میں دُنیا کے لیے آپ کا پیروکار نہیں بنا

عبد الرحمن یحیی نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏مئی 6, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,311
    میں دُنیا کے لیے آپ کا پیروکار نہیں بنا
    قصہ نبی کریم ﷺ کے ایک عظیم صحابی کا
    جس نے اپنی موت اور
    طریقہ موت کا انتخاب خود کیا

    رضی اللہ تعالی عنه و أرضاه

    سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ)
    حکم : صحیح (الألباني)
    سنن نسائی: کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل(باب: شہداء کا جنازہ)
    مترجم: ١. فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

    1953 . أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ ابْنَ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ عَنْ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ ثُمَّ قَالَ أُهَاجِرُ مَعَكَ فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةٌ غَنِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ فَأَعْطَى أَصْحَابَهُ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهُمْ فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا قِسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ قَسَمْتُهُ لَكَ قَالَ مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِّي اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى إِلَى هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَقَالَ إِنْ تَصْدُقْ اللَّهَ يَصْدُقْكَ فَلَبِثُوا قَلِيلًا ثُمَّ نَهَضُوا فِي قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْمَلُ قَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهُوَ هُوَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ صَدَقَ اللَّهَ فَصَدَقَهُ ثُمَّ كَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُبَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَدَّمَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَكَانَ فِيمَا ظَهَرَ مِنْ صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ فَقُتِلَ شَهِيدًا أَنَا شَهِيدٌ عَلَى ذَلِكَ
    1953 . سیدنا شداد بن ہاد رضي الله عنه و أرضاه سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کا متبع بن گیا ، پھر وہ کہنے لگا : میں تو آپ کے ساتھ مہاجر بن کر رہوں گا ۔ نبی ﷺ نے اپنے ایک صحابی کو اس ( کے قیام و طعام ) کا خیال رکھنے کو کہا ، پھر ایک جنگ ہوئی تو نبی ﷺ کو غنیمت میں قیدی ملے ۔ آپ نے انھیں تقسیم کیا تو اس اعرابی کا حصہ بھی رکھا اور اس کے ساتھیوں کو دے دیا ۔ وہ ان کے سواری کے اونٹ چرایا کرتا تھا ۔ جب وہ چرا کر واپس آیا تو انھوں نے اس کا حصہ اسے دیا ۔ اس نے کہا : یہ کیا ہے ؟ ساتھیوں نے کہا : نبی ﷺ نے تجھے ( غنیمت سے ) حصہ دیا ہے ۔ اس نے اپنا حصہ لیا اور اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا : یہ کیا ہے ؟
    آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے تجھے تیرا حصہ دیا ہے ۔ ‘‘ وہ کہنے لگا : میں اس کی خاطر تو آپ کا پیروکار نہیں بنا تھا میں تو آپ کا پیروکار ، اس لیے بنا ہوں کہ مجھے یہاں تیر لگے ، اور اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ، اور میں مر کر جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگر تو یہ بات سچے دل سے کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ تیری خواہش پوری فرمائے گا ۔ ‘‘ تھوڑے عرصے کے بعد وہ ( صحابہ ) پھر دشمن سے لڑائی کے لیے گئے تو اسے نبی ﷺ کے پاس اس حال میں اٹھا کر لایا گیا کہ اسے اسی جگہ تیر لگا ہوا تھا جہاں اس نے اشارہ کیا تھا ۔
    نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا یہ وہی اعرابی ہے ؟ ‘‘ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ’’ اس نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی ، اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش پوری کر دی ۔ ‘‘ پھر نبی ﷺ نے اسے اپنی قمیص میں کفن دیا ، پھر اسے آگے رکھا اور اس پر نماز پڑھی ۔ آپ کی دعا کے یہ الفاظ ظاہر ہوئے : ’’ اے اللہ ! یہ تیرا ( سچا ) بندہ ہے ۔ تیرے راستے میں ہجرت کرتے ہوئے گھر سے نکلا اور شہید ہوگیا ۔ میں ان باتوں کا عینی گواہ ہوں ۔ ‘‘
    اردو حاشیہ :
    (۱) زہے قسمت ! کیا بلند مرتبہ ملا اس اعرابی کو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان زوردار الفاظ سے اس کے حق میں گواہی دے رہے ہیں ۔ رضی اللہ عنہ
    ( یہ رتبہ بلند ملا ، جس کو مل گیا )
    ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں ؟
    (۲) ’’ نماز پڑھی ‘‘ بعض اہل علم نے اس کے بجائے دعا کرنے کے معنی کیے ہیں کیونکہ یہاں صف بندی کا ذکر ہے نہ تکبیروں کا ، صرف دعا کا ذکر ہے ، لہٰذا ان کے نزدیک یہی معنی مناسب ہیں تاکہ ان صحیح ترین احادیث کی موافقت ہو جائے جن میں شہدائے احد کے جنازہ نہ پڑھنے کا ذکر ہے جبکہ اس حدیث میں مذکورہ اعمال کے عدم ذکر سے یہ لازم نہیں تھا کہ سرے سے ان امور کا وقوع ہی نہیں ہوا بلکہ یہ اختصار کے پیش نظر بھی ہوسکتا ہے ۔ بعض نے اس روایت سے شہید کے جنازے پر استدلال کیا ہے ۔ اگر ترجیح دی جائے تو ترجیح اصح روایات ہی کو ہے جن میں جنازہ نہ پڑھنے کا ذکر ہے ۔ تطبیق دی جائے تو اس روایت میں دعا کے معنی کر لیے جائیں ۔ یا امام احمد رحمہ اللہ کے مطابق کہا جائے کہ شہید کا جنازہ پڑھ سکتے ہیں ، ضروری نہیں ۔ یہی موقف درست اور اقرب الی الصواب ہے ۔ حدیث کے ظاہر کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ باقی سب احتمالات ہیں ، نیز غزوۂ احد کے شہداء پر ترک جنازہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ شہداء کی نماز جنازہ درست نہیں ، نہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ کسی اور شہید کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھی جائے یا آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے نہ پڑھی ہو ، دونوں طرح جائز ہے ، پڑھنا نہ پڑھنا بھی ، لیکن چونکہ یہ دعا ہے اور بخشش اور رفع درجات کا ایک ذریعہ ہے جس کا ہر مسلمان ، خواہ کتنے ہی بڑے درجے پر فائز کیوں نہ ہو ، محتاج رہتا ہے ، اس لیے شہید کی نماز جنازہ بجائے ترک کے پڑھ لینا اولی اور افضل ہے ۔ واللہ أعلم ۔
    (٣) نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ خاص کر غرباء کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ۔
    (٤) شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا ۔

    (۵) شہید کو کفن پہنایا جائے گا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,110
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,210
    جزاک اللہ خیرا شیخ،
    کیا یہ ضروری ہے یا اعزازی طور پر پہنایا جا سکتا ہے؟ کیونکہ بعض علماء شہید کو انہی کپڑوں میں دفن کرنے کے بھی قائل ہیں۔
     
  4. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,311
    جی شاہ جی
    سنا اور پڑھا میں نے بھی وہی ہے جو آپ فرما رہے ہیں
    شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ سے پوچھا ہے
    انہوں نے بھی کہا ہے کہ شہید کو کفن پہنایا جائے گا
     
  5. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,575
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں