رشتوں کی تلاش میں اندھااعتماد

صدف شاہد نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏اپریل 12, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    181
    رشتوں کی تلاش میں اندھااعتمادمسائل کا سبب بنتاہے

    ’’ارے جہاں آرا اس بار میں بہت اچھا رشتہ لے کر آئی ہوں، لڑکا بہت بڑی فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ شکل و صورت بھی اچھی ہے۔ گھر میں صرف ایک بوڑھی ماں اور بیوہ بہن ہے۔ اگر ہماری ہماکی اس گھر میں شادی ہوگئی تو سمجھو نصیب کھل جائیں گے بچی کے!‘‘ رحمت بوا اپنا برقع سنبھالے پان منہ میں دبائے جلدی جلدی بول رہی تھیں۔

    ’’سچ بوا؟ اگر اپنی ہما کا یہاں بیاہ ہوگیا تو میں تمہیں نیا جوڑا اور ایک کلو مٹھائی کا ڈبادوں گی‘‘جہاں آراخوش ہوکربولیں۔

    اگلے وقتوں میں ایسا ہی ہوا کرتا تھا کہ محلے کی کوئی خالہ یا بوا جگہ جگہ اپنی جوتیاں چٹخاتی پھرتیں اور اِدھراُدھررشتوں کی خبر دیتی تھیں۔ اس کام میں کبھی کبھار کسی کا رشتہ طے پاجاتا اوریوں شادی ہوجاتی تھی۔ دیکھا جائے تو ہمارے ہاں آج بھی اکثر رشتے کچھ اسی طرح طے پاتے ہیں۔ آپ کی روز اخبار میں اس ا شتہارپرنگاہ ضرور پڑتی ہوگی کہ ’’ضرور ت رشتہ‘‘ نیک ہینڈ سم کنوارے لڑکے کے لیے 25 سال کی لڑکی کا رشتہ درکارہے یاپھر’’گرین کارڈ ہولڈر لڑکی کے لیے رشتہ درکارہے‘‘رنڈوے اورطلاق یافتہ بھی رجوع کرسکتے ہیں، لالچی نہ ہوں‘‘یہاں یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ اخبار میں وہ خود ایک پرکشش اشتہار چھپواتے ہیں اوراس میں لڑکی کی مالی حیثیت کاچرچا کرتے ہیں اور خود ہی آگے وضاحت کرتے ہیں کہ ’’لڑکا لالچی نہ ہو۔‘‘بہرحال آج کل دیگرکاروبارکی طرح بہت سے لوگ بڑے پیمانے پریہ کام بھی کررہے ہیں ۔ اکثر اشتہارات میں یہ عبارت لکھی ہوتی ہے کہ ’’ہمارے ہاں مفت فی سبیل اﷲ رشتے کرائے جاتے ہیں‘‘مگرحقیقت وہاں جاکرہی معلوم ہوتی ہے۔

    ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے لیے رشتے ملنا ایک گمبھیر مسئلہ بنتا جارہا ہے اس لیے والدین مختلف میرج بیوروزسے رابطہ کرلیتے ہیں۔ رجسٹریشن فیس ادا کرکے وہ اپنی لڑکی کانام لکھواتے ہیں اور پھران کے گھر لڑکوں کی لائن لگ جاتی ہے۔ ان میں کئی لڑکے دوسری یا تیسری شادی کی خواہش رکھتے ہیں یاپھر اپنی زندگی کی 60 بہاریں دیکھنے کے بعد بھی ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کے دعوے دارہوتے ہیں۔ کئی والدین جھوٹ اور فریب سے کام لیتے ہیں، اپنے لڑکے کی تعلیم،آمدنی، کردار اور ازدواجی حیثیت کے متعلق بھی غلط بیانی کرتے ہیں۔ اسی طرح کئی لڑکیوں کے والدین بھی فریب کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے رشتوں میں کوئی ایک فریق فراڈ ثابت ہوتا ہے۔
    میر ج بیورو کا جواب ایک باقاعدہ کاروبار کی صورت اختیارکرگیاہے۔ اسی قسم کا گھریلو کاروبار نچلی سطح پر بعض خواتین نے بھی شروع کردیا ہے۔ وہ معاوضہ لے کر اپنے محلے اور خاندان کی لڑکیوں اورلڑکوں کے رشتے کراتی ہیں۔ عام طورپر رشتے کروانے کے لیے انہوں نے اپنی ایک خاص فیس مقرر کی ہوتی ہے۔ لیکن رشتہ اعلیٰ ہو، مثلاً بیرون ملک سکونت اختیار کرنے والے یا امیر گھرانے کا ہوتومقررہ فیس دگنی ہوجاتی ہے۔ گلی محلوں میں کرائے جانے والے یہ رشتے میرج بیوروز کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ’’سفارت کاری‘‘ کے فرائض انجام دینے والی خاتون اپنے معاوضے کے لالچ میں دونوں فریقین کی کم زوریاں یاخامیاں ایک دوسرے سے چھپاتی ہیں تو شادی کے بعد حقیقت کھلنے کی صورت میں دونوں خاندانوں کومسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد دونوں گھرانے رشتہ کرانے والی خاتون کو خوب بددعائیں دیتے ہیں اوربُرابھلا کہہ کر دونوں ہی حالات کو اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر صبر کرلیتے ہیں یاپھر اس کا نتیجہ گھر ٹوٹنے کی شکل میں برآمدہوتاہے۔

    رشتوں کے حوالے سے ہمیں اپنے سماجی طرزعمل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی کئی گھرانے اپنی برادری یا خاندان سے باہر رشتہ کرنا معیوب سمجھتے ہیں۔ رنگ، نسل ، زبان اور ذات برادری سے بڑھ کر اگراخلاقی قدروں کی پاس داری اور شرافت نفس کو معیار بنایاجائے تو کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح کئی خاندان مال و دولت کی ہوس میں اپنے بچوں کی زندگی داؤپرلگادیتے ہیں۔ شادی کو کاروبارسمجھنے یاجھوٹی خاندانی اناکا مسئلہ بنانے کے بجائے خالصتاً انسانی بنیادوں پردیکھنا چاہیے، اسی سے ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد پڑسکتی ہے۔ اگر ہم خوداپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لے آئیں تو میرج بیورز کے نام پرلوگوں کوبے وقوف بنانے والوں کاکاروباربھی ختم ہوجائے گا۔

    بشکریہ ایچ ٹی وی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • مفید مفید x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    351
    قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے ہم دینداری ( سے مراد حقیقی دینداری نہ کہ نام نہاد دینداری ) کو ترجیح دیں تو ان شاءاللہ زیادہ تر مشکلات ہم سے دور ہوجائیں گی

    لیکن افسوس ! کہ ہم دنیا داری کو مقدم رکھتے ہیں جن کی بدولت ہمیں بہت سی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  3. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,174
    اللہ پر توکل اور تقوی کو بنیاد بنا کر جو رشتے قائم کئے جاتیں ہیں وہ دیرپا رہتے ہیں اور جو دنیا داری کو دیکھ کر لالچ کی بنیاد پر رشتہ قائم کیا جائے و اس وقت تک ہی کامیاب دکھتا ہے جب تک فریقین کی ضرورت پوری ہوتی رہتی ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,088
    وہ دیندار رشتے بھی دنیا داری پر ہی استوار ہوتے ہیں.جن میں ناک کا خیال رکھنا پڑے.دنیا دیکھ کر کسی شخص کے پیروں میں گرجائیں.اور کچھ نہیں عزت شہرت تو ملے گی.آسودگی حاصل ہو، دینداری تو محض ایک طعنہ بن کر رہ گئی ہے. جس میں دیندار لوگوں کی کردار کشی کی جاتی ہے.داڑھیاں نوچی جاتی ہیں.پھر یہی لوگ کردار و داڑھی پر اثر تحریریں بھی لکھتے ہیں.قول و فعل میں یہ تضاد جہالت کی پیداوار ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    181
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں