حقیقی کامیابی قرآن و سنت سے عملی وابستگی میں پنہاں ہے

حافظ عبد الکریم نے 'متفرقات' میں ‏مئی 29, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    534
    حقیقی کامیابی قرآن و سنت سے عملی وابستگی میں پنہاں ہے
    تحریر:حافظ عبد الرشید عمری

    تلك حدود الله ومن يطع الله ورسوله يدخله جنات تجرى من تحتها الأنهار خالدين فيها و ذالك الفوز العظيم (النساء:١٣)
    یہ حدیں اللہ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔

    اللہ تعالٰی نے تلاوت قرآن کے کئی اہم مقاصد کے ساتھ دو اہم مقصد تدبر کے لئے (معانی ومفاہیم کے صحیح علم و ادراک کے لئے)اور تذکر کے لئے( نصیحت حاصل کرنے کے لئے ) حکم دیا ہے،
    سورہء ص میں اللہ نے فرمایا:
    کتاب أنزلناه إليك مبارك ليدبروا آياته و ليتذكر أولوا الألباب (ص:٢٩)
    یہ بابرکت کتاب جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں ۔اور یہ قرآن کتاب ہدایت ہے اور دنیاوی اور اخروی حیثیت سے سب سے زیادہ صحیح اور درست راستہ کی رہنمائی کرتا ہے،
    إن هذا القرآن يهدي للتي هي أقوم---الخ (الكهف :9)
    يقينا یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے ۔
    اور یہ قرآن ساری بنی نوع انس و جن کی ہدایت (رہنمائی) کا ذریعہ ہے
    اللہ نے سورہء بقرہ میں فرمایا:
    شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن هدى للناس و بينات
    من الهدى والفرقان...إلى آخر الآية (البقرة:١٨٥)

    ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں ۔
    لیکن اس کتاب ہدایت سے ہدایت یافتہ صرف وہی متقی لوگ ہوں گے جو خوف الہی اور اخروی جوابدہی سے سرشار ہو کر نیک اعمال کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے ۔
    ذالك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين(البقرة:٢)
    اس کتاب میں کوئی شک نہیں متقی لوگوں کو راہ دکھانے والی ہے ۔
    کئی صحیح احادیث میں بھی تلاوت قرآن کی فضیلت بیان کی گئی ہے
    ایک حدیث میں ہے:
    لا تجعلوا بيوتكم مقابر ، إن الشيطان ينفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة
    تم اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ یقینا اس گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے جس گھر میں سورہء بقرہ پڑھی جاتی ہے ۔
    ( صحيح مسلم ، حديث:212-(780) )
    (بحوالہ تفسیر احسن البیان ص:11)
    اور ایک حدیث میں ہے جس شخص کے پیٹ اور دل میں قرآن کا کچھ بھی حصہ محفوظ نہیں ہے وہ پیٹ اور دل ویران( غیر آباد ) گھر کی مانند ہے
    " إن الذي ليس في جوفه شيء من القرآن كالبيت الخرب ". " إن الذي ليس في جوفه شيء من القرآن كالبيت الخرب ".
    حكم الحديث: ضعيف
    سنن الترمذي في أبواب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب (2913) (35/5)
    اور صاحب تحفة الأحوذي شارح ترمذي اس حدیث کی شرح کے بعد امام ترمذی کے اس قول "ھذا حدیث حسن صحیح" کے بعد حدیث کی تخریج کے حوالے سے یہ کہتے ہیں ،
    وأخرجه أحمد والدارمي والحاكم و قال صحيح الإسناد.
    آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی ایمانی زندگی کا جائزہ لینے سے یہ بات بدیہی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ مسلمان عملی طور پر قرآن کی تعلیمات سے کافی دور ہوچکے ہیں،
    ماہر القادری رحمہ اللہ کی ایک معروف و مشہور نظم "قرآن کی فریاد" میں مسلمانوں کی قرآن سے عملی بے اعتنائی کی بہترین عکاسی کی گئی ہے،
    روز قیامت اللہ کے رسول اپنی امت کے خلاف قرآن کو مہجور بنانے(چھوڑنے)کی شکایت کریں گے ۔
    اللہ نے سورہء فرقان میں فرمایا:
    وقال الرسول يا رب إن قومى اتخذوا هذا القرآن مهجورا
    (الفرقان:٣٠)

    اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب بےشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ۔
    مشرکین قرآن پڑھے جانے کے وقت خوب شور کرتے تاکہ قرآن نہ سنا جاسکے،یہ بھی ہجران ہے، اس پر ایمان نہ لانا بھی ہجران ہے
    اس پر غور و فکر نہ کرنا اور اس کے اوامر پر عمل نہ کرنا اور نواہی سے اجتناب نہ کرنا بھی ہجران ہے اسی طرح اس کتاب کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کو ترجیح دینا بھی ہجران ہے
    یعنی قرآن کا ترک اور اس کا چھوڑ دینا ہے ۔
    (تفسیر احسن البیان)

    قرآن تاقیامت آنے والے انس و جن کے لئے سرچشمہء ہدایت ہے،
    اور حدیث بھی وحی الہی کی حیثیت سے قرآن ہی کی عملی تفسیر اور تشریح ہے،
    جو انسان بھی صرف کسی ایک کو ہدایت کے لئے کافی سمجھے گا وہ گمراہ ہوجائے گا ۔
    ہدایت کے لئے قرآن اور حدیث دونوں ہی لازم و ملزوم کی طرح از حد ضروری ہیں ۔

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
    إنى قد تركت فيكم أمرين ما إن اعتصمتم به فلن تضلوا أبدا كتاب الله وسنة نبيه
    رواه الحاكم
    (صحيح الترغيب والترهيب للالباني، الجزء الأول ،
    رقم الحدیث:٣٦)

    میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جسے مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔
    اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے ۔
    (اتباع سنت کے مسائل
    اقبال کیلانی صفحہ 61 )

    اسلامی تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے شخص پر بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن و سنت سے خذبہء ایمانی سے سرشار ہو کر عملی طور پر اپنا تعلق باقی رکھا اس وقت تک وہ دین و دنیا کے لحاظ سے پوری دنیا میں ایک فاتح اور رہنما قوم کی حیثیت سے زندگی گزارتے تھے
    ان کا ایمان بھی محفوظ تھا اور ان کی وسیع حکومت و سیادت بھی محفوظ تھی
    لیکن جب سے مسلمانوں کی عملی زندگی میں قرآن و سنت سے بے اعتنائی پائی جانے لگی اسی وقت سے ان کے عقیدہ اور ایمان میں بھی بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو گیا اور جب مسلمان عملی طور پر ایمان و عمل کے لحاظ سے کمزور ہو گئے اور شرکیہ کاموں ،بدعتوں اور گناہوں کے گہرے سمندر میں ڈوب گئے تو دنیاوی حکومت و سیادت بھی ان سے چھن گئی
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے قرآن و سنت سے اس طرح عملی طور پر اپنا رشتہ اور تعلق مضبوط رکھا کہ دنیا کا کوئی لالچ،کوئی مادی منفعت،کوئی محبت اور کوئی گہری دوستی وغیرہ بھی قرآن و سنت کے گہرے رشتے اور مضبوط تعلق میں رخنہ نہیں ڈال سکے،
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایمانی زندگی گزارنے والے مسلمانوں پر
    اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے منہ موڑ کر زندگی گزارنے والے مسلمانوں پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے

    وہ زمانے میں میں معزز تھے مسلماں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

    اللہ تعالٰی پوری دنیا کے مسلمانوں میں قرآن و سنت
    سے صحابہ کرام جیسا گہرا عملی رشتہ اور مضبوط تعلق پیدا فرمائے، آمین ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,169
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    534
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,268
    جزاکم اللہ خیرا!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں