براھین احمدیہ کے دھوکے کی کہانی مرزا قادیانی کی زبانی

ابو حسن نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اپریل 20, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352

    تحریر ازعبدالحکیم نعمانی
    جس کتاب کی لاگت ایک روپے سے بھی کم تھی اسکی قیمت پہلے 5 روپے پھر 10 پھر 15 پھر 20 پھر 25 اور پھر سو روپے ہوگئی مگر 100 روپے تک صرف قیمت بڑھی جبکہ کتاب کم ہوتی رہی کیونکہ جب 5 روپے قیمت رکھی تھی تب کتاب 150 جز پر مشتمل تھی مگر جب قیمت 100 روپے رکھی تو کتاب صرف 37 جز کی رہ گئی۔

    پہلے اسکی لاگت ایک روپے سے بھی کم بتائی پھر 10 روپے پھر 20 روپے پھر 25 روپے اور آخر کار قیمت کی طرح لاگت بھی 100 روپے تک پہنچ گئی

    اسی طرح کتاب پہلے جنوری یا فروری 1880 میں شائع کرنے کا وعدہ کیا پھر 1882 تک بات چلی گئی پھر 1884 تک اور پھر ایک لانگ بریک کے بعد بات 1908 تک جا پہنچی مگر کتاب پھر بھی مکمل نہ ہوئی مگر مرزا قادیانی مکمل ہوگیا

    مرزا قادیانی کا براہین احمدیہ کے نام پہ دیا جانے والا دھوکہ کافی مشہور و معروف ہے کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے نام سے پچاس جلدوں ڈیڑھ سو جز اور تین سو دلائل پر مشتمل ایک کتاب لکھنے کا وعدہ کیا جس کے لیے اس نے لوگوں سے ایڈوانس پیسے لیے مگر مرزا قادیانی اپنی ساری زندگی میں نا تو پچاس جلدیں لکھ سکا نا ہی تین سو دلائل نا ہی ڈیڑھ سو جز۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اصل معاملہ کیا تھا کیا مرزا قادیانی نے یہ کہا تھا کہ میں یہ کتاب لکھوں گا یا یہ کہا تھا کہ میں یہ کتاب لکھ چکا ہوں۔

    مرزا قادیانی نے 1879 میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں اس نے لکھا
    '' روشن ہو کہ اس خاکسار نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ بن نہ پڑے'' مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 11۔ (غور کریں کتاب تصنیف کی ہے نہ کہ کروں گا)

    ''اس خدا وند عالم کا کیا کیا شکر ادا کیا جاوے کہ جس نے اول مجھ ناچیز کو محض اپنے فضل اور کرم اور عنایت غیبی سے اس کتاب کی تالیف اور تصنیف کی توفیق بخشی اور پھر اس تصنیف کا شائع کرنے پھیلانے اور چھپوانے کے لیے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں اور مومنوں اور مسلمانوں کو شائق اور راغب اور متوجہ کردیا۔ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 5۔ (غور کریں کتاب کی تصنیف کی توفیق بخشی نہ کہ بخشے گا)

    '' ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین اھمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف مین تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر دکھلایا گیا'' روحانی خزائن جلد اول صفحہ 62 مندرجہ براہین اھمدیہ جلد دوم۔ لو جی یہاں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا کہ تالیف کیا تھا اور آفتاب سے بھی روشن کر دکھلایا گیا

    مرزا قادیانی یہاں ہر جگہ صاف کہہ رہا ہے کہ اس نے یہ کتاب تالیف کرلی ہے یہ نہیں کہا کہ تالیف کروں گا بلکہ تالیف کرچکا ہے۔ اور ویسے بھی اگر یہ ایسا ظاہر نہ کرتا تو لوگ سوال اٹھاتے کہ ابھی کتاب لکھی ہی نہیں تو کیسے پتہ چلا کہ کتنا خرچ آئے گا نیز یہ کہتے کہ پہلے لکھ لو پھر پیسے مانگنا جب چھپوانے لگو اس لیے یہ مرزے کے لیے ضروری تھا اس فراڈ کو کامیاب کرنے کے لیے کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ کتاب لکھ چکا ہے صرف چھپوانے کے لیے پیسہ چاہیے۔ مرزا کا اصل مقصد ہی پیسہ جمع کرنا تھا نا کہ خدمت اسلام ورنہ یہ اتنا بڑا دھوکہ نہ کرتا اور جیب سے پیسے لگا کے کتاب مفت تقسیم کرتا اگر واقعی اس کے دل میں اسلام کا درد ہوتا اور جگہ جگہ اس نے تین سو دلائل کا راگ الاپا یہاں سب حوالہ جات لگانا ممکن نہیں مگر اسکی خزائن جلد اول میں جہاں چاروں جلدیں براہین کی درج ہیں ان میں موجود اشتہارات میں دیکھ سکتے ہیں بار بار یہی کہا کہ کتاب لکھ چکا ہوں اور اس مین تین سو دلائل ہیں اب چلتے ہیں اس کے پہلے اشتہار کی جانب جہاں اس نے اسکے دس حصے اور ڈیڑھ سو جز بتائے

    یہاں مرزا قادیانی نے کتاب کی اصل قیمت 20 روپے بتائی جبکہ اس سے پہلے پانچ روپے مقرر کر چکا تھا اب ملاحظہ کریں کہ جب براہین احمدیہ کا پہلا حصہ شائع کیا تو اس میں مرزا قادیانی نے اپنے روائتی دجل اور فریب سے کام لیتے ہوئے کتاب کا اصل خرچ 25 روپے بتایا،
    '' اور ایسی عمدگی کاغذ اور پاکیزگی خط اور دیگر لوازم حسن اور لطافت اور موزونیت سے چھپ رہی ہے کہ جس کے مصارف کا حساب جو لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اصل قیمت اس کی یعنی جو اپنا خرچ آتا ہے فی جلد پچیس روپیہ ہے'' روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 2
    پھر اسکے بعد جب تیسرا حصہ شائع کیا تو اصلی قیمت چھلانگ لگا کے 100 روپے تک پہنچ گئی ملاحظہ کریں روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 136 مندرجہ برہین احمدیہ حصہ سوئم۔ آپ اندازہ کریں اس کا کہ کس قدر یہ شخص دجل و فریب کا دلدادہ تھا اور کس قدر پیسے کی حوس میں مبتلا تھا کیونکہ موصوف کا کوئی روزگار تو تھا نہیں اس لیے یہی بزنس بنا رکھا تھا اس نے۔

    اس کے بعد اس نے کتاب کی قیمت بھی بڑھا کہ پہلے دس روپے کی پھر 25 روپے کردی یہاں صرف ایک حوالہ درج کرتے ہیں گو کہ کافی ساری جگہوں پہ اس نے قیمت زیادہ کرنے کا اعلان درج کیا ہے۔

    '' پہلے یہ کتاب صرف پینتیس جزو تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جز تک بڑھا دی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لیے اور پچیس روپیہ دوسری قوموں اور خواص کے لیے مقرر ہوئی'' روحانی خزائن جلد اول صفحہ 134،135

    اب یہیں بس نہیں کہ بلکہ جناب آگے چلیے اب کتاب کی قیمت 100 روپے تک پہنچ گئی جیسا کہ پہلے ہی اس نے ماحول بنا لیا تھا کہ اصل خرچ 100 روپے آتا ہے کتاب پہ۔ ملاحظہ ہو روحانی خزائن جلد اول صفحہ 135 اور 319 اور مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 149
    مرزائی بڑی ڈھٹائی سے اور زور شور سے ایک بات کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر جھوٹ تحریف گستاخیوں اور گالیوں وغیرہ وغیرہ کے الزامات اسکے دعوی نبوت کے بعد لگائے جاتے ہیں جسکی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ نعوذباللہ دوسرے انبیاء کی طرح مرزا قادیانی کے کردار پہ انگلی بھی اسکے دعوی نبوت کے بعد اٹھانی شروع کی گئی جس طرح تمام انبیاء کی ان کے دعوے کے بعد مخالفت کی گئی وغیرہ وغیرہ، میرا ان قادیانیوں سے سوال ہے یہ مرزا قادیانی کا یہ دھوکہ فریب جھوٹ اور فراڈ جو براہین احمدیہ کے نام سے کیا گیا اس کو کیا کہو گے؟ تب تو مرزا قادیانی کا کوئی بھی دعوی نہیں تھا نہ مثیل مسیح ہونے کا نہ مسیح ہونے کا نہ کرشن ہونے کا نہ ظلی بروزی نبی ہونے کا نہ شرعی اور غیر شرعی ہونے کا تو مرزا قادیانی پہ لگے اس پہلے کے بد ترین داغ کو کس کھاتے میں ڈالو گے؟

    آئیے اب دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جس کتاب کے تمام دس حصوں کو اور ہر حصے کی ایک ایک ہزار کاپی چھپوانے کا خرچ 940 روپے بتایا تھا تو اسکو کتنے پیسے لوگوں کی طرف سے موصول ہوئے اور پھر ان پیسوں کے ملنے کے باوجود مرزا قادیانی نے وہ تین سو دلائل پورے کیے یا نہیں اور کیا وہ دس جلدیں شائع کیں یا نہیں۔

    مرزا قادیانی کو سید محمد حسن خان صاحب بہادر نامی ایک شخص نے مرزا قادیانی کی مقرر کردہ قیمت پانچ روپے فی جلد (یعنی مکمل دس حصوں پر مشتمل) کے حساب سے 50 جلدوں کے پیسے بھیجے جو کہ مبلغ 250 روپے بنتے ہیں بھیجے۔ ملاحظہ ہو روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 2 اور اسکے علاوہ اس نے اپنے اور دوستوں سے بھی 75 روپے جمع کرکے مرزا قادیانی کو بھیجے ملاحظہ ہو روھانی خزائن جلد اول صفحہ 6 اس طرح اس ایک فرد کی طرف سے 325 روپے مرزا قادیانی کو دئیے گئے۔

    اس کے علاوہ اس نے مزید خریداروں کو بھی تیار کیا ممکن ہے ان میں سے بھی کسی نے پیسے بھیجے ہوں نیز اس نے ان 325 روپے کے علاوہ اور بھی مدد کرنے کا وعدہ کیا شاید اس نے اور بھی پیسے بھیجے ہوں لیکن ہم یہاں فقط وہی رقم جمع کرتے ہیں جس کا ثبوت ہمیں مرزا قادیانی کی تحریرات سے ملتا ہے یاد رہے یہ تمام پیسہ براہین احمدیہ کا پہلا حصہ شائع ہونے سے پہلے جمع ہوا

    '' پہلے ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ 15 جزو میں تصنیف کیا بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے 9 حصے اور زیادہ کردیئے جن کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو ہوگئی ہر ایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار نسخہ چھپے تو چورانوے روپے صرف ہوتے ہیں پس کل حصص کتاب نو سو چالیس روپے سے کم میں چھپ نہیں سکتی'' صفحہ 11،12 مجموعہ اشتہارات جلد اول
    یہاں ڈیڑھ سو جز لکھے اور پھر اسکی پہلی جلد شائع کی تو لکھا کہ
    '' کتاب ہذا بری مبسوط کتاب ہے یہاں تک کہ اس کی ضخامت سو جز سے کچھ زیادہ ہوگی'' روحانی خزائن جلد اول صفحہ 2
    اس حساب سے 10،000 کتابوں کی قیمت چھپوائی 940 روپے بنتی ہے یعنی مکمل دس حصوں پر مشتمل ایک کتاب کی قیمت 94 پیسے بنتی ہے یعنی ایک روپے سے بھی کم۔

    اور آگے اسکو شائع کرنے کے نام سے لوگوں سے پیسے مانگ رہا ہے۔ اور لوگوں سے معاونت کی اپیل کر رہا ہے
    '' لہذا اخوان مومنین سے درخواست ہے کہ اس کار خیر میں شریک ہوں اور اس کے مصارف طبع میں معاونت کریں''
    پھر آگے لکھتا ہے
    '' یا یوں کریں کہ ہر ایک اہل وسعت بہ نیت خریداری پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں جیسی جیس کتاب چھپتی جائے گی انکی خدمت میں ارسال ہوتی جائے گی'' اور آگے کتاب کا نام بھی لکھا ہے '' البراھین الاحمدیہ علی حقیقتہ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ محمدیہ''
    آپ خود اندازہ لگائیں کہ مرزا قادیانی یہ دین کی خدمت کر رہا تھا یا کاروبار؟ جس دس حصوں پر مشتمل مکمل کتاب کی قیمت ایک روپے سے بھی کم بنتی تھی اسکی قیمت اس نے پہلی بار پانچ روپے مقرر کی وہ بھی ایڈوانس بھیجنے کی اپیل کر رہا ہے۔ کیا یہ دین کی خدمت تھی یا کاروبار؟ یعنی فی کتاب چار گنا سے بھی زیادہ منافع، پھر یہیں بس نہیں کی آگے جا کے کتاب کی قیمت اور بڑھا دی۔

    اس کے بعد 3 دسمبر 1879 کو مرزا قادیانی نے ایک اور اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ اس کتاب کے حسن اور لطافت ذاتی اور پاکیزگی خط اور عمدگی کاغذ وغیرہ وغیرہ کے باعث اسکی اصل قیمت تو 20 روپے سے کم نہ تھی مگر یہ خیال تھا کہ لوگ تعاون کریں گے یعنی مرزا ساپ کی جیب گرم کریں گے تو پانچ روپے قیمت رکھنے سے جو نقصان ہونا تھا وہ پورا ہوجاتا اس لیے قیمت 5 روپے رکھی تھی مگر کافی انتظار کے بعد بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا اور فقط چند لوگوں نے مدد کی اور مرزا ساپ ان لوگوں کے نام کتاب براھین احمدیہ پر درج کرنے کا اعلان بھی کر رہے ہیں اور ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے پیسے دیے ہیں یا دینے کا ارادہ ہے وہ اب اس کتاب کی قیمت بجائے 5 روپے کے 10 روپیہ سمجھیں اور اگر لوگوں نے مفت میں مدد کردی تو پھر کتاب کی قیمت وہی 5 روپے رہے گی ورنہ 10 روپے، یہاں مرزا قادیانی نے منافع نو گنا سے بھی زیادہ کردیا شاید اسی کتاب کے سہارے ساری زندگی کا خرچ جمع کرنا تھا۔ اور مزید یہ کہتے ہیں کہ پیسوں کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے کتاب چھپنے میں دیر ہوتی رہی مگر اب مزید دیر نہیں کرسکتے اور لکھتا ہے کہ۔
    '' اور انشاء اللہ یہ کتاب جنوری 1880 میں زیر طبع ہو کر اس کی اجزاء اسی مہینہ یا فروری میں شائع اور تقسیم ہونا شروع ہوجائے گی''
    3 دسمبر 1879 کے اشتہار کا یہ سارا قصہ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 13،14

    میر عباس علی
    32 روپے مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 508
    20 روپے اور 10 روپے صفحہ 510
    قاضی باجی خان 10 روپے صفحہ 512
    50 روپے صفحہ 586
    40 روپے صفحہ 607
    الہی بخش 50 روپے صفحہ 604۔ یہ ہوئے 212 روپے اور 1760 روپے سابقہ ٹوٹل رقم 1972 روپے

    اب آتے ہیں مرزا قادیانی کے پہلے اشتہار کی جانب جس میں اس نے کہا تھا کہ پہلے ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ 15 جزو میں تصنیف کیا بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے 9 حصے اور زیادہ کردیئے جن کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو ہوگئی۔ اور اس ڈیڑھ سو جزو پر مشتمل مکمل کتاب کی ہزار کاپیاں شائع کرنے کا خرچ مرزا قادیانی نے 940 روپنے بتایا تھا لیکن پیسے اس کے پاس علاوہ ان نامعلوم افراد کے جن کے نام اور پیسے درج نہیں کیے 1972 روپے لوگوں کی طرف سے پہنچے لیکن دو گنا سے بھی زیادہ رقم جمع ہونے کے باوجود کیا مرزا قادیانی نے وہ ایک سو پچاس جزو شائع کیے؟ جس اعلان بمع تخمینہ رقم چھپوائی 940 روپے کے اس نے اپنے پہلے اشتہار میں کیا تھا؟ اور کیا وہ تین سو دلائل بھی لکھے جن کا اس نے بے شمار جگہوں پہ ذکر کیا یہاں ایک دوحوالے درج کرتے ہیں ملاحظہ ہو روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 62۔ اور66۔67

    اس سے پہلے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جس کا دعوی خدا کی طرف سے مامور ہونے اور دین کی خدمت کرنے کا تھا کیا یہ اپنی جیب سے ہی یہ کتاب نہیں چھپوا سکتا تھا تاکہ دین کی خدمت ہو؟ جبکہ اس کے پاس اچھے خاصے پیسے بھی تھے کیونکہ اس نے 2 مارچ 1878 کو ایک اشتہار چھاپہ جس میں ہندووں سے کسی بات کو ثابت کرنے کا کہا اور ثابت کرنے پہ ان کو 500 روپے انعام ادا کرنے کا وعدہ کیا، مطلب مرزا ساپ کے پاس اچھے خاصے پیسے تھے جو انعام کے طور بھی 500 روپے تک جو کہ اس زمانے میں اچھی خاصی رقم بنتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس زمانے میں ملازموں کی تنخواہ تقریباً چار ساڑھے چار روپے ماہوار تک ہوا کرتی تھی ملاحظہ ہو سیرت المہدی جلد اول صفحہ 79۔ اور مزید اس نے لکھا کہ چاہو تو یہ رقم عدالت سے بھی حاصل کرسکتے ہو اگر کچھ شک ہو کہ مرزا ساپ پیسے نہیں دیں گے نیز یہ لکھتا ہے کہ ہماری جائداد کی قیمت 6000 روپے کے قریب ہے چاہو تو قادیان میں آکے تسلی کرسکتے ہو ۔ یہ دو اشتہارات ہیں مرزا قادیانی کے جو اس کے مجموعہ اشتہارات جلد اول کے صفحات 2 تا 5 درج ہیں۔ پھر آگے صفحہ 18 پہ اپنی جایداد کی قیمت 10،000 روپے بتائی۔ معلوم ہوا نہ صرف اس کے پاس اچھا خاصہ پیسہ تھا بلکہ جائداد بھی کافی زیادہ تھی لیکن اس کے باوجود مرزا قادیانی کو گوارہ نہ ہوا کہ دین کی خدمت کے لیے 940 روپے اپنی جیب سے خرچ کرسکے۔

    اس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک اور عجیب ڈرامہ کیا کہ پہلے اشتہار میں ڈیڑھ سو جز کی لاگت 940 روپے ایک ہزار کاپی کی بتائی مگر اس نے کافی جگہ کہیں 30 جز کہیں 35 جز کہیں 36 جز اور کہیں 37 جز تک کتاب شائع کرچکنے کے بارے لکھا ہے مگر وہ 37 جز کونسے ہیں اور کہاں ہیں یہ آج تک معلوم نہیں ہوا شاید مرزا ساپ وہی براہین کے چار پہلے حصوں کو ہی 37 جز قرار دیتے ہوں یا کوئی مرزائی دکھا دے کہ وہ کونسے 37 جز ہیں جن کا اس نے بار بار ذکر کیا کہ 37 جز شائع کردیے اور وہ تین سو دلائل کہاں ہیں کیونکہ مرزے نے آخر میں لکھا ہے کہ صرف دو قسم کے دلائل ہی کافی ہیں جو براہین میں لکھے گئے ہیں۔ اب آپ حیران ہوں گے کہ 5 روپے قیمت والی کتاب میں 150 جز شائع کرنے تھے اس نے مگر کتاب کی قیمت 100 روپے تک پہنچ گئی مگر جز 37 سے زیادہ شائع نہ ہوئے وہ بھی مرزا قادیانی کے مطابق

    اور ایک بات قابل غور ہے کہ مرزا قادیانی نے بار بار یہ بات دوہرائی کہ وہ 300 دلائل تک کتاب تالیف کرچکا ہے یعنی لکھ چکا ہے مگر فقط چھپوانا اور شائع کرنا باقی ہے مگر مرزا قادیانی کو مرے سوا سو سال ہوگیا مگر وہ 300 دلائل آج تک نہیں ملے پتہ نہیں انہیں آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی کیونکہ مرزا قادیانی نے 300 دلائل کا وعدہ کرکے پیسے بھی لے کہ صرف دو دلیلیں لکھیں۔

    '' اور میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیت اسلام کے لیے تین سو 300 دلیل براھین اھمدیہ میں لکھوں مگر لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا'' روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 6 مندرجہ برہین احمدیہ و نصرت الحق (کیونکہ یہ بھی ایک نمونہ ہے یہ کتاب 72 صفحات تک نصرت الحق ہے اور اس کے بعد سے براھین حصہ پنجم ھاھاھا)
    اب مرزا جی نے تو کمال سخاوت سے دو دلائل کا اقرار کیا مگر چھوٹے میاں سبحان اللہ، اس کے بیٹے کی سنیں اب
    "خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے 1879 میں براہین کے متعلق اعلان شائع فرمايا تو اس وقت آپ براہین احمدیہ تصنیف فرما چکے تھے اور کتاب کا حجم تقريباً دو اڑھائی ہزار صفحات تک پہنچ گیا تھا اور اس میں آپ نے اسلام کی صداقت میں تین سو ایسے زبردست دلائل تحریر کیے تھے کہ جنکے متعلق آپ کا دعوى تھا کہ ان سے صداقت اسلام آفتاب کی طرح ظاہر ہو جائے گی " آگے لکھا "تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے اس میں سے مطبوعه براهين احمديه میں صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ بھی نا مکمل طور پر" (سيرة المهدى، حصه اول صفحه 99 تا 100)۔ لعنت اللہ علی الکذبین

    اس کے علاوہ جن لوگوں نے پیسے بھیجے ان کے بارے مرزا لکھتا ہے کہ
    '' اور اکثر صاحبوں نے ایک یا دو نسخہ سے زیادہ نہیں خریدا'' روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 3
    اور اس کے ساتھ گیارہ خریداروں کے نام لکھے مگر ان کے پیسے نہیں لکھے لیکن ان میں سے 6 لوگوں کے پیسے بعد کے ایک اشتہار میں لکھے۔ لیکن جتنے پیسے درج کیے گئے ہیں وہ 325 ایک صاحب کی طرف سے اور دو 100 روپے تقریبا دوسرے لوگوں کی طرف سے دیئے گئے جن کی تفصیل روحانی خزائن جلد 1 صفحہ دس گیارہ اور بارہ پہ ملاحظہ کیجیے۔ اور یہ ساری جماعت جھوٹ بولنے کی اسقدر عادی ہے کہ براہین احمدیہ کا تعارف لکھنے والے ان کے مولانا جلال الدین شمس نامی صاحب نے اس رقم کا مجموعہ 500 روپے سے بھی کم بتایا ہے جبکہ یہ 525 روپے بنتے ہیں۔

    یہ پیسے 525 روپے بنتے ہیں جو پہلی جلد کے شائع ہونے سے پہلے اسے موصول ہوئے جو مرزا قادیانی کی کتابوں اور اشتہارات میں درج ہیں علاوہ ان پانچ لوگوں کے جن کے نام تو درج ہیں مگر پیسے درج نہیں اور نہ ہی کسی ایسے خریدار کا نام اور پیسے درج ہیں جنہوں نے ممکنہ طور پہ پہلی جلد شائع ہونے کے بعد خریدی ہو۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے کمال ہوشیاری سے برہین احمدیہ کی جلد دوم اور سوم میں کسی خریدار یا امداد کرنے والے کا نام نہیں لکھا اور کہا کہ
    '' اب کی دفعہ ان صاحبوں کے نام جنہوں نے کتاب خرید فرما کر قیمت پیشگی بھیجی یا محض للہ اعانت کی بوجہ عدم گنجائش نہیں لکھے گئے'' روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 135 مندرجہ براہین احمدیہ جلد 3

    مرزا قادیانی کا بہانہ دیکھیں کہ جہاں اسکی یہ تمام جلدیں ایسے اشتہارات سے بھری ہوئی ہیں جو الگ سے بھی شائع کیے ہوئے تھے اور شاید کتابوں کے صفحات بڑھانے کے لیے پھر سے درج کر دیے وہاں ایک دو صفحات پر خریداروں کے نام لکھنے کی گنجائش نہیں تھی اسے مرزا قادیانی کا دھوکہ نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ کیونکہ پیسے مطلوبہ رقم سے زیادہ ہوچکے تھے اس لیے نہیں لکھے تاکہ مزید امداد بند نہ ہوجائے۔

    اب مرزا ساپ نے جلد چہارم میں بھی مکمل خریداروں اور امداد کرنے والوں کی فہرست تو پھر بھی نہ دی مگر جتنے پیسے اس نے بتائے ذرا وہ ملاحظہ کریں مرزا نے لکھا کہ
    '' اب بباعث بڑھ جانے ضخامت کے اصل قیمت کتاب کی سو روپیہ ہی مناسب ہے کہ ذی مقدرت لوگ اس کی رعایت رکھیں کیونکہ غریبوں کو یہ صرف دس روپیہ میں دی جاتی ہے سو جبر نقصان کا واجبات سے ہے مگر بجز سات آٹھ آدمیوں کے سب غریبوں میں داخل ہوگئے خوب جبر کیا ہم نے جب کسی منی آرڈر کی تفتیش کی کہ یہ پانچ روپے بوجہ قیمت کتاب کس کے آئے ہیں یا یہ دس روپیہ کتاب کے مول میں کس نے بھیجے ہیں تو اکثر یہی معلوم ہوا کہ فلاں نواب صاحب نے یا فلاں رئیس اعظم نے ہاں نواب اقبال الدولہ صاحب نے اور ایک اور رئیس نے ضلع بلند شہر سے جس نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے ایک نسخہ کی قیمت میں سو سو روپیہ بھیجا ہے اور ایک عہدہ دار محمد افضل خان نام نے ایک سو دس اور نواب صاحب کوٹلہ مالیر نے تین نسخہ کی قیمت میں سو روپیہ بھیجا اور سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لودھیانہ جو کہ ایک ہندو رئیس ہیں اپنی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ سے بطور اعانت،،، بھیجے ہیں''۔|(25 روپے)|

    روحانی خزائن جلد 1 صفحہ312 اور 319 مندرجہ براہین احمدیہ جلد چہارم۔
    مرزا ساپ نے یہاں سات آٹھ آدمیوں کے علاوہ باقی سب کو غریبوں میں شمار کیا ہے مطلب آٹھ لوگوں نے سو سو روپے بھیجے یہ ہوگئے 800
    نواب اقبال الدولہ اور ایک اور رئیس کا سو سو ہی شمار کریں کیونکہ ان کے بارے لکھا ہے کہ ایک نسخہ کی قیمت میں سو سو روپیہ بھیجا لیکن یہ نہیں لکھا کہ کتنے نسخے خریدے انہوں نے یہ مرزا قادیانی کی چالاکیاں ہیں لیکن خیر 200 یہ اور محمد افضل خان کے 110 اور نواب کوٹلہ مالیر کے 100 روپے ہندو کے 25 یہ 435 ہوئے اور جمع 800 یہ ٹوٹل ہوئے 1235 روپے۔ اور 525 روپے جو براہین احمدیہ جلد اول سے پہلے جمع ہوئے یہ مکمل رقم 1760 روپے۔ یہ تمام رقم مرزا قادیانی کو جلد چہارم کو شائع کرنے سے پہلے مل چکی تھی لیکن اس میں بھی وہ رقم شامل نہیں جس کے بارے اس نے جلد سوئم میں لکھا تھا کہ بوجہ عدم گنجائش اب کی بار خریداروں کے نام نہیں لکھے، اور علاوہ ان پانچ لوگوں کے جن کے نام درج ہیں رقم درج نہیں۔ پھر میر عباس علی نے کتابیں خریدنے اور بطور مدد کے مندرجہ ذیل رقم فراہم کی۔

    لو جی چھوٹے مرزے نے مکمل وضاحت کردی اور کتاب صفحات اڑھائی ہزار تک بتائے جبکہ براہین اھمدیہ کے مکمل پانچ حصے تقریباً 1100 صفحات پر مشتمل ہیں ان میں سے بھی سابقہ اشتہارات اور شاعری اور گالیوں کی بھر مار ہے۔ لیکن سوچنے والی بات ہے کہ ایک وہ بھی ادھوری یعنی نا مکمل دلیل تو 1100 صفحات پہ پھیلا دی تو باقی کے 299 سے کچھ زیادہ دلائل فقط 1400 صفحات میں فٹ ہوگئے تھے؟ عجیب مرزائی منطق ہے جی۔

    اب آپ مرزا قادیانی کی یہ تصنیفی کارنامہ پڑھیں تو ایک ہی کتاب براہین احمدیہ کی پہلی جلدوں میں نبوت کے بند ہونے کے دلائل دیے اور آخر میں نبوت کے جاری ہونے کے پہلی جلدوں میں حیات عیسیٰ کو از روئے قرآن ثابت کیا اور آخر میں وفات عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن سے ثابت کیا۔(اپنی طرف سے) یعنی ایک ہی کتاب کے پہلے اور آخری حصے ایک دوسرے کی ضد ہیں، اسے کہتے ہیں جی سلطان القلم

    اب دیکھتے ہیں کہ پہلی چار جلدوں میں کتنے جز شائع کیے تھے اس نے کیونکہ اس نے ڈیڑھ سو جز کی کتاب چھاپنے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی 5 روپے قیمت میں مگر قیمت تو 100 روپے تک پہنچ گئی مگر جز 37 سے زیادہ نہ ہوئے مرزا قادیانی نے یکم مئی 1893 کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں اس نے ان لوگوں کو کھری کھری سنائیں جنہوں نے ایڈوانس پیسے دیئے تھے ڈیڑھ سو جز کی کتاب کے کہ وہ پیسے دے کہ ان کتاب کا کیوں مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ مرزا ساپ نے تو سرمایہ جمع کرنے کی تجویز سوچی تھی یہ نہ کہ کتاب شائع کرنے کی مگر 13 سال گزرنے کے باوجود صرف 37 جز شائع ہوئے وہ بھی مرزا کے مطابق اور لوگوں نے اسے یہ بھی کہا کہ کتاب عمدہ نہیں ہے کہ اس کو خریدیں لوگوں نے اسے چور اچکا فراڈیا بھی کہا کیونکہ وہ سب ایسا کہنے میں حق بجانب تھے اس اشتہار میں مرزے نے واضع کیا کہ چار جلدوں میں صرف 37 جز چھپے ہیں۔ یہ اشتہار مکمل پڑھنے والا ہے جو بھی یہ پوسٹ پڑھے وہ یہ والا اشتہار ضرور دیکھے تاکہ مرزا قادیانی کا اصل چہرہ سمجھ میں آئے، یہ اشتہار مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 400 سے شروع ہوتا ہے کافی لمبا اشتہار ہے اس لیے یہاں درج نہیں کیا جارہا۔

    اب مرزا قادیانی کا حرف آخر پڑھیں کہ اس نے 23 سال بعد براہین کی پانچویں جلد لکھی اور اس میں دجل و فریب کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی کیونکہ اس کا وعدہ پہلے پچاس جلدیں لکھنے کا تھا کیونکہ تین سو خیالی دلائل تھے مرزے کے پاس مگر جلدیں لکھیں صرف پانچ اور تب تک بہت سے خریدار بچارے دنیا سے ہی جاچکے تھے جنہوں نے ایڈوانس پیسے دیئے ہوئے تھے۔ اب دیکھیں کہ مرزا نے ان پانچ جلدوں کو پچاس کیسے کیا۔ ملاحظہ ہو

    "پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اكتفا کیا گیا اور کیونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطے کا فرق ہے اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعده پورا ہو گیا" براهين احمديه حصه پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحه 9

    اب آخر میں مرزا قادیانی کے ایک خط کا کچھ حصہ پیش خدمت ہے جو اس نے اپنے اس وقت کے ایک خاص آدمی میر عباس علی کو لکھا یاد رہے یہ وہی صاحب ہیں جن کے بارے مرزا قادیانی نے الہام داغے تھے کہ مجھے اس کے بارے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ بہت مخلص ہے اور خدا نے مومنوں میں چن لیا ہے اسے وغیرہ وغیرہ مگر ان کو جب مرزے کی اصلیت کا پتہ چلا تو اس نے مرزے پہ چار حرف بھیج کے اس سے نہ صرف علیحدہ ہوگیا بلکہ اسکی اصلیت سے دنیا کو بھی آگاہ کیا۔ آئیے اب آپ کو مرزا قادیانی کی وہ بات سناتے ہیں جس کو پڑھ کے آپ کے ذہن پہ جھٹکا ضرور لگے گا اور سب سمجھ میں آجاے گا کہ براہین اھمدیہ کا ڈرامہ رچانے کا اصل مقصد تبلیغ تھا یا کچھ اور۔ یہ میر عباس علی اسکی کتابیں فروخت کرنے میں اسکی مدد کرتے تھے لیکن لوگ جب پیسے بھیجنے کے باوجود کتاب سے محروم رہتے تو ظاہر ہے ان کا حق تھا کہ وہ اپنے پیسوں کا تقاضا کریں کیونکہ وہ مرزا ساپ پہ قرض تھا انکا مگر مرزا قادیانی کو گوارہ نہ تھا کہ ہاتھ آئی دولت واپس جاے چنانچہ اس نے لکھا کہ

    '' چونکہ یہ کام خالصتاً خدا کے لیے اور خود حضرت احدیت کے ارادہ خاص سے ہے اس لیے آپ اس کے خریداروں کی فراہمی کے لیے یہ ملحوظ خاطر شریف رکھیں کہ کوئی ایسا خریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید و فروخت پر نطر ہو بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مدد کرنا چاہتے ہیں انہیں کی خریداری مبارک اور بہتر ہے کیونکہ در حقیقت یہ کوئی خرید و فروخت کا کام نہیں بلکہ سرمایا جمع کرنے کے لیے یہ ایک تجویز ہے مگر جن کا اصول محض خریداری ہے ان سے تکلیف پہنچتی ہے اور اپنا روپیہ کو یاد دلا کر تقاضا کرتے رہتے ہیں'' مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 507 اور پرانے ایڈیشن کا مکتوبات احمدیہ جلد اول کا پہلا ہی خط ہے

    آپ اندازہ کریں کہ ایک تو خدا تعالی پر بہتان کہ اس کے ارادے سے یہ کام کیا جارہا ہے لیکن شاید مرزا ساپ کو یہ علم نہ تھا کہ اس خدائے بزرگ و برتر کی شان تو کن فیکون ہے اس کے ارادے سے یہ کام ہوتا تو ضرور بر ضرور یہ پایہ تکمیل تک پہنچتا۔ اور اس کے بعد اس نے اپنا اصل راز فاش کر ہی دیا کہ یہ تو سرمایہ جمع کرنے کی تجویز ہے اس لیے لوگ پیسے دے کہ واپس نہ مانگے ورنہ تکلیف ہوتی ہے مرزا ساپ کو، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا ارادہ تھا ہی نہیں کتاب لکھنے کا نہ ہی اس نے لکھی ہوئی تھی جو بار بار اشتہار دیتا تھا کہ کتاب لکھ چکا ہوں ورنہ اسے یہ فکر ہی نہ ہوتی کہ لوگ پیسہ واپس مانگیں گے جب وعدے کے مطابق کتان انکو مل جاتی تو کسی کا دماغ خراب نہیں تھا کہ وہ پیسے واپس طلب کرتے ایسا کچھ ہوتا تو وہ ایڈوانس میں رقم ہی نہ دیتے اس کو انہوں نے تو اس پہ اعتماد کیا مگر اس نے ان کے ساتھ جو فراڈ کیا اس کی مثال کم ہی ملتی ہوگی۔یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی نے اس کو جنوری یا فروری ١۸۸۰ میں شایع کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر پہلی جلد اور دوسری جلد ١۸۸۰ کے آخر میں شایع کی اور اگر آپ یہ دونوں جلدیں دیکھیں تو دونوں جلدیں ١۳١ صفحات پر مشتمل ہیں اور ان میں بھی اشتہارات کی بھر مار ہے آدھے سے زیادہ صفحات فقط اشتہارات سے پر ہیں اور ایک تو ایسا اشتہار ہے کہ جس کے الفاظ کی موٹای اتنی زیادہ ہے کہ جو ایک یا زایدہ سے زیادہ دو صفحات پر پورا آسکتا تھا اسکو الفاظ موٹے کرکے ۲۹ صفحات تک پھیلایا وہ بھی اشتہار نہ کہ کتاب کا اصل متن یہ اشتہار براہین اھمدیہ کی پہلی جلد میں ہے اور اسکے بعد تیسری جلد ١۸۸۲ میں اور چوتھی ١۸۸۴ میں اور پانچویں ١۹۰۸ میں لیکن کتاب پھر بھی ادھوری کی ادھوری رہی۔

    اب فیصلہ قارئین پہ ہے کہ اس شخص نے دین کی خدمت کی تھی یا کاروبار؟ یہ خدا کی طرف سے مامور تھا یا شیطان کی طرف سے؟ یہ ایک شریف انسان تھا یا چور اچکا اور دھوکے باز فراڈیا یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

    لو جی چھوٹے مرزے نے مکمل وضاحت کردی اور کتاب صفحات اڑھائی ہزار تک بتائے جبکہ براہین اھمدیہ کے مکمل پانچ حصے تقریباً 1100 صفحات پر مشتمل ہیں ان میں سے بھی سابقہ اشتہارات اور شاعری اور گالیوں کی بھر مار ہے۔ لیکن سوچنے والی بات ہے کہ ایک وہ بھی ادھوری یعنی نا مکمل دلیل تو 1100 صفحات پہ پھیلا دی تو باقی کے 299 سے کچھ زیادہ دلائل فقط 1400 صفحات میں فٹ ہوگئے تھے؟ عجیب مرزائی منطق ہے جی۔

    اب آپ مرزا قادیانی کی یہ تصنیفی کارنامہ پڑھیں تو ایک ہی کتاب براہین احمدیہ کی پہلی جلدوں میں نبوت کے بند ہونے کے دلائل دیے اور آخر میں نبوت کے جاری ہونے کے پہلی جلدوں میں حیات عیسیٰ کو از روئے قرآن ثابت کیا اور آخر میں وفات عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن سے ثابت کیا۔(اپنی طرف سے) یعنی ایک ہی کتاب کے پہلے اور آخری حصے ایک دوسرے کی ضد ہیں، اسے کہتے ہیں جی سلطان القلم

    اب دیکھتے ہیں کہ پہلی چار جلدوں میں کتنے جز شائع کیے تھے اس نے کیونکہ اس نے ڈیڑھ سو جز کی کتاب چھاپنے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی 5 روپے قیمت میں مگر قیمت تو 100 روپے تک پہنچ گئی مگر جز 37 سے زیادہ نہ ہوئے مرزا قادیانی نے یکم مئی 1893 کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں اس نے ان لوگوں کو کھری کھری سنائیں جنہوں نے ایڈوانس پیسے دیئے تھے ڈیڑھ سو جز کی کتاب کے کہ وہ پیسے دے کہ ان کتاب کا کیوں مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ مرزا ساپ نے تو سرمایہ جمع کرنے کی تجویز سوچی تھی یہ نہ کہ کتاب شائع کرنے کی مگر 13 سال گزرنے کے باوجود صرف 37 جز شائع ہوئے وہ بھی مرزا کے مطابق اور لوگوں نے اسے یہ بھی کہا کہ کتاب عمدہ نہیں ہے کہ اس کو خریدیں لوگوں نے اسے چور اچکا فراڈیا بھی کہا کیونکہ وہ سب ایسا کہنے میں حق بجانب تھے اس اشتہار میں مرزے نے واضع کیا کہ چار جلدوں میں صرف 37 جز چھپے ہیں۔ یہ اشتہار مکمل پڑھنے والا ہے جو بھی یہ پوسٹ پڑھے وہ یہ والا اشتہار ضرور دیکھے تاکہ مرزا قادیانی کا اصل چہرہ سمجھ میں آئے، یہ اشتہار مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 400 سے شروع ہوتا ہے کافی لمبا اشتہار ہے اس لیے یہاں درج نہیں کیا جارہا۔

    اب مرزا قادیانی کا حرف آخر پڑھیں کہ اس نے 23 سال بعد براہین کی پانچویں جلد لکھی اور اس میں دجل و فریب کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی کیونکہ اس کا وعدہ پہلے پچاس جلدیں لکھنے کا تھا کیونکہ تین سو خیالی دلائل تھے مرزے کے پاس مگر جلدیں لکھیں صرف پانچ اور تب تک بہت سے خریدار بچارے دنیا سے ہی جاچکے تھے جنہوں نے ایڈوانس پیسے دیئے ہوئے تھے۔ اب دیکھیں کہ مرزا نے ان پانچ جلدوں کو پچاس کیسے کیا۔ ملاحظہ ہو

    "پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اكتفا کیا گیا اور کیونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطے کا فرق ہے اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعده پورا ہو گیا" براهين احمديه حصه پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحه 9

    اب آخر میں مرزا قادیانی کے ایک خط کا کچھ حصہ پیش خدمت ہے جو اس نے اپنے اس وقت کے ایک خاص آدمی میر عباس علی کو لکھا یاد رہے یہ وہی صاحب ہیں جن کے بارے مرزا قادیانی نے الہام داغے تھے کہ مجھے اس کے بارے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ بہت مخلص ہے اور خدا نے مومنوں میں چن لیا ہے اسے وغیرہ وغیرہ مگر ان کو جب مرزے کی اصلیت کا پتہ چلا تو اس نے مرزے پہ چار حرف بھیج کے اس سے نہ صرف علیحدہ ہوگیا بلکہ اسکی اصلیت سے دنیا کو بھی آگاہ کیا۔ آئیے اب آپ کو مرزا قادیانی کی وہ بات سناتے ہیں جس کو پڑھ کے آپ کے ذہن پہ جھٹکا ضرور لگے گا اور سب سمجھ میں آجاے گا کہ براہین اھمدیہ کا ڈرامہ رچانے کا اصل مقصد تبلیغ تھا یا کچھ اور۔ یہ میر عباس علی اسکی کتابیں فروخت کرنے میں اسکی مدد کرتے تھے لیکن لوگ جب پیسے بھیجنے کے باوجود کتاب سے محروم رہتے تو ظاہر ہے ان کا حق تھا کہ وہ اپنے پیسوں کا تقاضا کریں کیونکہ وہ مرزا ساپ پہ قرض تھا انکا مگر مرزا قادیانی کو گوارہ نہ تھا کہ ہاتھ آئی دولت واپس جاے چنانچہ اس نے لکھا کہ

    '' چونکہ یہ کام خالصتاً خدا کے لیے اور خود حضرت احدیت کے ارادہ خاص سے ہے اس لیے آپ اس کے خریداروں کی فراہمی کے لیے یہ ملحوظ خاطر شریف رکھیں کہ کوئی ایسا خریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید و فروخت پر نطر ہو بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مدد کرنا چاہتے ہیں انہیں کی خریداری مبارک اور بہتر ہے کیونکہ در حقیقت یہ کوئی خرید و فروخت کا کام نہیں بلکہ سرمایا جمع کرنے کے لیے یہ ایک تجویز ہے مگر جن کا اصول محض خریداری ہے ان سے تکلیف پہنچتی ہے اور اپنا روپیہ کو یاد دلا کر تقاضا کرتے رہتے ہیں'' مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 507 اور پرانے ایڈیشن کا مکتوبات احمدیہ جلد اول کا پہلا ہی خط ہے

    آپ اندازہ کریں کہ ایک تو خدا تعالی پر بہتان کہ اس کے ارادے سے یہ کام کیا جارہا ہے لیکن شاید مرزا ساپ کو یہ علم نہ تھا کہ اس خدائے بزرگ و برتر کی شان تو کن فیکون ہے اس کے ارادے سے یہ کام ہوتا تو ضرور بر ضرور یہ پایہ تکمیل تک پہنچتا۔ اور اس کے بعد اس نے اپنا اصل راز فاش کر ہی دیا کہ یہ تو سرمایہ جمع کرنے کی تجویز ہے اس لیے لوگ پیسے دے کہ واپس نہ مانگے ورنہ تکلیف ہوتی ہے مرزا ساپ کو، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا ارادہ تھا ہی نہیں کتاب لکھنے کا نہ ہی اس نے لکھی ہوئی تھی جو بار بار اشتہار دیتا تھا کہ کتاب لکھ چکا ہوں ورنہ اسے یہ فکر ہی نہ ہوتی کہ لوگ پیسہ واپس مانگیں گے جب وعدے کے مطابق کتان انکو مل جاتی تو کسی کا دماغ خراب نہیں تھا کہ وہ پیسے واپس طلب کرتے ایسا کچھ ہوتا تو وہ ایڈوانس میں رقم ہی نہ دیتے اس کو انہوں نے تو اس پہ اعتماد کیا مگر اس نے ان کے ساتھ جو فراڈ کیا اس کی مثال کم ہی ملتی ہوگی۔یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی نے اس کو جنوری یا فروری ١۸۸۰ میں شایع کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر پہلی جلد اور دوسری جلد ١۸۸۰ کے آخر میں شایع کی اور اگر آپ یہ دونوں جلدیں دیکھیں تو دونوں جلدیں ١۳١ صفحات پر مشتمل ہیں اور ان میں بھی اشتہارات کی بھر مار ہے آدھے سے زیادہ صفحات فقط اشتہارات سے پر ہیں اور ایک تو ایسا اشتہار ہے کہ جس کے الفاظ کی موٹای اتنی زیادہ ہے کہ جو ایک یا زایدہ سے زیادہ دو صفحات پر پورا آسکتا تھا اسکو الفاظ موٹے کرکے ۲۹ صفحات تک پھیلایا وہ بھی اشتہار نہ کہ کتاب کا اصل متن یہ اشتہار براہین اھمدیہ کی پہلی جلد میں ہے اور اسکے بعد تیسری جلد ١۸۸۲ میں اور چوتھی ١۸۸۴ میں اور پانچویں ١۹۰۸ میں لیکن کتاب پھر بھی ادھوری کی ادھوری رہی۔

    اب فیصلہ قارئین پہ ہے کہ اس شخص نے دین کی خدمت کی تھی یا کاروبار؟ یہ خدا کی طرف سے مامور تھا یا شیطان کی طرف سے؟ یہ ایک شریف انسان تھا یا چور اچکا اور دھوکے باز فراڈیا یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

    پانچ پچاس کے برابر؟
    مربی صاحب نے اپنے نامہ اعمال کو مزید سیاہ کرتے ہوئے مزید لکھا کہ
    حضرت مسیح نے جو پانچ کو پچاس کے برابر قرار دیا ہے تو یہ حساب اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کا بتایا ہوا حساب ہے۔فقال ھی خمس و ھی خمسون
    الجواب۔
    گل گئے گلشن گئے جنگلی دھتورے رہ گئے
    عقل والے چل دیے کچھ بے شعورے رہ گئے
    ہمارے قارئین مربی صاحب کی بے بسی اور لاچارگی کا نظارہ کریں کہ جب کچھ جواب نہ آیا تو جناب نے نمازوں پر قیاس کرنے کی کوشش کی جو قیاس مع الفارق ہے۔
    پہلی بات تو اس سے اصول سے کوئی بندہ پانچ روزے رکھے اور کہے میں پچاس رکھے ہیں یا کوئی 5 روپے زکوۃ دے کر کہے میں پچاس دی ہے کیوں اللہ نے کہا ھی خمس و ھی خمسون
    دوسری بات حدیث کے الفاظ جو خود مربی صاحب نے بھی نقل کیے ہیں
    ہر ایک دس کے برابر ہے۔کیا مطلب یعنی ہر ایک نماز کا ثواب دس کے برابر ہے۔اب یہ ثواب صرف نمازوں کے لیے مخصوص تھا نہ کہ باقی ہر چیز کے لیے اس لیے یہ قیاس مع الفارق ہے
    تیسری بات یہ کہ ہر نماز دس کے برابر ثواب رکھتی ہے اگر مرزا صاحب کی کتاب کا ہر جز بھی دس کے برابر مواد رکھتا یعنی ان پانچ میں 300 دلائل ہوتے تو جناب یہ قیاس کرتے بھی اچھے لگتے مگر ہم اوپر خود مربی کا بیان نقل کر آئے کہ مرزا صاحب نے پورے دلائل نہیں لکھے بلکہ ادھورا کام چھوڑ دیا تھا۔

    اسی طرح خود مرزا صاحب نے لکھا کہ
    '' اور میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیت اسلام کے لیے تین سو 300 دلیل براھین اھمدیہ میں لکھوں مگر لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا''روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 6
    یہاں پر مرزا صاحب نے بھی اقرار کر لیا کہ انہوں نے صرف دو دلائل لکھے لہذا ہادی علی کا یہ کہنا کہ
    پچاس کے فیض اور برکت کو پانچ میں سمونے کا امتیازی نشان ہے
    شیطان کے چیلے ص 112
    سوائے دجل و جھوٹ اور تفل تسلی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

    "خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے 1879 میں براہین کے متعلق اعلان شائع فرمايا تو اس وقت آپ براہین احمدیہ تصنیف فرما چکے تھے اور کتاب کا حجم تقريباً دو اڑھائی ہزار صفحات تک پہنچ گیا تھا اور اس میں آپ نے اسلام کی صداقت میں تین سو ایسے زبردست دلائل تحریر کیے تھے کہ جنکے متعلق آپ کا دعوى تھا کہ ان سے صداقت اسلام آفتاب کی طرح ظاہر ہو جائے گی " آگے لکھا "تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے اس میں سے مطبوعه براهين احمديه میں صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ بھی نا مکمل طور پر"(سيرة المهدى، حصه اول صفحه 99 تا 100)۔

    مزید لکھا کہ
    ان چار حصوں کے طبع ہونے کے بعد اگلے حصص کی اشاعت خدائی تصرف کے تحت رک گئی
    سیرت المہدی ص 100
    لہذا ان بیانات سے یہ ثابت ہوا کہ مرزا نے صرف ایک دلیل دی یا بقول مرزا دو۔اب ذارا یہ بھی بتا دیں کہ دونوںمیں جھوٹاکون۔؟؟؟؟
    اور باقی ادھورے حصص اگر بقول بشیر احمد کے تصنیف ہو گئے تو آپ لوگوں نے کیوں نہیں چھاپے۔پھر یہاں پر بھی اس کا اقرار ہے کہ وہ کتاب تصنیف ہو چکی تھی۔

    5کی بجائے 50 جلدیں ہی کیوں لکھیں؟
    وعدہ خلافی کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود ؑکا اپنا ارادہ فی الواقع تین سو دلائل براہین احمدیہ نامی کتاب لکھنے کا تھا مگر ابھی چار حصے ہی لکھنے پائے تھے کہ الله تعالیٰ کی طرف سے آپ کو مامور فرمایا گیا اور تالیف براہین احمدیہ سے زیادہ عظیم الشان کام کی طرف متوجہ کر دیا ۔ اس لئے حضور کو محض ”براہین احمدیہ “کی تالیف کا کام چھوڑنا پڑا اور یہ بات اہل اسلام کے ہاں مسلم ہے کہ حالات کے تبدیل ہونے کے ساتھ وعدہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔

    حضرت مسیح موعود ؑ نے تبدیلی حالات کاذکر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم کے آخری صفحہ پربعنوان ”ہم اور ہماری کتاب“میں صاف لکھا ہے

    ”ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اُس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اُس کے قدرت الٰہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کررہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہرًا و باطنًا حضرت ربّ العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں“

    (براھین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد 1۔صفحہ 673)

    گویا اب حالات بدل گئے ہیں اور مشیت ایزدی نے حضرت مسیح موعود ؑ کے ارادہ کو ایک اعلیٰ مقصد کی ادائیگی کی طرف پھیر دیا ہے۔

    تین سو دلائل کے بارہ میں حضورفرماتے ہیں:۔

    ”میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثباتِ حقّیّتِ اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تومعلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔ “

    (دیبا چہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21۔صفحہ6)

    چنانچہ آپ نے حقانیت اسلام کے متعلق بلحاظ اعلی و اکمل تعلیمات و زندہ معجزات 80سے زائد کتب تصنیف فرمائیں اور ان تمام دلائل کا بتفصیل ذکر فرمایا ۔ پس وہ ارادہ ایک اعلی ٰ رنگ میں پورا ہوا۔افسوس ہے کہ یہ لوگ جو قرآن کریم کی محکم آیات میں بھی نسخ کے قائل ہیں اور مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بعض آیات کو بعض آیات کے ذریعہ منسوخ کردیا ہے وہ اتنی سی بات پر معترض ہو رہے ہیں کہ حضرت اقدس ؑ نے براہین احمدیہ کی تکمیل کے متعلق جو ارادہ ظاہر فرمایا تھا وہ مزید وسعت اور جامعیت کے ساتھ کیوں پورا ہوا بعینہ اسی طرح ابتدائی رنگ میں کیوں سر انجام نہ پایا۔

    روایات میں لکھا ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے ایک سوال کیا آپ نے فرمایا کہ کل آوٴ میں تم کو اس کا جواب بتاوٴں گا۔آپ نے ان شاء اللہ نہ کہا لیکن دس پندرہ دن گز رگئے اور اس بارہ میں آپ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس سے قریش نے آپ کی تکذیب کی ۔اور یہ بات آپ پر بہت شاق گزری۔

    (تفسیر کمالین بر حاشیہ تفسیر جالین مجتبائی صفحہ 241)

    بہت سے مفسرین نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ کیونکہ حضور نے اس وعدہ کے وقت ان شاء اللہ نہ کہا تھا اس لئے ایسا ہوا۔ نعوذباللہ گویا کہ رسول کریم نے وعدہ خلافی کی؟اگر یہ وعدہ خلافی نہیں اور یقیناً نہیں کیونکہ اس کا سر انجام پانا اللہ کی مشیت پر موقوف تھا ۔

    حضرت جبرائیل ؑ آنحضرت ﷺ سے وعدہ کرتے ہیں کہ میں رات کو ضرور آوٴں گا لیکن رات گزر جاتی ہے اور وہ نہیں آتے پھر جب دوسرے وقت آئے تو رسول کریم ﷺنے فرمایا

    ” لَقَدْ وَعَدْتَّنِیْ اَنْ تَلْقَانِی الْبَارِحَةَ قَالَ أجَلْ وَلٰکِنْ لَّانَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْب وَلَا صُوْرَة“

    (مشکوٰة )

    کہ آپ نے گزشتہ رات آنے کا وعدہ کیا تھا مگر نہ آئے؟اس نے کہا وعدہ تو ٹھیک کیا تھا لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جہاں کتا یا تصویر وغیرہ ہو۔

    حقیقت یہ ہے کہ مشیت الہیٰ کے تحت نئی صورت ِ حال پیدا ہونے سے اور خصوصاً اعلیٰ صورت کی طرف حالات بدل جانے سے اگر پروگرام بدل جائیں اور اعلی مقاصد پیش نظر ہوں تو ان پر وعدہ خلافی کا الزام لگانا سخت نا انصافی ہے۔
    رقوم کی واپسی سے متعلق الزام
    جہاں تک رقوم کی واپسی کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود ؑ پر کوئی بہتان لگایا ہی نہیں جا سکتا ۔آپ ؑ نے حالات بدل جانے کی وجہ سے رقوم کی واپسی کے لئے وہی انتہائی اقدام کئے جو ایک دیانت دار اور امین شخص کر سکتا ہے آپ ؑ نے دو مرتبہ سے زائد اشتہار دیا کہ جو لوگ اپنی رقوم واپس لیناچاہتے ہیں وہ وصول شدہ کتاب واپس بھیج کر قیمت واپس منگوا لیں۔

    آپ ؑ نے اس اشتہار زیر ِ عنوان براہین ِ احمدیہ اور اس کے خریدار میں صاف طور پر لکھا :۔

    ”ایسے لوگ جو آئندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسب کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں یا ان کے دل میں بھی بد ظنی پیدا ہو سکتی ہے براہ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرمادیں اور میں ان کا روپیہ واپس کرنے کے لئے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کر دوں گا کہ تا چاروں حصے کتاب کے لے کر روپیہ ان کے حوالہ کرے اور میں ایسے صاحبوں کی بد ظنی اور بد گوئی اورد شنام دہی کو بھی محض للہ بخشتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتاب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملی ہو تو چاہئے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے وہ خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمنان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے گا “

    (تبلیغ رسالت جلد 3 صفحہ 35)

    اس کے بعد کیا ہوا حضرت مسیح موعود ؑ تحریر فرماتے ہیں

    “پس جن لوگوں نے قیمتیں دیں تھیں اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی”

    (دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 7)

    ”ہم نے۔۔۔دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ کتابیں ہمارے حوالہ کرے اور اپنی قیمت لے لے چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی اور بعض نے تو کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی۔۔۔خدا کا شکر ہے کہ ایسے دنیّ الطبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی “

    (ایام الصلح ۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 421تا422)

    یہ حتمی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ایک بھی ایسا شخص باقی نہ رہا تھا جس نے قیمت کی واپسی کا مطالبہ کیا ہو اور اسے واپس ادا نہ کی گئی ہو۔اور جو دنی طبع لوگ تھے وہ بھی سب فارغ کردئیے گئے تھے۔ورنہ ان اشتہارات اور تحریروں کی اشاعت پر وہ ضرور بول اٹھتے کہ ان کی پیشگی رقم واپس نہیں کی گئی۔

    بالآخر یہ بتادینا بھی ضروری ہے کہ دنیا کے اکثر لوگ جو تاریکی میں پیدا ہوتے اور اسی میں مر جاتے ہیں خدا کے نبیوں پر مالی معاملات میں بھی زبان ِطعن دراز کیا کرتے ہیں۔رسول الله ﷺکو بھی غنیمتوں کی تقسیم میں مطعون کیا گیا۔ایسا طعن کرنے والوں کے بارہ میں الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ

    ”وَمِنْھُمْ مَنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَات ِ“

    (التوبہ:58)

    کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو تجھ پر صدقات کے سلسلہ میں الزام لگاتے ہیں ۔


    : محترم قارئین !مرزا قادیانی نے جس کتاب میں تین سو دلائل اسلام کی حقانیت کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا تھا اس نے ان تین سودلائل میں سے ایک دلیل بھی پیش نہیں کی۔مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیراحمد جسے قادیانی حضرات قمر الانبیاء کے لقب سے جانتے ہیں اپنی کتاب ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں رقم طراز ہے کہ

    ’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب مسیح موعود علیہ السلام نے 1879ء میں براہین کے متعلق اعلان شائع فرمایا تواس وقت آپ ’’براہین احمدیہ ‘‘ تصنیف فرما چکے تھے اور کتاب کا حجم قریباً دو اڑھائی ہزار صفحات تک پہنچ گیا تھا اور اسمیں آپ نے اسلام کی صداقت میں تین سو ایسے زبردست دلائل تحریر کیے تھے کہ جن کے متعلق آپ کا دعویٰ تھا کہ ان سے صداقت اسلام آفتاب کی طرح ظاہر ہو جائے گی اور آپ کاارادہ تھا کہ جب اس کے شائع ہونے کاانتظام ہو تو کتاب کو ساتھ ساتھ اور زیادہ مکمل فرماتے جاویں اوراس کے شروع میں ایک مقدمہ لگائیں اور بعض اور تمہیدی باتیں لکھیں اور ساتھ ساتھ ضروری حواشی زائد کرتے جاویں۔ چنانچہ اب جو براہین احمدیہ کی چار جلدیں شائع شدہ موجود ہیں ان کا مقدمہ اور حواشی وغیرہ سب دوران اشاعت کے زمانہ کے ہیں اوراس میں اصل ابتدائی تصنیفی حصہ بہت ہی تھوڑا آیا ہے۔ یعنی صرف چند صفحات سے زیادہ نہیں۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے ان میں سے مطبوعہ براہین احمدیہ میں صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ بھی نامکمل۔ان چار حصوں کے طبع ہونے کے بعد اگلے حصص کی اشاعت خدائی تصرف کے ماتحت رک گئی اور سنا جاتا ہے کہ بعد میں ابتدائی تصنیف کے مسودے بھی کسی وجہ سے جل کر تلف ہو گئے تھے۔‘‘
    (سیرۃ المہدی ج 1 ص 100-99 ، روایت نمبر123 طبع چہارم)
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں