مرد گاہک لائن مارنے سے باز نہیں آتے

صدف شاہد نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏مئی 9, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    150
    سیلز گرلز (نوکری کی تے نخرہ کی )
    شاپنگ مالز پر سیلز گرلز کی وجہ سے کیا مرد گاہک آتے ہیں ؟


    گئے وقتوں کی بھٹی پر دانے بھوننےوالی مائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب کسی شاپنگ مال یا گلی کوچوں میں کسی کمپنی کی پراڈکٹ اُٹھائے ہوئے اس کی پروموشن اور فروخت کا کام کر رہی ہے ۔ دیکھا جائے تو اُسے خود بطور پراڈکٹ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کسی بھی دن ، آپ کسی بڑے شاپنگ مال جائیں تو وہاں دو چار خوبرو لڑکیاں آپ کے سواگت کے لیے موجود ہوتی ہیں ۔سیلز گرل کسی بھی کمپنی کے لیے کیوں ضروری ہوتی ہے ؟ کیا کمپنی کو ان سیلز گرلز کی وجہ سے اپنے مال کی فروخت کرنا آسان ہوتا ہے ؟ اور شاپنگ مالز پر سیلز گرلز ہی کیوں ناگزیر ہیں ؟ کیا مرد گاہک ان کی وجہ سے ہی آتے ہیں ؟

    مجبوری نے سیلز گرل بنا دیا ۔

    پوش ایریا اور شہر میں موجود دکانوں اور شاپنگ مال پر اکثر ہمیں لڑکیاں آج کل کام کرتی نظر آتی ہیں ۔ان میں کچھ لڑکیاں شاپنگ مال میں موجود مختلف کمپنیوں کی چیزوں کی سیل بڑھانے کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان شاپنگ مال میں کام کرنے والی بیشتر لڑکیوں کے گھروں میں کمانے والے نہیں ہوتے اور وہ مجبوری کی وجہ سے اپنا گھربار چھوڑکران بڑے سٹورز پر کام کرنے آتی ہیں ۔
    ارم شہزادی سمن آباد کی رہائشی ہے ۔وہ ایک شاپنگ مال میں سیل پروموٹر کے طورپرکام کر رہی ہے۔ ارم بتاتی ہی کہ وہ سات بہن بھائی ہیں ۔ان کے والد کا دوسال قبل انتقال ہو گیا تھا ۔والد کے انتقال کے بعد اپنا اور گھروالوں کا پیٹ پالنے کے لیے وہ گھر سے کام کرنے کے لیے نکلی ہے۔ جب وہ کمانے کے لیے گھر سے نکلی تو اُسے اور اُس کے گھر والوں کو رشتے داروں سمیت سماج کے لوگوں کی جانب سے طرح طرح کی باتوں کا سامنا کرنا پڑالیکن کوئی بھی اُن کی مالی امداد کرنے پر راضی نہیں تھا ۔ارم بتاتی ہے میرے جیسی دوسری بھی سیلزگرلزکمپنی میں کام کرتی ہیں ،شاپنگ مال کے مالکان ہم سے اپنے شاپنگ مال کا کام بھی کرواتے ہیں۔ جو نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کمپنی والوں کی طرف سے بیوٹی پراڈکٹ سیل کر رہی ہیں تو میک اپ ملازمت کی لازم شرط ہے ۔ روز روز میک اپ کرنے کو دل بھی نہیں کرتا لیکن چہرہ میک اپ زدہ ہی ہونا چاہیے ورنہ پروموٹر خوش نہیں ہوتے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں نوکری سے نکالنے کی باتیں سننا پڑتی ہیں ۔ہم سیلز کرلز بیوٹی ایڈوائزربھی ہیں آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ خوب صورتی اس ملازمت کی پہلی شرط ہے شاپنگ مال کام کرنے کا وقت صبح ۱۰ جبے سے رات ۱۰ بجے تک ہے تاہم جب شاپنگ مال میں رش ہو اور عید ، جشنِ آزادی جیسے تہوار تو ہمیں دیر تک روک لیا جاتا ہے ۔ کمپنی کے نمائندے کبھی بھی راؤنڈ کر لیتے ہیں جس میں چیک کیا جاتا ہے کہ آیا ہم سیٹ پر براجمان ہیں اور لوگوں کو پراڈکٹس کے لیے قائل کر رہی ہیں یا نہیں۔ درحقیقت بات وہی ہے نوکری کی تے نخرا کی ۔۔۔۔دوران ڈیوٹی بعض اوقات گاہکوں کے مابین ہونے والے دلچسپ مکالموں سے محفوظ بھی ہوتے ہیں جو آمدنی کم اور مہنگائی زیادہ ہونے کے سبب پریشان دکھائی دیتے ہیں مگر میک اپ کاؤنٹر پر بیوی، گرل فرینڈ کی مہنگی سے مہنگی فرمائشیں مرد حضرات کی جانب سے پوری کی جارہی ہوتی ہیں ۔

    مرد گاہک لائن مارنے سے باز نہیں آتے ۔

    سیلز گرل عائشہ جبین کا کہنا ہے کہ شاپنگ مال میں آنے والے اکثر لڑکے کام کرنے والی سیلزگرلزلڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں ۔دس لڑکوں میں صرف تین لڑکے شاپنگ کرنے اور باقی سات کام کرنے والی سیلزگرلز کو دوستیوں کی پیشکش کرنے کے لیے آتے ہیں ۔ بعض لڑکے آتے جاتے آوازیں کستے ہیں اور موبائل نمبر مانگتے ہیں ۔ اگر ہم ان کی شکایت شاپنگ مال کے مالک کو کریں تو وہ بھی ہمیں ہی قصوروار سمجھتے ہیں جبکہ ایسے بے حیا اور چھچھورے لڑکوں کو کچھ نہیں کہتے۔ بعض اوقات ہماری ایسی شکایت پر خفا ہو کر ہماری تنخواہ بھی کاٹ لی جاتی ہے ۔ میرے جیسی بہت سی سسیلز گرلز اس نوکری سے ناخوش دکھائی دیتی ہیں لیکن ملازمت بچانے کی خاطر پیٹ پالنے کے لیے مجبور ہو کر خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتی رہتی ہیں ۔ اکثر لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں ہے تعلق ان کا عزت دار گھرانوں سے ہی ہے ۔لوگوں کی زیادہ تعداد ہم جیسی کام کرنے والی لڑکیوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی اور نہ ہی اچھا سمجھتی ہے ۔ زیادہ تر تو یہاں تک سمجھتے ہیں کہ ہم جیسی لڑکیاں یہاں کام نہیں بلکہ لوگوں سے دوستیاں ، لڑکوں سے تعلقات بنانے کے لیے کام کرتی ہیں اور کسی آوارہ خاندان سے ہیں ۔ عائشہ مزید بتاتی ہیں کہ سیلزگرلز کی جاب شادی شدہ لڑکی کے لیے اور بھی مشکل ہے زیادہ تر شادی شدہ خواتین کو سیلز گرلز کی ملازمت نہیں ملتی اکثر لڑکیاں اس جاب کو حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولتی ہیں کہ وہ شادی شدہ نہیں ہیں ۔ حاملہ خواتین ویسے ہی یہ جاب جاری نہیں رکھ سکتیں ۔ دورانِ ملازمت ہمیں سارا سارا دن کھڑا رہنا پڑتا ہے بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اگر کبھی بہت تھکن ہو جائے کہیں کسی سٹول پر بیٹھ جائیں تو گاہک آ جاتے ہیں جو پوری توجہ چاہتے ہیں اور یوں ہمیں بیٹھنا بھی نصیب نہیں ہو پاتا ۔۔۔۔

    ہمارا بھی دل ہے ۔۔۔۔

    سیلزگرلز جیسی سخت ملازمت کرنے والی لڑکیاں غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ایسے علاقوں سے آتی ہیں جہاں فیشن اور فضول خرچی نہیں بھوک اور مفلسی راج کرتی ہے۔ شبانہ بھی ہر روز کوٹ عبدالمالک سے لاہور ماڈل ٹاؤن کے شاپنگ مال میں کام کرنے آتی ہے وہ تین لڑکیوں کی ماں ہے ۔وہ کہتی ہے مجھے سیلز گرل کی ملازمت کے لیے جھوٹ بولنا پڑا کہ میں شادی شدہ نہیں تاہم میں اپنی بچیوں کی خاطریہ سب کر رہی ہوں ۔ میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں اپنی بچیوں کے لیے نئے سوٹ خریدوں اور وہ نئے جوتے پہنیں تاہم بدقسمتی سے ہم اپنے ہاتھوں سے نئی چیزیں فروخت تو کر سکتے ہیں مگر لے نہیں سکتے۔ میں نے یہاں اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ جو بچے کی ہر جائز و ناجائز فرمائش پوری کرتے ہوئے چیزیں خرید لیتے ہیں اور ہم سارا سال بچوں کو لارے دیتے رہتے ہیں ۔ بسا اوقات لوگوں کی فضول خرچیاں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کاش ہم بھی خرید سکتے۔شبانہ نے بتایا اکثر پراڈکٹ سیل کرنے والیوں پر چوری کا الزام بھی لگا دیا جاتا ہے لیکن ہم میں سے زیادہ تر ایماندار ہوتی ہیں اُنہیں اپنی تمام پراڈکٹس کا حساب دینا ہوتا ہے تو پھر ہم چوری کیسے کر سکتی ہیں ۔ بعض اوقات گاہک چوری کرتے ہیں اور خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے ۔

    گاہک خراب نہیں کر سکتے۔

    فاروق صاحب ایک شاپنگ مال کے مالک ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مال پر جتنی لڑکیاں کام کرتی ہیں وہ ان سب کو عزت اور تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ بعض اوقات لڑکیوں کی شکایت کی صورت میں وہ گاہک کی سائیڈ لیتے ہیں کیونکہ ان کا شاپنگ مال گاہکوں کی وجہ سے چلتا ہے ۔ سیل پروموٹر کے طور پر آنے والی لڑکیاں عارضی ہوتی ہیں آج ان کے سٹور میں اور کل کسی اور سٹور میں اس لیے وہ اپنے گاہک خراب نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود ہم ہر کام کرنے والی لڑکی کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جو کہ اخلاقی فرض ہے ۔

    مصنوعات کی ڈورتوڈور فروخت ۔

    اکثر لڑکیاں گلی محلوں میں مخصوص وردی پہنے عام گھریلو استعمال کی اشیاء جن میں شیمپو، صابن ، چائے، واشنگ پاؤڈر
    ، ٹوتھ پیسٹ اور بجوں ،خواتین کی پراڈکٹس شامل ہوتی ہیں
    عام دکانوں سے کم قیمت پر فروخت کرتی نظر آتی ہیں ۔ڈیٴڈی۔ایس یعنی ڈورٹو ڈور سروس مصنوعات کو متعارف کرانے کی ایسی حکمت عملی ہے جس میں زیادہ تر خواتین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ان کمپنیوں میں کام کرنے والی بیشتر خواتین کے گھروں میں کوئی کمانے والا نہیں ہوتا ۔ وہ اپنے والدین اور بچوں کی خاطر اس کام کی طرف آتی ہیں ۔ پی اینڈ جی کمپنی میں کام کرنے والی خاتون شازیہ نے بتایا کہ وہ تین سال سے اس کمپنی میں کام کر رہی ہیں ۔انہیں ایک پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کے لیے ایک سے دو ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد دوسری پراڈکٹ کی سیل کا کام شروع ہو جاتا ہے ۔ اس طرح ان کمپنیوں کے پاس خواتین کا عملہ ایک طرح سے مستقل کام کرتا رہتا ہے۔ یہ خواتین شہر سے باہر دوسرے شہروں اور دیہات میں بھی جاتی ہیں ۔ جس کے لیے اُنہیں ٹراسپورٹ دی جاتی ہے۔ شازیہ کے مطابق وہ گاڑی میں جاتی ہے اس میں چھ چھ خواتین کی دو ٹیمیں ہوتی ہیں۔ ہر ٹیم کے لیے ایک مرد ڈیلر رکھا جاتا ہے جبکہ دونوں ٹیموں کی نگرانی کے لیے سُپروائزر بھی ساتھ ہوتا ہے۔ سپروائزر محلے یا گلی کا انتخاب کرتا ہے پھر علاقے میں اہلِ خانہ کی اجازت سے کسی گھر کے سامنے سٹال لگایا جاتا ہے ۔جہاں اسی گلی محلے کی خواتین کو بلا کر مصنوعات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ جو لڑکی مصنوعات کے بارے میں مائیک پر بتاتی ہے اسے اینکر کہتے ہیں اس نے بتایا کہ ڈورٹوڈور سروس کی خوبی یہ ہے کہ عام اشیاء بازار سے کم قیمت ہونے کی وجہ سے خواتین بخوشی خرید لیتی ہیں ۔ ان سب کی بڑی مجبوری مہنگائی ہوتی ہے۔ یہ چیزیں صرف گھریلو خواتین کو ٖفروخت کی جاتی ہیں ، عام دکانوں میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی سپروائزر کسی دکان پر کوئی چیز فروخت کرتا پایا جائے تو اسے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے بعض اوقات سٹال اور اینکر کے بغیر بھی ڈورٹوڈور
    اشیاء فروخت کی جاتی ہیں ۔ ہر مارکیٹنگ کمپنی کی تنخواہ علیحدہ علیحدہ ہوتی ہے ۔ سیلز گرلز اور ہیلپرز کو ماہانہ
    14سے 16 ہزار روپے ،اینکر کو 18 ہزار سے 20ہزار روپے اور سپروائزرکو ماہانہ 26ہزار سے 30 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔ مگر اس شعبے میں خواتین کے لیے بہت سے مسئلے مسائل رہتے ہیں ۔ بعض اوقات گاہک خواتین کا برتاؤباعزت نہیں ہوتا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ صبح سے شام تک مسلسل کام کرنا پڑتا ہے ڈور ٹو ڈور دوسرے شہر کے دیہات جا کر اس دورانیے میں دوپہر کے کھانے کا وقت بھی نہیں دیا جاتا اگر بھوک زیادہ ستائے تو سپروائزر سے چھپ کر کسی دکان سے بسکٹ وغیرہ خرید کر کھا لیتی ہوں ۔ اگر اس کا بھی موقع نہ ملے تو واپسی پرجو گاڑی لینے آتی ہے اُس میں بیٹھ کر پیٹ کی آگ بجھاتی ہوں ۔ بیماری کی صورت میں اپنا علاج خود کروانا پڑتا ہے۔ دورانِ سفر حادثہ ہونے کی صورت میں بھی کمپنی ذمہ دار نہیں ہوتی ۔ کسی ناگہانی یا بیماری کی صورت میں کی جانے والی چھٹیوں کے پیسے کاٹ لیے جاتے ہیں۔
    اس نے کئی بار متعلقہ افسر کو مجبوری بتا کر چھٹی کرنا چاہی لیکن ہمیشہ یہی جواب ملتا ہے کہ نوکری کرنی ہے تو کر لو نہیں کر سکتی تو چھوڑ دو جب کوئی لڑکی نوکری چھوڑتی ہے تو اس کی جگہ لینے کے لیے کئی لڑکیاں موجود ہوتی ہیں ۔
    اس کی وجہ ان کا تعلیم یافتہ نہ ہونا ہے ۔ پڑھا لکھا یا کم پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے وہ کسی باعزت شعبے جیسے اسکول میں اُستانی جیسی ملازمتیں نہیں کر سکتیں ۔ سیل کا کام کرنے والی ہر عورت اور لڑکی کسی نہ کسی گھریلو مجبوری کا شکار ہوتی ہے ۔خاتون بتاتی ہیں
    میری طرح کئی خواتین بھی اپنے چھوٹے بچوں کو گھروں میں چھوڑ کر آتی ہیں ۔ اس نے بتایا کے اُسے روزانہ کے
    600 روپے دیے جاتے ہیں جس کمپنی کی طرف سے کھانے کی اجازت اگر دی جائے تو اس کے لیے 200 روپے الگ دیے جاتے ہیں بعض جگہ کھانے کے اخراجات بھی خودی ادا کرنا ہوتے ہیں ۔

    لیبر قوانین کیا کہتے ہیں۔

    سیلزگرلز کی حالت زار کے بارے میں ان کمپنیوں کے افسروں سے بات کرنے کے لیے متعدد بار رابطے کیے گئے لیکن انھوں نے اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا۔ ظاہر ہے دیہاڑی دار مزدوروں کے بارے میں بات کر کے کون اپنی لگی لگائی روزی کو خطرے میں ڈالے مگر حکومت اور اس کے کارندوں کی تو کوئی مجبوری نہیں ان کا تو کام ہی عام لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے ۔ لیکن حکومت اپنی ہی گتھیاں سلجھانے میں مصروفِ عمل ہے اور روشن خیال خواتین کے پلے بس حقوقِ نسواں کے کھوکھلے نعرے ہیں جو مانگے تانگے کی خواتین کے ہمراہ بلند کیے جاتے ہیں ان کو اک عام عورت کی حالتِ زار اور ان کے مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ انھوں نے کتنی خواتین کو تعلیم دلوائی یا خواتین کی تعلیمی تربیت کے لیے کوئی عملی اقدام اُٹھائے ؟ یہ صرف سستی شہرت چمکانے کے ہتھکنڈے جانتی ہیں عملا صفر ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے
    کہ یہ سیلز گرلز ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں کیا ان کے لیے کہیں کوئی لیبر قوانین موجود ہیں ؟ اور کیا ان کو باعزت روزگار اور ماحول میسر ہوگا؟ مگر جہاں کمسن بچے مزدوری کرتے ہیں اور گھریلو ملازمین مالکان کے ظلم سہتے ہیں ، وہاں ان سیلزگرلز کی کیا بساط ہے۔ سو اربابِ اختیار کے لیے یہ محض ان جانی مخلوق اور ہمارے معاشرے کے لیے نااہل مخلوق ہے ۔ان سے انھیں کوئی سروکار نہیں ۔

    از ہما میر حسن
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  2. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,775
    السلام علیکم


    ایگزیکٹو پوسٹ کے لئے سمارٹ، خوش شکل، ویل ڈریس ہونا ضروری ہے۔ لباس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ نئے نئے کپڑے خرید کر پینے جائیں، بلکہ جتنے بھی میسر ہیں انہیں ہی استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جو مرد حضرات آفیسیز میں جاب کرتے ہیں ان کے لئے 6 سوٹ ہی کافی ہوتے ہیں جنہیں ہر روز بدل کر استعمال کرنا ہوتا ہے، جس سے چند سال گزر جاتے ہیں پھر درمیان میں ایک آدھ سوٹ کا اضافہ ہوتا رہتا ہے


    کاؤنٹر یا سیلز گرلز، جابز پر لڑکیوں کو چاہئے کہ وہاں جاب تلاش کریں جہاں خواتین کا سامان سیل ہوتا ہے، جیسے کاسمیٹکس سٹور، ورائیٹی، شاپنگ مال، ان جیسی اور بھی، ان میں جاب کرنا اچھا ہے اور تحفظ بھی۔

    سیلز گرلز کی جاب پر کسی بھی لڑکی کو آنے سے پہلے یہ ذہن میں ہونا چاہئے کہ اس جاب میں حاضر دماغی، خوش اخلاق، سمائلی فیس اور آئی کنٹیکٹ بہت ضروری ہے، اگر کسی کسٹمر کی طرف سے منفی رسپانس ملتا ہےتو اس صورت میں ایمپلائر کو شکایت کرنے کا کوئی آپشن نہیں بلکہ حاضر دماغی سے کسٹمر کو اچھے طریقے سے جواب دینا چاہئے جو ایمپلائر سیلز گرل کو مہینہ کی 20 ہزار تنخواہ دے رہا اس ایمپلائر کو 2 سے 3 لاکھ کی سیلز دینا بھی ضروری ہے اسی کی اس سیلز کی پرافٹ سے ہی اسے تنخواہ ملتی ہے۔ کسی کے گھر کے حالات کیا ہیں اس سے ایمپلائر کو کوئی سروکار نہیں ہوتا، نئی جاب پر جگہ بنانے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے پاؤں مضبوط ہونے پر ایمپلائر سے اپنی بات منوائی جا سکتی ہے پھر کوئی نہیں کہتا کہ وہ دروزہ ہے نکلنے کے لئے۔


    ہمارے یہاں بہت سی جابز پر فارم میں ایک کالم ایسا بھی ہوتا ہے جہاں پہلے کی کی گئی جابز 2 سٹوریاں لکھنی ہوتی ہیں کہ کسٹمر کے برے رویہ پر آپ نے اسے کیسے متمعین کیا وہ لکھیں اس سے اس کی حاضر دماغی اور تجربہ دیکھا جاتا ہے۔


    پھر یہاں کر نئی جاب پر ایمپائی کتنا بھی تجربہ کار ہو ہر نئی کمپنی اسے ٹریننگ پروائیڈ کرتی ہیں، پاکستان میں شائد ایسا نہیں اس لئے وہاں ایسی سوچ پائی جاتی ہے۔

    رہی بات بیٹھنے کے لئے سٹول کی تو کاؤنٹر سیلز کے لئے وہ کہیں بھی میسر نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ سٹور پر بیٹھا نہیں وہیں سستی اور نیند غلبا پا لیتی ہے اس لئے اسے نہیں رکھا جاتا۔ گھر کے حالات اور مجبوری میں کی جانے والی جاب پر تو ویسے ہی تھکاوٹ نہیں ہوتی۔

    آخر میں نوکری کی تے نخرہ کی

    والسلام

     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں