چوہدری تے کمہار

ابو حسن نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 21, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    358
    تحریر از خالد ایم خان
    کراچی پولیس میں روٹین کے تحت تبادلے ہوئے جس کی بدولت ایک تھانے میں ایک نئے ایس ایچ او کی تعیناتی ہوئی۔ ایس ایچ او جناب چوہدری منظور جٹ بڑے جلالی اور دہشت ناک طبیعت کے مالک افسر تھے، بڑے بڑے مجرموں کا ان کو دیکھ کر پتّہ پانی ہو جاتا تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک خاندانی جھگڑے کا کیس تھانے آگیا۔ گرما گرم ماحول میں دونوں فریقین پر رعب جھاڑتے انسپکٹر صاحب کمرے میں داخل ہونے والے ایک اجنبی کو دیکھ کر سکتے کی سی کیفیت میں آگئے۔
    انسپکٹر صاحب ہڑ بڑا کر "جناب تُسی؟" تو اجنبی نے بھی بے ساختہ "اوئے منظوریا توں؟"

    بس اتنا سُننا تھا کہ انسپکٹر نے فوراً اپنی گرجدار آواز میں اوئے! چلو باقی سارے باہر نکلو۔ سب کو باہر نکال کر انسپکٹر صاحب آکر اپنی کُرسی پر بیٹھ گیا۔

    پریشانی کے عالم میں اجنبی سے پوچھا "جناب چوہدری صاحب! تُسی ایتھے؟"

    چوہدری صاحب نے بھی حیرانگی کے عالم میں "اوئے منظوریا! مجھے ایک کام تھا اور مجھے میرے ایک جاننے والے نے کہا تھا کہ اس علاقے میں آپ کے علاقے کے ایک بہت وڈے اور بارعب قسم کے چوہدری بطور انسپکٹر تعینات ہوئے ہیں، بڑے جلالی انسان ہیں آپ ملیں آپ کا کام ہو جائے گا لیکن؟"

    اور پھر گھور کر انسپکٹر صاحب سے پوچھا کہ "اوئے منظوریا! توں کدوں دا چوہدری بن گیا ہیں؟" اور ساتھ ہی غُصے میں ایک مثال بھی چپکا دی، "ہوں ذات دی کور کلی تہ شہتیراں نوں جپھے،" چوہدری صاحب بڑ بڑاتے ہوئے "کی زمانہ آگیا ہے ہُن کمہار وی اپنے آپ نوں چوہدری اکھوان گے؟"

    انسپکٹر اچانک اپنی کرسی سے اُٹھ کر چوہدری کے پاس آیا اور گھگیاتے ہوئے چوہدری کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ گیا، "معافی چاہنا چوہدری صاحب! توانوں خدا دا واسطہ جے ایتھے کسی نوں ایہہ نہ پتہ چلے کہ میں کمہار آں، ایتھے میری بڑی عزت ہے، اج میری عزت رکھ لو، آپ کا کام بھی ہو گیا سمجھیں اور جہا ں آپ ٹھہرے ہیں میں خود قدم بوسی کے لیے حاضر ہو جاؤں گا، خدا کے واصطے چوہدری صاحب!"

    یہ چوہدری اور کمہار والا سلسلہ یہیں نہیں تھم جاتا ہمارے معاشرے میں جا بجا چوہدری اور کمہار پائے جاتے ہیں جیسے مثال کے طور پر خان صاب، کراچی اور لاہور تو کیا ملک کے اکثر علاقوں میں ہم نے دیکھا اور سُنا ہے کہ ہر دوسرا شخص کسی چائے والے پشتون کو کسی چپل گانٹھنے والے پشتون کو خان صاب کہہ کر پکار رہے ہوتے ہیں۔

    مجھے ان کے اس طرح پُکارنے پر کوئی گلہ نہیں ہے اور نہ ہی میں کسی ذات پات، اونچ نیچ یا بھید بھاؤ پر یقین رکھتا ہوں اور یقیناً میں آپ ﷺ کا آخری خُطبہ جو آپﷺ نے انسانیت کی بھلائی کی خاطر دیا تھا اچھی طرح یاد ہے جس میں آپ ﷺ کا فرمان مبارک تھا کہ دیکھو! تمام مسلمان برابر ہیں کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں ہے، کسی گورے کو کسی کالے پر کسی قسم کی کوئی برتری حاصل نہیں ہے اگر کسی کو کسی دوسرے مسلمان پر فوقیت ہو گی تو اللہ کے ہاں اُس کے تقویٰ کی بنیاد پر ہوگی۔

    باوجود اس کے کہ ہمیں سب معلوم ہے لیکن پھر بھی دنیا کے اندر کیوں کسی بھی انسان کو اُس کے حسب نسب پر پرکھا جاتا ہے؟
    ہم چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی کیوں اپنی بہنوں، بیٹیوں کی شادیاں اپنے جیسے یا خودسے برتر خاندانوں میں کروانا پسند کرتے ہیں؟
    سید ہو گی تو سید گھرانے ہی میں شادی کی جائے گی، جدون پٹھان ہوگی تو صرف جدون پٹھان گھرانوں ہی کو ترجیح دی جائے گی، بانٹوا میمن ہوگی تو صرف بانٹوا میمن گھرانے کے رشتے ہی قبول کیے جائیں گے؟
    معاملہ ایک دو برادریوں کا نہیں ہے پورے ملک کا یہی حال ہے۔ راجپوت، بٹ، شیخ، گُجر، ٹوانہ، گُھمن، آرائیں ہوں کہ اعوان سب اسی طریقہ کار کو فالو کرتے ہیں کیوں؟ ایسا کیوں ہے؟

    ذاتیں تو نائی، موچی اور مراثیوں کی بھی ہیں اور بڑی قوموں کے خدمت گزاروں کی بھی ہیں جن کو کہیں کامے کہا جاتا ہے تو کہیں پالے، ہیں تو سب انسان، اللہ کے بندے، اللہ کی مخلوق تو پھر کیوں ہم بعض موقعوں پر ذاتوں کو ٹٹولنے لگ جاتے ہیں؟

    اس لیے کہ ہم اپنی قوم پر تو اعتبار کرتے ہیں لیکن دوسری قوموں پر اعتبار کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے اور پھر ہم یہ بھی سمجھنے کو تیار نہیں کہ اچھے بُرے ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔

    اچھائی اور بُرائی کا تعلق کسی طور بھی قومیتوں سے نہیں جوڑنا چاہیے کیونکہ ایک موچی کے گھرانے میں بھی ایک اللہ کا ولی پیدا ہوسکتا ہے اور ایک راجپوت کے گھرانے میں بھی اللہ شیطان پیدا کرسکتا ہے۔ کسی نے میرے ایک بھائی سے ایک سوال کردیا کہ بھائی تم پٹھان ہو کہ مسلمان؟

    تو اُس نے بھی خوب جواب دیا کہ پہلے پٹھان کیونکہ میرا باپ پٹھان تھا اور پھر جب میرے باپ نے میرے کان میں اذان دی تو میں مسلمان ہو گیا۔ پٹھان ایک غیرت مند قوم ہے، پٹھان آن، بان اور شان کے لیے جیتا ہے، پٹھان اپنی عزت اور غیرت پر مرتا ہے اور پاکستان کے غیور پٹھانوں کی عزت وغیرت پاکستان ہی ہے جس کی حُرمت کی خاطر کرنل شیر خان اور لالک جان جیسے بہادر سپوتوں نے اپنے سینے تان کر دشمنوں سے داد شجاعت حاصل کی، دشمن بھی جن کی دلیری اور بہادری پر انگشت بدنداں رہ گئے۔ کبھی بھی اپنی ماں کا سودا اغیار کے ہاتھوں نہیں کریں گے، یہ دھرتی ہماری ماں ہے، اور اس دھرتی ماں کے تحفظ کے لیے اس ملک کے تمام پٹھان اور پشتون دنیا کو ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئیں گے۔

    پٹھان اور پشتون کے درمیان بھی بنیادی فرق قومیت ہی کا ہے، ہر پشتو بولنے والا پٹھان نہیں ہوتا۔ دنیا کا ہر پٹھان بنی اسرائیل قوم سے تعلق رکھتا ہے، ہر پٹھان کی نسبت اپنے آبائی خیل سے ہوتی ہے جو پُشت در پُشت بنی اسرائیل سے جا ملتی ہے جبکہ پشتون وہ ہیں جو ان علاقوں میں پٹھانوں کے ساتھ مستقل رہنے کے بعد ان کی زبان کو اڈاپٹ کرچکے ہوئے ہیں اپنی دیگر قومیتیں ہونے کے بعد پشتون کہلائے جاتے ہیں اور میں نے پہلے بھی کہا کہ اللہ کسی اعلیٰ نسل کے پٹھان کے ہاں بھی شیطان پیدا کرسکتا ہے اور کسی پشتین کے ہاں بھی اللہ کا ولی پیدا کرسکتا ہے اسی طرح میرا اللہ قادر ہے کہ کسی پٹھان کے گھر اللہ کا ولی پیدا کردے اور کسی پشتین کے ہاں منظور پشتین جیسا نمک حرام!


    اصل تحریر کا ربط
    خالد ایم خان
     
    Last edited: ‏اپریل 21, 2018
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,284
    ذات پات پر اچھی تحریر ہے بس کچھ تحقیق کی کمی رہ گئی!
    جیسے کہ:
    بچے کے کان میں اذان اور مسلمان ہونے کا تعلق دور دور تک نہیں ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں