پردے میں اسلام نہیں

ابو حسن نے 'متفرقات' میں ‏اپریل 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    تحریر از رومانہ گوندل

    اور اے آدم تو اور تیری عورت جنت میں رہو پھر جہاں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ بے انصافوں میں سے ہو جاؤ گے ، پھرانہیں شیطان نے بہکایا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اور کہا تمہیں تمہارے رب نے اس درخت سے نہیں روکا مگر اس لیے کہ کہیں تم فرشتے ہو جاؤ یا ہمیشہ رہنے والے ہو جاؤ ، اور ان کے روبرو قسم کھائی کہ البتہ میں تمہارا خیرا خواہ ہوں ، پھر انہیں دھوکہ سے مائل کر لیا پھرجب ان دونوں نے درخت کو چکھا تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں اور اپنے اوپر بہشت کے پتے جوڑنے لگے اورانہیں ان کے رب نے پکارا کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمہیں کہ نہ دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے[ سورہ الاعراف، ۱۹۔ ۲۲]

    حضرت آدم اور حضرت حوا دنیا کے پہلے انسان تھے۔ ان کو پیدا ہوتے ہی جنت میں رکھا گیا جہاں ہر نعمت تھی، سکون تھا، اللہ رب العزت کا قرب تھا لیکن صرف ایک پابندی تھی۔ ایک درخت کے پاس جانے سے اس کا پھل کھانے سے منع کیا گیا لیکن شیطان نے ان کو بہکا کے اس درخت کا پھل چکھنے پہ لگا دیا اور شیطان کے اسی بہکاوے نے انہیں جنت سے نکالوا دیا۔ لیکن پھل چکھتے ہی، سب سے پہلے وہ بے لباس ہو گئے تھے۔ سب سے پہلا بہکاوا، جو شیطان نے انسان کو دیا وہ بے لباس ہونے کا دیا تھا کیونکہ شیطان جانتا تھا کہ اس درخت کا پھل چکھتے ہی وہ بے لباس ہو جائیں گے۔

    آج کے دور میں، کئی معاملات کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی معاملے کو متنازع بنانے کا سب سے بڑا فائدہ ا ور نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے فرار کا راستہ مل جاتا ہے۔ پردے کو بھی متنازع معاملہ بنا دیا گیا اصل بات تو یہی ہے کہ پردے سے بھی فرار کے راستے ڈھونڈے جا رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں پردہ بڑی چیز نہیں لیکن شیطان وہ بات سمجھ گیا جو انسان نہیں سمجھ سکے۔ بے پردگی سب سے بنیادی مسئلہ ہے جہاں سے ہر برائی شروع ہوتی ہے۔

    ہمارے ہاں پردے کا ذکر آتے ہی عورت کا تصور ذہن میں آتا ہے کیونکہ مرد کو تو ویسے ہی پردے کے تصور سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ جہاں بات صرف عورت کے پردے پہ آ جاتی ہے وہاں علماء میں بحث چہرے کا پردہ ہونے یا نہ ہونے پہ ہوتی ہے۔

    دوسری طرف ہمارا پڑھا لکھا ماڈرن طبقہ ہے جن کی طرف سے آج کل ایک مشہور فقرہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’ اسلام میں پردہ ہے، پردے میں اسلام نہیں ہے‘‘۔ یہ بات ہے غلط تو نہیں ہے۔

    اسلام واقعی صرف پردے کا نام نہیں ہیں بلکہ اسلام عبادات سے لے کر معاشرت، حقوق و فرائض، جنگ، امن ہر حالت میں مکمل ضابطہ حیات ہے، اس کو صرف پردے تک محدود کر دینا واقعی تنگ نظری ہے۔ لیکن مسئلہ پھر وہی کا وہی ہے کہ جو بات انسان آج تک نہیں سمجھ سکا، شیطان انسان کے پیدا ہوتے ہی سمجھ گیا تھا کہ پردہ یا بے پردگی یہ انسان کا فیصلہ ہے باقی ہر برائی تو اس سے خود ہی جنم لے لیتی ہے، اس لیے شیطان نے سب سے پہلے جس چیز کو نشانہ بنایا تھا وہ پردہ ہی تھا

    اس دور میں بھی جب کہ غیر مسلم، مسلمانوں کو تباہ کرنے پہ تلے ہیں لیکن وہ مسجدیں بنانے سے نہیں روک رہے، نہ نمازو روزے پہ پابندی لگا رہے ہیں۔ وہ پردے پہ پابندی لگا رہے ہیں کیونکہ پردہ ایک انسان کی شخصیت کا علمبردار ہے اور آپ کو ایک حلیے میں لوگوں کے سامنے آنے کے لیے ایک اعتماد چاہیے اور اسلام دشمن وہ اعتماد چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن آج کا مسلمان بھی اپنے باپ آدم کی طرح یہ سمجھ نہیں پا رہا اور یہ دھوکہ بہت خوشی سے کھا رہا ہے، کہیں خوبصورتی کے نام پر اور کہیں آزادی کے نام پر!

    اصل تحریر کا ربط
    رومانہ گوندل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    371
    بہت عمدہ تحریر
    نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے نا کہ "جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو" ۔۔ اسی لیے اس حیا اور پردے کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔۔۔ جہاں یہ غیر اہم ہوا وہاں پھر سب کچھ ممکن ہو جائے گا۔

    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں