خطبہ حرم مکی 04/05/2018..دل صاف رکھنے کی فضیلت۔۔۔۔ از ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی ۔۔۔ جمعۃ المبارک 18 شعبان 1439 ھ

سیما آفتاب نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 11, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    507
    مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی حفظہ اللہ
    جمعۃ المبارک 18 شعبان 1439 ھ بمطابق 4 مئی 2018
    عنوان: دل صاف رکھنے کی فضیلت۔
    ترجمہ: عاطف الیاس
    بشکریہ: کتاب حکمت ویب

    پہلا خطبہ:
    الحمد لله۔ تمام طرح کی تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے معافی کا سوال کرتے ہیں، اسی پر ایمان رکھتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد رکھتے ہیں۔ اسی کی طرف ساری بھلائی منسوب کرتے ہیں، اسی کا شکر ادا کرتے ہیں اور ناشکری سے بچتے ہیں۔ اللہ کا انکار کرنے والوں سے براءت کا اعلان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے لیے نمازیں پڑھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقینًا! کافر ہی اس کے عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے، رسول، چنیدہ نبی اور منتخب ولی ہیں۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، لوگوں کو نصحت فرمائی اور اللہ کی راہ میں جس طرح جہاد کرنے کا حق تھا اس طرح جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کا آخری وقت آ گیا۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر، تابعین عظام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

    بعد ازاں! اے مسلم معاشرے کے لوگو!
    میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ یہی و نصیحت ہے جو اللہ تعالی نے اگلوں اور پچھلوں کو فرمائی ہے۔ فرمان الہی ہے:
    ’’تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو‘‘
    (النساء 131)

    شعبان کا آدھا مہینہ گزر گیا ہے، اس کے دن اور اس کی راتیں گزرتی جا رہی ہیں۔ اب بس اس کا مختصر وقت ہی بچا ہے۔ حال یہ ہے کہ بیشتر لوگوں کے دلوں میں کینہ اور ایک دوسرے کی نفرت ہے۔ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث مبارکہ میں ان چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ فرمان نبوی ہے:
    شعبان کی درمیانی رات میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو دیکھتا ہے۔ مشرک اور کینہ پرور کے سوا باقی سب کو بخش دیتا ہے۔
    اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

    اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے کسی روزے یا تہجد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ استقبال رمضان کے موقع پر امت کو ایک خاص چیز کی توجہ دلائی۔ آپ ﷺ نے دل صاف رکھنے اور توحید باری تعالیٰ کا خاص اہتمام کرنے کی ترغیب دلائی۔ شعبان کا نصف گزر جانے سے اس کے انقضاء اور رمضان آمد کا پیغام آتا ہے۔

    اس موقع جو شخص اپنے دل کو صاف کر کے اس میں توحید پختہ کر لیتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت واجب ہو جاتی ہے۔ اللہ کے بندو! صاف اور پاکیزہ دل وہی ہے جو شریعت اسلامیہ کے حوالے سے تمام تر شکوک وشبہات سے پاک ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ سے دور کرنے والی تمام خواہشات سے گریزاں رہتا ہے۔

    ابن القیم علیہ رحمۃ اللہ بیان فرماتے ہیں: دل اس وقت تک مکمل طور پر پاکیزہ نہیں ہوتا جب تک وہ پانچ چیزوں سے پاک نہ ہو جائے۔ ایک: شرک سے جو کہ توحید کی ضد ہے۔ دوسری بدعت جو کہ سنت کی ضد ہے، تیسری شہوات نفس کی پیروی جو کہ فرمان برداری کے خلاف ہے، چوتھی غفلت جو کہ ذکر کی ضد ہے اور پانچویں خواہش پرستی جو کہ اخلاص کی ضد ہے۔

    پاکیزہ دل وہ ہے کہ جو تقویٰ اور ایمان سے بھرپور ہو، بھلائی، نیکی اور احسان سے بھرا ہوا ہو، جس کے مالک اچھے اخلاق سے مزین ہوں، جن کے خفیہ معاملات بھی پاکیزہ اور صاف ہوں اور جو دوسروں کے لیے بھلائی پسند کرتے ہوں۔
    اس طرح یہ واضح ہوتا ہے کہ سب سے پاکیزہ دل انبیاء علیہم السلام کے دل تھے، جو کہ اپنے قوم اور امت کے لیے بھلائی کو پسند کرتے تھے اور ان کی رہنمائی، تعلیم اور ہدایت کے لیے مشکل ترین قربانیاں دینے والے تھے۔

    یہ ہیں سیدنا یوسف علیہ السلام، پاکیزہ باپ اور پاکیزہ دادے کی پاکیزہ اولاد، جن کے دل کی پاکیزگی کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بھائیوں کے بد ترین جرم کے بعد انہیں علیٰ الاعلان معاف کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کا قول نقل فرماتے ہیں کہ:
    ’’اس نے جواب دیا، “آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے‘‘
    (یوسف: 92)
    اسی طرح ہمارے نبی مکرم ﷺ، کہ جن کے دل کو اللہ تعالیٰ نے صاف اور نفس کو پاکیزہ بنا دیا تھا، جب آپ کی قوم نے آپ کو شدید ترین اذیت دی اور دعوت کے راستے کو روکنے کی کوشش کی تو آپ نے ان کا بدلہ عفو ودرگزر سے دیا اور اپنے دل کو صاف رکھا۔

    صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: وہ نبی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ جنہیں قوم نے مار کر زخمی کر دیا۔ وہ اپنے چہرے سے خون کو صاف کرتے ہوئے فرما رہے تھے: اے اللہ! میرے قوم کو معاف کر دے! وہ جانتے نہیں ہیں۔

    انبیاء کے بعد پاکیزہ ترین دلوں کے مالک صحابہ کرام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی صفت یوں بیان فرمائی ہے:
    ’’(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دارالحجرت میں مقیم تھے یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اِن کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دے دیا جائے اُس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘
    (الحشر: 9)

    غزوۂ احد میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کی ہمتوں کو بلند کرنا چاہا، چنانچہ انہیں جہاد کرنے کا حکم دیا اور نصرت کا وعدہ کیا۔ آپ نے ایک تلوار آگے بڑھا کر فرمایا: یہ تلوار مجھ سے کون لے گا۔ صحابہ کرام نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر کہنے لگے: میں… میں… ۔ پھر آپ نے فرمایا: اس تلوار کو لے اس کا حق کون ادا کرے گا؟ یہ سن کر صحابہ کرام نے ہاتھ پیچھے کر لیے، مگر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور کہنے لگے: میں اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کروں گا۔ پھر انہوں نے تلوار کو لیا اور اس کے ساتھ بہت سے مشرکین کی گردنیں اتار دیں۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
    جب ان کی وفات کا وقت ہوا تو ان کا چہرہ چمک رہا تھا۔ ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے اللہ اور اسکے رسول کی نصرت کے شاندار کارناموں میں سے ایک کسی کارنامے کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ فرمایا: میرے اعمال میں کوئی ایسا عمل نہیں ہے کہ جس پر مجھے مکمل شرح صدر ہو سوائے دو اعمال کے۔ ایک یہ کہ میں کسی ایسے معاملے میں نہیں بولتا تھا کہ جس میں میرا کوئی کام نہ ہو اور دوسرا یہ کہ میرا دل مسلمانوں کے لیے بالکل صاف تھا۔

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے نزدیک افضلیت کا معیار کیا تھا۔ ان کے ہاں افضلیت کا معیار زیادہ اور متنوع عبادت نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی تھا۔

    ایاس بن معاویہ علیہ رحمۃ اللہ صحابہ کرام کی صفت یوں بیان کرتے ہیں: ان کے نزدیک پاکیزہ ترین دل رکھنے والا اور سب سے کم غیبت کرنے والا ہی افضل ترین تھا۔

    صحابہ کرام کے دور میں دل کی پاکیزگی کو صرف مردوں کے ساتھ مختص نہیں کیا جاتا تھا۔ بلکہ اس دور کی عورتیں بھی اس اخلاق کو اپناتی تھیں۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ پھیلایا گیا تو سیدہ خود فرماتی ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے متعلق زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھتے تھے۔ سوتن ہونے کی وجہ سے میری ان کے ساتھ لگتی تھی۔ آپ نے ان سے پوچھا: زینب! تجھے کیا معلوم ہے؟ یا تم نے کیا دیکھا؟ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے کان اور آنکھ کی حفاظت کرتی ہوں۔ مجھے اس کے متعلق اچھائی ہی معلوم ہے۔ اسے امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں روایت کیا ہے۔

    مستدرک امام حاکم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ جب ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے مجھے بلا کر کہا: ہمارے درمیان وہ معاملات رہے ہیں جو سوتنوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ اللہ ان ساری چیزوں کو معاف فرمائے۔ میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔ سیدہ نے کہا: اللہ آپ کو خوش رکھے! یہ سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی یہی پیغام بھیجا۔

    اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    ہمارے بزرگ اور سلف صالحین اپنے دل کو صاف رکھنے اور سینے کو پاک رکھنے کا بڑا اہتمام کرتے تھے۔
    امام احمد علیہ رحمۃ اللہ کے متعلق آتا ہے کہ ایک رات ان کے پاس الحسن بن عبد اللہ خُرَقِی رہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ امام صاحب صبح تک روتے رہے۔ صبح میں نے ان سے کہا: رات آپ بہت زیادہ روتے رہے۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ امام صاحب نے فرمایا: مجھے یاد آیا کہ معتصم نے مجھے بہت مارا پیٹا تھا۔ پھر قرآن پڑھتے پڑھتے میرے سامنے سے یہ آیت گزری کہ:
    ’’برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے‘‘
    (الشوریٰ: 40)
    یہ آیت پڑھ کر میں نے سجدہ کیا اور معتصم کو معاف کر دیا۔
    امام صاحب فرمایا کرتے تھے: معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ اگر آپ کا بھائی آپ کی وجہ سے عذاب میں رہے تو اس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟ اسے معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ تاکہ اللہ بھی آپ کو معاف کردے جیسا کہ اس نے آپ سے وعدہ کیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ کرتے تھے:
    ’’انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے‘‘
    (النور: 22)

    ابن القیم علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: دل کی سلامتی اور عفو درگزر کے معاملے میں، میں نے ابن تیمیہ علیہ رحمۃ اللہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ ان کے ایک شاگرد نے بڑی خوشی انہیں ایک بدترین دشمن کی موت کی خبر سنائی۔ انہوں نے اس کو ڈانٹا اور کہا: اتنی خوشی سے ایک مسلمان کی موت کی خبر سنا رہے ہو؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پھر فورا ہی وہ اٹھے۔ میت کے گھر والوں کے پاس گئے۔ تعزیت کی اور کہا: میں آپ کے لئے آپ کے والد کی جگہ پر ہوں۔

    اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    اسلامی شریعت میں دل کے صاف ہونے، سینے کے پاکیزہ ہونے اور صفوں کے درست ہونے پر بڑا زور دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے صفیں درست کرنے کی تاکید فرماتے۔ ایک مرتبہ فرمایا:
    اللہ کے بندو! صفیں درست کرلو، ورنہ اللہ تعالیٰ آپ کے دلوں کو پھیر دے گا۔
    امام نووی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: یعنی: اگر صفیں درست نہ کرو گے تو تمہارے درمیان بغض، عداوت اور دشمنی پیدا ہوجائے گی۔
    اسی طرح صحیح مسلم کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور اس کی منگنی کے بعد رشتے کا پیغام نہ بھیجے۔

    یہ سارے احکام اسی لیے نازل ہوئے ہیں تاکہ لوگوں کے دلوں کی پاکیزگی کو یقینی بنایا جائے۔ انسان کو اللہ تعالی کی مغفرت بھی تب ہی نصیب ہوتی ہے جب اس کا دل صاف ہو۔ تو اے اللہ کے بندے! اپنے دل کو صاف کر لو تاکہ تمہارے گناہ معاف ہو جائیں۔

    صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو معاف فرما دیتا ہے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، سوائے ان لوگوں کے کہ جن کا آپس میں کوئی جھگڑا ہو۔ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان کا معاملہ ابھی موخر کر دو، جب تک یہ صلح نہ کر لیں۔

    اللہ کے بندو! بیمار دل کی پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی ایک خاص نعمت اور عظیم احسان ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسا مستحکم معاشرہ سامنے آتا ہے کہ جس پر مشکلات کے طوفان اور بڑے بڑے فتنے کچھ اثر نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد ان کے شامل حال ہو جاتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
    ’’وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید کی (62) اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے‘‘
    (الانفال 62 63)

    فتح القدیر کے مصنف لکھتے: دل کی سلامتی اسباب نصرت میں سے ہے۔ اسی کی بدولت اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ کو نصرت عطا فرمائی تھی۔
    اے امت اسلام!
    پاکیزہ دلوں کے مالک اپنے پاکیزہ دلوں کی وجہ سے اُس مقام اور مرتبے تک پہنچ جاتے ہیں کہ جس تک روزہ دار اور تہجد گذار اپنے روزوں اور نمازوں سے بھی نہیں پہنچ پاتے۔
    امام احمد نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایک جنتی اندر آئے گا۔ پھر ایک شخص داخل ہوا جس کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا۔ اگلے دن پھر رسول اللہ ﷺ نے یوں ہی فرمایا اور وہی شخص دوبارہ داخل ہوا۔ تیسرے دن پھر ایسا ہی ہوا۔
    پر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شخص کے ساتھ گھر چلے گئے، مگر انہوں نے اسے بہت زیادہ نماز پڑھنے والا آیا بہت روزے رکھنے والا نہ پایا۔ آخر انھوں نے اس سے پوچھ ہی لیا تو اس نے کہا: میری عبادت تو اتنی ہی ہے جتنی آپ نے دیکھ لی ہے، مگر میں کسی مسلمان کے بارے میں اپنے دل میں کوئی بغض نہیں رکھتا اور نہ کسی نعمت کی وجہ سے اس سے حسد ہی کرتا ہوں۔ اس پر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: یہی چیز تجھے جنت لے گئی اور ہم اسے برداشت نہ کر پائے۔

    جب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ بہترین لوگ کون ہیں تو آپ نے بتایا کہ افضل ترین لوگ پاکیزہ دل والے ہیں کہ جن کے دل میں نہ شرک ہوتا ہے، نہ کینہ اور نہ حسد ہوتا ہے۔

    عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ لوگوں میں افضل ترین کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: پاکیزہ دل والے اور سچی زبان والے۔ لوگوں نے کہا: سچی زبان والے کو تو ہم پہچانتے ہیں۔ پاکیزہ دل والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ پرہیز گار اور صاف دل رکھنے والا کہ جس میں نہ کوئی گناہ ہو، نہ زیادتی، نہ کینہ اور نہ حسد۔ اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
    چونکہ دل کی کدورتیں، کینہ اور حسد بدبختی کا سبب بنتے ہیں، اس لیے اللہ تعالی نے اہل جنت کو ان برائیوں سے پاکیزہ فرما دیا ہے۔ اگر انسان کو دنیا میں بھی دل کی پاکی نصیب ہو جائے تو اسے جان لینا چاہیے کہ اسے جنت کی ایک نعمت دنیا ہی میں مل گئی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
    ’’اُن کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے‘‘
    (الحجر 47)
    صحیح بخاری کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا وہ چودھویں کے چاند جیسا خوبصورت ہوگا، اس کے بعد والا گروہ آسمان کے روشن ترین اور خوبصورت ترین ستاروں جیسا ہوگا۔ ان سب کے دل بالکل صاف ہوں گے۔ بغض اور حسد سے مکمل طور پر پاک ہوں گے۔

    یونس صَدَفِی علیہ رحمۃ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے امام شافعی جیسا سمجھ دار شخص کبھی نہیں دیکھا۔ ایک دن میں نے کسی مسئلے میں ان کے ساتھ بحث کی۔ اگلے دن جب ہم ملے تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے ابو موسی! کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم کسی مسئلے میں اختلاف رکھنے کے باوجود بھی بھائی بھائی رہیں؟

    ابن سماک علیہ رحمۃ اللہ کے ساتھ کسی شخص کا جھگڑا ہوگیا۔ اس شخص نے کہا: میرا اور آپ کا وعدہ کل کا ہے۔ ہم کل لڑیں گے۔ اس پر ابن سماک علیہ رحمۃ اللہ نے کہا: بلکہ کل ایک دوسرے کو معاف کریں گے۔

    جی ہاں! اللہ کے بندو! ہمیں دل پاکیزہ کرنے اور سینوں کو سلامت رکھنے کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ غم اور پریشانیوں سے نجات کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو صاف رکھے۔ جب کسی کی کوئی برائی دیکھے تو اس سے صرف نظر کر لے۔

    عثمان بن زائدہ علیہ رحمۃ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد علیہ رحمۃ اللہ سے کہا: عافیت کے دس حصے ہیں، جن میں سے نو حصے لوگوں کی کمزوریوں سے صرف نظر پر مشتمل ہیں۔ اس پر امام احمد نے فرمایا: بلکہ عافیت کے دس حصے ہیں اور دس کے دس حصے دوسروں کی کمزوریوں سے صرف نظر پر مشتمل ہیں۔

    مسلمان جب اپنے بھائی کی نعمت دیکھتا ہے تو یہ دعا کرتا ہے: کہ اے اللہ! اگر آج مجھے، یا تیری مخلوق میں سے کسی کو کوئی نعمت نصیب ہوئی ہے تو وہ صرف اور صرف تیری طرف ہی سے ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ ساری تعریف اور سارا شکر تیرے لیے ہی ہے۔
    اگر وہ کسی کو کسی مصیبت میں مبتلا دیکھتا ہے تو وہ اس کے لیے افسوس کرتا ہے، اس کی درد کے لیے پریشان ہوتا اور اس کے لیے دعا کرتا ہے۔ پھر اس کی مدد کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اس طرح مسلمان پاکیزہ دل کے ساتھ جیتا ہے، اس کا دل سلامت رہتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی رہتا ہے، آخرت میں وہ اللہ کے عذاب سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ قیامت کے دن بہی دل کی سلامتی کے بغیر نجات نہیں ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو‘‘
    (شعراء: 88-89)

    فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’جو اِن اگلوں کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے‘‘
    (حشر: 10)

    اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے! سنت سید المرسلین سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگیے۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    الحمد للہ! اللہ تعالیٰ کے لیے بے انتہا، پاکیزہ اور بابرکت تعریف ہے۔ ویسی تعریف جو اس کی جلالت، عظمت اور کمال کے لائق ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، آپ کے نقش قدم پر چلنے والوں پر اور آپ کے پیروکاروں پر۔

    بعد ازاں! اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    دل کی پاکیزگی نیکی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ مسلمان کو زیب دیتا ہے کہ وہ اس معاملے کو خاص توجہ دے۔ خاص طور پر ان دنوں میں کہ جب ہم رمضان المبارک کے دروازوں پر ہیں۔

    نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ روزہ دلوں کی کدورتیں دور کرتا ہے۔ اس کی بدولت نفس عفو ودرگزر اور معافی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

    ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صبر کے مہینے، یعنی رمضان کے مہینے کے روزے اور ہر ماہ کے تین دنون کے روزے پورے سال کے روزوں کے برابر ہیں۔ ان سے دلوں کی کدورتیں دور ہوتی ہیں۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: دل کی کدورتیں کیا ہوتی ہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: شیطان کی گندگی۔
    دل کو صاف رکھنے میں معاون چیزوں میں سر فہرست اخلاص ہے۔ پھر مسلمان حکمرانوں کی اطاعت اور پھر مسلمانوں کی جماعت سے جڑے رہنا۔

    مسند امام احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزوں میں کسی مؤمن کا دل خیانت نہیں کرتا۔ ایک ہر کام کو اللہ تعالیٰ کے لیے مکمل اخلاص کے ساتھ کرنا، دوسری حکمرانوں کی اطاعت کرنا اور تیسری مسلمان جماعت سے ملے رہنا، کیونکہ انہی کی دعا اسے بچائے رکھتی ہے۔

    دل کو صاف رکھنے میں یہ بھی شامل ہے کہ کتاب اللہ کی طرف توجہ کی جائے۔ اس کی تلاوت کی جائے۔ اسے یاد کیا جائے۔ اس کی تفسیر سیکھی جائے اور اس پر غور وفکر کیا جائے۔ انسان جتنا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو گا اتنا ہی اس کا دل پاکیزہ اور صاف اور کا سینہ پاک رہے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے‘‘
    (یونس: 57)

    اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    اللہ تعالی نے آپ کو ایک حکم دیا ہے کہ جس کی ابتداء میں اس نے اپنا ذکر کیا ہے۔ فرمایا:
    ’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘
    (الاحزاب: 56)
    اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
    اے اللہ! خلفائے راشدین، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، تمام صحابہ کرام، تابعین عظام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا خاص فضل وکرم اور احسان فرمان کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا فرما! دین کی حدود کی حفاظت فرما! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن وسلامتی والا بنا۔
    اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال کو درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال کو درست فرما!
    اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اپنے فضل وکرم اور احسان کے ساتھ مسلمان ممالک کو ہر برائے سے محفوظ فرما! اے اللہ! سرزمین حرمین کی حفاظت فرما! اے اللہ! تو اس کی نگہبانی فرما! اس کی حفاظت فرما! اے اللہ! اے ارحم الراحمین! اس کا امن، سلامتی اور سکون وچین ہمیشہ کے لیے باقی فرما!
    اے اللہ! جو ہمارے بارے میں یا مسلمان ممالک کے بارے میں کوئی برا اردہ رکھے، یا اللہ! تو اس کی چالوں میں ہی اسے ہلاک فرما! اے قوت اور عزت والے! اے ذا الجلال والاکرام!
    اے اللہ! خادم حرمین کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرما! اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔
    اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! سرحدوں میں ہمارے جوانوں کی حفاظت فرما! اے اللہ! ان کی تائید فرما! ان کی حفاظت فرما!
    اے اللہ! اے ارحم الراحمین! اپنا فضل وکرم اور رحمت فرما کر زندہ اور مردہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں، مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو معاف فرما۔
    ’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے‘‘
    (الحشر: 10)
    ’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘
    (الاعراف: 23)
    ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘
    (البقرۃ: 201)
    ’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے‘‘
    (الصافات: 180-182)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیراسسٹر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    507
    وایاک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا سس!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں