حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت مرزا قادیانی لعین کی نظر میں

ابو حسن نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اپریل 24, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر صاحب شریعت پیغمبر ہیں۔ جیسے آپ کی نبوت کی زندگی معجزات سے پُر ہے ایسے ہی آپ کی ولادت بھی معجزہ ہے۔ کیونکہ آپ بن باپ پیدا ہوئے جس کا تفصیلی ذکر سورۃ مریم میں ہے۔ جبکہ مرزاقادیانی لعین نے نا صرف آپ کی ولادت بن باپ کا انکار کیا ہے بلکہ آپ کی ولادت کا بڑے گستاخانہ طریقہ سے استہزاء کیا ہے اور ایسے ہی آپ کی والدہ ماجدہ جناب مریم صدیقہ مطہرہ علیھا السلام کی پاکدامنی کا انکار کرتے ہوئے یہودیوں کے بھی کان کترے ہیں اور غلاظت کے کیڑے مرزاقادیانی لعین نے جو غلاظت کہہی وہ مندرجہ ذیل سطور میں آپ ملاحظہ فرمائیں ، ہمارے بعض مسلمانوں کے نزدیک قادیانی لعنتی ہمارے بھائی ہیں تو گزارش ہے کہ یہ اخوت و بھائی چارہ آپکو مبارک ہم تو اس خبیث مرزاقادیانی لعین اور اس کے پیروکاروں سے بیزار ہیں

    قادیانی لعنتی عقیدے کے مطابق حضرت مریم علیھاالسلام کے یوسف نجار نامی شخص سے تعلقات تھے۔ جس کے نتیجے میں حضرت مریم علیھا السلام کو عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ہوا۔ پھر بدنامی سے بچنے کے لیے حضرت مریم کا یوسف نجار سے نکاح کروادیاگیا۔ مرزاقادیانی، حضرت مریم کا یوسف نجار کے ساتھ قبل نکاح پھرنے کے متعلق لکھتاہے کہ حضرت مریم کا اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔
    (خزائن ج 14 ص300)

    جب چھ سات ماہ کا حمل نمایاں ہوگیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نجار سے نکاح کردیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ بعد مریم کا بیٹا ہوا وہی عیسیٰ یایسوع کے نام سے موسوم ہوا۔
    (خزائن ج 20 ص355)

    مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھربزرگوں کے نہایت اصرار پر بوجہ حمل کے نکاح کرلیا۔
    (خزائن ج19ص18)

    اور قادیانی لعنتی عقیدے کے مطابق حضرت مریم اور یوسف نجار کے نکاح سے مزید اولاد بھی پیدا ہوئی ہے مرزا قادیانی لکھتاہے کہ:

    یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔
    (خزائن ج19 ص18)

    وہ مسیح ہرطرح عاجزہی عاجز تھا۔ مخزج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے، تولدپاکر مدت تک بھوک، پیاس، درد اور بیماری کا دکھ اُٹھاتارہا۔
    (خزائن ج 1 ص 441,442)

    جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہاکیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قوی سے محروم ہونے پر دلالت کرتاہے۔
    (خزائن ج 20 ص356)

    مسیح علیہ السلام کا معجزہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔
    (خزائن ج3ص254)

    مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے، جو مسیح کی ولادت سے قبل بھی مطہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار تمام محذام، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے۔
    (خزائن ج3ص263)

    دوسری جگہ لکھتاہے کہ

    اسی تالاب نے فیصلہ دیاکہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہرہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھوں میں سوائے مکروفریب کے اورکچھ نہیں تھا۔
    (خزائن ج11 ص 291)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,208
    انا للہ و انا الیہ راجعون، مرزا لعین سے اللہ کی پناہ! وہ خود گندگی کا کیڑا تھا جسے اللہ نے اسی گندگی میں واصل جہنم کیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں