شیخ احسان الہی ظہیر رح کی دعا سے بننے والے امام کعبہ

ابوعکاشہ نے 'متفرقات' میں ‏اپریل 17, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,064
    اس سے انکار نہیں کہ شیخ علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ نے شیخ سعود الشريم سے ملاقات نہیں کی ہو گی. کیونکہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے بہت قریب تھے. اور ریاض آنا جانا بھی رہتا تھا.
    مگر ہم نے علامہ صاحب کی سوانح حیات میں کہیں بھی اس ملاقات کا ذکر نہیں دیکھا. اور نا ہی عرب میں کسی سے سنا.اگر کسی کے پاس مستند حوالہ تو ضرور شیئر کرے. محترم شیخ فضل الہی صاحب حفظہ الله کے قریبی لوگ بھی یہ کوشش کر سکتے ہیں.
    مقصد یہ کہ علامہ صاحب علیہ الرحمہ کی طرف کوئی غلط بات منسوب نا ہو جائے. ان کی وفات 1987 میں ہوئی. 1980 میں شیخ شرہم کی عمر 16یا 17 سال رہی ہو گی. 91/1990 میں حرم مکی کے امام مقرر ہوئے. اس لحاظ سے تحقیق کی ضرورت ہے. ہو سکتا ہے کہ اس بابرکت ملاقات کا مزید احوال سامنے آجائے.
    .............................

    *علامہ احسان الہی ظہیر رح کی دعا سے بننے والے امام کعبہ
    تاریخ کے دبیز پردوں سے*

    80 کی دہائی ہے۔۔
    سعودی عرب کے شہر ریاض کی ایک چهوٹی سی مسجد میں مغرب کی نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔
    قاری صاحب مصلی امامت پر جلوه افروز ہوئے۔۔
    نماز اور پهر نماز میں قرآت کا آغاز ہوا۔۔
    الله نے اس چهوٹی سی مسجد کے امام کو انتہائی خوبصورت اور دلسوز آواز سے نواز رکها ہے۔۔
    جوں جوں قرآت بڑهتی چلی گئی سامعین پر ایک وجد سا طاری ہوتا چلا گیا اور یہ ان کی اس مسجد کی نماز کا معمول تها۔۔۔
    لیکن آج معمول سے کچهه ہٹ کر ہونے جا رہا تها۔۔
    نماز مکمل ہوئی قاری صاحب امامت سے فارغ ہوئے تو مقتدیوں میں سے ایک صاحب اٹهے اور آگے بڑهه کر قاری صاحب کو سینے سے لگا لیا اور ایک دعا دی۔۔
    *قاری صاحب الله آپ کو حرم کا امام بنائیں۔۔*
    قاری صاحب خوشی اور حیرت کی تصویر بنے دعا دینے والے کے روشن اور پر یقین چہرہ کو دیکهه رہے ہیں۔۔
    ایک طرف اس بات کی خوشی کے عالم اسلام کی معروف شخصیت جنہیں دنیا *علامہ احسان الہی ظہیر* کے نام سے جانتی ہے وه ان کے سامنے کهڑے ہیں اور حیرت اس بات پر کہ دعا کیا دے رہے ہیں۔۔
    رہا نہ گیا تو کہہ ہی دیا۔۔
    *شیخ۔۔*
    *ریاض کی یہ چهوٹی سی مسجد کہاں اور وه بیت الله کی امامت کہاں۔۔*
    لیکن دعا دینے والے کو اپنے رب کی عطاوں پر بڑا ناز اور گمان تها۔۔
    وقت گذرتا چلا گیا۔۔
    1987 آیا۔۔
    علامہ شہید ہوئے اور اپنے محبوب کے قرب میں جا دفن ہوئے۔۔
    سوگواروں میں جہاں لاکهوں مداح تهے وہیں وه قاری صاحب بهی تهے۔۔
    دعا دینے والا چلا گیا تها لیکن دعا باقی تهی۔۔
    اور کسی کو یاد ہو نہ ہو لیکن قاری صاحب کے سینہ میں ایک اعزاز بن کے جگمگا رہی تهی کہ *قبول ہو، نہ ہو آخر علامہ شہید نے ان کے لیے اتنے بڑے الفاظ کہے تهے۔۔*
    پهر چشم فلک نے وه دن دیکها جب کئی سال پہلے دی گئی اس دعا کو مالک ارض و سماء نے عملی صورت عطا کی۔۔
    وہی قاری صاحب محترم تهے۔۔
    بیت الله کا خوبصورت اور پاکیزه صحن تها۔۔
    مغرب کی نماز تهی اور قاری صاحب کی دلنشین اور دلسوز آواز بیت الله کے اندر بلند ہو رہی تهی۔۔
    آنکهوں سے آنسو رواں دواں تهے اور دل سے علامہ شہید کے لیے دعائیں نکل رہی تهیں کہ
    *مالک جس کی دعا سے آج یہ مقام ملا آپ جنت میں اس کے مقام کو بلند فرما دیجئے۔۔*
    عجب روح پرور منظر تها سامعین کی آنکهیں اشک بار تهیں کہ آواز میں الله نے خوبصورتی ہی ایسی دی تهی کہ سننے والا سنتا ہی چلا جائے۔۔
    اور پهر الله نے اس آواز کو ایسی شہرت عطا کی کہ *دنیا بهر میں آئمہ حرم کی سب سے زیاده سنی جانے والی آوازوں میں سے دوسری آواز قرار پائی*
    اور دنیا آج ان محترم قاری صاحب کو *الشیخ السعود الشریم* کے نام سے جانتی ہے۔۔۔
    میں جب یہ واقعہ سن اور تحریر کر رہا تها تو ذہن میں ایک خیال تها۔۔
    یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جو *شیخ السعود الشریم* نے اپنی زبانی علامہ شہید کے برادر اصغر
    محترم پروفیسر ڈاکٹر فضل الہی صاحب حفظہ الله
    کو ایک ملاقات میں سنایا تو ہمارے علم میں آگیا۔۔
    ناجانے عظمت ورفعت کی ایسی کتنی داستانیں علامہ شہید سے منسوب ہوں گی جو عزتوں کے مالک الله ہی کے علم میں ہوں گی۔۔
    *الله ان کی قبر پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے اور جنت میں پیغمبر صلی الله علیه وسلم اور ان کے ساتهیوں کے ساتهه جمع فرمائے۔۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    اس پوسٹ کو فیس بک پر پڑھا اور خوشی بھی ہوئی لیکن جب تحریر کے آخر پر پہنچا تو یہی خدشات ذہن میں آئے کہ حوالہ کوئی بھی درج نہیں اور یہ نہ ہو کہ مخالف کہیں اس بات کا مذاق بنالیں ، بحرحال اچھی کاوش ہے اور اسطرح ہوسکتا ہے اس بات کا حوالہ مل جائے ،ان شاءاللہ
     
    Last edited: ‏اپریل 17, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,097
    میں نے بھی یہ پوسٹ فیس بک پر پڑھی اور پوسٹ کرنے والا اکائونٹ قاضی عبدالقدیر خاموش کے نام سے ہے جو علامہ مرحوم کے قریب ساتھی ہیں، اس لئے اسے شیئر بھی کر دیا، لیکن یہ خدشہ بہرحال موجود ہے کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اس کے لئے محترم ابوبکر قدوسی بھائی جو کہ علامہ مرحوم کے داماد ہیں اور قاضی صاحب سے بھی قریبی تعلق ہے، ان سے رابطہ کر کے پوچھ لیتے ہیں کہ اس واقعے کی اصل کیا ہے، پھر ان کا جواب یہاں پر پوسٹ کر دیا جائے گا، ان شاء اللہ!
     
    Last edited: ‏اپریل 17, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,064
    جی یہ قاضی عبدالقدیر خاموش کی وال سے ہی منتشر ہوئی. اس لیے لوگ اعتماد کررہے ہیں. شیخ سعود الشريم کی پرانی تلاوت 6/1407 ہجری کی ہے. اس وقت ان کی عمر 23 سال تھی. اتنے غیر معروف نہیں تھے.
     
  5. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,097
    محترم ابوبکر قدوسی بھائی نے یہ جواب دیتے ہوئے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے:

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,097
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    جزاک اللہ خيرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں