شب برات کی حقیقت

صادق تیمی نے 'ماہِ شعبان المعظم' میں ‏مئی 1, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صادق تیمی

    صادق تیمی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 21, 2018
    پیغامات:
    26
    * شب برأت کی حقیقت *

    محمد صادق جمیل تیمی

    عوام میں اس رات کا اہتمام کرنے اور خاص طور سے اسی رات میں عبادات انجام دینے کے کئی اسباب ہیں، جس میں سب سے پہلی اور اہم وجہ ہے: بعض علماءکرام کا اس رات کا اہتمام کرنا اور ان کا اپنی کتابوں میں اس رات کو خصوصی فضیلت والا بتانا(دیکھئے قوت القلوب، ابوطالب مکی: ۱۱۶)
    دوسرا سبب ہے: رسول اللہاکی طرف منسوب ایسی بہت ساری احادیث کا وجود جن سے اس رات کی فضیلت، اس میں اعمال کی پیشی، عمر کی تحدید، رزق کی تقسیم، دعاءکی قبولیت اور خود رسول اللہا کااس رات عبادات کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے لہٰذا اس عظیم ثواب کے حصول اور سنت نبوی کی پیروی میں لوگ اس رات کااہتمام اور اس رات کی تعظیم میں بہت زیادہ مبالغہ کرتے ہیں.
    مزید برآں فرمان باری تعالیٰ: ”فیہا یفرق کل امر حکیم“ (الدخان:۴)[اسی رات میں ہر فیصلہ شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتا ہے]
    کی بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے.زمخشری کہتے ہیں: اس رات کے چار نام ہیں: اللیلة المبارکة، لیلة البراءة، لیلة الصک ولیلة الرحمة. اس رات کی پانچ خصوصیات بیان کی جاتی ہیں: ہرفیصلہ شدہ معاملہ کی تقسیم ، اس رات عبادت کی فضیلت، رحمت کا نزول، نبی اکرم کو اسی رات شفاعت سے نوازا گیا، ظاہر ی طور پر اس رات زمزم کا پانی بڑھ جاتا ہے(الکشاف للزمخشری: ۴۹۶۹ )
    جب کہ وہ مبارک رات جس میں ہر فیصلہ شدہ معاملہ کی بانٹ ہوتی ہے اس سے کون سی رات مرادہےاس سلسلے میں علماءکے دو اقوال ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ اس سے شب قدر مراد ہے یہی جمہور علماءکا کہنا ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، ضحاک، قتادہ، ابوزید اور حسن بصری رحمہم اللہ اور بہت سارے اسلاف سے یہی منقول ہے (دیکھئے: زاد المسیر لابن الجوزی: ۷۶۳۳، والبحر المحیط لابی حیان: ۸۲۳، واحکام القرآن لابن العربی: ۴:۹۶۱، وروح المعانی: ۵۳۰۱۱، والاساس فی التفسیر لسعید مولی: ۹۴۸۱۵، وتفسیر ابن کثیر: ۵۵۴۹)
    زیادہ تر مفسرین کا بھی ماننا ہے کہ مذکورہ رات سے مراد شب قدر ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ: ”انا انزلنا فی لیلة مبارکة، انا کنا منذرین فیہا یفرق کل امر حکیم“ (الدخان: ۴) [بے شک ہم نے اسے (قرآن) ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے، ہم نے بے شک (اس کے ذریعہ انسانوں کو) ڈرانا چاہا، اسی رات میں ہر فیصلہ شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتاہے] کی تفسیر میں علماءفرماتے ہیں کہ برکت والی رات سے مراد شب قدر ہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے رات کو مبہم رکھا ہے لیکن دوسری جگہ واضح کردیا ہے کہ جس برکت والی رات میں قرآن کریم اتارا گیا ہے وہ شب قدر ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”انا انزلناہ فی لیلة القدر“ (القدر: ۱) [بے شک ہم نے قرآن کو لیلة القدر یعنی خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے] اور یہ نزول رمضان المبارک کے مہینہ میں ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”شہررمضان الذی انزل فیہ القرآن “ (البقرة: ۵۸۱) [وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا] اور یہاں جس برکت والی رات کا جس میں ذکر ہوا ہے اس برکت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بیان میں صاف کردیا کہ :”لیلة القدر خیر من الف شہر“ (القدر: ۳)[ لیلة القدر” ہزار مہینوں سے بہتر ہے“] (اضواءالبیان :۷۹۱۳)
    اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مبارکة (برکت والی ) رات کا نام اس لئے دیا ہے کہ اللہ اس رات لوگوں کے درجات میں اضافہ فرماتا ہے، ان کی لغزشوں کو معاف کرتا ہے، قسمت کی تقسیم کرتا ہے، رحمت پھیلاتا ہے اور خیر عطا کرتا ہے (احکام القرآن لابن العربی:۴۰۹۶۱)
    ابن العربی کہتے ہیں: ”اکثر علماءکے نزدیک ”فیہا یفرق کل امر حکیم“ (الدخان: ۴) [ اسی رات میں ہر طے شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتاہے] سے مراد شب قدر ہے جبکہ کچھ علماءکا کہنا ہے کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے لیکن یہ بے بنیاد بات ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سچی اور فیصلہ کن کتاب قرآن مجید میں فرمایا:”شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن “ (البقرة: ۵۸۱) [وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن ناز ہوا] یہاں اللہ تعالیٰ نے قطعی طور پر یہ بتادیا کہ نزولِ قرآن رمضان میں ہوا اور پھر رات کے وقت کی تعیین کرتے ہوئے فرمایا: ”فی لیلة مبارکة“ (الدخان: ۳) [برکت والی رات میں] لہٰذا جس نے یہ گمان کیا کہ یہ دوسری کوئی رات ہے اس نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا] (احکام القرآن لابن العربی: ۴۰۹۶۱)
    ابن الجوزی کہتے ہیں: ”جو یہ کہتا ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے اس کی دلیل کچھ ضعیف آثار ہیں جو قابل اعتبار نہیں“ (زاد المسیر: ۷۶۳۳)
    شنقیطی کہتے ہیں: ”وہ احادیث جن کی بنا پر بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شعبان کی رات ہے، قرآن کی صراحت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ بے بنیادبھی ہیں، ان میں سے کسی کی سند درست نہیں، جیسا کہ ابن العربی اور دوسرے محققین کا کہنا ہے حیرت ہے اس مسلمان پر جو نصِ قرآن کی محالفت کرتاہے اور قرآن وصحیح حدیث سے کسی دلیل کے بغیر قرآن کی وضاحت سے انحراف کرتا ہے“ (اضواءالبیان: ۷۰۲۳)

    نصف شعبان کی رات کی فضیلت میں بعض علماءکے اقوال:
    اگر عوام اس رات کا اہتمام کرتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ اس رات میں نماز ،دعااور نیکی کے امور انجام دیتے ہیں، تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ علماءعظام سے اس رات کی فضیلت منقول ہے، اور اللہ کے رسول اللہاکی طرف منسوب ایسی ڈھیر ساری احادیث ہیں جن سے اس رات کی اہمیت کا پتہ چلتاہے نیز مذکورہ بالاسطور میں سلف کی ایک جماعت کا قول گزرچکا ہے کہ آیتِ کریمہ : ”فیہا یفرق کل امرحکیم“ (الدخان: ۴) [اسی رات ہر طے شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتا ہے] سے مراد نصف شعبان کی رات ہے، ذیل میں اس رات کی فضیلت اورعظمت کی بابت بعض علماءکے اقوال نقل کئے جاتے ہیں:
    امام احمد اور بعض حنابلہ سے منقول ہے کہ نصف شعبان کی رات فضیلت والی ہے (الفروع: ۳۸۱۱ وفیہ : ”لیلة النصف لہا فضیلة فی المنقول عن احمد، وجماعة من اصحابنا وغیرہم فی فضلہا اشیاءکثیرة مشہورة فی کتب الحدیث“)
    امام شافعی سے مروی ہے کہ پانچ راتوں میں خاص طور پر دعاءکی قبول کی جاتی ہے جن میں نصف شعبان کی رات بھی ہے (السنن الکبریٰ للبیہقی: ۳۱۱۳، وفیہ: قال الشافعی: وبلغنا انہ کان یقال ان الدعاءیستجاب فی خمس لیال: فی لیلة الجمعة، ولیلة الاضحی، ولیلة الفطر واول لیلة رجب ولیلة النصف من شعبان).
    ملاعلی القاری کہتے ہیں: اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نصف شعبان کی رات میں فرق (طے شدہ معاملہ کا بٹوارہ ) ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث اس کی صراحت کرتی ہے، البتہ اختلاف اس میں ہے کہ آیت میں مذکورہ رات سے مراد کونسی ہے، درست بات یہ ہے کہ نصف شعبان کی رات اس سے مراد نہیں ہے، ایسی صورت میں آیت اور حدیث سے یہ اخذ کیا جائے گا کہ ان دونوں راتوں میں طے شدہ معاملہ کی بانٹ ہوتی ہے، دونوں راتوں کی عظمت کی وجہ سے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک رات میں اجمالی طور پر ”فرق“ (طے شدہ معاملہ کی تقسیم) ہو اور دوسری رات میں تفصیلی طور پر ، یا یہ کہ ایک رات دنیوی امور کے لئے جبکہ دوسری اخروی امور کے لئے خاص ہو، وغیرہ دگر عقلی احتمالات (نقلا عن تحفة الاحوذی: ۳۲۴۴-۳۴۴)
    نواب صدیق حسن خان نے اپنی کتاب ”السراج الوہاج“ میں کیا ہے کہ :” شعبان میں روزے کی کثرت کی تخصیص کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس ماہ میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے“ (السراج الوہاج: ۴۲۲۱، والترغیب للمنذری: ۲۶۱۱، وسنن النسائی :۴۱۰۲)
    عبدالرحمن مبارکپوری کہتے ہیں: نصف شعبان کی رات کی فضیلت کی بابت کچھ احادیث آئی ہےں جو مجموعی طور پر بتاتی ہیں کہ ان احادیث کی کچھ نہ کچھ اصل ہے (تحفة الاحوذی: ۳۱۴۴)
    عبدالرازق نے بیان کیا ہے کہ زیادمنقری جو ایک قاضی تھے، کہا کرتے تھے کہ نصف شعبان کی رات (کی عبادت) کا اجر شب قدر کے اجر کی مانند ہے (المصنف لعبدالرزاق: ۴۸۱۳)
    امام نووی کی ”المنہاج“میں بھی اس طرح کی باتیں ہیں جن سے اس رات کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے، اور یہ کہ اس رات اللہ کے ہاں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے (منہاج الطالبین للنووی: ۲۲۷)
    ابن تیمیہ فرماتے ہیں : بہت سارے علماءیا ہمارے بیشتر حنبلی علماءاور ان کے علاوہ دیگر حضرات کی رائے یہی ہے کہ اس رات کی فضیلت ہےامام احمد کی بات سے یہی معلوم پڑتا ہے، چونکہ اس بارے میں متعدد احادیث آئی ہیں، سلف کے آثار سے اس کی تصدیق ہوتی ہے مسانید اورسنن میں اس کی بعض فضیلتیں مروی ہیں، گرچہ اس بارے میں دوسری چیزیں اپنی طرف سے گڑھی ہوتی ہیں (اقتضاءالصراط المستقیم: ۲۰۳)
    بعلی کہتے ہیں: جہاں تک نصف شعبان کی رات کی بات ہے، تو اس کی فضیلت ثابت ہے، سلف میں بعض لوگ اس رات نوافل کااہتمام کیاکرتے تھے، لیکن لوگوں کا مسجد میں اکٹھا ہوکر عبادت کرنا بدعت ہے .


    نصف شعبان کی رات کی فضیلت احادیث کی آئینے میں:
    اس کی فضیلت میں جو احادیث آئی ہیں، ان میں چند درج ذیل ہیں:
    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی ا کو (بستر پر) نہیں پایا میں ان کی تلاش میں نکلی، وہ مجھے بقیع میں ملے، اس حال میں کہ اپنا سر آسمان کی طرف بلند کئے ہوئے تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا: اے عائشہ ! کیا تجھے اندیشہ تھاکہ اللہ اور اس کے رسول تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے؟ عائشہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا،نہیںیہ بات نہیں، مجھے گمان ہوا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر اتر تا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بال کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی بخشش فرماتا ہے“ یہ ایک ضعیف حدیث ہے (ابن ماجہ: ۱۴۴۴ کتاب اقامة الصلاة:۱۹۱، باب ماجاءفی لیلة النصف من شعبان: حدیث ۹۸۳۱ ہے امام ترمذی: کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث صرف حجاج کے سند سے ہی مجھے معلوم ہے میں نے محمد سے سنا کہ یہ حدیث ضعیف ہے یحیٰ بن ابی کثیر نے عروہ سے نہیں سنا ہے، محمد کہتے ہیں حجاج نے یحیٰ بن ابی کثیر سے بھی نہیں سنا ہے عبدالرحمن مبارکپوری صاحب تحفة الاحوذی کہتے ہیں: یہ حدیث حجاج اور یحیٰ کے درمیان اور یحیٰ اور عروہ کے درمیان دو جگہوں پہ منقطع ہے التہذیب : ۱۱۱۷۱ میں ہے: یحیٰ بن المتوکل العمری کو احمد، ابن معین اور دوسرے لوگوں نے ضعیف گردانا ہے ابن معین نے کہاہے کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے جو زجانی نے کہتے ہیں: اس کی حدیثیں منکر ہیں دارقطنی کہتے ہیں: یہ حدیث کئی مضطرب اور غیر ثابت سندوں مروی ہے صاحب ”العلل المتناہیة“ نے اسے سلیمان بن ابی کریمة عن ہشام عن عروة عن ابیہ عن عائشة کی سند سے بھی روایت کیا ہے ابن الجوزی اس سند کے بارے میں کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ابن عدی کہتے ہیں: سلمان بن ابی کریمہ کی حدیثیں منکر ہیں اس کی ایک دوسرے سند میں عطاءبن عجلان ہے جس کے بارے میں یحیٰ بن معین فرماتے ہیں: وہ بھی کچھ نہیں ہے اس کے لئے حدیثیں گھڑی جاتی تھیں بخاری نے اسے منکر الحدیث کہا ہے: فیض القدیر للمناوی: ۲۳۶۲، الکامل لابن عدی: ۵۳۰۰۲)
    ابن ماجہ کی ایک دوسری روایت ہے :ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ اسے روایت کرتے ہیں کہ ”نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پرآتا ہے اور شرک وکینہ پرور کو چھوڑ کر اپنی ساری مخلوق کی مغفرت فرماتا ہے (ابن ماجہ : ۱۵۴۴، کتاب قامة الصلاة: ۱۹۱۵، باب ماجاءفی لیلة النصف من شعبان حدیث: ۰۹۳۱، مجمع الزوائد میں: ”اس کی سند ضعیف ہے عبداللہ بن لہیعہ کے ضعف اور الولید بن مسلم کی تدلیس کی وجہ سےامام منذری کہتے ہیں: حدیث کے راوی ابن عز رب کی ابو موسیٰ سے ملاقات نہیں، اس حدیث کو صاحب کنزالعمال نے بھی ابن ماجہ کے حوالے سے نقل کیا ہے: ۲۱۳۱۳ العلل المتناہیة: ۲۱۷۵ مصنف عبدالرزاق: ۴۷۱۳،اورتحفة الذاکرین للشوکانی: ۴۴۱ میں اس کو دیکھا جاسکتا ہے)
    تقریبا اسی قسم کے الفاظ میں یہ حدیث معاذ بن جبل سے بھی مروی ہے(منذری ”الترغیب والترہیب“( ۲۸۱۱) میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں: رواہ الطبرانی وابن حبان فی صحیحہ)
    ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ا نے فرمایا:ینزل اللہ لیلة النصف من شعبان الی السماءالدنیا فیغفر لکل نفس لا النسانا فی قلبہ شحناءاوالمشرک باللہ عز وجل [اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر اتر تاہے، اور ہر شخص کی مغفرت فرماتا ہے سوائے اس کے جس کے دل میں کینہ ہو یا جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہو]
    صاحب ”العلل المتناہیة“(۲۷۶ )نے اسے ذکر کرنے کے بعدکہا ہے کہ یہ حدیث درست ہے نہ ثابت ہےابن حبان اس کے ایک راوی عبدالملک کے بارے میں کہتے ہیںکہ”لایتابع علی حدیثہ“ امام یحیٰ بن معین اور نسائی کہتے ہیںکہ” وہ کچھ بھی نہیں ہے“ بخاری کہتے ہیں: ”اس کی یہ حدیث محل نظر ہے“ دیکھئے میزان الاعتدال( ۲۹۵۶) لیکن منذری ”الترغیب “ (۳۹۵۴)کہتے ہیں کہ ” امام بزار اور بیہقی نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ایک سند سے روایت کیا ہے جس میں کوئی حرج نہیں“
    یہ حدیث ایک دوسری سند : الاحوص بن حکیم عن حبیب بن صہیب عن ابی ثعلبہ الخشنی سے بھی منقول ہے (”العلل المتناہیة“: ۲۰۷ ابن الجوزی کہتے ہیں: ”یہ حدیث صحیح نہیں ہے“، امام احمد فرماتے ہیں: ”احوص کی احادیث روایت نہیں جاتیں“، یحیٰ بن معین کہتے ہیں: ”وہ کچھ بھی نہیں“ دار قطنی کہتے ہیں: ”وہ منکر الحدیث ہے“، اور”یہ حدیث مضطرب اور غیر ثابت ہے“، جبکہ بیہقی نے ”مرسل جید“ کہا ہے)
    ایک دوسری سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے (”العلل المتناہیة“ :۲۰۷، ابن الجوزی کہتے ہیں: ” حدیث درست نہیں، اس میں کئی مجہول راوی ہیں“ دارقطنی کہتے ہیں: ”یہ حدیث معاذ اورعائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی منقول ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ مکحول کا قول ہے، بہر حال یہ حدیث ثابت نہیں“)
    بعض روایات میں آیا ہے کہ نصف شعبان کی رات میں عمر لکھ دی جاتی ہے اور اس سال مرنے والوں کے بارے میں فیصلہ ہوتا ہے مثلا دینوری نے اپنی کتا ب ”المجالسة“ میں راشد بن سعدان سے روایت کیا ہے کہ نبی ا نے فرمایا: ”فی لیلة النصف من شعبان یوحی اللہ تعالیٰ الی ملک الموت بقبض کل نفس برید قبضہا فی تلک السنة“ ”نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ موت کے فرشتہ کو اس سال مرنے والوں کے بارے میں وحی بھیجتا ہے“(الترغیب للمنذری(۲۷۱۱)وقال: رواہ ابویعلی وہو غریب واسنادہ حسن والدر المنثور: ۶۵۲-۵۷، وکنزل العمال: ۲۱۴۱۳، ونسبہ الی الدینوری فی المجالسة عن راشد بن سعد مرسلا وفی المیزان : ۲۵۳، وثقة ابن معین وضعفہ ابن حزم والتہذیب۳۶۲۲)
    ابن ابی الدنیا نے عطاءبن یسار سے روایت کیا جاتا ہے کہ: ”جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو موت کے فرشتہ کو ایک صحیفہ دیاجاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس میں جن لوگوں کے نام ہیں ان کی روح قبض کرلو، بندہ بستر پہ سویا ہوتا ہے، شادی کرتا ہے اور گھر بناتا ہے جبکہ اس کا نام اس صحیفہ میں لکھا ہوتا ہے (الدرالمنثور:۶۵۲-۷۲، ومصنف عبدالرزاق: ۴۷۱۲)
    خطیب نے ”رواةمالک“ میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی اکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : چار راتوں میں اللہ تعالیٰ خیر کے دروازے کھول دیتا ہے: عیدالاضحی کی رات، عیدالفطر کی رات، نصف شعبان کی رات جس میں عمر، روزی اور حج کرنے والے کے بارے میں لکھا جاتا ہے اور عرفہ کی رات صبح کی اذان تک (الدر المنثور: ۶۵۲-۷۲، وقال ابن العربی : لایصح فیہا شی ولافی نسخ الآجال احکام القرآن: ۴۰۹۶۱)
    بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات دعا قبول ہوتی ہے مثلا عبدالرزاق نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ : ”پانچ راتوں میں دعاءمستردنہیں ہوتی: جمعہ کی رات ،پہلی رجب کی رات، نصف شعبان کی رات اورعیدین کی رات“(مصنف عبدالرزاق : ۴۷۱۳).

    نصف شعبان کی رات میں عبادات کااہتمام:
    نصف شعبان کی رات کی فضیلت بیان کرنے والی مذکورہ احادیث کی بنا پر لوگ نہ صرف اس رات کی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اس رات میں نماز اور دعاءکا بھی اہتمام کرتے ہیں اس رات میں عبادت کرنے کے سلسلے میں جو احادیث آئی ہیں ان میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی ہے کہ:
    رسول اللہ نے فرمایا: ”اذا کانت لیلة النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارہا فان اللہ ینزل فیہا لغروب الشمس الی سماءالدنیا فیقول الا من مستغفرلی فاغفرلہ، الا من مسترزق فارزقہ، الا من مبتلی فاعافیہ الا کذا وکذا حتی یطلع الفجر“ ”جب نصف شعبان ہو تو رات میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس رات آفتاب غروب کے بعد آسمانِ دنیا پر اتر تاہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا جسے میں بخشش دوں؟ ہے کوئی روزی مانگنے والا جسے میں روزی دوں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ، جس کی مصیبت دور کروں؟ یہاں تک فجر طلوع ہوجاتی ہے“(سنن ابن ماجہ: ۱۴۴۴، کتاب اقامة الصلاة: ۱۹۱، حدیث : ۸۸۳۱، مجمع الزوائد میں ہے: محمد بن ابی سبرة جس کا نام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابو سبرة ہے اس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے امام احمد اور یحیٰ بن معین نے کہا ہے کہ وہ حدیث گھڑتا تھا التہذیب: ۲۱۸۲، بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان کہتے ہیں وہ ثقہ رواة سے من گھڑت حدیثیں روایت کرتا تھااس سے دلیل پکڑنا درست نہیں، (العلل المتناہیة: ۲۱۷)، حافظ عراقی کہتے ہیں: نصف شعبان کی رات کی نماز والی حدیث جسے ابن ماجہ نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے باطل ہے (تخریج احادیث الحیاء: ۱۴۰۲)، ابن قیم نے اس حدیث کو علی اللہ رضی اللہ عنہ سے مختلف الفاظ میں روایت کرنے کے بعد کہا ہے کہ : ”جو لوگ علم حدیث کا معمولی علم بھی رکھنے کے باوجود اگر اس قسم کی لغو بات پر دھوکہ کھاتے اور اس رات نماز پڑھتے ہیں تو ان کی عقل پر حیرت ہے المنار المنیف: ۲۵۱)
    ابن جوزی نے ابن کردوس عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا: ”من احیا لیلتی العید ولیلة النصف من شعبان لم یمت قلبہ یوم تموت القلوب“ [جس نے عیدالفطر،عیدالاضحی اور نصف شعبان کی راتوں میں عبادت کیا اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس نے دوسرے دل مرجائیں گے ]
    ابن الجوزی فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ ا سے ثابت نہیں، اس کی سند میںبہت سی آفتیں ہیں، اس کے ایک راوی مروان بن مسلم کے بارے میں امام احمد کہتے ہیں : ”ثقہ نہیں ہے“ جب کہ نسائی، دار قطنی اور ازدی نے اسے متروک الحدیث کہا ہے، اس کے ایک دوسرے راوی مسلمہ بن سلیمان کے بارے میں ازدی کہتے ہیں کہ ضعیف ہے ایک اور راوی عیسیٰ کے بارے میں یحیٰ بن معین نے کہا ہے کہ وہ قابل اعتبار نہیں دیکھئے میزان الاعتدال (۴۰۹ ) التہذیب( ۰۱۳۹) والکامل لابن عدی (۶۰۸۳).

    اس رات نماز کی کیفیت اور اس کا حکم:
    جن روایات میں اس رات کی خاص نماز کا ذکر آیا ہے ، ان میں نماز کی کیفیت اور رکعات کی تعداد الگ الگ طور پر بیان کی گئی ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”جس نے نصف شعبان کی رات بارہ رکعتیں پڑھیں، اور ہررکعت میں تیس بار”قل ہو اللہ احد“ پڑھا تو وہ قبر سے نکلنے سے پہلے جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لے گا اور اس کے گھر کے ایسے دس اشخاص کی سفارش قبول کی جائے گی جو جہنم کے مستحق ہوں گے“
    ابن الجوزی اس حدیث کی بابت فرماتے ہیں: یہ ایک من گھڑت حدیث ہے، جس کی سند میں بہت سارے مجہول راوی ہیں، بقیہ اور لیث تو ضعیف راوی ہےں ہی، ان سے پہلے کے راوی مصیت ہیں، الموضوعات: ۲۲۹۱، امام اشوکانی نے بھی الفوائد المجموعہ: ۱۵ میں کہا ہے کہ یہ ایک من گھڑت حدیث ہے.
    بیہقی نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ : ”میں نے نصف شعبان کی رات نبی ا کو دیکھا کہ آپ چودہ(۴۱) رکعتیں پڑھیں، اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد چودہ (۴۱) بارہ سورة فاتحہ پڑھا چودہ بار”قل ہو اللہ احد“ ، ”قل اعوذ رب الفلق“ چودہ بار اور”قل اعوذ برب الناس“ چودہ بار آیة الکرسی ایک بار اور سورہ التوبة کی آیت ”لقد جاءکم رسول من انفسکم“(۸۲۱) ایک بار اس کے بعد آپ نے فرمایا: جس نے میرے اس عمل کو اپنایا اس کو بیس حج اوربیس سال روزہ کا ثواب ملے گا اگر دوسری صبح وہ روزہ رکھتا ہے تو اس کا روزہ دو سال کے روزے کے ثواب کے برابر ہوگا ایک گزشتہ سال اور ایک آئندہ سال “
    بیہقی کہتے ہیں: یہ حدیث من گھڑت حدیث جیسی ہے (الدر المنثور: ۶۷۲) ابن الجوزی کہتے ہیں: یہ ایک من گھڑت حدیث ہے اوراس کی اسناد تاریک ہے، اس کی سند میں محمد بن مہاجر نام کا ایک شخص ہے، جس کے بارے میں احمد بن حنبل فرماتے ہیں: وہ حدیث گھڑتا ہے (دیکھئے: الموضوعات لابن الجوزی: ۲۹۲۱-۰۳۱)

    نصف شعبان کے دن کا روزہ:
    نصف شعبان کے دن کے روزہ کے بارے میں کوئی مرفوع حدیث نہیں آتی ہے پیچھلے صفحات میں نبی ا سے منقول ابن ماجہ کی وہ روایت کہ ”اذا کان لیلة النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارہا“ [جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو] اس کے بارے میں یہ بات گزرچکی ہے کہ وہ ضعیف ہے، اس سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی اور نبی اسے مروی ایک اورحدیث کہ : ”فاذا اصبح ذلک الیوم صائما کان لہ کصیام سنتین، سنة ماضیة وسنة مستقبلة“ [ اگر دن میں روزہ رکھتا ہے تو اس کا روزہ اگلے پچھلے دو سال کے روزہ کے برابر ہوگا] بیہقی اور ابن الجوزی کے بقول یہ من گھڑت حدیث ہے، اس کی سند تاریک ہے.
    خلاصہ کلام یہ کہ نصف شعبان کی رات کی فضیلت ہے، جیسا کہ علماءعظام کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رات کو کسی متعین عبادت کے لئے خاص کرلیا جائے مثلا رات میں نماز پڑھنا اوردن میں روزہ رکھنا ، کیوں کہ اس بارے میں رسول اللہ سے کوئی قابل اعتماد حدیث کاپتہ نہیں. جب کہ کسی عبادت کی قبولیت کی دو شرطیں ہیں: (۱) صرف اللہ کی رضامندی کے لئے ہو، (۲) سنت کے مطابق ہو، اگر کسی بھی عبادت میں ان دونوں میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو وہ عبادت قابل قبول نہیں .
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,291
    جزاک اللہ خیرا، عمدہ مضمون ہے، ٹائپنگ کی غلطیاں اگر درست کر لیں تو اور بھی بہتر ہو جائے گا، جیسے:
     
    • متفق متفق x 1
  3. صادق تیمی

    صادق تیمی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 21, 2018
    پیغامات:
    26
    شکریہ
    رفی صاحب!
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,420
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں