ہدایت اور حق کو قبول نہ کرنے کے دس اہم اسباب

حافظ عبد الکریم نے 'متفرقات' میں ‏مئی 3, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    484
    ہدایت اور حق کو قبول نہ کرنے کے دس اہم اسباب

    تلخیص و ترجمانی:
    حافظ عبد الرشید عمری
    دوحہ-قطر
    .​

    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی شہرہء آفاق کتاب "مفتاح دار السعادة و منشور ولاية العلم و الإرادة" میں علم و یقین کے باوجود عمل صالح سے متصف نہ ہونے،ہدایت اور حق کو قبول نہ کرنے کے اسباب پر ایک بہت ہی عمدہ علمی بحث ہے،
    راقم سطور نے ان اسباب کی تلخیص و ترجمانی میں کہیں مختصر سی توضیح سے بھی کام لیا ہے،
    ترجمانی میں مختصر سی وضاحت کا مقصد قبول ہدایت اور قبول حق میں رکاوٹ بننے والے ان اسباب کو قابل فہم اسلوب تحریر میں اجاگر کرنا ہے،
    الحمد للہ راقم سطور نے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی کئی کتابوں کا براہ راست عربی زبان میں مطالعہ کیا ہے
    اوراللہ کے فضل و کرم سے وقتا فوقتا علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی مفید اور نافع اصلاحی تحریروں کی تلخیص و ترجمانی اللہ تعالٰی کے عطا کردہ علم و فہم کے مطابق کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے،
    کوئی علمی ملاحظہ اور استدراک ہو تو مثبت انداز میں اجاگر کیا جاسکتا ہے ۔

    علم دین آدمی کی مصلحت،منفعت اور دونوں جہاں کی سرخروئی کا سبب اور باعث ہے
    لیکن بسا اوقات حصول علم کے باوجود آدمی عمل صالح
    سے متصف نظر نہیں آتا ہے،
    آخر اس کے پیچھے کونسے اہم اسباب کارفرما ہیں،

    پہلا سبب
    مقصد زندگی سے عدم آگہی اورعلم دین کی کمی
    یعنی علم دین سے کما حقہ واقف ہونا
    اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
    طلب العلم فريضة على كل مسلم
    دین کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے
    یعنی دین کا وہ بنیادی علم جس کے ذریعہ ایک مسلمان اپنے اوپر عائد فرائض و واجبات کو بحسن و خوبی ادا کر سکے ،
    اور بہت سے مسلمان اپنے مقصد زندگی سے غافل ہوتے ہیں اور بے مقصد لوگوں کی مانند بد عملی کی زندگی گزارتے ہیں،
    مقصد زندگی سے آگہی اور علم دین کے حصول کے بعد اگر اللہ تعالٰی کی توفیق شامل حال ہو تو ایک مسلمان راہ حق پر ثابت قدم رہ سکتا ہے۔

    دوسرا سبب
    سنگ دلی،سخت دلی اور دین بیزاری
    یعنی آدمی کو علم دین کی کما حقہ معرفت حاصل ہے لیکن عمل صالح کے لئے درکار سازگار محل( جگہ اور دل ) موجود نہیں ہے،
    اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ سخت اور بنجر زمین جو کاشتکاری کے لئے موزوں اور مناسب نہیں ہے
    ایسی زمین پر موسلا دھار بارش بھی کیوں نہ ہو اس پر کوئی سبزہ اور اناج نہیں اگے گا،
    اسی طرح سخت دل اور پتھر دل پر کوئی بھی وعظ و نصیحت اثرانداز نہیں ہوتا ہے ۔

    تیسرا سبب
    حسد اور تکبر کی موجودگی
    جیسے ابلیس اور یہودیوں نے ہدایت اور حق کو اسی حسد اور تکبر کے سبب قبول نہیں کیا،
    اور منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول نے بھی اسی حسد اور تکبر کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا۔

    چوتھا سبب
    حکومت و بادشاہت سے محرومی کا اندیشہ
    حکومت،بادشاہت اور سیادت کے چھن جانے کا خوف ایسے لوگوں کو دامن گیر رہتا ہے
    جس کے سبب وہ ہدایت اور حق قبول کرنے سے دریغ کرتے ہیں
    جیسے روم کا بادشاہ ہرقل اور مصر کا بادشاہ فرعون
    اور مکہ کا سردار ابوجہل اس کی واضح مثال ہیں ۔

    پانچواں سبب
    نفسانی خواہشات اور مال و دولت کی محبت میں گرفتار ہونا
    جیسے اہل کتاب کے (یہود و نصارٰی کے ) اکثر علماء اور عوام اور اسی طرح مکہ کے اکثر کفار و مشرکین نے اسی لئے اسلام قبول نہیں کیا کہ ان کو اپنی بہت سی ناجائز خواہشات کو چھوڑنا پڑے گا جیسے زنا،شراب،جوا،سود اور دھوکہ دہی وغیرہ جیسی برائیوں سے دستبردار ہونا پڑے گا،

    چھٹا سبب
    اعزاء و اقارب کی محبت
    اپنے اہل و عیال ،رشتہ داروں اور قبیلہ والوں سے بےپناہ محبت کرنے والا آدمی اس بات سے گھبرا جاتا ہے کہ وہ اسلام قبول کرے گا تو اس کو اپنے گھر،رشتہ داروں اور قبیلہ والوں کی نفرت اور بغض و عداوت کا سامنا کرنا پڑے گا اور سب کی محبتوں سے محروم ہو کر وہ تنہا رہ جائے گا ۔

    ساتواں سبب
    وطن اور ملک سے بے پناہ محبت
    اس آدمی کے اگرچہ اس کے وطن اور ملک میں کوئی رشتہ دار وغیرہ نہیں ہیں
    لیکن وہ اپنے وطن اور ملک سے اتنا زیادہ محبت کرتا ہے کہ وہ قبول اسلام کے بجائے اپنے وطن اور ملک میں کفر کی حالت میں قیام کو ترجیح دیتا ہے ۔

    آٹھواں سبب
    آباء و اجداد کی گمراہی کا طعنہ برداشت نہ کرنا
    آدمی کے دل میں یہ شیطانی وسوسہ،خیال اور وہم گمان پیدا ہوتا ہے کہ تم اسلام قبول کرکے اس بات کی گواہی دے رہے ہو کہ تمہارے آباء واجداد
    گمراہی کا شکار تھے اور باطل پر قائم تھے،
    ابو طالب کی موت کے وقت ابوجہل وغیرہ نے اسی باطل غیرت کا حوالہ دے کر کلمہء توحید پڑھنے سے روکا اور ابوطالب نے یہ کہا:
    ھو علی ملة عبد المطلب
    حالانکہ أبوطالب نے اپنی زندگی میں اپنے بھتیجے کی رسالت کی صداقت میں کئی اشعار کہے ہیں لیکن ہدایت کی توفیق تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا گمراہ کردیتا ہے ۔

    نواں سبب
    آدمی کے دشمن کا قبول اسلام میں پہل کرنا
    ایک آدمی کو کسی آدمی سے عداوت ہوتی ہے
    اس آدمی کا دشمن اسلام قبول کرنے میں پہل کیا ہے تو یہ اسلام سے محروم آدمی اسلام کی حقانیت اور صداقت کو جاننے اور پہچاننے کے باوجود صرف اور
    صرف اس وجہ سے اسلام قبول نہیں کر رہا ہے کہ اس کا دشمن قبول اسلام میں پہل کیا ہے،
    جیسے یہودی انصار کو ڈراتے تھے اور دھمکاتے تھے کہ ایک رسول مبعوث ہونے والا ہے ہم اس پر ایمان لائیں گے اور تم سے قتال کریں گے
    لیکن اللہ نے یہودیوں سے پہلے انصار کو قبول اسلام کی توفیق عطا فرمایا تو یہ چیز ان یہودیوں کے عدم قبول اسلام کا سبب بن گئی اور انصار کی عداوت کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں کفر پر قائم رہنا بہتر سمجھا۔

    دسواں سبب
    بری عادتوں کا خوگر ہونا
    انسان اپنی شعوری اور جوانی کی عمر میں ایسے عادات و اطوار اور طور طریقوں کا دل دادہ ،شیدائی اور خوگر ہوجاتاہے کہ یہ عادات و اطوار اس کی طبیعت ثانیہ کا روپ دھار لیتے ہیں،
    یہ عادات و اطوار جو جسم و روح میں اپنا مضبوط گھر بناچکے ہیں اور دل ودماغ پر اپنا ڈیرہ ڈال چکے ہیں،
    بچپن و جوانی کی کئی اقسام کی بہت سی بری عادتیں ہر انسان میں باقی رہتی ہیں،
    اگر اسلامی تربیت و تزکیہ کے ذریعہ ان بری عادات کی بیخ کنی نہ کی جائے تو اکثر عوام و خواص کے لئے اسلامی تعلیمات اور احکامات کی بجا آوری میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں،
    انبیاء و رسل کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ وہ ان بری عادات کو اچھی عادتوں میں تبدیل کرتے ہیں،
    اللہ کے رسول صلی اللہ کی سیرت طیبہ کے مطالعہ سے ایسی بےشمار مثالیں ملتی ہیں کہ مکہ کے کفار و مشرکین کی خامیوں کو کس طرح خوبیوں کا صحیح رخ دے دیا،

    ایک دو شعر میں اس کی بہترین ترجمانی کی گئی ہے:
    اتر کر حراء سے سوئے قوم آیا
    اور ایک نسخہء کیمیا ساتھ لایا
    وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی
    عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی


    اللہ تعالٰی ہمارے اندر حق کو سمجھنے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔

    [مفتاح دار السعادة و منشور ولاية العلم و الإرادة لابن القيم رحمه الله.]
    [ ص:١٢٣-١٢٥ ]

    تلخیص و ترجمانی:
    حافظ عبد الرشید عمری
    دوحہ-قطر.​
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں