف مشینیں اور ٹیکنالوجی ایجاد کرنے کو ہی اصل ترقی سمجھ رہا ہے دراصل یہ اپنے لئے ترقی نہیں تباہی تیار کررہا ہے. دراصل ٹیکنالوجی اور ایجادات بذات خود بری نہیں ہے مثلاً پانی تو زندگی ھے مگر اسی پانی سے انسان زہر بھی تیار کر رہا ہے۔ اسی طرح چاقو سے پھل بھی کاٹا جاتا ہے اور مریضوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے اور اسی چاقو سے قتل بھی کیا سکتا ہے تو اس سے پتہ چلتا پے کہ ہم اس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور وہ کونسے پیمانے اور کسوٹی ہیں جو ایک انسان کو ایک بہترین انسان بناتاہے کہ انسان اچھائی کو قبول کرتا ہے. اور برائی سے رک جاتا ہے.

    آج کا انسان ترقی تو کر رہا ہے مگر وہ طاقت اقتدار اور مادیت کو حاصل کر لینے کو ہی اصل ترقی سمجھ رہا ہے. مگر وہ ترقی نہیں بلکہ تباہی کے دہانے کو پہنچ چکا ہے دراصل یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہے۔ ہم پچھلی صدی پرنظر ڈالیں تو اندازہ ہو جائے گا انسان نے جو کچھ تیار کیا وہ انسانوں کو تباہ کرنے اور انھیں اذیت دے کر پوری نوع انسانی کو ایک ایسے راہ پر ڈال دیا جہاں حیوان بھی شرما جائے۔ آپ پوری تاریخ دیکھ لئے WW1,WW2 جاپان پر جو مذایئل ڈالا کہ آج تک ان کی نسلوں میں وہ عیب اور نقص باقی ہے۔ اور آج بھی شام پر کیمیائی حملہ (Chemical weapons attack ) کرکے انسانیت کی تمام حدوں کو پار کردیا ہے۔جس میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ دو دہائی سے مشرق وسطٰی (middle east) کی حالت زار کسی سے چھپی نہیں ہے. آخر ایسا کیوں؟ کیا آج تعلیم کا مقصد صرف علم حاصل کرنا ہے؟۔ وہ اخلاق اور اقدار سے بالکل نابلد ہے جس کی عکاسی ہم اپنے معاشرے میں دیکھ سکتے ہیں آج تعلیم کا معیار بالکل اونچا ہے. کیا اسے اصل ترقی کہے گے ؟ خونی رشتوں میں کئ میل کے فاصلے پیدا ہوگئے. آخر یہ کیوں ہے؟ برابری ( equality) اور آزادی کے نام پر ابھی بھی عورت کا استحصال کیا جاتا ہے مقدم رشتے پامال ہورہے ہیں اس کا حل کیا ہے؟

    دراصل یہ ترقی کے نام پر ایک سراب اور دھوکہ ہے. أصل ترقی تب ممکن ہے جب انسانوں کے لئے وہ سود مند ثابت ہو اور وہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب انسان اپنے رب کو پہچان کر اس کے بتائے گئے طریقے پر عمل پیرا ہو گا پھر وہ سماج اور معاشرے کے بےجا اور فرسودہ نظام کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ جو انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے بجائے ایک دوسرے سے کاٹ کر رکھتی ہے۔ اس لئے کہ رسم ورواج انسان کے اندر وہ جذبہ (spirit) نہیں پیدا کر سکتی جو ایک حقیقی نظام زندگی فراہم کرسکتا ہے. جس طرح ایک خراب اور بیکار درخت انسانوں کو فائدہ دینے کی بچائے نقصان پہنچانتے ہیں اور اور آئندہ بھی کوئی اچھے ثمرات دینے کے قابل نہیں رہتا. رب کائنات کی معرفت اور اس کے قوانین پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم معاشرے میں سدھار لا سکتے ہیں۔

    انسان کو اس دنیا میں اللہ تعالی نے تمام صلاحیتوں اور ذہانت کے ساتھ بھیجا ہے۔ انسانی تخلیق اور ساخت غوروفکر کے لئے اس طرح مناسب اور مفید ہے جس طرح بیج' زمین کے لئے اور آسمان سے برسنے والا پانی زمین کی وجہ سے خیر ہوتا ہے. انسانی ساخت میں نمایاں مقام رکھنے والے اعضاء 'کان' آنکھ اور دل 'اسی وجہ سے عطا کی گئی ہیں' اور انسان 'اشرف المخلوقات اسی وجہ سے ہے. ان اعضاء کی مدد سے خالقِ حقیقی کو پہچاننا‘نصیحت حاصل کرنا اور مسلم بننے کا پرعز م فیصلہ کرنا ممکن ہے۔ اس ضمن میں قرآن مجید انسانی زندگی کے مختلف حالات‘ خود انسانی زندگی اور ساری کائنات سے متعلق قابل توجہ پہلو واضح کرتے ہوئے دعوت غور وفکر دیتا ہے

    "بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔"(قرآن 17 : 36)

    اوپر کی آیتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہمیں مخاطب کر کے اس احسان کو یاد دلارہا پے ۔جو اس نے ہمارے اوپر کیا ہمیں شعور، ذہانت اور اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ ہم برائی بھلائی، حق اور باطل اور سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکے۔ مگر اس کے باوجود ہم اپنی وہی روش جو ہمارے باپ دادا نے اپنائی تھی تو اسی کو سچ اور حق مان کر زندگی گزارے اور وہی گمراہی، بدعات اور رسم و رواج کو کل مذهب اور دین مان کر اس پر عمل کریں گے تو ہماری ساری تگ ودو اور محنت "شجرہ خبیثہ" کو پروان چڑھانے میں صرف ہو جاتی پے۔ ہم اور ہمارے آنے والی آئندہ نسل بظاہر تو وھی انسان رہے گے۔ مگر انسانیت سے عاری رہے گے۔ جسم تو رہے گا مگر اس میں جان باقی نہیں رہے گی۔ بالکل اس بیکار درخت کی مانند جو درخت تو ہے مگر اس میں کوئی خیر نہیں ! درخت اسی وقت ہرابھرا ہوگا جب وہ اپنے جڑوں سے جڑا رھے گا پھر اس میں شادابی، تازگی اور رونق بھی رہے گی اور ساتھ ہی ساتھ ثمرات سے بھی لدے رہے گے تو اس کا انحصار خود ہم پر ہے کہ ہم کس طرح کا پھل لانا چاہتے ہیں؟ اور اسی وقت ممکن ہے جب ہم نظریات اور عقائد درست رہے گے۔ آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا گو یو تاکہ ہمیں بصیرت اور بصارت کی نگاہ عطا کرے ساتھ ہی ساتھ حق شناسی کی توفیق عطا کرے اور ہم خبیث اور طیب درخت میں فرق محسوس کر سکے اور معنوی ترقی حاصل کر سکے. آمین

    "البتہ تحقیق ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہاری نصیحت ہے، کیا پس تم نہیں سمجھتے"۔ (قرآن 21 : 10)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • مفید مفید x 1
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    جزاک اللہ خیرا کثیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,211
    جزاک اللہ خیرا، بہت عمدہ لکھا آپ نے، بارک اللہ فیک!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    188
    بہت عمدہ سس جی
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    جزاکم اللہ ۔۔ آپ تمام کی پزیرائی اور نیک خواہشات کے لئے تہہ دل سے مشکور ہوں۔ شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں