آسانیاں تقسیم کریں

صدف شاہد نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 12, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    206
    دعا
    ایک نوجوان نے کسی درویش کو دعا کا کہا۔ درویش نے نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے جذب سے دعا دی:
    اللہ تجھے آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    دعا لینے والے نے حیرت سے کہا :
    حضرت الحمد اللہ ہم مال پاک کرنے کے لئے ہر سال وقت پر زکوٰۃ نکالتے ہیں ، بلاؤں کو ٹالنے کے لئے حسب ِ ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ ملازمین کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں !
    درویش تھوڑا سا مسکرایا اور بڑے دھیمے لہجے میں بولا:
    میرے بچے! سانس۔ پیسے، کھانا یہ سب رزق کی مختلف قسمیں ہیں اور یاد رکھو رَازِق اور الرزاق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
    درویش نے نرمی سے اُ س کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور پھر بولا :
    میرے بچے ! آؤمیں تمہیں سمجھاؤں کہ آسانیاں بانٹنا کسے کہتے ہیں ، کبھی کسی اداس اور مایوس کندھے پر ہاتھ رکھ کر، پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر اس کی لمبی اور بے مقصد بات سننا ، ہمدردی اور خیر خواہی سے درد بانٹنا،آسانی ہے۔ اپنی
    ضمانت پر کسی بیوہ کی جوان بیٹی کے رشتے کے لئے سنجیدگی سے تگ و دو کرنا، آسانی ہے۔صبح دفتر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کسی یتیم بچے کو اسکول جانے کی زمہ داری لینا،یہ آسانی ہے۔ اگر تم کسی کے گھر کے داماد یا
    بہنوئی ہو تو خود کو سسرال میں خاص اور افضل نہ سمجھنا یہ بھی آسانی ہے۔غصے میں بپھرے کسی آدمی کی کڑوی کسیلی اور غلط بات کو نرمی سے برداشت کرنا، یہ بھی آسانی ہے ۔ چائے کے کھوکھے والے کو اوئے کہہ کر بلانے کی بجائے بھائی یا بیٹا کہہ کر بلانا ، یہ بھی آسانی ہے۔ گلی محلے کے ٹھیلے والے سے معمولی بات پر بحث و مباحثے سے بچ کر خریداری کرنا ، یہ بھی آسانی ہے۔ تمہارا اپنے دفتر ، مارکیٹ یا فیکٹری کے چوکیدار اور چھوٹے ملازمین کو سلام میں پہل کرنا ، دوستوں کی طرح گرم جوشی سے ملنا، کچھ دیر رک کر اُن سے بچوں کا حال پوچھنا یہ بھی آسانی ہے ۔ہسپتال میں اپنے
    مریض کے برابر والے بستر کے انجان مریض کے پاس بیٹھ کر اُس کا حال پوچھنا اور اُسے تسلی دینا بھی آسانی ہے ۔ٹریفک کے اشارے پر اپنی گاڑی کے آگے کھڑے شخص کو بار بار ہارن نہ دینا جس کی موٹر سائیکل بند ہو گئی ہو سمجھو تو یہ بھی
    آسانی ہے ۔درویش نے حیرت میں ڈوبے ہوئے نوجوان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے دوبارہ متوجہ کرتے ہوئے کہا:
    بیٹا جی! تم آسانی پھیلانے کا کام گھر سے کیوں نہیں شروع کرتے ہو؟ آج سے واپس جا کر کیوں نہیں شروع کرتے ؟ آج واپس جا کر باہر دروازے کی گھنٹی صرف ایک مرتبہ دے کر دروازہ کھلنے تک انتظار کرنا۔آج سے باپ کی ڈانٹ ایسے سننا جیسے ادب سےموبائل پر پسندیدہ
    کلام سنتے ہو۔ آج سے ماں کی پہلی آواز پر جہاں کہیں ہو فوراً اُن کے پاس پہنچ جایا کرنا۔ تمہیں دوسری دفعہ آواز
    دینے کی نوبت نہ آئے۔سالن اچھا نہ لگے تو دستر خوان پر حرفِ شکایت بلند نہ کرنا ، کبھی کپڑے ٹھیک استری نہ ہوں تو خاموشی سے خود استری درست کر لینا، اپنے چھوٹے موٹے کام خود کرنے کی عادت ڈالو، میرے بیٹے! ایک بات یاد رکھنا تمہاری زندگی تمہاری محتاج نہیں بلکہ تم زندگی کے محتاج ہو اور ہر سانس لینے کے لئے حکمِ ربی کے پابند بھی ۔اپنی منزل کی فکر چھوڑواور اپنا ہر معاملہ مالکِ کُل کے سپرد کر کے اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بناؤ ۔ ان شا ء اللہ تعالیٰ منزل خود مل جائے گی بے شک اللہ بہتر نوازنے والا ہے تم خلوصِ نیت سے سرگرمِ عمل رہو۔
    آئیں ! صدقِ دل سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا وجود دوسروں کے لئے سراسر خیر ہو ۔آمین یا رب العالمین
    منیر احمد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,251
    بہت عمدہ شیئرنگ، بارک اللہ فیک!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں