میں افورڈ کرسکتا ہوں ۔۔۔۔ ایک پیغام

سیما آفتاب نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    371
    میں افورڈ کرسکتا ہوں۔۔۔
    تحریر: بشارت حمید


    اگر میں گھر میں پانی کا بل 5000 روپے ماہانہ افورڈ کر سکتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنے گھر کی ساری ٹونٹیاں کھول کر پانی ضائع کرتا رہوں۔ اپنےہی ملک میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں روزمرہ استعمال اور پینے کے لئے دور دراز سے مٹکے بھر کر پانی لانا پڑتا ہے۔

    اگر میں گھر اور دفتر کا بجلی کا بل 50000 روپے ماہانہ ادا کر سکتا ہوں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں ساری لائٹس ، پنکھے اورائرکنڈیشنر چلا کر بلا مقصد بجلی فضول ضائع کرنے لگ جاؤں۔ ہمارے اردگرد بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو گھر میں ایک لائٹ کا بل دینا بھی افورڈ نہیں کر سکتے۔

    اگر میں گیس کا بل 20000 روپے ماہانہ ادا کر سکتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھر میں ماچس کی تیلی دوبارہ جلانے کی مشقت سے بچنے کے لیے چولہا جلتا ہی رہنے دیا جائے۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو روز مرہ استعمال کے ایندھن کے لئے کتنی مشقت جھیلتے ہیں۔

    اگر میں گاڑی کا پٹرول 50000 روپے ماہانہ افورڈ کرسکتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دوران سفر آرام کے لئے رکنے پر بھی گاڑی بند نہ کروں۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی ٹوٹی پھوٹی بس کا سفر کرنا بھی عیاشی خیال کرتے ہیں۔

    اگر میں ایک وقت کا کھانا کسی بڑے ہوٹل میں فی کس 10000 روپے افورڈ کرسکتا ہوں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ برتنوں میں کھانا چھوڑنے لگ جاؤں۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو ہوٹلوں میں لوگوں کا بچا کھچا کھانا اکٹھا کر کے گھر والوں کو کھلاتے ہیں۔

    اگر دیکھا جائے تو ہمارے اردگرد ایسی بہت سی مثالیں مختلف شعبوں میں نظر آ جائیں گی۔ اگر اللہ نے مال و دولت میں وسعت عطا فرمائی ہے تو یہ فضول ضائع کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ آزمائش ہے کہ ہم حق داروں، مسکینوں، غریبوں اور سوالی کو ان کا حق جو اللہ نے ہمارے اموال میں رکھ کر ہمیں عطا کیا ہے وہ ادا کرتے ہیں یا نہیں۔

    وقتی شوبازی کے لئے اپنے پیسے فضول ضائع کرنا اسراف ہے۔ جہاں کم میں گزارا ہوسکتا ہو وہاں بلامقصد پیسے ضائع کرنا اچھا عمل نہیں اور آخرت میں محاسبے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,095
    بہت عمدہ پیغام، اسلام ہمیں فضول خرچی اور خود نمائی دونوں سے منع کرتا ہے، اور فضول خرچی عموماً خود نمائی کی ہی دوسری شکل ہوتی ہے کہ لوگ ہمارے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ سکیں جبکہ ضرورت سے زائد خرچ کو بچا کر ہم اسی رقم سے اگر کسی غریب کی بنیادی ضرورت پوری کریں تو اللہ ہمیں دنیا میں بھی اس سے زیادہ دے گا اور آخرت میں بھی ہمارے لئے خیر کا باعث بنے گا۔
     
    • متفق متفق x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    بہت خوب سسٹر بہت اچھا پیغام۔
    اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھیں کہ بجلی، گیس اور پیٹرول وغیرہ تمام توانائ کے ذرائع ہیں ہم قومی سطح پر ان کی کمی کا شکار ہیں۔ افورڈ کرنے کے ساتھ اس کا بے جا استعمال قومی دولت اور توانائ کا ضیاع بھی ہے۔ جس کا منفی اثر پورے ملک پر پڑتا ہے۔
    اس سب سے بڑھ کر یہ اسراف کے دائرے میں آتا ہے اور اللہ تعالی بے جا اسراف کرنے والوں کو پسند بھی نہیں کرتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    371
    بے شک ۔۔ جو کام کم خرچ میں بھی انجام دیا جا سکتا ہے اس پر اضافی خرچ کرنا بے فائدہ ہے ۔۔ ہمارے مال میں اللہ نے دوسروں کا بھی حق رکھا ہے جو ہماری اس روش سے اپنے حق سے محروم ہوتے ہیں۔

    جزاک اللہ خیرا
    بالکل متفق۔۔۔ ہم صرف اپنا سوچتے ہیں، اپنی آسانی پیش نظر رکھتے ہیں اس وجہ سے یہ رویہ اپناتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمین!!

    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں