ایمرجنسی اور انتظار کی کوفت

ابو حسن نے 'گپ شپ' میں ‏اپریل 13, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    355
    کل کچھ طبیعت ناساز ہوئی تو ہسپتال کا چکر لگانا پڑا

    کل صبح سینے میں تکلیف محسوس ہوئی اور اہلیہ نے سینے پر ہاتھ رکھے دیکھ لیا ، اب یہی رٹ لگائی کہ آپ ایمرجنسی میں جائیں ،کافی کوشش کے بعد اس بات پر راضی ہوئی کہ میں گھر کے پاس " ارجنٹ کلینک " میں چلا جاؤں ، میں نے کہا کہ اپنی گاڑی پر چلا جاتا ہوں تو جواب نہیں میں ملا اور کہا کہ فلاں یا فلاں عزیز کو بلا لیتی آپ ان کے ساتھ چلے جائیں

    میں نے کہا اسکی کوئی ضروت نہیں 5 منٹ کا فاصلہ ہے خود ہی چلا جاتا ہوں ، پھر ٹیکسی کا اسرار چلتا رہا ، بحرحال " ارجنٹ کلینک " پہنچا ڈاکٹر کو تفصیل بتائی ، ڈاکٹر نے چیک اپ کیا پھر " ای سی جی" کیا اور بتایا کہ ظاہری طور سب کچھ ٹھیک ہے لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ ہسپتال میں ایمرجنسی میں چلے جائیں اور مکمل اور تسلی بخش چیک اپ ہوجائے گا اور آپکو انتظار نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ میں آپکو میں " ای سی جی" اور اپنی رپورٹ بناکر دیتا ہوں، اس دوران اہلیہ کا تقریبا دس مرتبہ فون آچکا تھا

    وہاں سے گھر آیا اور اہلیہ کو بتایا تو کہنے لگی کہ آپ گھر کیوں آئے سیدھا ہسپتال جاتے اب میں نے 7 عجوہ کجھوروں کے علاوہ کچھ کھایا بھی نہیں تھا تو بتایا کہ یار تم ناشتہ تو دو ؟ ابھی تک ناشتہ نہیں کیا ، جواب ملا آپ ناشتہ کی فکر چھوڑیں اور ٹیکسی پر ہسپتال جائیں ،میں نے پھر اپنی گاڑی پر جانے کا اسرار کیا کیونکہ ہسپتال میرے گھر سے 10 منٹ کی مسافت پر ہے

    ہسپتال میں ایمرجنسی کے استقبالیہ پر رپورٹ دکھائیں انہوں نے مزید تفصیلات پوچھیں اور نوٹ بناکرمجھے اس ڈاکٹر کی طرف بھیج دیا اب وہ رپورٹس وہاں رکھیں اور انتظار کرنے لگا ، باری آنے پر ڈاکٹر نے دیکھا مزید سوال کیے پھر چیک اپ کیا گیا اور خون لیا ٹیسٹ کیلئے اور ڈاکٹر نے بتایا کہ 2 گھنٹے بعد پھر سے چیک اپ کرنا ہوگا لہذا آپ انتظار گاہ میں بیٹھیں ، اب اہلیہ کو بھی فون پر تسلی دی کہ کچھ خاص بات نہیں ہے اور مجھے ابھی دیر لگے گی

    اس انتظار کے دوران دیکھا کہ ایک عمر رسیدہ مریضہ جو کہ ایمبولینس میں آئی تھی اور اسکی باری مجھ سے پہلے تھی وہ بھی انتظارگاہ میں ویل چیئر پر تھی اور ظاہری حلیہ ایسا تھا کہ جیسے بہت زیادہ بیمار ہو ، 2 گھنٹے تک انتظار کے بعد اسنے اپنے جوتے پہنے جیکٹ پہنی اور بڑبڑاتی کھڑی ہوئی جب میں نے اسے کھڑے ہوتے اور چلتے دیکھا تو لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہی مریضہ ہے جو کمبل اوڑھے بہت بیمار دکھائی دیتی تھی ، اب یہ گئی تو واپس ہی نہیں آئی

    اسی دوران نرس آکر دو لوگوں کا نام پکار کر چلی گئی 1 بجے سے 5 بجے تک مختلف نرسوں نے چند لوگوں کے نام پکارے جو کہ کئی بار میں سن چکا تھا لیکن لوگ موجود نہیں تھے تو میں نے ایک نرس سے کہا کہ 3 گھنٹے کے دوران متعدد بار میں ان ناموں کو سن چکا ہوں لیکن یہ لوگ یہانپر نہیں ہیں، وہ بھی اسی بڑھیا کی طرح انتظار کی کوفت کی وجہ سے جاچکے تھے

    اب ڈاکٹر نے آخری مرتبہ میرا چیک اپ کیا اور کہا کہ ایک گھنٹے میں اسکی رپورٹس آئیں گی تو میں آپکو بلاکر تفصیل بتاوں گا

    پھر گھنٹے بعد ڈاکٹر نے مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے دوبار چیک اپ کیا ہے اور ظاہری طور پر سب ٹھیک ہے لیکن اگر آپکو ابھی بھی درد ہورہا ہے اور یہ درد واقعی میں تو میں آپکو ایڈمٹ کرنے کا کہتا ہوں ( اس سے مجھے یہ لگا کہ بعض لوگ جھوٹی درد کا بہانا کرکے بھی یہاں آتے ہونگے اسی لیے ڈاکٹر نے مجھے پوچھا ) وگرنہ میں آپکو " کاڈیالوجسٹ " کی طرف ریفر کردیتا ہوں اور اسے فیکس کردیتا ہوں آپکو کل صبح فون آجائے گا وقت اور تاریخ کا ، میں نے بتایا کہ ابھی درد کچھ خاص نہیں ہے ، ڈاکٹر نے مجھے رپورٹس دیں اور ایک کاپی میرے فیملی ڈاکٹر کو بھیج دی ، سلام دعا کے بعد وہاں سے نکلا اور اہلیہ کو فون کیا تو دو باتوں کے بعد زارو قطار رونے لگ گئی ، اسے تسلی دی اور کہا کہ میں گھر آرہا ہوں پھر بات کرتے ہیں

    اب گھر پہنچا دروازہ کھولا تو اہلیہ پھر سے زارو قطار رونے لگ گئی اور بیٹیاں پوچھتی ہیں بابا امی کیوں رورہی ہے ؟ میں نے کہا کہ بابا سے لڑائی کرتی ہے اس کیلئے بابا نے ڈانٹا ہے تو اسی لیے رو رہی ہے :p

    بے شک زوجین کے درمیان یہ محبت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اس پر جتنا شکر ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے اور جو اس نعمت سے محروم ہیں انکا عجیب حال ہے

    ایک جاننے والے ہیں انکی آپس میں ناچاکی ہوگئی اور یہ ناچاکی طلاق کی حد کو پہنچ گئی تو بیچ میں دخل دینا پڑا اب مولانا اور میں تھا ، فریقین کی بات سنی تو زیادہ تر قصور شوہرنامدار کا تھا

    شوہر نے 10 برس کی شادی شدہ زندگی میں کبھی بیوی کیلئے ایک دن بھی چھٹی نہیں لی حتی کہ پہلے بچے کی پیدائش پر زوجہ ہسپتال میں ہے اور اسے چھوڑ کر جاب پر پہنچ گیا اور دوسرے بچہ کی پیدائش پر بھی یہی معاملہ حالانکہ سالانہ 15 چھٹیاں بمعہ تنخواہ ملتی ہیں لیکن ان صاحب کیلئے نہ تو اہلیہ کے بیمار ہونے اور نہ ہی بچوں کی پیدائش پر چھٹیاں لینے کی اہمیت لیکن ان کے دوست برطانیہ سے تشریف لائے تو ان کیلئے 15 دن کی چھٹیاں لیں ، اب آپ اندازہ لگائیں کہ ان کیلئے بیوی اور اولاد سے زیادہ دوست کی اہمیت ہے " عجیب ذہنیت ہے جو کہ سمجھ سے بالا تر ہے "

    خود " برانڈ نیم " کے علاوہ کچھ لینا نہیں اور بچوں کیلئے بیوی 10 ڈالر کے کپڑے بتائے تو لڑائی اور اپنے والدین کیلئے ہر پھل لے سکتے ہیں اور جونہی والدین واپس ملک میں چلے گئے ؟ تو سبھی پھل مہنگے ہوگئے " عجیب دوہرا معیار ہے " پھر جب جھگڑا کرتے تو اہلیہ کے والدین کو گالیاں دیتے ، جب شوہر کو اسکی غلطیاں بتائیں اور بیوی کو اسکی غلطیاں تو شوہر صاحب نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ آپ مجھے ہی کہہ رہے ہیں لیکن میری اہلیہ کو کچھ نہیں کہہ رہے:D

    بحرحال دونوں کی صلح کروائی اور وہاں سے خوشی خوشی واپس آئے ، الحمدللہ

     
    Last edited: ‏اپریل 13, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں