احمد آباد، سورت، نڈیاڈ ، سامرود اور بالاسنور وغیرہ کا دعوتی دورہ

مقبول احمد سلفی نے 'دیس پردیس' میں ‏اپریل 30, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    611
    امسال سعودی عرب سے چار سال کے بعد ہندوستان لوٹنے کا موقع ملا، جب اپنی مٹی پر پہنچا تو پہلے سے ہی بہی خواہوں کے پرخلوص پیغامات آنے لگے تھے۔ کثیر تعداد میں جماعتی احباب نے اپنے اپنے یہاں آنے کے دعوتی پیغامات بھیجے مگر میرے لئے مشکل یہ تھی کہ اتنے سالوں میں میرے بہت سارے سرکاری اور زمینی مسائل یکجا ہو جانے کی وجہ سے زیادہ جگہ جانے کا امکان نہیں تھا پھر بھی جہاں جہاں پہنچ سکا یہ اللہ کی توفیق سے ممکن ہو سکا ۔ ابھی بھی گزارشات آرہی ہیں جبکہ میرا خلیجی سفر قریب ہے اور کاغذی کارروائیاں باقی ہیں۔
    حال ہی میں گجرات کا دو روزہ کامیاب دعوتی دورہ رہا جو برادم فیاض صاحب طائف کے توسط سے ممکن ہوا ۔
    26/اپریل کو پٹنہ سے دہلی اور دہلی سے احمدآباد کا بذریعہ جہاز سفر ہوا ۔ نڈیاڈ کی نوجوان ٹیم احمد آباد ایر پورٹ سے نڈیاڈ لی گئی۔ رات کے ایک بج چکے تھے رات آرام کیا اور اگلی صبح 27/ مئی کو ظہر کے وقت جمعہ کا خطبہ دیا۔ اس میں نڈیاڈ کے قرب و جوار سے بڑی تعداد میں عورت و مرد نے شرکت کی۔ پھر جمعہ کو مغرب سے پہلے پہلے تک نڈیاڈ سے تاریخی سرزمین سامرود پر اس دورہ کے روح رواں اور فعال و متحرک نوجوان عابد صاحب کی معیت میں پہنچ چکے تھے۔ وہاں پر شیخ عبدالوہاب مدنی حفظہ اللہ نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ والہانہ استقبال کیا اور سامرود کی بڑی عظیم علمی شخصیت مولانا عبدالجلیل سامرودی رحمہ اللہ کی زندگی اور میاں صاحب کے گجراتی شاگردوں سے متعارف کرایا۔ بروقت مدنی صاحب مولانا رحمہ اللہ کے رسائل و مسائل کو ترتیب دے دے کر شائع کررہے ہیں۔ مدنی صاحب نے مولانا کی تاریخی مسجد دکھائی اور گاوں کے اپنے مدرسے میں بچوں کے درمیاں چند منٹ نصیحت کرنے کا موقع عنایت کیا۔ اللہ تعالی اس سرزمین کے علماء کی حفاظت فرمائے۔
    مغرب کے وقت پھر سورت کی جانب ہمارا قافلہ رواں دواں ہوا، عشاء کے قریب سگرام(سورت) پہنچ گئے ۔ وہاں عشاء کی نماز کے بعد سوشل میڈیا اور ہم کے عنوان سے خاکسار کا خطاب ہوا، خطاب کے فورا بعد سورت کے غیور نوجوان بڑی تعداد میں حلقہ بگوش ہوئے اور الفت و محبت سے دامن دل لبریز کردیا۔ سورت سے واپس ہوکر رہائش گاہ تک پہنچتے پہنچتے رات کے تین بج گئے۔ رات میں آرام کرکے پھر ۲۸ اپریل کا شیڈول دیکھا ، آج کی دعوتی فہرست بڑی لمبی تھی۔ گیارہ بجے نڈیاڈ میں جامعہ رحمانیہ کے طلبہ کو نصیحت کیا ، اس کے بعد اس جامعہ کے ذمہ داران اور تمام اساتذہ کرام کے ساتھ درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ کے حوالے سے میٹنگ ہوئی جو اساتذہ کے لئے بڑی معلوماتی ثابت ہوئی۔ ظہر کی نماز کے بعد پھر احمد آباد کی طرف نڈیاڈ کے علماء کے ساتھ جانا ہوا جہاں اس جگہ کے تمام ائمہ و خطباء پہلے سے جمع ہوچکے تھے۔ ان سب کے ساتھ تبلیغ کے انداز، خطابت کے طریق کار اور امت کے سلگتے مسائل پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ اس اہم اجتماع کے لئے تمام ائمہ و خطباء اور اساتذہ میری جانب سے قابل مبارکباد ہیں۔
    اس اجتماع کے فورا بعد گودھرا کے راستے سے ہوتے ہوئے بالاسنور (ڈائنا سور کے آثاربدآمد ہونے کی جگہ)پہنچنے کا شرف حاصل ہوا جہاں بچے ، جوان اور بوڑھے سبھی ہمارے استقبال میں گلہائے عقیدت لئے منتظر تھے۔ جیسے ہی خاکسار کی پہنچ ہوتی ہے ایک باہمت بزرگ شخصیت نے نا چیز کو کشمیری دوشالہ اوڑھا کر پرجوش استقبال کیا ۔ اللہ ان سب کا حوصلہ قائم رکھے۔ یہاں پر اہل حدیث معمولی تعداد میں ہیں، ان کی مقدس زمین بریلویوں نے ہڑپ رکھی ہے، گاہے بگاہے دھمکی بھی ملتی ہے، بندوق سے ڈرایا جاتا ہے ، سماجی بائیکاٹ کیا گیا ہے، کئی دفعہ گاوں میں جنازہ بھی دفن نہیں کرنے دیا دوسرے گاوں میں جاکر جنازے کی تدفین کی گئی،اہل حدیث زمین پر ہندوں کو مندر بنانے کا حکم دیا گیا۔ یہ سب کچھ ہونے کی باوجود بالا سنور والوں میں ہمت و حوصلہ اپنی مثال آپ دیکھا ۔ اللہ ان سب حوصلہ مندوں کی حفاظت فرمائے اور اہل شرک و بدعت کو ہدایت دے کر اسلام کو تقویت پہنچائے۔
    ان جوانمردوں کو صبروثبات کی مختصر تلقین کی ۔رخصت ہوتے وقت سب کی زبانیں رحمان سے دعا کرنے میں مصروف تھیں۔
    وہاں سے رخصت ہوکر مختصر طور پر آرام کی غرض سے رہائش گاہ پر مجھے لے جایا گیا۔ آرام کی بہرکیف ضرورت تھی کیونکہ تقریبا دن بھر کی تگ و دو سے چور چور ہو گیا تھا۔ ابھی ایک بڑا پروگرام باقی تھا جو رات دس بجے سے شروع ہونا تھا اس لئے مختصر آرام کرکے دوبارہ آخری پروگرام میں شرکت کے لئے پہنچ گیا۔ میدان میں ایک جانب دور تک با پردہ خواتین کا ہجوم اور دوسری جانب مردوں کی بڑی تعداد نظر آئی۔ یہاں پر گھنٹہ بھر علماء اور عوام کی ذمہ داریاں کے عنوان پر لوگوں کو خطاب کیا ۔ اس آخری پروگرام میں ممبئ سے شیخ شفیق الرحمن سنابلی صاحب بھی شریک ہوئے اور ان کا بھی خطاب ہوا۔ پھر ہم دونوں کو کھانا کھلا کر بڑی تکریم کے ساتھ نوجوانوں نے احمد آباد ایرپورٹ تک پہنچا دیا اور اگلے دن اتوار کو خاکسار غریب خانہ پہنچ گیا۔
    گجرات کا یہ دورہ میرے لئے کافی اہمیت رکھتا ہے اس دورے میں چند اہم باتیں جو دیکھنے اور غور کرنے کو ملیں انہیں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ممکن ہے کسی کے لئے اس میں کوئی افادیت کا پہلو نظر آجائے۔
    * دعوت نام ہے ذوق و شوق کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی اور اپنے عملی کردار سے عوام و خواص پر اثر چھوڑنے کا۔
    * مطالبات سے پرے داعی کے گفتار میں اخلاص ، کردار میں سادگی اور دعوت کی خاطر مشکلات پر صبر حق کی اشاعت ، اثر انگیزی اور قبول حق کا پیش خیمہ ہے۔
    * نہ دعوت دینے والوں کی کمی ہے اور نہ ہی دعوت قبول کرنے والے کم ہیں مگر بڑے بڑے اجلاس اور خرچیلے پروگراموں سے بھی افادیت کی فیصد آخر کم کیوں ہے؟ ناقص رائے میں شاید مذکورہ بالا دونوں نکتوں میں کہیں نہ کہیں ہم سے بھول ہو جاتی ہے۔
    * اکثر و بیشتر ذمہ داروں کا رجحان بڑے اجلاس کا انعقاد ہوتا ہے شاید سامعین کی کثرت سے زیادہ فائدہ کی امید کی جاتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر بڑے پروگرام کی وجہ سے فیلڈ ورک چھوٹ جانے سے بڑے بڑے مجمع پر بھی بڑے اجلاس اور بڑے بڑے مقررین کا اثر نہیں ہو پاتا۔ میں کانفرنس یا سیمینار کا مخالف نہیں ہوں مگر ایک بات کی جانب اہل جماعت کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں کہ ایک یا چند علماء کے ذریعہ دعوت کے لئے چھوٹے پیمانے پر بھی گاوں گاوں فیلڈ ورک کیا جائے جس کے بے شمار اور لامتناہی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    * ایک ایسے نوجوان سے ملاقات ہوئی جو اکیلے جماعت لگتا ہے۔ دعوت کا جذبہ، علماء کی قدر اور دین کی اشاعت کے لئے مخلص ہوکر کوشاں ہے ۔ ایسے ذوق و شوق سے پر نوجوان کسی کسی بستی میں بھی پیدا ہو جائے تو وہ اکیلے علماء کے ساتھ مل کر دوسری جگہوں کی دعوتی خلا بھی پر کر دیں گا۔
    * سامرود کے سفر سے اپنے من میں اس سے وابستہ علمی شخصیت کا اثر پیدا ہوتا ہے ، گاوں چھوٹا ہے مگر ایک شخصیت ہی اس گاوں اور اہل گاوں کو زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے۔ کاش ہم بھی ایسے ہی اثر چھوڑیں تو ہر گاوں میں ہمارے باقیات ملیں گے۔
    * ایک بات جو ہر جگہ دیکھنے کو ملی وہ میری عمر سے متعلق تھی۔ جب گاوں کے بزرگ مجھے دیکھتے تو پوچھتے کتنی عمر ہے تو میں چوتینس سال بتلاتا۔ اس کے بعد حیرت کی انتہا نہ رہتی کہ یہ کم عمری اور یہ مقام ؟ میں کہتا کہ ایسا نہیں ہے جیسا آپ سوچتے ہیں تاہم تقریر کر لیتا ہوں اور دوچار حرف لکھ لیتا ہوں یہ اللہ کے بعد والدین اور جامعہ سلفیہ کا احساس ہے۔
    باتیں تو ہہت ساری ہیں مگر عدیم الفرصتی کے سبب ترک کر رہا ہوں۔
    آخر میں عابد صاحب(نڈیاڈ والے) کا بیحد ممنون ہوں جنہوں نے میری آمدورفت اور دعوت و تبلیغ کا بہتر سے بہتر اور نرالہ انتظام کیا۔ اللہ تعالی ان تمام بھائیوں کو جنہوں گجرات دورے پر خاکسار کا تعاون کیا ان سب کی خیر و بھلائی کے لئے اللہ سے دعا خصوصی دعا کرتا ہوں ۔ نام بہت سارے ہیں مگر معذرت کے ساتھ خوف طوالت سے چھوڑ رہا ہوں۔

    خاکسار
    مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوہ سنٹر طائف(سعودی عرب)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,130
    ماشاء اللہ۔ سفر کی روداد پڑھ کر خوشی ہوئ۔ اللہ تعالی دین کی تبلیغ اور ترویج کے لیے کی گئ آپ کی ہر کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرماۓ۔
    جی شیخ صاحب درست فرمایا۔ ایک تو چھوٹے پیمانے اور تبلیغ اور دوسری اہم بات دعوت دین عام لوگوں تک پہنچانے میں تسلسل کی بھی ضرورت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,239
    ماشاء اللہ، اللہ آپ کی مساعی جمیلہ قبول فرمائے اور دنیا و آخرت میں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے، آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,154
    ماشاء اللہ. سفر کی کچھ نا کچھ تفصیل واٹساپ گروپس میں ملتی رہی ہیں. بارک اللہ فیک و نفع بک.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں