حقیقی سکون و اطمینان ایمانی زندگی سے وابستہ ہے

حافظ عبد الکریم نے 'متفرقات' میں ‏اپریل 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    484
    حقیقی سکون و اطمینان ایمانی زندگی سے وابستہ ہے

    تحریر:حافظ عبد الرشید عمری

    نہ جس میں سوز ایمانی،نہ جس میں روح قرآنی
    مسلمانوں کو ایسی زندگی راس آ نہیں سکتی
    (ماہر القادری)


    جو مسلمان اپنے مقصد زندگی کو فراموش کرتے ہوئے اور اخروی زندگی سے غافل ہوتے ہوئے اور چند روزہ فانی دنیا کی لذت کو ترجیح دیتے ہوئے بد عملی کی زندگی گزارتا ہے
    ایسے بے مقصد اور بد عمل مسلمان کو دنیوی زندگی کی بےشمار و بیش بہا نعمتوں کے حصول کے بعد بھی سکون و اطمینان کا ایک لمحہ بھی نصیب نہیں ہوتا ہے کیونکہ حقیقی سکون و اطمینان تو ایمانی زندگی میں پنہاں ہے
    اللہ تعالٰی نے فرمایا:
    الذين آمنوا و تطمئن قلوبهم بذكر الله ألا بذكر الله تطمئن القلوب ( الرعد: ٢٨ )
    جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں یاد رکھو اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔

    اللہ کے ذکر سے مراد اس کی توحید کا بیان ہے جس سے مشرکوں کے دلوں میں انقباض(سکڑاؤ) پیدا ہو جاتا ہے
    یا اللہ کی عبادت،تلاوت قرآن، نوافل اور دعا و مناجات ہے۔
    جو اہل ایمان کے دلوں کی خوراک ہے یا اللہ کے احکام و فرامین کی اطاعت( فرمانبرداری ) اور بجا آوری ہے جس کے بغیر اہل ایمان و تقوی بے قرار رہتے ہیں۔
    (تفسیر احسن البیان)

    آج کل اکثر مسلمان اللہ کے ذکر سے غافل ہو کر سکون و اطمینان کے حصول کے لئے شرک، بدعت اور معصیت کا دامن تھام رہے ہیں، حالانکہ سکون و اطمینان تو ایمانی زندگی(توحید کے تقاضوں کی بجاآوری ،شرک و بدعت اور معصیت سے دوری)میں پوشیدہ ہے۔

    میسر ہو اگر ایمان کامل
    کہاں کی الجھنیں کیسے مسائل
    (حفیظ میرٹھی)


    آج کے پر فتن دور میں تمام مسلمانوں کے لئے یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کا حقیقی جائزہ لینے کی کوشش کریں
    تاکہ تمام مسلمان عبادت وتلاوت کا اہتمام کرتے ہوئے فرائض و نوافل کی پابندی کرتے ہوئے ذکر و اذکار اور دعا ومناجات کو زندگی کا جزو لاینفک (لازمی حصہ) بناتے ہوئے توبہ و استغفار کی صفت سے متصف ہوتے ہوئے صدقہ و خیرات کی عادت ڈالتے ہوئے تعلیم و تعلم اور دعوت و تبلیغ کے فرض منصبی کو انجام دیتے ہوئے غرض ہرچھوٹی بڑی ایمانی صفت اور خوبی کو اپناتے ہوئے اپنے برحق حقیقی معبود رب العالمین سے اپنے گہرے اور مضبوط ایمانی تعلق کے دعوے میں سچے ثابت ہو سکیں۔

    ذوق ایثار و عمل کا نہ تجھے ہے نہ مجھے
    زیست اس طرح کی زیبا نہ تجھے ہے نہ مجھے


    اللہ تعالٰی دونوں جہاں میں ایمانی صفات کے حامل اپنے محبوب بندوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,089
    جزاک اللہ خیرا، شیئرنگ کا شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ہدایت اللہ

    ہدایت اللہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 5, 2017
    پیغامات:
    37
    ماشاءاللہ مضمون بہت خوب ہے
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    150
    بہت عمدہ شیئرنگ ہے
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    484
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں