ترستے ہیں منبر و محراب

ابو حسن نے 'متفرقات' میں ‏اپریل 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    تحریر از رومانہ گوندل
    اللہ تعالیٰ نے یہ وسیع کائنات بنائی، اس میں انسان کو تخلیق کیا اور انسانوں کے بیچ میں کئی رشتے بنائے، ان رشتوں میں محبت رکھی تاکہ لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ لیکن ایک رشتہ خالق اور مخلوق کے درمیان ہے ایک طرف تو خالق کائنات ہے جو سب کچھ عطا کرتا جا رہا ہے اور دوسری طرف مخلوق ہے جو لیتی جا رہی ہے۔ اللہ نے انسان کو بے شمار نعمتیں دی ہیں، جن کا حساب اور شمار انسان کے بس میں نہیں ہے۔

    انسان کے ذمہ ہے کہ وہ اپنے رب کو یاد کرتا رہے، عبادات کرے۔ نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ، جہاد ان سب کا حکم تو ہے لیکن اس ذات کی ضرورت نہیں ہے ان ساری عبادات سے تو ایک چیز سکھائی جاتی ہے، شکر گزاری۔ وہ واحد چیز جو رب نے اپنی مخلوق سے مانگی ہے۔ اتنی نعمتوں کے بدلے صرف شکر گزاری، اعتراف ِ نعمت۔ لیکن کبھی سوچا ہے کہ وہ ذات تو بے نیاز ہے، پھر اس نے یہ واحد چیز بھی کیوں مانگی؟ تو ایک راز جان لیں کہ یہ بھی طلب نہیں ہے، عطا ہے اور ایسی عطا جس میں سب سے بڑا راز چھپا ہے، خوشیوں کا راز۔ جو اس راز کو جان جائے گا خوشیاں اس کا مقدر ہیں اور جو نہیں جان پاتا وہ سب کچھ پا کر بھی محروم اور نا خوش رہ جاتا ہے۔

    تو خو شیوں کے اس راز کو پانے کی کوشش کریں۔ شکر گزار بنیے ان نعمتوں پر، حالات پر، صحت پر، ان صلاحیتوں پر جو آپ کے پاس ہیں اور ان دکھوں پر بھی جو آپ کے پاس نہیں ہیں، جن سے آپ کو بچا لیا گیا۔ ایک بار اپنے پاس موجود نعمتوں کا جائزہ لے کر پھر اپنے دکھوں کا حساب کریں تو پتا چلے گا کہ خوشیاں تو پاس ہیں بس ہم نے نہیں دیکھی۔ جن باتوں پر ہم دکھی ہیں وہ ان نعمتوں سے بہت چھوٹی ہیں جو ہمارے پاس ہیں۔

    ایک بار ذرا فرصت سے غور تو کریں کہ ان نعمتوں پر جو ہمارے پاس ہیں اور ان دکھوں پر جن کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کبھی ہم دکھی ہیں اس بات پر کہ قیمتی لباس، عالیشان گھر یا گاڑی نہیں ہے لیکن ہم شکر گزار کیوں نہیں ہیں کہ ہم اس انسان کی جگہ نہیں ہیں جس کے پاس گاڑی ہے لیکن وہ سڑک پہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ دن میں تین بار کھانا مل جانا اور اس کا بغیر کسی تکلیف کے ہمارے اندر چلے جانا نعمت نہیں ہے؟ ہم ہر رات ایک پرسکون نیند سو سکتے ہیں، ہر روز ایک روشن صبح نصیب ہوتی ہے، ہر صبح نکلنے والے سورج کو دیکھ سکتے ہیں، چل پھر سکتے ہیں، بول سکتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے یہ روٹین ہے، تھوڑی سی سوچ بدل کے دیکھیں، یہ محض روٹین نہیں ہے، یہ وہ نعمتیں ہیں جو ہم روٹین میں استعمال کرتے ہیں۔ ہماری پریشانی ہے کہ وزن اٹھانا پڑ رہا ہے، یہ ایک مشکل ہے، لیکن یہ امتحان بھی تو ہو سکتا ہے۔ پھر بھی ہم وزن اٹھا سکتے ہیں کیا یہ نعمت نہیں ہے؟

    جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہے لیکن اس تکلیف کو محسوس کرنے کی صلاحیت اور جسم کے اس عضو کا ساتھ ہونا، ہمارا زندہ ہونا نعمت نہیں ہے؟ کتنے ہی لوگ ہیں جنہوں نے ایسی تکلیف کے بعد اپنے اعضاء کھو دیئے، زندگی ختم ہو گی ہم ان میں سے نہیں، تو کیا یہ خوشی اور شکر گزاری کی بات نہیں ہے۔

    خوش رہنا ہر انسان چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی خوش نظر نہیں آتا، کیونکہ انسان خوشیوں کے اس راز کو سمجھ ہی نہیں سکے اور اپنی خوشیاں مشروط کر دی، حکومت، اقتدار، عہدے، بنک بیلنس، نوکری، گھر اور جانے اور کتنی چیزوں سے۔ انسان یہ سوچتا ہے کہ جب اس کی فلاں فلاں خواہش پوری ہو گی تو وہ خوش ہو گا۔ اس لیے کبھی خوش ہو ہی نہیں پاتا۔ کیونکہ ہمارا خیال ہے زندگی میں کاملیت ہو نی چاہیے۔ جو ممکن نہیں ہے۔ زندگی میں خوشی مکمل ہونے سے نہیں، مطمئن ہونے سے آ تی ہیں، شکر گزاری سے آتی ہیں اور ان مشروط خوشیوں نے ہمیں غیر مطمئن اور نا شکرا بنا دیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ خوشیاں صرف وہ ہیں جو ہم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمارے پاس ہے وہ ہمارا حق ہے اور جو نہیں مل رہا وہ بہت بڑا ظلم ہے

    تو آج سے سوچ بدلتے ہیں خوشیوں سے شرائط ختم کردیتے ہیں۔ جو پاس ہے وہ بہترین ہے اور ایک نعمت ہے مسکرانے کی، شکر گزاری کی۔ اس کا استعمال کرتے ہیں تو پھر دنیا میں سب سے خوش قسمت صرف ہم ہوں گے۔ شکر گزاری کا مطلب قطعاً کنویں کا مینذک بننا نہیں ہے۔ نعمتوں کی خواہش کرنا اور ان کے لیے جائز ذرائع سے کوشش کرنا غلط نہیں ہے، بہتر سے بہترین کی تلاش، عروج اور ترقی کا سفر یہ سب تو انسانیت کی معراج ہے۔ انسان تو پیدا ہی کائنات کی تسخیر کے لیے کیا ہے۔ لیکن اس حرص میں پاس نعمتوں کا شکر کرنا بھول جانا غلط ہے۔ کیونکہ شکر پہ تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اور دے گا۔ جب ہم نا شکری کرتے ہیں تو در اصل ا ور پانے کے راستے بند کر رہے ہوتے ہیں۔

    ایک لمحے کو اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم ایک پر سکون زمین پہ کھڑے ہیں، جو حرکت میں ہوتے ہوئے بھی ہمارے لیے ساکن اور پرسکون رہتی ہے۔ ہمارے پاس سوچنے کے لیے بہترین دماغ ہے، تندرست جسم ہے، ہم جھک سکتے ہیں، تو کیا ایک سجدہ شکر واجب نہیں ہے؟ یقیننا ہے۔ بس اس کے لیے ضرورت ہے اس دھڑکتے ہوئے دل میں شکر گزاری کے ایک جذبے کی۔



    وہ سجدہ روحِ زمیں جس سے کانپ جاتی تھی

    اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب


    اصل تحریر کا ربط
    رومانہ گوندل

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,111
    بہت خوب۔ اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے ہمیشہ اپنی زندگی میں سکون سے رہتے ہیں۔ جو ہے اس پر شکر ادا کریں۔ اور پھر اللہ تعالی مزید بھی عطا کردے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    بہت عمدہ تحریر
    ہماری اسی حالت کے بارے میں اقبال نے کہا تھا

    جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
    تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

    ہمیں اپنی خواہشوں کے تمام اصنام کو توڑ کر حقیقی شکرگزار بننا ہے تب ہی ہم اس لذت کو پا سکیں گے۔

    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,211
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں