خطبہ حرم مکی تعصب سے بچیے۔ خطبہ جمعہ بیت اللہ از ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید 25 شعبان 1439ھ

سیما آفتاب نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 13, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    415
    مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید
    جمعۃ المبارک 25 شعبان 1439ھ بمطابق 11 مئی 2018
    عنوان: تعصب سے بچیے۔ خطبہ جمعہ بیت اللہ
    ترجمہ: عاطف الیاس
    بشکریہ: کتاب حکمت ویب

    پہلا خطبہ:
    الحمد للہ! میں شکر گزاوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ وہ پاکیزہ ہے، اسی کے لیے ساری تعریف ہے۔ اس کی نعمتوں کو کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ اس کی عطائیں فراواں اور نعمتیں بے شمار ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی گواہی کی بدولت میں روزِ جزا نجات کی امید رکھتا ہوں ۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی بہترین ثنا اور اس کا بہترین ذکر کرنے والے تھے۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے پاکیزہ گھر والوں پر، دین کے سپاہی، روشن پیشانیوں والے مبارک صحابہ پر ، تابعین پر اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے نیک لوگوں پر۔

    بعدازاں!
    لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو اور تکلف نہ کرو۔ تکلف یہ ہے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کے متعلق بھی بات کی جائے، بڑوں کا مقابلہ کیا جائے، ناممکن چیزوں تک پہنچنے کی تمنا رکھی جائے اور غیر متعلقہ امور میں بھی دخل دیا جائے۔ جو غیر متعلقہ چیزوں میں دخل دیتا ہے، اسے ناپسندیدہ چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لا یعنی قسم کی چیزوں میں مصروف رہنا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی علامت ہے۔

    اگر آپ کا کسی کے ساتھ اختلاف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب اس کی بے عزتی کرنا، غیبت کرنا اور قطع تعلقی کرنا آپ لیے جائز ہو گئی ہے۔
    دانشمند فرماتے ہیں: رائے ایک دوسرے کے سامنے پیش کرنے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے اور نظریے ایک دوسرے کو بتانے کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ دوسروں پر لاگو کرنے کے لیے۔
    اسی لیے علمائے کرام نے آدابِ اختلاف اور خلافِ آداب میں فرق کیا ہے۔ چنانچہ، اللہ کے بندو! سعادت مند وہ ہے کہ جو قناعت اپنا کر دوسروں سے بے نیاز، تواضع اختیار کر کے غنی اور اچھے اخلاق پر عمل کر کے عظیم بن جائے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’(اے نبیؐ) اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں‘‘ (صٰ: 86)

    اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    ایک خطرناک بیماری، جو انسانوں میں روحِ انسانیت کا خاتمہ کر دیتی ہے، جو لوگوں کو بھی متاثر کرتی اور معاشروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ جب یہ پھیل جاتی ہے تو معاشروں میں بڑی تباہی مچاتی ہے اور لوگوں کو خوب نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ بیماری کسی پڑھے لکھے اور ان پڑھ میں فرق نہیں کرتی ہے، کسی مہذب اور غیر مہذب کو نہیں جانتی اور نہ کسی دین دار اور غیر دین دار کو پہچانتی ہے۔ یہ تکبر کا ایک بڑا ذریعہ ہے، لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کرنے اور زمین میں فساد پھیلانے کا راستہ ہے۔

    اللہ کے بندو! یہ بیماری تعصب کی بیماری ہے۔ یہ جاہلیت کی رسم ہے اور اسی کا طریقہ ہے۔

    تعصب میں مبالغہ آرائی بھی ہوتی ہے اور انتہا پسندی بھی، نفرتیں بھی ہوتی ہیں اور تفرقہ بھی، گمراہی بھی اور بغض بھی۔ اس کی وجہ سے انسان حق، عدل اور حقیقت پسندی کے خلاف جانے والی چیزوں کی پیروی کرنے لگتا ہے۔
    تعصب اندھے جذبات، بے لگام جوش، بے بنیاد تصورات اور دوسروں کی تحقیر پر مشتمل ہوتا ہے۔
    تعصب میں انسان مکمل طور پر دوسروں کا پیروکار بن جاتا ہے اور سمجھ بوجھ کے بغیر اپنی جماعت، فرقہ، گروہ، قبیلہ، خاندان یا نسل کا ساتھ دینے لگتا ہے۔

    حقیقت میں تعصب باہمی تعلقات، افکار اور اقدار پر ضرورت سے زیادہ زور دینے، کسی قسم کی نرمی، سمجھنے سمجھانے کی گنجائش اور نصیحت کی جگہ نہ چھوڑنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
    تعصب کی بنیاد معاشرے کے مختلف طبقات کے متعلق خود ساختہ تصورات ہیں، چاہے وہ طبقات دینی بنیادوں پر بنائے جائیں، نسلی بنیادوں پر، مذہبی بنیادوں پر، قبیلہ، فکر، علاقہ یا کھیل کی ٹیموں کی بنیاد پر ہی بنائے جائیں۔

    اسلامی معاشرے کے لوگو!
    تعصب یہ ہے کہ خواہشات، تعلقات اور دیگر چیزوں کی بنا پر حق کے واضح دلائل دیکھنے کے باوجود اس کا انکار کر دیا جائے۔
    تعصب باطل کا دفاع ہے۔ تعصب کرنے والا خود کو ہمیشہ حق پر سمجھتا ہے چاہے اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت نہ بھی ہو، اور دوسروں کو ہمیشہ غلط ہی سمجھتا ہے چاہے دلیل اور حجت ان کی تائید ہی کیوں نہ کر رہی ہو۔
    ہٹ دھرمی، انفرادیت، ضرورت سے زیادہ سختی، مخالفت اور دوسروں کو قبول کرنے سے انکار، سب تعصب کی پیداوار ہیں اور سب ہی انسان میں نفرت اور بغض پیدا کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے اجتماعیت، بھائی چارہ، مشکلات کے حل، تعمیر، ترقی اور تعاون کے مواقع بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ کسی شخص میں تعصب کے ساتھ ساتھ چشم پوشی، کشادگی اور دوسروں کی عزت کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتی۔

    پیارے بھائیو!
    تعصب ایسی مہلک بیماری ہے جو انسان کو اندھی تقلید اور ہٹ دھرمی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ انسان کی نظروں پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے جس سے وہ حق کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ہر جدید اور مفید چیزوں کو اپنانے میں عار محسوس کرتا ہے، اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔
    دانشور کہتے ہیں: تعصب ایک خفیہ دشمن ہے۔ اکثر لوگوں کو اس کے خطرے کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔

    عصبیت ایک مہلک نعرہ ہے جو انسان کے دل میں پلتا رہتا ہے۔ اگر معاشرہ اسے قبول کر لے تو چھوٹا اسی پر پلتا ہے، بوڑھا اسی پر مرتا ہے اور معاشرے کے تمام خواتین وحضرات اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ معاشرتی تعلقات پاش پاش کر دیتا ہے، وحدت اور اخوت کی روح کو ختم کر دیتا ہے، منافقت اور تفرقہ پھیلا دیتا ہے، محنتیں ضائع کر دیتا ہے، طاقتور کو کمزور بنا دیتا ہے اور بنا بنایا معاشرہ تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔

    کیا اس سے برا بھی ہو گا، جو اپنی قوم کے برے لوگوں کو دوسروں کے اچھے لوگوں سے بھی اچھا سمجھنے لگے؟!
    تعصب لوگوں میں فرق کرنا، طرف داری کرنا اور لوگوں کو مختلف گروہوں میں بانٹنا سکھاتا ہے۔ تعصب عقل اور آنکھ پر ایسی پٹی باندھ دیتا ہے کہ پھر حق پہچاننا ناممکن ہو جاتا ہے، بلکہ حق کی جستجو کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس میں مبتلا شخص کو بھلائی اور برائی کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔

    اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    تعصب کی بہت سی شکلیں ہیں۔ جن میں دوسروں کو کم تر سمجھنا، ان کی تحقیر کرنا، ان کے حقوق کا اعتراف نہ کرنا شامل ہیں۔
    تعصب کی واضح ترین شکلوں میں سے ایک شکل یہ ہے کہ تعلقات کو قابلیت پر ترجیح دی جائے۔ تعصب کبھی تو باتوں میں نظر آتا ہے، کبھی اس سے بڑھ کر تعامل اور قطع تعلقی کی شکل میں بھی دکھائی دیتا ہے، پھر انفرادی اور اجتماعی بائیکاٹ کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور پھر مار پیٹ یا، اللہ معاف فرمائے، قتل وغارت تک پہنچ سکتا ہے۔
    اللہ کے بندو!
    عصبیت پرستی کئی مرتبہ سیاسی نعروں یا عقیدہ کے شعاروں کے پیچھے چھپتی ہے اور کبھی دینی دعووں کی آڑ میں آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں فرقہ واریت جنم لیتی ہے اور گروہ بندی وجود میں آتی ہے اور پھر امت بکھر جاتی ہے۔
    جب تعصب حد سے بڑھنے لگتا ہے تو یہ لوگوں کو گروہوں شکل میں بانٹ دیتا ہے، ان کے جتھے بنا دیتا ہے، دشمنیاں پیدا کر دیتا ہے اور قتل وغارت کی طرف لے جاتا ہے۔ کبھی اس کی وجہ سے گروہ کے گروہ مار دیے جاتے ہیں، کبھی لوگوں کو بے گھر کر دیا جاتا ہے، ہجرت پر مجبور کر دیا جاتا ہے یا ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔
    تعصب کی وجہ سے انسان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسروں کو گندا کرنے لگتا ہے اور ان کی باتوں کی غلط تشریح کرنے لگتا ہے۔

    بھائیو!
    تعصب کی برائی اور اس کے نقصانات تاریخ کے صفحات میں رقم ہیں۔ تمام انبیاء اور مصلحین کو دعوت کے راستے میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سب رکاوٹوں کا حقیقی محرک تعصب ہی تھا۔
    رکاوٹیں ڈالنے والوں کے سردار فرعون نے کہا تھا:
    ’’میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور میں اُسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے‘‘
    (غافر: 29)
    تعصب کی وجہ سے لوگوں کو قتل کیا گیا، ان کے حقوق ضائع ہو گئے اور ظلم وزیادتی عام ہو گئی۔
    تعصب کی وجہ سے امت کی توانائیاں ضائع ہوتی ہیں، بلکہ تعمیر وترقی کے عمل میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر ترقی کے منصوبوں میں بھی تعصب آ جائے تو پھر تعمیر وترقی پر فاتحہ پڑھ لیجیے۔ چاہے یہ ترقی معاشی ہو، سیاسی ہو، تعلیمی ہو ، اداروں کی ہو، ثقافتی ہو یا دینی۔

    اے میرے پیارو!
    بعض لوگ اپنا کوئی عیب چھپانے کے لیے، یا اپنے نفس، تجربے اور مہارت میں کسی کمی کو پورا کرنے کے لیے، یا محض فخر اور غرور کرنے کے لیے تعصب کی راہ اپنا لیتے ہیں۔ بعض لوگ تعصب کی بنا پر چند کتابیں یا مضامین لکھ کر، یا چند نسلی، مذہبی، علاقائی، قبائلی یا فکری جماعتیں، گروہ یا ادارے بنا کر دینی، سیاسی یا ثقافتی حلقوں میں اپنا اثر رسوخ جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اے مسلمانو!
    بیماری کے علاج کا اور معاشرے کو اس کے اثرات سے بچانے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرض کی تشخیص کی جائے۔
    اسی لیے، اللہ کے بندو! تعصب کے اسباب اور اس کی محرکات کو تلاش کرنا ضروری ہے۔
    اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اس کے اسباب میں عصبیت پرستی کے شکار معاشرے میں تربیت پانا سر فہرست ہے۔ عصبیت پرست معاشرہ عصبیت پرست لوگ ہی پیدا کرے گا جو ظلم وزیادتی، جھگڑے اور فساد ہی برپا کریں گے۔ انسان عصبیت پرستی پر پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اسے تربیت، تقلید اور معاشرے سے سیکھتا ہے۔
    تعصب کے اسباب میں عدل وانصاف، مساوات اور اخلاص جیسے عظیم اخلاق کا فقدان ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جہاں عظیم اخلاق نہ ہوں کے وہاں شدت پسندی، بغض، اپنی جماعت اور اپنے گروہ کے لیے تعصب ہی ہو گا۔
    اسی طرح تعصب کے اسباب میں علماء، مذہبی پیشواؤں، سرداروں اور معاشرے کے معزز لوگوں میں غلو ہے۔
    ایک بڑی وجہ مذہبی گروہ بندی، نسلی نعروں اور علاقائی تفریق کی موجودگی ہے۔ جہاں تفریق موجود ہو گی وہاں کینہ اور نفرت تو پھیل ہی جائیں گے، خاص طور پر اس وقت کہ جب لوگ ایسے قصے اور کہانیاں نکال لائیں کہ جنہیں وقت نے مٹا دیا ہے اور جب وہ حقیقت تھیں، اس وقت بھی وہ کوئی قابل تعریف چیز نہیں تھیں۔ اب، کہ جب وقت کے ساتھ لوگ ان کہانیوں کو بھول گئے ہیں تو ان فسادیوں کو اپنی عقل کا ماتم کرنا چاہیے جو انہیں پھر زندہ کرنا چاہتے ہیں، بلکہ وہ اس بھیانک ماضی کی بنیاد پر اپنے حال کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
    ایسے رویوں کی وجہ سے امت کی توانائیاں ضائع ہوتی ہیں، تفرقہ پھیلتا ہے، اہداف سے غفلت نظر آتی اور نتیجے میں عصبیت پرستی کی بڑھتی گرمی، انتہا پسند پر مبنی سوچ، اور مبالغہ آرائی پر مبنی افکار کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا۔ اس طرح معاشرہ رحمت، اخوت اور پیار سے محروم ہو جاتا ہے۔
    اس طرح امت کی ہوا اکھڑ جاتی ہے، دشمن جرات کرنے لگتے ہیں اور ان کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں۔ پھر وہ جہاں سے چاہیں، ہمارے معاشرے میں داخل ہو کر دین پر حملے کریں، اس کی حیثیت گھٹائیں، ملک کی برکتیں لوٹیں اور اس کی اجتماعیت کو پاش پاش کر کے امت کو بکھیر دیں۔
    افسوس! کہ اکثر ٹی وی چینلز چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے، اس آندھی کے ساتھ مڑ جاتے ہیں اور اسی ایجنڈے کو پیش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مذہبی اختلافات، قبائلی عصبیت، علاقائی اور گروہی تعصب اور فتنے بڑھ جاتے ہیں۔ افسوس کہ ان ذرائع ابلاغ کے پاس تاریخی حقائق کی کمی نہیں ہے کہ وہ مفید اور مثبت چیزوں سے لوگوں کی رہنمائی کر سکیں، مگر مذموم مقاصد کے حامل میڈیا کا یہی سامان ہے اور یہی اس کے سپاہی ہیں۔
    بھائیو!
    اس بیماری کا علاج یہ ہے کہ اپنی نسل کو رواداری، دوسروں کے حقوق کی حفاظت اور سب کے احترام پر تربیت دی جائے۔
    اسی طرح ایسا نظام بنایا جائے کہ جس سے تعصب کی روک تھام ہو سکے اور ایسی پالیسی اپنائی جائے کہ جس کے ذریعے تمام لوگوں کو عدل کے ساتھ مکمل حقوق مل سکیں اور کسی گروہ کی برتری یا کمتری کی سوچ کا خاتمہ ہو سکے۔ اسی طرح گھرانے، مدرسے، مسجد اور میڈیا کے کردار کو خاص اہمیت دی جائے اور اس حوالے سے بھی منصوبہ بندی کی جائے۔
    یہ بھی خیال رہے کہ حق پرستی نہیں چھوڑنی چاہیے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا آنا چاہیے۔ حق کو حق ماننا اور اس کے مطابق عمل کرنا بھی سیکھ لینا چاہیے۔

    بعدازاں! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے!
    کیا رنگوں کے اختلاف نے بھی کبھی لوگوں کو ایک دوسرے سے بہتر بنایا ہے؟! کیا کسی ملک میں پیدا ہونے سے بھی کبھی کوئی دوسرے سے افضل ہوا ہے؟ کیا ایک ہی پیٹ سے نکلنے والے لوگ ایک دوسرے سے بہتر نسب والے ہو سکتے ہیں؟
    نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: جس کا عمل اس کا ساتھ نہ دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا۔
    اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے: ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگ تو اپنے اعمال کی بنا پر میرے قریب ہوں اور تم اپنے نسب ہی کی وجہ سے قریب ہو جاؤ۔ اسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی، سیدہ فاطمہ سے فرمایا: فاطمہ بنت محمد! میں تجھے اللہ سے نہیں بچا سکتا۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے نوح کو ان کے بیٹے کے متعلق فرمایا تھا:
    ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے‘‘
    (ہود: 46)
    اللہ کے بندو! عصبیت بس ایک خوش فہمی ہے، کم ہمت لوگ اس کا شکار رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے کارنامے کر رہے ہیں۔ ان کے موہوم کارناموں میں نہ کوئی محنت لگتی ہے، نہ کوئی مال لگتا ہے اور نہ ان کا کوئی پھل ہوتا ہے۔ انسان اپنا ذمہ دار ہے۔ بھلائی کرے گا تو آگے بڑھ جائے گا، برائی کرے گا تو پیچھے ہو جائے گا۔ تقویٰ کا لباس انسان کو بلند کرتا ہے اور وہی انسان کے لیے بہتر ہے۔
    نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: عصبیت کی طرف بلانے والا ہم میں سے نہیں ہے۔ عصبیت کی بنا پر لڑنے والا ہم میں سے نہیں ہے۔ عصبیت پر مرنے والا ہم سے نہیں ہے۔ اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
    دوسری حدیث میں آتا ہے: جو عصبیت کی طرف بلانے والے کسی اندھے جھنڈے تلے لڑتا ہوا یا عصبیت کی مدد کرتا ہوا مر جائے تو وہ جاہلیت کی لڑائی لڑتا ہوا مرے گا۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
    فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’کیا اُسے اُن باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰؑ کے صحیفوں۔ اور اُس ابراہیمؑ کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کر دیا؟ “یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے۔ اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی۔ اور اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی۔ اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے‘‘
    (النجم: 36-42)
    اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم اور نبی اکرم ﷺ کی سنت سے برکت عطا فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے، آپ کے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی معافی کی درخواست کرتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    الحمد للہ! اسی نے شکر گزاروں سے مزید عطا کا وعدہ فرمایا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں! وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی گواہی بدولت انسان کو حقیقی بادشاہ کے یہاں بہترین جگہ مل سکتی ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور قرآنی آیات اور سورتوں سے تائید پانے والے رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر، دین کی نصرت اور مدد کرنے والے صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

    بعد ازاں! اے مسلمانو!
    عصبیت یہ نہیں ہے کہ انسان اپنی قوم اور ملک سے پیار کرے۔ کسی قبیلہ کی طرف اپنی نسبت کرنا، اپنے مذہب کی طرف منسوب ہونا اور اپنے وطن سے پیار کرنا عصبیت نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے۔ اسی نے لوگوں کو گروہوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعارف کر سکیں۔ اسی نے لوگوں کے دلوں میں اپنے ملکوں اور شہروں کی محبت ڈالی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم راہ خدا میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کر دیے گئے ہیں‘‘
    (البقرۃ: 246)
    عصبیت یہ ہے کہ باطل کی حمایت کی جائے، حق کو جھٹلایا جائے، عدل سے ہٹا جائے، ظلم پر دوسروں کی تعریف کی جائے، ظالم کی مدد کی جائے، اپنے قبیلے، مذہب، فکر، اقدار، اور مٹی پر فخر کرتے ہوئے دوسروں کو حقیر سمجھا جائے۔
    عصبیت اور آباء واجداد کی اندھی تقلید ہی کی وجہ سے لوگ بری عادات وتقالید اپنائے رکھتے ہیں۔ عصبیت جتنی کم ہوتی ہے، لوگ اتنا ہی حکمت، عقل، عدل، سکون اور صحیح دیانت داری سے فیصلے کرنے لگتے ہیں۔
    عصبیت کا خاتمہ ہو جائے تو بہت سی لڑائیاں اور جھگڑے ویسے ہی ختم ہو جائیں اور معاشرہ مکمل امن، محبت اور اخوت کی زندگی گزاریں۔ معاشرے روشن خیالی کے کھوکھلے دعووں اور ندھی عصبیت سے نہیں بلکہ ہمیشہ خیر، بھلائی اور تقویٰ کی بنیاد پر ترقی کرتے ہیں۔
    اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ ایک بابرکت مہمان آنے والا ہے، جو خواہشات نفس کو لگام دے کر نفس کی تربیت کرتا ہے۔ جس میں انسان کی نیت کا امتحان ہوتا ہے۔ یہ نفس کو قابو میں رکھنا، اپنے اور لوگوں کے لیے بھلائی، خیر اور اچھائی کی خواہش کرنا سکھاتا ہے۔
    یہ ایک عظیم اور بابرکت مہمان اور عظیم نعمت ہے کہ جس کی قدر وہی مخلص کر سکتے ہیں کہ جو اسے نیکی سے بھر دیتے ہیں۔
    وہ شخص بڑا ہی خوش قسمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ رمضان تک زندگی عطا فرمائے، جو اس بابرکت موقع کو پا لے، اس کے عظیم فضل کو سمجھ لے اور اس میں نیک عمل کر لے۔ تو اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اگر اس مہینے کے استقبال کے لیے ہمت بلند کر لی جائے اور اس کے لیے خوب تیاری کی جائے تو ہی اس کا صحیح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
    رمضان المبارک کا مہینہ پاکیزہ اور بابرکت گھڑیوں کا مہینہ ہے، یہ گناہوں اور خطاؤں سے بچاؤ کا مہینہ ہے۔ یہ روزہ، نماز، قیام، ذکر، احسان، قرآن اور تسبیح کا مہینہ ہے۔
    ہمتیں تب ہی بلند ہوتی ہیں جب لوگ خواہشات نفس کو، من پسند چیزوں کو، آرام دہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ کیونکہ بلندیاں پانے کے لیے تھکنا تو پڑتا ہے اور جو عظیم اجر کا طالب ہو اسے اپنی قیمتی چیزوں کو قربان تو کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہمت نفس بلند ہو تو جسم کو تو تھکنا پڑتا ہے۔ جب انسان عقل کی پیچھے چلتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کو قابو میں کر لیتا ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ انسان کی نسبت جانوروں سے زیادہ قریب ہے۔
    سنو! اللہ سے ڈرو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اس مہمان کی خوب عزت کرو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور فرمان برداری کرو۔ توبہ کرنے اور اللہ کی طرف پلٹنے میں جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرنے کی کوشش کرو۔ استقامت کا پختہ عزم کرو، کیونکہ عین ممکن ہے کہ امیدیں پوری ہونے سے پہلے ہی انسان قبر میں پہنچ جائے۔
    اے نیکی کا ارادہ رکھنے والے! آگے بڑھ! اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! اب تو رک جا! اللہ تعالیٰ رمضان میں لوگوں کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرماتا ہے، تو تم بھی اللہ تعالیٰ کو اپنی بھلائی دکھاؤ۔
    درود وسلام بھیجو نبی ہدایت ، عظیم نعمت ، محمد رسول اللہ ﷺ پر۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں آپ کو یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا:
    ’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘
    (الاحزاب: 56)
    اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما اپنے پیارے بندے اور چنیدہ رسول محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی پاکیزہ آل پر اور امہات المؤمنین پر۔
    اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر کرم نوازی کرنے والے! خلفائے راشدین اربعہ، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا۔ تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، تابعین سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اپنا خاص فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکین کو رسوا فرما! سرکشوں، بے دینوں اور تمام دشمنان دین کو رسوا فرما!
    اے اللہ! اے پروردگار عالم! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ ڈرنے والے اور پرہیزگار ہوں۔
    اے اللہ! ہمارے حکمران کو توفیق عطا فرما! اپنی فرمان برداری سے اسے عزت عطا فرما! اس کے ذریعے اپنے کلمے کو بلند فرما! اسے اسلام اور مسلمانوں کا مدد گار بنا۔ اسے اور اس کے ولی عہد کو اور ان کے بھائیوں کو اور مدد گاروں کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ انہیں نیکی اور تقویٰ کی طرف لے جا۔
    اے اللہ! اے پروردگار عالم! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما! انہیں اپنے بندوں پر رحم کرنے والا بنا۔ ان کے ذریعے امت اسلامیہ کو حق، ہدایت اور سنت پر اکٹھا فرما!
    اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما! انہیں حق، ہدایت اور سنت پر اکٹھا فرما! ان کے نیک لوگوں کو ان کا حکمران بنا! انہیں برے لوگوں کی برائی سے محفوظ فرما! ان کے ملکوں میں امن، عدل اور سکون عام فرما! انہیں ظاہر اور باطن فتنوں کے شر سے محفوظ فرما!
    اے اللہ! ہمارے سپاہیوں کی مدد فرما! اے اللہ! ان سپاہیوں کی مدد فرما جو سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں ۔ اے اللہ! ان کی آرا درست فرما! ان کے نشانے درست فرما! ان کی ہمتیں بلند فرما! ان کے دلوں کو مضبوط فرما! انہیں ثابت قدمی نصیب فرما! ان کی تائید فرما! ان کی نصرت فرما! اے اللہ! انہیں آگے سے، پیچھے سے، دائیں جانب سے، بائیں جانب سے اور اوپر سے محفوظ فرما! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں کہ وہ نیچے سے ہلاک کر دیے جائیں۔ اے اللہ! ان کے شہدا پر رحم فرما! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما! ان کے گھر والوں اور بچوں کی حفاظت فرما۔ یقینًا! تو دعا سننے والا ہے۔
    اے اللہ! اے مؤمنوں کے ساتھی! اے کمزوروں کے مددگار! فلسطین، برما ، وسط افریقہ، لیبیا، عراق، یمن اور شام میں ہمارے بھائیوں کو ظلم اور زیادتی، بے گھری اور قتل وغارت کا سامنا ہے۔ اے اللہ! تو ان کی نصرت فرما! اے کمزوروں کے مددگار! اے مؤمنوں کے نجات دہندہ ! ان کے معاملات سنبھال لے! انہیں شر سے محفوظ فرما! ان کی مصیبت دور فرما! انہیں جلد امن وسلامتی نصیب فرما! انہیں ایک ہی لفظ پر اکٹھا فرما! اے اللہ! ہم ان کے لیے عظیم نصرت کا سوال کرتے ہیں، تو انہیں جلد نصرت، رحمت اور ثابت قدمی نصیب فرما!
    اے اللہ! ظالم سرکشوں کو، ان معاونون اور مددگاروں کو ہلاک فرما!اے اللہ! ان کی اجتماعیت پاش پاش فرما! انہیں بکھیر دے! انہیں ان ہی کی چالوں کی وجہ سے ہلاک فرما دے۔
    اے اللہ! صہیونی یہودیوں کو ہلاک فرما! اے اللہ! غاصب، حملہ آور صہیونی یہودیون کو ہلاک فرما! وہ تجھے عاجر کرنے والے نہیں ہیں۔ اے اللہ! ان پر اپنا وہ عذاب نازل فرما جو مجرموں سے دور نہیں رہتا۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
    اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما! ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی فرما! ہماری مشکلات آسان فرما! ہمارے مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبتیں دور فرما! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما اور ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما!
    ’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘
    (الاعراف: 23)
    ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘
    (البقرۃ: 201)
    ’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے‘‘
    (الصافات: 180-182)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 2
  2. Mohammad Sultan

    Mohammad Sultan نوآموز

    شمولیت:
    ‏مئی 14, 2018
    پیغامات:
    3
    جزاك الله خيراً،
    کیا اسکا آڈیو بھی ہوتا ہے جیسے مدینے کا ہوتا ہے؟
    اگر ہے تو براہ کرم اس کا لنک بھیجیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,268
    جزاکم اللہ خیرا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,179
    جزاکم اللہ خیرا
    یہ ادارہ حرمین شریفین کی نگرانی ہونے والے ترجمہ کی آڈیو ہے. یہاں سے سن سکتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  5. Mohammad Sultan

    Mohammad Sultan نوآموز

    شمولیت:
    ‏مئی 14, 2018
    پیغامات:
    3
    الله آپ کو جزائے خیر دے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,170
    جزاک اللہ خيرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    415
    وایاکم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں