شب برأت اور معافی نامہ

جاوید بودلہ نے 'ماہِ شعبان المعظم' میں ‏مئی 2, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاوید بودلہ

    جاوید بودلہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 28, 2011
    پیغامات:
    36
    "شارٹ_کٹ"

    مسلمانوں۔۔۔!! ابھی سوئے ہو..۔۔۔۔!؟؟
    اٹھو جلدی سے، سال بعد آج پھر ڈیجیٹل معافی کا دن آیا ہے..۔!
    جلدی جلدی گروپس میں معافی مانگنے والے میسج فارورڈ کر کے خود کے لیے جنت الاٹ کروا لو..!!
    پھر نا کہنا پتا نہیں چلا۔۔۔!!
    یہ نا ہو کہ ہم پیکج پر چار پیسے خرچ کرنے کے ڈر سے جنت سے ہاتھ دھو بیٹھیں،
    جس کے پاس پیکج نہیں ہو گا وہ جہنم میں چلا جائے گا،
    افسوس صد افسوس۔۔۔۔!!!

    میں یہ نہیں کہ رہا کہ معافی مانگنا بری بات ہے،
    معافی مانگنا بہت اچھی عادت ہے، اور یہ عادت صرف ایک دن تک محدود رکھنا درست نہیں،
    ہمیشہ معافی مانگیں،
    اور اگر ایک دن بھی یہ معافی سچے دل سے اور واقعتاً شرمندہ ہو کر ان سے مانگی جائے جن کو ہم نے تکلیف پہنچائی ہو تو بھی بہت اچھی بات ہے،۔

    کاش ایسا ہوتا۔۔۔۔!!
    لیکن ایسا نہیں۔۔۔!!

    میں تو یہ کہہ رہا کہ ہم وہ بد بخت قوم ہیں جنکو
    دنیا میں راتوں رات کروڑ پتی بننے کے لیے تو شارٹ کٹ طریقہ چاہیے ہی تھا ،

    لیکن
    اب جنت حاصل کرنے کے لیے بھی روٹین کی نیکیوں، سیدھے راستے اور فرائض کو چھوڑ کر ہم شارٹ کٹ رستے سے جنت میں جانا چاہتے ہیں،
    فرائض، سنتوں اور نوافل کو چھوڑ کر ،

    دو چار من گھڑت تہوار بنا لیے ،

    ساری زندگی نبی کی سنت کو چہرے سے منڈوا کر گندی نالی میں پھینکنے والا سال میں ایک دن عشق رسول میں جھنڈیاں اور گانوں والی نعتیں چلا کر سچے امتی ہونے کا حق ادا کر لیتا اور عاشق رسول کا ٹھپا لگوا کر جنت کا ٹکٹ کٹا لیتا ہے
    اور جو بیچارہ ساری زندگی نبی کی سنتوں پر عمل کرتے کرتے تھک جاتا مگر ایک دن جھنڈیاں نا لگانے پر اسکو شیطان کہہ کر جہنمی بنا دیا جاتا،

    وہ شخص جس نے کبھی رمضان کا ایک فرضی روزہ نہیں رکھا وہ شب معراج/ شب برات کا روزہ رکھ کر یہ سمجھ لیتا کہ اس نے پورے سال کے روزے رکھنے کا حق ادا کر لیا اور پکا جنتی بن گیا،
    کیونکہ مولویوں نے اسے ایک روزے کے بدلے 80 سال کے روزوں کا ثواب تھیلے میں ڈال کر جنت کی رجسٹری اسکے ہاتھ میں تھما دی ہوتی ہے،
    اب اسے رمضان کے روزے رکھنے کی بھی ضرورت نہیں،

    اور وہ بیچارہ جو پورا سال سوموار ،جمعرات ،
    ایام بیض اور رمضان کے فرضی روزے رکھتا،
    اسے یہ ایک غیر مسنون روزہ نا رکھنے پر منکر حدیث کا طعنہ دیا جاتا،

    وہ شخص جس نے ساری زندگی کبھی تہجد پڑھ کے نہیں دیکھی، نوافل کا اہتمام نہیں کیا، جسکو اشراق کی فضیلت کا پتا ہی نہیں ،
    وہ ایک رات میں بجلی کی سی تیزی ساتھ سو رکعت پڑھ کر فجر کی جماعت بستر میں سو کر گزار دیتا اور خواب میں جنت کا وارث بن بیٹھتا ہے،
    اور گھر والے یہ کہہ کر نہیں جگاتے سونے دو یار اسکو ساری رات اللہ کا ولی نفل پڑھتا رہا ہے ،
    ابھی نا جگاؤ اسکو۔۔۔۔

    ساری زندگی جس کی زبان سے پڑوسی تکلیف اٹھاتے رہے،
    بیوی تھپڑ برداشت کرتی رہی،
    بہن گالیاں برداشت کرتی رہی،
    ماں باپ نا مرنے کے طعنے سنتے رہے،
    بھائیوں کا مال نا حق کھاتا رہا،

    وہ جو رشتوں داروں سے نکے منڈے کی سالگرہ پر تحفہ نا لانے اور وڈے منڈے کی شادی پر ہزار روپے نیوندا نا دینے پر پچھلے دس سالوں سے ناراض ہے،

    وہ جو شادی کی بریانی میں بوٹیاں نا ملنے پر شادی سے ناراض ہو کر واپس لوٹ آیا،

    وہ جو پڑوسی سے پیاز اور دھنیا نا ملنے پر سو سو باتیں اور طعنے سنا کر ساری زندگی کے لیے انکا دشمن بن جاتا،

    وہ جو چپڑاسی ،مزدور، اور ملازمین کو روزانہ تکبر اور غرور سے گھٹیا اوڑ حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔۔

    وہ صبح گھر سے نکلتے بیوی ،بچوں ،ماں باپ اور ڈرائیور سب کو دو چار سنا کر گھر سے نکلا،

    رستے میں ہارن بجا بجا کر لوگوں کو تنگ کیا،

    آفس پہنچتے ہی ماتھے پر تیور چڑھائے دو انگلیوں سے سلام لیا اور اپنے کیبن میں بیٹھ کر اس نے فیس بک نکالی اور سٹیٹس ڈالا ،

    اگر کسی کو میری طرف سے تکلیف پہنچی ہو تو مجھے معاف کر دیں کیونکہ آج کی رات اعمال نامہ پیش ہونے والا ہے،

    سیکنڑوں لوگوں کے لائکس اور کمنٹس کے بعد اسکا دل مطمئن ہو گیا کہ ہاں اب میں پکا جنتی ہوں،
    سب لوگ مجھ سے خوش ہیں،

    ان للہ و ان الیہ راجعون

    میسج فاروڈ کر کے معافیاں مانگنے کا کیا فائدہ؟
    جو ناراض نہیں ان سے معافیاں مانگی جا رہی،
    جن کو جانتے تک نہیں، جنکو کبھی ملے نہیں،
    جنکو کبھی تنگ نہیں کیا،

    کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ روٹین والا عام معافی نامہ بھیجتے وقت بھی ہم میں سے اکثر لوگ
    All Contact's
    سلیکٹ کر کے پھر اس میں سے ناراض رشتے داروں کے نمبر ڈلیٹ کر دیتے،
    بیوی کا نمبر ریموو ، بھائیوں کے نمبر ریموو,
    والدین جو سب سے زیادہ حقدار ہیں کہ ان سے معافی مانگے جائے، انکے نمبر نکالتے،

    اور پھر صرف ان لوگوں کو سینڈ کرتے جن سے کبھی ناراض ہوئے ہی نہیں،

    اور جو گھر میں بھائی،بہن، شوہر ،بیوی والدین پڑوسی،رشتہ دار پچھلے کئی سالوں سے ناراض ہیں ، انکا کیا؟؟؟
    خدا کی قسم تو ہزار بار معافیوں والے سٹیس ڈال لے تو کبھی جنت میں نہیں جا سکتا،

    کیونکہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
    لا يدخل الجنه قاطع ،
    رشتہ داری کو توڑنے والا کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا،
    (بخاری)
    یہیں پر بس نہیں فرمایا
    جو شخص ایک سال تک اپنے کسی مسلمان بھائی سے ناراض رہا تو یہ اسکو قتل کرنے جیسا ہی ہے،( ابو داؤد )

    اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سوموار اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال اللہ کے ہاں ہیش کئے جاتے ، سارے لوگوں کو اللہ معاف فرما دیتے ہیں سوائے انکے جنہوں نے شرک کیا،
    اور وہ لوگ جو آپس میں ناراض ہوں،
    انکے بارے کہا جاتا ، ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو رہنے دیں یہاں تک کہ یہ صلح کر لیں،
    (صحیح مسلم )
    اور بے شمار احادیث ہیں اس بارے،

    تو میرے محترم اور قابل احترام بھائیو اور بہنو.!
    خدا کے لیے..!!

    یہ رسمی عادتیں چھوڑ دیں،
    کب تک ہم خود کو بیوقوف بناتے رہیں گے۔۔۔؟؟
    آخر کب تک یہ ڈرامائی سلسلہ جاری رہے گا؟
    خدا کے لیے!! بس کریں،

    ہمیں اب سلجھنا ہو گا،
    ساری زندگی اسی دھوکہ اور فراڈ میں گزار دی،
    اب بس کریں اور دین کے ساتھ اور نا کھیلیں،

    اپنی اصلی منزل کو پانے کے لیے ہمیں شارٹ کٹ اور دھوکے والے طریقے چھوڑنے ہونگے،

    آئیے آج عہد کریں،
    اگر واقعی آپ معافی مانگنا چاہتے ہیں،
    تو جائیے رشتے داروں کے گھر جن سے آپ برسوں سے ناراض ہیں، بہن بھائیوں کے گھر جائیں،
    پڑوسیوں سے معافی مانگی،
    مزدوروں سے، غلاموں سے، نوکروں سے،
    ہر ایک سے جس کا آپ نے دل دکھایا،
    پلیز۔۔۔۔!!
    اور آئیندہ سے انکے ساتھ پیار ساتھ رہیں،
    محبت ساتھ رہیں،

    اور یہ مت سوچیں کہ معافی کا صرف ایک دن ہے،
    بلکہ آپ روزانہ جب چاہیں ہر وقت معافی مانگ سکتے ہیں، مگر دیر نا کریں،
    آپکی بہنیں برسوں سے بھائیوں کی راہ تک رہی ہیں، آپکے بھائی آپکے کاندھے پر سر رکھ کے رونے کو ترس رہے ہیں،
    آپکے والدین اپنے بچوں کی آواز سننے کو پل پل تڑپ رہے ہیں،
    جائیے انہیں گلے سے لگا لیجیے..!!!
    پاؤں پکڑ لیجئے..!!!
    ہاتھ تھام لیجیے۔۔!!

    اور انکو خوش کر کے جنت کے رستے ہموار کر لیجیے.!!



    بقلم جاوید بودلہ!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    ماشاءاللہ. جاوید بھائی. آپ نے بہت اچھا لکھا ہے. اللہ برکت دے
     
    • متفق متفق x 1
  3. جاوید بودلہ

    جاوید بودلہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 28, 2011
    پیغامات:
    36
    جزاکم اللہ خیرا، آمین
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,281
    بہت عمدہ، یقیناً سوچنے کی بات ہے کہ سگے بہن بھائیوں اور قریبی رشتے داروں سے تو ناراضگی برقرار رکھی جاتی ہے، سوشل میڈیا پر ان سے گڑگڑا کر معافی مانگی جاتی ہے جن کا راضی رہنا یا ناراض رہنا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. جاوید بودلہ

    جاوید بودلہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 28, 2011
    پیغامات:
    36

    جی بالکل درست فرمایا بھائی آپ نے!! جزاک اللہ خیرا
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,281
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  7. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353

    ایک دوست نے یہ مسیج شئیر کیا

    آج ڈیجیٹل معافی کا دن ہے

    جس کے پاس واٹس اپ یا SMS کا پیکج ہے وہ تو خود کو معاف کروالے گا

    لیکن جس بیچارے کے پاس یہ دونوں سہولتیں موجود نہیں

    وہ پھر دوزخ میں جائیگا ؟

    واقعتا آجکل ہم نے دین کو مذاق بنا لیا ہے

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں