اپنے بچوں پر رحم کیجئے-

ساجد تاج نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 21, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,720
    اپنے بچوں پر رحم کیجئے-

    ہمارے دور میں پرائمری سکولوں میں داخلے کے وقت اکثر بچوں کی عمرکچھ زیادہ بتائی جاتی تھی کیونکہ چھ سال سے کم عمر کے بچے کو ’’کچی‘‘ میں داخلہ نہیں ملتا تھا۔آج کل میری آنکھیں پھیل جاتی ہیں جب میں اڑھائی سال کے بچے کو سکول جاتے دیکھتاہوں۔ والدین پریشان ہوئے پھرتے ہیں کہ کہیں بچے کی تعلیم کا ’’حرج‘‘ نہ ہوجائے۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے جو ابھی ٹھیک سے چلنا سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں مونٹیسوری اور پری کلاسز اٹینڈ کرنا پڑ جاتی ہیں۔پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے ہی سکول میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں بچوں کی حالت دیکھ کرترس آنے لگا۔ ننھے منے سے بچے کلاس روم میں اونگھ رہے تھے‘ کچھ بیزار بیٹھے تھے اور کچھ موٹے موٹے آنسو بہا رہے تھے۔ یہ بچے جنہیں گھر کے ماحول سے آشنا ہونا چاہیے تھا ابھی سے سکول جانا شروع ہوگئے ہیں۔پتا نہیں ایسی کیا قیامت آگئی ہے کہ ہمیں جلد از جلد بچے کو سکول بھیجنے کی پڑی ہوتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ تعلیم اور شعور اہم ہے لیکن کیا یہ سب چیزیں پانچ چھ سال کی عمر تک بچہ گھر میں نہیں سیکھ سکتا۔ اصل میں اکثرماؤں کو بھی آسانی ہوگئی ہے کہ بچے کو سنبھالنے کی بجائے اسے تعلیم و تربیت کے نام پر سکول بھیج دیتی ہیں اور خود اطمینان سے سٹار پلس لگا کربیٹھ جاتی ہیں۔

    نوکری پیشہ خواتین کی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اُن ماؤں کو کیا پرابلم ہے جو خود بچے کو گھر میں بہت کچھ سکھا سکتی ہیں۔ پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے سکول کا اشتہار پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں سکول انتظامیہ نے ڈیڑھ سال کے بچوں کے لیے بھی کوئی انگریزی نام والی نئی کلاس شروع کی ہے۔ ایسے سکولوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ بچے کو پیدا ہوتے ہی اپنی تحویل میں لے لیں۔ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے‘ وہ بچے جنہیں بچپن میں ہی مدبر بنا دیا جاتا ہے وہ ساری زندگی اپنا بچپن تلاش کرتے رہتے ہیں۔ زمانے کی ترقی نے بچپن کی عمر بھی گھٹا دی ہے‘ پہلے بچپن آٹھ سے دس سال تک کا ہوتا تھا۔آج کل ایک ڈیڑھ سال میں ہی ختم ہوجاتاہے۔وہ بچے جن کی صحت کے لیے جی بھر کے سونا ضروری ہوتا ہے انہیں ماں کچی نیند سے اٹھا کر سکول کے لیے تیار کرنا شروع کر دیتی ہے۔

    بچہ اپنے ابتدائی پانچ چھ سالوں میں جو کچھ سیکھتا ہے وہ گھر سے ہی سیکھتاہے اور اس میں ایک اعتماد پیدا ہوتاہے۔ دنیا میں کوئی سکول اڑھائی سال کے بچوں کو باتھ روم جانے کے عملی طریقے نہیں سکھاتا ‘ سونے کے آداب نہیں بتاتا‘ یہ سب چیزیں مائیں بتاتی ہیں اور انہیں سمجھنے میں بچے کو کچھ وقت لگتاہے اسی لیے پہلے وقتوں میں لازم تھا کہ بچہ شعور کی ابتدائی منازل طے کرنے کے بعد سکول میں داخل ہو تاکہ کم ازکم و ہ اپنا آپ سنبھال سکے۔ آج کل ایسا نہیں ہوتا۔بچے ڈائپرز پہن کر سکول آتے ہیں اور والدین بھاری فیسیں دے کر خوش ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ چھوٹی سی عمر میں ہی آئن سٹائن بن رہا ہے۔ بچے جوں جوں تعلیم سے آشنا ہورہے ہیں‘ علم سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ آپ کسی چھٹی یا ساتویں کلاس کے بچے کا نصاب دیکھئے‘ آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ بچوں کی میتھ کی کتابیں دیکھ کر سر چکرا جاتاہے‘ لیکن خوشی ہوتی ہے کہ جو چیز ہم نے سولہ سالوں میں سیکھی ‘ وہ ہمارا بچہ سات سالوں میں سیکھ رہا ہے۔یہ وہ سوچ ہے جو ہمیں تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کا موقع نہیں دے رہی۔بچے بڑوں جیسی باتیں کرنے لگے ہیں‘ بڑوں والے ڈرامے دیکھتے ہیں‘ بڑوں والی فلمیں دیکھتے ہیں اور اکثر گھریلو معاملات میں بھی بزورِ دلائل اپنا حصہ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قصور ہمارا اپنا ہے‘ ہم نے بچے کو بچہ رہنے ہی نہیں دیا۔ہم خود تو چالیس سال کی عمر میں بھی بچپنا نہیں چھوڑتے لیکن اپنے بچوں کو اڑھائی سال میں ہی بزرگ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    توتلی زبان میں باتیں کرنے والا بچہ جب اٹھا کر سکول میں ڈا ل دیا جائے تو کیا یہ اس کے ساتھ ظلم نہیں؟؟؟ یہ وباء پورے ملک میں پھیلتی جارہی ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بچہ اتنی چھوٹی عمر میں کتابیں نہیں پڑھ رہابس سکول جاکر کھیل ہی کھیل میں سیکھنے کی کوشش کرتاہے۔ عالی جاہ! یہ چھوٹا بچہ روزانہ ٹائم پر اٹھے گا‘ ٹائم پر تیار ہوگا اور ٹائم پر سکول کے لیے روانہ ہوگا تواس کی زندگی میں بے ترتیبی کا حسن کہاں جائے گا؟؟ ؟ کچھ سال بعد اس نے سکول تو جانا ہی جانا ہے ‘ پھر اس کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کو ابھی سے تہذیب کے دائرے میں قید کرنے کی کیا ضرورت ہے؟کیاپانچ چھ سال کی عمر میں سکول جانے والے بچے بدتہذیب ہوجاتے ہیں؟ کیا تہذیب کا انحصار بچے کو چھوٹی عمر میں سکول بھیجنے میں ہی ہے؟کہیں یہ اپنے فرائض سے جان چھڑانے کی کوئی کوشش تو نہیں؟ چھوٹابچہ جو اپنے اردگرد کا ماحول بھی سمجھنے سے قاصر ہوتاہے اسے اتنی کم عمری میں ’’ڈیوٹی‘‘پر لگا دینا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟

    چھ سال کا بچہ جب سکول میں داخل ہوتاہے تو وہ بھی پہلے دن روتاہے‘ کچھ گھبراتاہے‘ لیکن اسے سمجھایا جاسکتاہے‘ بات کی جاسکتی ہے لیکن اڑھائی سال کا بچہ جو صبح دیر تک سونا چاہتا ہے‘ ماں سے لپٹا رہنا چاہتاہے‘ گھر میں اودھم مچانا چاہتاہے‘ بیڈ پر چھلانگیں لگانا چاہتاہے‘ ماں کی گود میں بیٹھنا چاہتا ہے اسے جب سکول جانے کا عادی بنا دیا جاتا ہے تو اس کی ساری شوخیاں‘ ساری کلکاریاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یہ بچہ تہذیب تو سیکھ جاتاہے لیکن معصومیت سے عاری ہوجاتاہے۔جس عمر میں اسے کپڑوں کا تکلف بھی نہیں کرنا چاہیے اُس عمر میں وہ یونیفارم سے آشنا ہوجاتا ہے‘ ننگے پاؤں گھومنے کی خوشی چھین کر اسے کالے بوٹوں میں قید کردیا جاتاہے اور اوائل عمری سے ہی اس کے ذہن اس جملے کے عادی ہوجاتے ہیں’’چلو بیٹا! اب سو جاؤ صبح سکول کے لیے بھی اٹھنا ہے‘‘۔

    ہم سب اپنے بچوں کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں‘ والدین کے ذہن میں بھی یہی ہوتاہے کہ شاید کم عمری میں بچے کو سکول بھیجنے سے ان کا بچہ زیادہ جلدی پڑھا لکھا ہوجائے گا حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بچے کو علم سے آشنا کرنے کی بجائے نئی زبان سکھانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہوتے ہیں۔ آٹھ سال کا بچہ اگر انگریزی میں بات کرے تو اِسے بخوشی علم کی معراج سمجھ لیا جاتا ہے‘ ان کی نسبت اردو بولنے والے بچے ناخواندہ شمار ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے زمانے میں انگریزی کی ٹیویشن رکھنا پڑتی تھی‘ آج کل اردو کی رکھنا پڑتی ہے۔بچہ رومن اردو تو فٹافٹ لکھ لیتا ہے لیکن ’’اصل اردو‘‘ لکھنے کو کہا جائے تو اسے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ ’’ہجے‘‘ کسے کہتے ہیں۔ تعلیم بہت ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ تربیت ضروری ہے۔ اور تربیت سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ دودھ پیتے بچوں کو مشینی زندگی میں دھکیل دیا جائے۔ جن بچوں کو گھر کی ضرورت ہے انہیں اپنی خوشیاں گھر میں منانے کا بھرپور موقع دیں‘ انہی کے دم سے گھر میں رونق ہوتی ہے ‘ انہی کی شرارتیں گھر کی جامد فضا کا سحر توڑتی ہیں۔۔۔انہیں کچھ دن تو یہ عیش کرلینے دیجئے‘ ایسا نہ ہو کہ جب یہ بچے بڑے ہوں اور کوئی ان سے پوچھے کہ بیٹا آپ بچپن میں کون سی شرارتیں کیا کرتے تھے اور یہ ہکا بکا رہ جائیں کہ شرارتیں کیا ہوتی ہیں؟؟؟۔

    ✍: دکتور پروفیسر ابو سفیان مکی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    188
    بھیا یہ گل نوخیز اختر کا آرٹیکل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,720
    مجھے جہاں سے ملی وہاں تو انہی صاحب کا نام ملا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  4. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    188
    اسی عنوان پر میں نے اِک لیکچر دیا ہے کالج میں طالبات کو جو گل نوخیز اختر کے نام سے تھا لفاظی بہت ملتی ہے پڑھ لیں یہ ۔۔۔۔۔۔۔اسی لئے پوچھا آپ سے

    اپنے بچوں پر رحم کیجئے- - گل نوخیز اختر

    ہمارے دور میں پرائمری سکولوں میں داخلے کے وقت اکثر بچوں کی عمرکچھ زیادہ بتائی جاتی تھی کیونکہ چھ سال سے کم عمر کے بچے کو ’’کچی‘‘ میں داخلہ نہیں ملتا تھا۔آج کل میری آنکھیں پھیل جاتی ہیں جب میں اڑھائی سال کے بچے کو سکول جاتے دیکھتاہوں۔ والدین پریشان ہوئے پھرتے ہیں کہ کہیں بچے کی تعلیم کا ’’حرج‘‘ نہ ہوجائے۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے جو ابھی ٹھیک سے چلنا سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں مونٹیسوری اور پری کلاسز اٹینڈ کرنا پڑ جاتی ہیں۔پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے ہی سکول میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں بچوں کی حالت دیکھ کرترس آنے لگا۔ ننھے منے سے بچے کلاس روم میں اونگھ رہے تھے‘ کچھ بیزار بیٹھے تھے اور کچھ موٹے موٹے آنسو بہا رہے تھے۔ یہ بچے جنہیں گھر کے ماحول سے آشنا ہونا چاہیے تھا ابھی سے سکول جانا شروع ہوگئے ہیں۔پتا نہیں ایسی کیا قیامت آگئی ہے کہ ہمیں جلد از جلد بچے کو سکول بھیجنے کی پڑی ہوتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ تعلیم اور شعور اہم ہے لیکن کیا یہ سب چیزیں پانچ چھ سال کی عمر تک بچہ گھر میں نہیں سیکھ سکتا۔ اصل میں اکثرماؤں کو بھی آسانی ہوگئی ہے کہ بچے کو سنبھالنے کی بجائے اسے تعلیم و تربیت کے نام پر سکول بھیج دیتی ہیں اور خود اطمینان سے سٹار پلس لگا کربیٹھ جاتی ہیں۔

    نوکری پیشہ خواتین کی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اُن ماؤں کو کیا پرابلم ہے جو خود بچے کو گھر میں بہت کچھ سکھا سکتی ہیں۔ پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے سکول کا اشتہار پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں سکول انتظامیہ نے ڈیڑھ سال کے بچوں کے لیے بھی کوئی انگریزی نام والی نئی کلاس شروع کی ہے۔ ایسے سکولوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ بچے کو پیدا ہوتے ہی اپنی تحویل میں لے لیں۔ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے‘ وہ بچے جنہیں بچپن میں ہی مدبر بنا دیا جاتا ہے وہ ساری زندگی اپنا بچپن تلاش کرتے رہتے ہیں۔ زمانے کی ترقی نے بچپن کی عمر بھی گھٹا دی ہے‘ پہلے بچپن آٹھ سے دس سال تک کا ہوتا تھا۔آج کل ایک ڈیڑھ سال میں ہی ختم ہوجاتاہے۔وہ بچے جن کی صحت کے لیے جی بھر کے سونا ضروری ہوتا ہے انہیں ماں کچی نیند سے اٹھا کر سکول کے لیے تیار کرنا شروع کر دیتی ہے۔

    بچہ اپنے ابتدائی پانچ چھ سالوں میں جو کچھ سیکھتا ہے وہ گھر سے ہی سیکھتاہے اور اس میں ایک اعتماد پیدا ہوتاہے۔ دنیا میں کوئی سکول اڑھائی سال کے بچوں کو باتھ روم جانے کے عملی طریقے نہیں سکھاتا ‘ سونے کے آداب نہیں بتاتا‘ یہ سب چیزیں مائیں بتاتی ہیں اور انہیں سمجھنے میں بچے کو کچھ وقت لگتاہے اسی لیے پہلے وقتوں میں لازم تھا کہ بچہ شعور کی ابتدائی منازل طے کرنے کے بعد سکول میں داخل ہو تاکہ کم ازکم و ہ اپنا آپ سنبھال سکے۔ آج کل ایسا نہیں ہوتا۔بچے ڈائپرز پہن کر سکول آتے ہیں اور والدین بھاری فیسیں دے کر خوش ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ چھوٹی سی عمر میں ہی آئن سٹائن بن رہا ہے۔ بچے جوں جوں تعلیم سے آشنا ہورہے ہیں‘ علم سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ آپ کسی چھٹی یا ساتویں کلاس کے بچے کا نصاب دیکھئے‘ آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ بچوں کی میتھ کی کتابیں دیکھ کر سر چکرا جاتاہے‘ لیکن خوشی ہوتی ہے کہ جو چیز ہم نے سولہ سالوں میں سیکھی ‘ وہ ہمارا بچہ سات سالوں میں سیکھ رہا ہے۔یہ وہ سوچ ہے جو ہمیں تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کا موقع نہیں دے رہی۔بچے بڑوں جیسی باتیں کرنے لگے ہیں‘ بڑوں والے ڈرامے دیکھتے ہیں‘ بڑوں والی فلمیں دیکھتے ہیں اور اکثر گھریلو معاملات میں بھی بزورِ دلائل اپنا حصہ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قصور ہمارا اپنا ہے‘ ہم نے بچے کو بچہ رہنے ہی نہیں دیا۔ہم خود تو چالیس سال کی عمر میں بھی بچپنا نہیں چھوڑتے لیکن اپنے بچوں کو اڑھائی سال میں ہی بزرگ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    توتلی زبان میں باتیں کرنے والا بچہ جب اٹھا کر سکول میں ڈا ل دیا جائے تو کیا یہ اس کے ساتھ ظلم نہیں؟؟؟ یہ وباء پورے ملک میں پھیلتی جارہی ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بچہ اتنی چھوٹی عمر میں کتابیں نہیں پڑھ رہابس سکول جاکر کھیل ہی کھیل میں سیکھنے کی کوشش کرتاہے۔ عالی جاہ! یہ چھوٹا بچہ روزانہ ٹائم پر اٹھے گا‘ ٹائم پر تیار ہوگا اور ٹائم پر سکول کے لیے روانہ ہوگا تواس کی زندگی میں بے ترتیبی کا حسن کہاں جائے گا؟؟ ؟ کچھ سال بعد اس نے سکول تو جانا ہی جانا ہے ‘ پھر اس کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کو ابھی سے تہذیب کے دائرے میں قید کرنے کی کیا ضرورت ہے؟کیاپانچ چھ سال کی عمر میں سکول جانے والے بچے بدتہذیب ہوجاتے ہیں؟ کیا تہذیب کا انحصار بچے کو چھوٹی عمر میں سکول بھیجنے میں ہی ہے؟کہیں یہ اپنے فرائض سے جان چھڑانے کی کوئی کوشش تو نہیں؟ چھوٹابچہ جو اپنے اردگرد کا ماحول بھی سمجھنے سے قاصر ہوتاہے اسے اتنی کم عمری میں ’’ڈیوٹی‘‘پر لگا دینا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟

    چھ سال کا بچہ جب سکول میں داخل ہوتاہے تو وہ بھی پہلے دن روتاہے‘ کچھ گھبراتاہے‘ لیکن اسے سمجھایا جاسکتاہے‘ بات کی جاسکتی ہے لیکن اڑھائی سال کا بچہ جو صبح دیر تک سونا چاہتا ہے‘ ماں سے لپٹا رہنا چاہتاہے‘ گھر میں اودھم مچانا چاہتاہے‘ بیڈ پر چھلانگیں لگانا چاہتاہے‘ ماں کی گود میں بیٹھنا چاہتا ہے اسے جب سکول جانے کا عادی بنا دیا جاتا ہے تو اس کی ساری شوخیاں‘ ساری کلکاریاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یہ بچہ تہذیب تو سیکھ جاتاہے لیکن معصومیت سے عاری ہوجاتاہے۔جس عمر میں اسے کپڑوں کا تکلف بھی نہیں کرنا چاہیے اُس عمر میں وہ یونیفارم سے آشنا ہوجاتا ہے‘ ننگے پاؤں گھومنے کی خوشی چھین کر اسے کالے بوٹوں میں قید کردیا جاتاہے اور اوائل عمری سے ہی اس کے ذہن اس جملے کے عادی ہوجاتے ہیں’’چلو بیٹا! اب سو جاؤ صبح سکول کے لیے بھی اٹھنا ہے‘‘۔ ہم
    سب اپنے بچوں کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں‘ والدین کے ذہن میں بھی یہی ہوتاہے کہ شاید کم عمری میں بچے کو سکول بھیجنے سے ان کا بچہ زیادہ جلدی پڑھا لکھا ہوجائے گا حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بچے کو علم سے آشنا کرنے کی بجائے نئی زبان سکھانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہوتے ہیں۔ آٹھ سال کا بچہ اگر انگریزی میں بات کرے تو اِسے بخوشی علم کی معراج سمجھ لیا جاتا ہے‘ ان کی نسبت اردو بولنے والے بچے ناخواندہ شمار ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے زمانے میں انگریزی کی ٹیویشن رکھنا پڑتی تھی‘ آج کل اردو کی رکھنا پڑتی ہے۔بچہ رومن اردو تو فٹافٹ لکھ لیتا ہے لیکن ’’اصل اردو‘‘ لکھنے کو کہا جائے تو اسے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ ’’ہجے‘‘ کسے کہتے ہیں۔ تعلیم بہت ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ تربیت ضروری ہے۔ اور تربیت سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ دودھ پیتے بچوں کو مشینی زندگی میں دھکیل دیا جائے۔ جن بچوں کو گھر کی ضرورت ہے انہیں اپنی خوشیاں گھر میں منانے کا بھرپور موقع دیں‘ انہی کے دم سے گھر میں رونق ہوتی ہے ‘ انہی کی شرارتیں گھر کی جامد فضا کا سحر توڑتی ہیں۔۔۔انہیں کچھ دن تو یہ عیش کرلینے دیجئے‘ ایسا نہ ہو کہ جب یہ بچے بڑے ہوں اور کوئی ان سے پوچھے کہ بیٹا آپ بچپن میں کون سی شرارتیں کیا کرتے تھے اور یہ ہکا بکا رہ جائیں کہ شرارتیں کیا ہوتی ہیں؟؟؟


    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    یہ اصلا گل نوخیز اختر کی ہی تحریر ہے لیکن آج کل یہ رواج عام چل نکلا ہے کہ لوگ تحریر کے ابتداء یا آخر میں اپنا نام درج کردیتے ہیں اور کچھ دوسروں کی تحریر کے کچھ جصہ کو وٹس اپ یا فیس بک پر شیئر کر دیتے ہیں اور پھر اتنی تحریر کو کوئی بھی اپنے سے منسوب کرکے آگے شئیر کردیتا ہے
     
    Last edited: ‏اپریل 22, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,211
    بعض جگہوں پر تو حوالہ دیے بغیر کسی کی تحریر اپنی وال سے شیئر کر دی جاتی ہے اور عام آدمی اس کی تحریر سمجھ کر حوالہ دے کر آگے شیئر کر دیتا ہے، میرے ساتھ بھی حال ہی میں ایسا ہوا ہے، اس لئے شیئر کرتے ہوئے محتاط رہنا بہت ضروری ہے۔ حوالہ دیتے ہوئے تحقیق کی بھی ضرورت ہے کہ دراصل تحریر کس کی ہے، ہم آگے شیئر تو کر دیتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ کسی کی گئی چوری اور بولے گئے جھوٹ کو پھیلانے میں مفت کے سہولت کار تو نہیں بن رہے :p
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں