تصوف اور علمائے امت ( چونکا دینے والی تحریر )

ابو حسن نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏مئی 1, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353

    تحریر کو شئیر کرنے کا مقصد آپ لوگوں کی معلومات میں اضافہ کرنا ہے کہ کیسے ان لوگوں نے بعض اسلاف کو سیدھا سیدھا تصوف اور صوفیت کے سلاسل سے جوڑ دیا اس تحریر کو پڑھ کر مجھے 20 سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آگیا

    لاہور میں تھا اور ہم چند دوست کھڑے دین کے کسی موضوع پر بات کررہے تھے تو ان میں کچھ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے اور اسی گفتگو میں ایک لڑکا آن ٹپکا جو نیا نیا " دعوت اسلامی " سے جڑا تھا اب اس نے بھی اپنا حصہ اس گفتگو میں ڈالنا چاہا اور اس دوران میں نے کئی بار اسے تنبیہ کی مگر وہ باز نہ آیا اوربڑھ بڑھ کر باتیں کرنے لگا

    میں نے کہا تم بہت باتیں کررہے ہو مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہ ﷺ نعوذ باللہ " بریلوی ، دیوبندی یا وہابی " تھے ؟
    بولا ! میاں جی مجھے اچھے سے علم ہے اور یہ نہ سمجھو میں کچھ جانتا نہیں رسول اللہ ﷺ نعوذ باللہ" بریلوی " تھے

    بریلوی دوستوں کے تو منہ کھلے کے کھلے رہ گئے

    میں نے کہا بھائی ہم سب کو تیری علمی قابلیت کا بہت اچھے سے اندازہ ہوگیا ہے

    تو محترمین یہ تحریر بھی کچھ اسی انداز کی ہے اور ہر بدعتی جماعت نے یہی کوشش کی ہے کہ اسلاف کو اپنی جماعت کے ساتھ جوڑنے اور اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کیلئے احادیث اور قرآن کے ترجمہ کو توڑ مروڑ کر اپنے انداز میں پیش کیا (راقم ابو حسن)

    آئیے پڑھیے اور اپنا سر دھنیے

    -------------------------------------------------------
    مولانا عنایت اللہ عینی
    متخصص مرکز اہل السنت والجماعت

    تصوف اسلام کی روح ہے اس کے ذریعے انسان پکا مومن اور دین اسلام کا عملی مسلمان بنتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس آیت مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔
    ترجمہ : اے ایمان والو !اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ سورۃ التوبۃ 119
    یہ حکم اس لیے فرمایا گیا کہ ایمان کی تازگی اور پرہیزگاری تب ہی آتی ہے جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہو جائے اور یہ معرفتِ خداوندی اولیاء کرام کی صحبت کے بغیر بہت مشکل ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر امت مسلمہ کے جلیل القدر علماء نے صوفیاء کرام رحمہم اللہ کی صحبتوں میں آکر اس گوہر نایاب کو حاصل کیا۔

    ذیل میں چند جلیل القدر علماء کے تذکرہ کیا جاتا ہے جو سلطنت علم کے بادشاہ ہونے کے باوجودان گڈری نشنیوں کے غلام بن کرمعرفت اورقرب خداوندی حاصل کرتے رہے۔

    مثلاً امام ابن ندیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”الفہرست“میں اسماء العباد والزہاد والمتصوفہ عنوان کے تحت درج ذیل جلیل القدر علماء کرام کی فہرست نقل فرمائی ہے۔
    امام حسن بصری رحمہ اللہ
    امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ
    امام ھرم بن حیان رحمہ اللہ
    امام علقمۃ الاسود رحمہ اللہ
    امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ
    امام شعبی رحمہ اللہ
    امام مالک بن دیناررحمہ اللہ
    امام محمد بن واسع رحمہ اللہ
    امام عطاء السلمی رحمہ اللہ
    امام مالک بن انس رحمہ اللہ
    امام سفیان ثوری رحمہ اللہ
    امام اوزاعی رحمہ اللہ
    امام ثابت بنانی رحمہ اللہ
    امام ابراھیم تیمی رحمہ اللہ
    امام سلیمان تیمی رحمہ اللہ
    امام فرقد السیخی رحمہ اللہ
    امام ابن السماک رحمہ اللہ
    امام عتبۃ الغلام رحمہ اللہ
    امام صالح المری رحمہ اللہ
    امام ابراھیم بن ادھم رحمہ اللہ
    امام عبدالواحد بن زید رحمہ اللہ
    امام ابن المنکدر رحمہ اللہ
    امام محمد بن حبیب الفارسی رحمہ اللہ
    امام ربیع بن خثیم رحمہ اللہ
    امام ابو معاویۃ الاسود رحمہ اللہ
    امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ
    امام یوسف بن اسباط رحمہ اللہ
    امام ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ
    امام ابن ابی الحواری رحمہ اللہ
    امام داؤد طائی رحمہ اللہ
    امام فتح موصلی رحمہ اللہ
    امام شیبان راعی رحمہ اللہ
    امام مطاف بن عمران رحمہ اللہ
    امام فضیل بن عیاض رحمہ اللہ
    (کتاب الفہرست ص235 الفن الخامس ،من المقالۃ الخامسۃ )

    ان میں حضرت امام حسن بصری نے براہ راست حضرت سیدنا علی المرتضیٰ سے بیعت کر کے ان کی صحبت اختیار کر رکھی تھی۔
    ( الحاوی للفتاویٰ ص511 لامام سیوطی)

    یہاں تک کہ صوفیاء کرام کے تین سلسلے:قادریہ ،چشتیہ اور سہروردیہ کی بنیاد تواتر کے ساتھ انہی پر پہنچتی ہے۔

    امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ……… نے بھی باوجود اپنی تبحر علمی کے حضرت امام جعفر صادق کی دو سال صحبت اٹھائی۔
    (مراۃ الاولیاء ص 24)
    امام صاحب رحمہ اللہ ہی کا فرمان ہے کہ لولا السنتان لھلک النعمان اگر ان کی صحبت کے دوسال میسر نہ ہوتے تو نعمان (ابو حنیفہ ) ہلاک ہو جاتا۔

    نوٹ: یاد رہے امام جعفر صادق سلسلہ صدیقیہ نقشبندیہ کے ائمہ کرام میں سے ہیں انہی کی وجہ سے سیدنا امام اعظم پر بھی صفات صدیقیت غالب تھی۔
    (مقدمہ مجموعہ الفقہ الاکبر ص16)

    اس کو تصوف کی اصطلاح میں نسبت شیخ کہتے ہیں۔
    امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ……… جیسا جلیل القدر عالم اس کو تسلیم کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    لولا ابو ھاشم الصوفی ما عرفت دقیق الریا۔
    (عوارف المعارف ص 66 شیخ سہروردی )

    امام مالک رحمہ اللہ ……… تو یوں قائل ہیں :
    من تفقہ ولم یتصوف فقد تفسق ومن تصوف ولم یتفقہ فقد تزندق ،ومن جمع بینھما فقد تحقق
    (قواعد التصوف لشیخ احمدزروق 2/2 )

    ترجمہ : جو شخص فقہ حاصل کرے اور تصوف حاصل نہ کرے تو وہ فاسق ہے اور جو تصوف حاصل کرے لیکن فقہ حاصل نہ کرے تو وہ زندیق ہے۔ ہاں جس نے دونوں کو جمع کر لیا تو وہ محقق بنا۔

    امام شافعی رحمہ اللہ ……… بھی فرماتے ہیں کہ آدمی کو چاہیے کہ اہل صدق ووفا ( صوفیا کرام ) کی صحبت اختیار کرے۔
    (کتاب الانتقاء لامام ابن عبد البر المالکی ص157)

    خود امام شافعی رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر فقیہ امام نے بھی حضرت شیخ شیبان راعی رحمہ اللہ کی صحبت اختیار کر رکھی تھی۔
    (کشف المحجوب ص149لشیخ ہجویری)

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ……… بھی مسائل تصوف حضرت بشر حافی سے حل کراتے تھے۔
    (المستطرف ص156 لامام ابشیہی وکشف المحجوب لشیخ ہجویری رح ص 149 )

    امام داؤد طائی ……… تلمیذ امام اعظم رحمہ اللہ؛ حضرت شیخ ابن حبیب فارسی کے مرید تھے۔
    (کشف المحجوب ص 142)

    امام ابو محمد جعفر الخلدی……… شیخ جنید بغدادی کے مرید وتربیت یافتہ تھے۔
    (المستطرف لامام ابشیہی ص 154 )

    امام عمر طرینی المالکی رحمہ اللہ ……… بھی سید الطائفہ کے مرید تھے۔
    (ایضاً ص 157)

    امام احمد بن عبدالجبار فرماتے ہیں کہ میرے والد امام عبدالجبار حضرت شیخ ابو نصر فتح بن شحرف کی صحبت میں تین سال رہے۔
    (ایضاً ص151 )

    امام ابن الحسین رازی ………حضرت ذوالنون مصری اور ابو علی روز باری کی صحبت میں بیٹھے تھے۔
    (ایضاً ص 163 )

    امام ابن ابی دنیا……… بھی پکے صوفی تھے۔
    (کتاب الفہرست لابن الندیم ص 236 )

    امام ابو الحسن علی بن محمد المصری ……… بھی تصوف سے وابستہ تھے۔
    (ایضاً ص 237 )

    امام مسلم کے شاگرد اور نسخہ مسلم کے جامع وکاتب امام ابو اسحاق ابراھیم بن محمد بن سفیان نیشاپوری رحمہ اللہ،امام ایوب بن حسن الزاہد الفقیہ الحنفی رحمہ اللہ کے مرید تھے۔
    (مقدمۃ المنھاج علیٰ شرح صحیح مسلم لامام نووی رح 1/17 )

    امام عبدالغفار ابو الحسین الفارسی………امام ابو احمد محمد بن عیسیٰ الجلودی کے مرید تھے۔ جن کے بارے میں امام حاکم فرماتے ہیں۔
    ھذا الجلودی شیخا صالحا من کبار عباد الصوفیۃ صحب اکابر المشائخ من اہل الحقائق۔
    (مقدمہ منھاج علیٰ مسلم لامام نووی 1/17 )

    امام حاکم رحمہ اللہ……… خود بھی امام ابو بکر ضبی رحمہ اللہ کے مرید تھے اور ساتھ ساتھ ساتھ شیخ ابو عمرو بن نجید، ابو الحسن بو شفجی، جعفر بن الخلدی ، ابو عثمان مغربی رحمہم اللہ کی بھی صحبتیں اٹھائیں تھی۔
    (مقدمہ حدیث النبوی وعلومہ الدکتور محمودمطرجی ص 89)

    امام عبد الغفار سے نقل ہے کہ امام حاکم کا گھر بیت الصلاح والورع تھا (خانقاہ) تھی۔
    (ایضاً ص 88)

    امام بیہقی رحمہ اللہ ……… امام احمد بن محمد خلیل الصوفی رحمہ اللہ کی صحبت میں بیٹھتے تھے بلکہ ان سے مسئلہ حیاۃ الانبیاء میں روایت بھی لی ہے۔
    ( حیات الانبیاء بعد وفاتہم ص 67)

    امام ابو الفضل مقدسی رحمہ اللہ……… تصوف کے سلسلہ میں سُلَمِیَّہ {نسبت شیخ ابو عبدالرحمٰن السلمی رحمہ اللہ } میں شیخ ابن مت کے مرید تھے۔ ایسے ہی محدث امام ابو بکر حازمی رحمہ ا للہ بھی پکے صوفی اور خلوت نشین بزرگ تھے۔
    (التعلیقات علی شروط الائمۃ الستۃ والخمسۃللامام کوثری ملحق بسنن ابن ماجہ ص 63)

    امام ابن عساکررحمہ اللہ ………امام عبدالغفار فارسی رحمہ اللہ کے مرید تھے۔
    (مقدمہ منہاج علی مسلم ص 1/16)

    شارح مسلم امام نووی رحمہ اللہ……… شیخ ابو اسحاق رحمہ اللہ کے صحبت یافتہ تھے۔
    (مقدمۃ المنہاج شرح صحیح مسلم ج 1 ص 17)

    امام ابن عبدالبر مالکی رحمہ اللہ………امام یحیٰ بن مجاہد فزاری رحمہ اللہ کی صحبت یافتہ اور مرید تھے وہ خود بھی فقیہ تھے لیکن ان پر تصوف کا غلبہ تھا۔
    (تاریخ ابن الفرضی )

    امام ابن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ ……… حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے مرید تھے ان کی وفات بعد امام ابن جوزی رحمہ اللہ کے صحبت میں آ گئے۔
    (مختصر طبقات الحنابلہ ص145)

    امام کمال الدین دمیری رحمہ اللہ ……… بھی پکے صوفی تھے امام مقریزی مالکی رحمہ اللہ ان ہی کے مرید تھے۔
    (تعلیقات علی حیاۃ ا لحیوان ج1ص25)

    خطیب بغدادی رحمہ اللہ……… نے تصوف کی دو کتابیں بھی تالیف کی ہیں۔آپ کی خواہش تھی کہ اللہ جل جلا لہ حضرت بشر حافی رحمہ اللہ کے جوار رحمت میں تدفین عطا فرمائیں ، چنانچہ ایساہی ہوا۔
    (الاحتجاج بالشافعی ص10للامام خطیب بغدادی)

    علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ……… بھی تصوف کے قائل تھے بلکہ بذات خود سلسلہ قادریہ سے منسلک تھے اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے بہت متاثر تھے۔
    (آثار الاحسان ازعلامہ خالد محمود )

    آپ صوفیاء میں شیخ احمد رفاعی کے بھی بڑے مداح تھے۔
    (امت کے محسنین ص 170)

    بلکہ آپ کی تدفین بھی مقابر صوفیہ ہوئی۔
    (امت کے محسنین ص 176)

    سید سند شریف جرجانی رحمہ اللہ……… خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی رحمہ اللہ کے خلیفہ ، خواجہ علاؤ الدین عطار البخاری رحمہ اللہ کے مرید تھے۔
    (الفوائد البہیہ ص 130 )

    علامہ ذھبی رحمہ اللہ……… شیخ ضیاء الدین عیسیٰ بن عیسیٰ انصاری رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز تھے۔
    (تعلیقات علی الرفع والتکمیل لشیخ ابو غدہ ص 312)

    امام بدرالدین عینی رحمہ اللہ ……… باوجود ایک عظیم مفسر ، محدث ،فقیہ ، اصولی ، ناقد، مناظر، ماہر لغت، قاری ،امام الجرح والتعدیل ہونے کے ساتھ ساتھ پکے صوفی بھی تھے ، بلکہ آپ کوبعض علماء نے طبقات صوفیاء حنفیہ میں شمار کیا ہے۔
    ( آثار الاحسان )

    امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ ……… بھی پکے صوفی تھے آپ خانقاہ بیریسیہ میں معتکف ہو کر خلوت نشین ہو گئے تھے۔
    ( تعلیقات علی تاریخ الخلفاء ص 8)

    علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ……… بھی پکے صوفی تھے۔
    (فتاویٰ حدیثیہ ص 8)

    محدث وقت ملا علی قاری رحمہ اللہ……… بھی صوفی تھے۔
    (تعلیقات علی الموضو عات الکبریٰ ص 3)

    مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کےہمعصر عظیم محدث شیخ عبد الحق محدث دھلوی رحمہ اللہ بھی صوفی تھے،آپ شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ سے بہت متاثر تھے۔
    ( اخبار الاخیار ص 699)

    شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ……… اور ان کےفرزند سارے کے سارے پکے صوفی تھے ان کاتصوف سے وابستہ ہونا ان کی کتابوں سے ظاہر ہے۔

    قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ……… بھی شیخ مرزا مظہر جانِ جاناں رحمہ اللہ کے مرید تھے۔

    علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ……… بھی مجددیہ سلسلہ سے منسلک تھے۔

    علامہ ا بن عابدین شامی رحمہ اللہ……… شیخ خالد نقشبندی رحمہ اللہ کے مرید تھے اورتصوف سے منسلک تھے۔
    (نشر العرف لابن عابدین شامی ص 12)

    علامہ عبدالغنی نابلسی حنفی رحمہ اللہ ………بھی پکے صوفی تھے سلسلہ قادریہ میں آپ شیخ عبدالرزاق کیلانی رحمہ اللہ اور سلسلہ نقشبندی میں شیخ بلخی رحمہ اللہ کے مریدتھے آپ نے تصوف پر تین کتابیں لکھی ہیں،آپ پر سلسلہ قادریہ بہت غالب تھا

    امام زاہد الکوثری رحمہ اللہ………؛ شیخ ضیاء الدین کمشخوانی رحمہ اللہ کے مرید خاص تھے۔
    اور علماء دیوبندسب کے سب اہل تصوف ہیں ، تصوف کو ماننے والے ہیں بلکہ اس کے داعی بھی ہیں۔
    (المہند علی المفندص13 )


    تحریر کا ربط
     
    Last edited: ‏مئی 2, 2018
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں