تربیت اولاد

SZ Shaikh نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 18, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو بچائے اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے"(سورہ تحریم ۶)

    آج کے دور میں دنیاوی علم کا حصول در اصل صرف ڈگری حاصل کرنا رہ گیا ہے، تاکہ اچھی نوکری مل سکے۔ ان ڈگریوں کو حاصل کرنے میں کثیر رقم خرچ ہوتی ہے، اور کئی سال مسلسل محنت کے بعد وہ ڈگڑی ہاتھ آتی ہے۔ بہت سے والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اولاد کو دنیا میں عزت، شہرت اور دولت حاصل ہو تاکہ وہ ہر طرح کے مسائل اور مشقت سے محفوظ رہ سکے۔ جب ہم فانی دنیا کے لئے اتنی محنتیں کرتے ہیں تب کہی جا کر کچھ حاصل ہوتا ہے۔ تو آخرت جو دائمی ہے کیا وہ یوں ہی مل جاے گی؟ کیا ہم اپنے بچوں کو اس بڑے امتحان کے لئے تیار اور آمادہ کرپاتے ہیں؟ بلا شبہ والدین کی اصل ذمےداری بچوں کی دینی اور اخلاقی تعلیم ہے جس سے وہ تغافل برتتے ہیں۔ اس لئے کہ والدین کا اصل سرمایہ اس کی اولاد ہوتی ہے۔ نیک اولاد دنیا میں بھی بڑی نعمت ہوتی ہے اور آخرت میں والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔

    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کے ثواب کا سلسلہ اس سے منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کے ثواب کا سلسلہ باقی رہتا ہے۔ (١) صدقہ جاریہ (٢) علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (٣) صالح اولاد جو مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرے۔" (صحیح مسلم)

    دراصل اولاد ہمارے پاس اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اور اس کی صحیح نہج پر تربیت کرنا ہمارا دینی فرض بھی یے۔ اولاد کی پرورش کرنا صبر آزما مرحلہ ہے۔ویسے تو یہ ہر دور میں مشکل رہا ہے مگر آج کےپر فتن حالات میں کچھ زیادہ ہی مشکل ترین ہے اس لئے کہ معاشرہ برائی کا آماجگاہ بن چکا ہے۔ آج دنیاوی تعلیم ہی ترقی کا اصل پیمانہ بن گیا یے۔اخلاقی معیار بے معنی ہو گئے ہے۔ اسی لئے ہم اپنے اردگرد مادیت پرستی، خود غرضی، نفسانی خواہشات، اجارہ داری اور نفرتوں کا ماحول کو پروان چڑھتے دیکھ رہےہیں۔ اور جس نے پوری دنیا کی فضا کو متاثر کیا یے۔دراصل ہم نے دین اور دنیا کو دو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہماری ترجیحات کا مرکز اور محور دنیا ہو چکی ہے۔اور ہم اس سے باہر نکلنا نہیں چاہتے ہیں۔ آخر اس کا حل کیا ہے؟

    اس صورت حال کا حل یہ ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو اللہ کے ساتھ پھر سے مضبوط کرے۔ والدین سب سے پہلےخود اس پر عمل کرے۔ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اس لیے کہ کہنا جتنا آسان ہے کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔ بلا شبہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اولاد کے لیے سچائی امانت استقامت اور اس کے علاوہ خوبیوں میں نمونہ بنیں اور جس چیز کے کرنے کا انہیں حکم دیں خود بھی اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَأْمُرْاَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْعَلَیْھَا۔ (سورہ طٰہ ۱۳۳) ترجمہ۔اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کی پابندی کرو۔ جب ہم شعوری طور پر اللہ کے حکم کو مانیں گے تو سوچ کے زاویہ بدلے گی۔ افکار اور نظریات تبدیل ہونگے. اچھے معاشرے کی تشکیل اچھے خاندان سے ہو سکتی ہے۔
     
    Last edited: ‏اپریل 20, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    بہت عمدہ!

    اولاد کی اچھی تربیت نہ صرف انسان کے مرنے کے بعد کام آتی ہے بلکہ یہ وہ امتحان ہے جس کا نتیجہ اکثر والدین زندگی میں بھی خود بھگتتے نظر آتے ہیں، اگر تربیت اچھی کی ہو گی تو والدین کی آخری زندگی سکون سے گذرتی ہے ورنہ دربدر بھٹکتے نظر آتے ہیں۔ اللہ ہمیں اس امتحان میں دنیا و آخرت میں سرخرو کرے۔
     
    • متفق متفق x 1
  3. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    آمین ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    میرے گھر کے پاس مسجد میں مدرسہ بھی ہے یعنی قرآن مجید کا ناظرہ اور حفظ ،تقریبا ہر 3 ماہ کے دوران والدین کو ایک دن بلایا جاتا ہے اور یہ خاص ورکشاپ صرف والدین کیلئے ہوتی ہے

    ایک بار اس میں شمولیت کا موقعہ ملا تو مولانا نے بہت اچھا نقطہ بیان کیا

    آپ لوگ اپنے بچوں کو ابتدائی دینی تعلیم دلوا رہے ہیں بہت ہی اچھی بات ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی دھیان رکھیں کہ مدرسہ کہ بعد آپ کیا کردار ادا کر رہے ہیں اپنی اولاد کیلئے ؟
    ہر وقت استاد کا بچے کے ساتھ رہنا ذمہ داری نہیں بلکہ یہ والدین کی ذمہ داری ہے
    اب آپ سے چند سوال ہیں جن کا جواب دینا ضروری نہیں لیکن ان پر غور کرنا اور سوچنا ضروری ہے

    کیا آپ خود نماز کی پابندی کر رہے ہیں؟
    کیا آپ خود جھوٹ بولنے سے بچ رہے ہیں؟
    کیا آپ خود گھر کے ماحول کو دینداری پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
    کیا آپ خود تلاوت کر تے ہیں؟
    کیا آپ خود حرام سے بچ رہے ہیں؟
    کیا آپ خود ٹی وی پروگراموں کے دیکھنے سے بچتے ہیں؟


    ان سب باتوں پر آپ بھی عمل کرتے ہیں یا صرف اپنی اولاد سے ان باتوں کی توقع رکھتے ہیں ؟ سوچیے گا ضرور

    مولانا نے بہت اچھے انداز میں ایک مفصل بیان کیا جس میں سے چند باتیں میں نے مندرجہ بالا سطروں میں ذکر کیں ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    گزشتہ جمعہ کو عصر کے بعد تیراکی کیلئے میں اور میرے چند علماء دوست سوئمنگ پول گئے اور ایک جو خاص دوست ہیں انکے شاگرد کا والد وہیں پر مل گیا اب سلام و دعا کے بعد یہ بندہ ابو محمد سے کہنے لگا کہ کیا بیوی گھر میں نہانے نہیں دیتی جو سوئمنگ پول میں نہانے آئے ہو ؟

    ابو محمد نے کہا کہ تیراکی کیلئے آئے ہیں بچوں کو لیکر جو کہ گھر میں ممکن نہیں

    پھر ہم اندر کی طرف بڑھ گئے پول میں جانے کیلئے اور ابو محمد نے مجھے بتایا کہ اسکا بچہ میرے پاس پڑھتا تھا تو میں نے اسے کہا کہ اپنے بیٹے کو حافظ بنائیں تو آگے سے سوال شروع ہوگئے
    کتنے ڈالر ملیں گے ؟
    کتنے کمائے گا ؟
    مولوی بنے گا تو کتنے اکٹھے کرلے گا ؟

    میرے بھتیجے دیکھ لو حافظ و عالم بن کر کیا کرلیا ؟
    میں تو انجنیئر بناؤں گا
    ابو محمد نے کہا ایسی تو سوچ ہے اور اسکا ایک رشتہ دار ہے اسکو صحیح بخاری مع اسناد زبانی یاد ہے ماشاءاللہ

    میں نے کہا آپ نے اسے یہ نہیں کہا کہ علم دین سیکھے گا تو تمہاری دنیا و آخرت بن جائے گی اور یہی اولاد صدقہ جاریہ بنے گی

    ابو محمد نے کہا کہ افسوس یہ شخص اس معاملہ میں جاہل ہے
     
    Last edited: ‏اپریل 19, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  6. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے۔اس لئے کہ والدین کو سب سے پہلے ان باتوں کو اپنانا چاہئے۔اور پھر بچوں سے توقعات رکھنی چاہئے ۔ اللہ تعالی کو بھی یہ عمل سخت ناپسند ہے۔ "کیوں تم وہ کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو"۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کرنے والا بناے۔ آمین
     
  7. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    آج عصری تعلیم میں تیراکی اور کراٹے اور دیگر physical activity شامل ہے۔جب کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۴۰۰ پہلےفرمایا تھا کہ :اپنے بچوں کو تیراکی اور گھوڑ سواری سکھاؤ۔" (حدیث نبوی) اس طرح کی activity بچوں کے لئے بے حد ضروری ہے۔ جو supplement کا کام دیتی ہے ۔ اور ان کو ذہنی طور پر بھی فٹ رکھتی ہے۔ اور بہتر نتائج کے لئے توازن ضروری یے۔ مگر آج بچے sports میں جاتے ہیں تو sports ہی کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اصل مقصد کو بھول جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرما۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  8. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    بہت عمدہ تحریر
    فی زمانہ اولاد کی تربیت پر جتنا زور دینے کی ضرورت ہے اتنا ہی اسے غیر اہم سمجھ جا رہا ہے۔ کسی جگہ پڑھا تھا کہ" ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے مرنے کے بعد ہماری اولاد کا کیا ہوگا جبکہ یہ سوچ اہم ہے کہ اولاد کے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا۔"
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  9. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    جزاکم اللہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں