والدین کو عدم توجہی کا شکار مت بنائیں

صدف شاہد نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مئی 6, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    150
    والدین کو عدم توجہی کا شکار مت بنائیں

    کائنات کا سب سے پُرخلوص اور انمول رشتہ والدین ہیں ۔والدین اپنی اولاد کو پالنے اور اُن کے بہتر مستقبل کے لئے عمر بھر جدوجہد کرتے رہتے ہیں ۔اُن کی عمر کتنی ہی ہو جائے،صحت کے اعتبار سے لاکھ منحنی اورکمزور سہی مگر اولاد کی طرف اپنا فرض نبھانے کو وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال دیتے ہیں ۔اولاد سے محبت اُنھیں بڑی سے بڑی آزمائش کا سامنا کرنے کے حوصلے نوازتی ہے جب میں ایف ایس سی کی طالبہ تھی تو میرے والد مجھے روزانہ کالج سے پِک این ڈراپ کیا کرتے تھے ۔ معمول کے مطابق کالج جاتے یہ منظر دیکھنے کو ملتا ایک لاغر اور کمزور اُدھیڑ عمرعورت اپنے ذہنی و جسمانی طور معذور بچے کو وہیل چئیرپر لیے سڑک کے کنارے سیر کروا تے ملتی تھی ۔ جو وزن وہ دھکیل رہی ہوتی تھی وہ اُس کے ہلکے وجود سے کئی گنا زیادہ تھا اکثر تو مجھے اُنھیں دیکھ کر محسوس ہوتا کہ کہیں اپنا توازن کھو کریہ عورت لُڑھک نہ پڑے لیکن جب گِرنے والے کے لیے سنبھالنے والا موجود ہو اور وہ اللہ ہوتو پھرکیسے دھڑکے یا واہمے ۔۔کبھی اُس بچے کا والد اور کبھی والدہ روزانہ کی بنیاد پراپنے طے شدہ مقررہ وقت پریہ روٹین دہراتے رہتے تھے وہ بچہ جسمانی طور تو بالغ لگتا تھا مگر ذہنی طور پر ابھی بچپنے کی عمر سے باہر نہیں نکل سکا تھا بقول اُن کے وہ سڑک پرہر صبْح بچوں کو اسکول جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو بہت خوش ہوتا ہے تالیاں بجا بجا کر آوازیں کستا ہے کہ
    میلی مِش شے تہنامیلی آج چھُتی ہے (میری مِس سے کہنا میری آج چُھٹی ہے )۔۔۔۔۔اُس کے والدین اُسے اس طرح خوش دیکھ کر اُن لمحوں میں زندگی جی لیتے ہیں ماں تو بلائیں اُتارتی اور باپ دل ہی دل میں صدقے واری جاتا ۔اُن کی ہر ممکن کوشش تھی کہ وہ اِک نارمل انسان کی طرح زندگی کی ہر رونق، چہل پہل سے لُطف اندوز ہو۔ جانے اُن کی یہ تگ و دو کب تک جاری و ساری رہے گی ۔۔۔۔۔شاید اُن کی آخری سانس تک ۔۔۔۔۔اُنھیں کونسی اُمید ہے اُس سے کہ کل کو وہ اُن کو کما کر کھلائے گا اور بُڑھاپے کا سہارا بنے گا وہ تو خود اُن کے رحم و کرم پر ہے اور تاحیات رہے گا وہ صرف اپنے والدین ہونے کا فرض نبھا رہے ہیں کس قدر شفیق وجود ہے اُن کا اُس بچے کے لیے بے غرض بے لوث سا ۔۔۔۔
    بعض اوقات ایسے حالات و واقعات انسان کے ساتھ پیش آتے ہیں جو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔اور ہم ایسے بہت سے پہلوؤں پر سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن پر پہلے کبھی توجہ نہ دی ہو بالکل اسی طرح کا ایک واقعہ کل ہی پیش آیا میرے ساتھ

    میں آج کل ڈرائیونگ سیکھ رہی ہوں۔۔۔پریکٹس کے لیے بحریہ ٹاؤن سے شاہقام چوک اکثر آنا جانا رہتا ہے ۔ اُس روڈ پر آتے جاتے اکژ کچھ چھوٹی موٹی چیزیں بیچنے والے بھی ملتے رہتے ہیں یا جو اپنی کسی ضرورت کی بنیاد پر کچھ امداد طلب کررہے ہوتے ہیں وہ لوگ بھی ۔۔ ایک عمر رسیدہ جوڑا حالات کے دھارے میں بہتے بہتے اُسی روڈ پر آ پہنچا ہے ۔وہ دونوں میاں بیوی ایک چٹائی بچھا کر فٹ پاتھ پر بیٹھے مسواک بیچ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔جو دن رات وہیں ڈیرا جمائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔میں اکثر اُن سے مسواک خرید لیا کرتی ہوں ۔۔۔کل موسم کافی ابر آلود تھا رات میں حسبِ معمول ڈرائیونگ کرتی گھر واپس آ رہی تھی کہ ٹھیک اُسی جگہ آ کر گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا ۔۔۔۔مجھے وہاں کچھ دیر رکنا پڑا تو وقت گزارنے کے لیے میں نے اُن سے بات چیت شروع کی ۔۔۔۔۔۔
    اماں جی اتنا موسم خراب ہے ہلکی ہلکی بونداباندی بھی شروع ہو گئی ہے آپ دونوں گھر چلے جائیں ، اِتنے بوڑھے ہیں بھیگ کر بیمار ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔آپ کے بچے کہاں ہیں ؟ اس عمر میں اکیلے یہاں سڑک پر دن رات مجھے نظر آ تے ہیں ۔۔۔۔۔کیا آپ کا کوئی نہیں ؟
    بیٹی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اپنے خون نے ہم سے منہ پھیر لیا ہے ۔پیٹ بھر نے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔آنسوؤوں کی نمی سے پلکیں بھیگ گئی تھیں ۔۔۔۔۔عینک کے شیشے اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کرتے بولیں ،،،
    اولاد تو ایک پودے کی طرح ہے جسے اپنی خواہشوں کی قربانیوں کے خون سے پروان چڑھایا جاتا ہے لیکن جب یہ قد آور ہوتا ہے تو زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ہمیں تن و تنہاچھوڑ دیتا ہے جھلسنے کے لیے۔۔۔
    جب ماں باپ بوڑھے ہو جاتے ہیں چلنے پھِرنے کے قابل نہیں رہتے ۔صحت بیماریوں کا پیغام لاتی ہے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، کھانسی، جوڑوں کے دردتو کھلنے ہی لگتے ہیں اور دوائیوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں تو اپنے بے درد بن جاتے ہیں ۔۔۔کون اخراجات اُٹھائے ، تیمارداری کرے ۔۔۔۔۔۔اولاد آڑھے تیور سجائے ملتی ہے بڑھاپے کی دہلیز پر ۔۔۔۔بیٹا کہتا ہے اپنا
    خاندان پالوں یا آپ کی دوائیوں کے اخراجات پورا کروں ۔۔۔۔۔بہو تو کوسنے دیتی ہے
    جس دن دھاڑی لگا کر نہیں جاتے بِکری نہیں ہوتی تو بہو کا مُوڈ اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ پوتے پوتیوں کو پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتی
    میاں میرا ذیا بیطس کا مریض ہے ایک دن اُس کا دل گھبرانے لگا میں رات کے پچھلے پہر اُس کے لیے کچھ کھانے کو لینے باورچی خانے گئی تو تالا پڑا تھا دروازے پر ۔۔۔۔۔بہو کو آواز دے کر جگایا کچھ کھانے کو دے دو ۔۔۔۔ٹھنڈا دودھ کا گلاس ہی ۔۔۔۔مل جائے گا کیا ۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں مار کر مرے گا یہ اناج کا دشمن ۔۔۔۔۔۔ڈرامے ہیں سارے اُ س کے ۔۔۔۔چلو جاؤ دفع ہو یہاں سے اپنا بندوبست کرو ۔۔۔۔۔میاں کی طبیعت بہت بگڑ گئی میں ان کو اِک خیراتی اسپتال لے گئی اور دوا دارو کروائی ۔۔۔۔۔اُس دن سے گھر چھوڑ دیا ہم نے ۔۔۔۔۔
    آپ کے پوتے پوتیوں نے بھی آپ کا خیال نہیں کیا ۔۔۔۔۔؟
    بچے اپنے ماں باپ کی ہی سُنتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بہواُن کے کان بھرتی تھی کہ اُن کے پاس نہ جایا کرو بیماریوں کے جراثیم لگ جائیں گے ۔۔۔۔۔
    اماں بیٹی کوئی نہیں ہے آپکی کیونکہ وہ تو اس معاملے میں بیٹے سے زیادہ سرگرم ہوتی ہے والدین سے نسبت میں ۔۔۔؟
    نہیں کاش اللہ نے بیٹے کی بجائے بیٹی سے نوازا ہوتا ۔۔۔۔۔۔تو شاید ہمیں اُف تک نہ کہتی ۔۔۔۔۔
    اللہ آپ کے حال پر رحم کرے آمین
    اِتنے وقت میں گاڑی کا کام ختم ہو گیا اور میں نے گھر کی راہ لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دیکھا جائے تو قطرہ قطرہ حیات دکھ ہی تو ہے ۔۔۔۔اور آدھے دکھ ہم دوسروں سے غلط اُمیدیں وابستہ کرکے خرید لیتے ہیں ۔۔وابستگی بے اعتنائی میں بدل جاتی ہے اپنے اجنبی لگنے لگتے ہیں اگر اولاد والدین کا حق نہ پہچانے تو بُڑھاپا عذاب بن جاتا ہے ۔۔اور ایسے بُوڑھے زندہ تو رہتے ہیں مگر زندگی جینا بھول جاتے ہیں ۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ نے دُنیا میں انسان کے بہت سے زمینی وسیلے رکھے ہیں جن میں سے سب سے بڑا وسیلہ اولاد کے لیے والدین ہیں اور والدین کے لیے اولاد ۔
    والدین وہ وسیلہ ہیں اولاد کا جو اولاد کی ہر ضرورت بِنا کہے پوری کرتے ہیں اور ہرسُکھ پہنچاتے ہیں ۔والدین کا کوئی نعم البدل نہیں ۔نہ ہی اُن جیسی شفقت اور محبت کوئی کر سکتا ہے ۔اللہ کی ذات کے بعد اِک یہی والدین ہیں جو آپ کو آپکی ہر کمی و بیشی کے ساتھ اپناتے ہیں ۔۔۔۔اولاد کے لیے والدین کا سایہ اور آسرا چھت کی مانند ہوتا ہے اور اُن کا پیارزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں پھوار کی مانند۔ جب بچہ قدم اُٹھانا سیکھتا ہے تو یہی دو ہاتھ اُس کو پیچھے سے تھامتے تھے جب وہ گرنے والا ہوتا تھا اُن کی اُنگلی کے آسرے سے وہ قدم اُٹھانا سیکھا ہوتا ہے لیکن بُڑھاپے میں یہی بچے اُن کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنا نہیں چاہتے ۔والدین تو ہمیشہ اپنی
    استطاعت سے بڑھ کر اولاد کا خیال رکھتے ہیں ایک ہمدرد دوست کی طرح برتاؤ کرتے ہیں ۔لوگوں سے رویوں کو برتنے کا سلیقہ سِکھاتے ہیں ۔اولاد کی شخصیت کو اِستحکام دیتے ہیں ۔
    آنکھ کھولنے اور شعور کی منزلیں طے کرتے ہمیں یہ شفیق ہستیاں محنت کی چکی میں پستی نظر آتی ہیں ۔جن کی زندگی کا مقصد اپنی اولاد کے لیے بہترین آسائشوں کا حصول ہے۔ وہ تمام عمر ذمہ داریوں کی گٹھڑیاں اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے رہتے ہیں ۔ اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی زندگی کے بہترین دنوں ، خواہشوں، کی قربانی دے دیتے ہیں مگرافسوس یہی بچے بُڑھاپے میں نافرمانیوں اور کڑے تیوروں سے اُنکے منتظر ملتے ہیں ۔اُنکی عمر کے آخری حصے میں
    بچے بھول جاتے ہیں کس نے اُنہیں اُنگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، گود میں لے کر دنیا کا نظارہ کروایا اور کون ہر مشکل میں اُن کی ڈھال بنا رہا ۔۔۔؟بچے بھول جاتے ہیں مگر والدین نہیں ۔۔۔۔۔
    آخر میں اتنی ہی گزارش ہے کہ اپنے بُوڑھے والدین کا بہت خیال رکھیں ۔اُن کی دل آزاری نہ کریں ۔پھر وہ چاہے آپ کے سسرالی والدین ہی کیوں نہ ہوں ۔ اپنے بچوں کو بھی اُن کا احترام اور خدمت کرنا، توجہ دینا سکھائیں ۔گھر کے چھوٹ موٹے معاملات میں اُن کی رائے اور مشورہ ضرور لیں اس سے وہ اپنے آپ کو اہم سمجھنے لگیں گے۔ اگر وہ کوئی بات بار بار دُہرائیں تو ماتھے پر شکن تک نہ آنے دیں ۔ اُن کے علاج معالجے کا خاص خیال رکھیں ۔آپ کی تھوڑی سی توجہ ، تھوڑا سا دیا
    وقت ، کچھ لمحوں کی گفتگو اُن کی زندگی پُر لطف اور متحرک بنا دے گی ۔

     
    Last edited: ‏مئی 6, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    371
    رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں