رمضان کا چندہ بازار اور علماء کا لٹتاہوا وقار

ابو حسن نے 'متفرقات' میں ‏مئی 30, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    از قلم :رشید سلفی جامعۃالتوحید بھیونڈی

    رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مدارس وجامعات کے علماء ومدرسین سفراء کا روپ دھار لیتے ہیں۔رودادو رسيد، تصديقات وتوصیات سے لیس ہوکر عازم سفر ہوجاتے ہیں۔انجانے خوف, نہ معلوم خدشات اور موہوم وساوس کے قدم بہ قدم وہ بڑھتے چلےجاتے ہیں۔کوئی ایک منزل اور کوئی ایک ٹھکانہ نہیں ہوتا بلکہ جہاں شام ہوتی ہے وہیں چھاؤں ڈھونڈھ لیتے ہیں۔ایک مہینہ خانہ بدوشوں جیسی زندگی گزارتے ہیں۔نہ سحری کا بندو بست ہے اورنہ افطار کا ٹھکانہ۔نہ آرام کا خیال ہے اور نہ ہی کوئی پرسان حال ہے۔تقدیر کے رحم وکرم پر پورا مہینہ بھٹکنا ہی انکا مقدر ہے۔شاعر کہتا ہے۔

    ایک جگہ رکتے نہیں عاشق بدنام کہیں
    دن کہیں رات کہیں صبح کہیں شام کہیں

    یہ یک ماہی سفر مختلف نشیب وفراز اور سرد وگرم سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔بعض کی طرف سے حوصلہ افزا سلوک دیکھ کر انکی ڈھارس بندھتی ہے اور بعض کی طرف سے دل آزار جملے سن کر وہ خائف سے ہوجاتے ہیں۔بسا اوقات سنگدلی ،طوطا چشمی اور دلآزار رویے جان ہی نکال لیتے ہیں اور حساس قسم کا انسان دلبرداشتہ ہوکر رسید اور روداد کو دریابرد کرکے کسی اور میدان کا رخ کرنا ہی چاہتا ہیکہ اسے مدارس وجامعات کا المناک مستقبل یاد آجاتا ہے اور کچھ ذاتی مجبوریاں دامن گیر ہوجاتی ہیں۔کلیجے پر پتھر رکھ کر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔وہ سوچتا ہےاگر وہ چندہ نہیں کریگا تو مدرسے کا خرچ کہاں سے پورا ہوگا۔تنخواہیں کہاں سے آئینگی۔نونہالان قوم کیا کھائینگے۔مدرسہ پورا سال کیسے چلےگا۔دین کے یہ قلعے کیسے باقی رہینگے۔یہ خدشات ہیں جو شکست خوردہ عزائم کے تن مردہ میں جان ڈال دیتے ہیں۔وہ تذلیل آمیز سلوک کو برداشت کرلیتا ہے۔جلے کٹے جملے سن لیتا ہے اور اف تک نہیں کرتا۔پورا مہینہ احساس وعزت نفس کو بالائے طاق رکھ کر پتھر بن کر رہتاہے کوئی بھی آتا ہے اور کھری کھری سنا دیتا ہے کیونکہ وہ چند سو روپئے کی ایک عددرسید پھڑواتا ہے۔

    تصور کیجیے کیا گزرتی ہوگی جب کرسی پر بیٹھا ہوا سیٹھ عالم دین کو کھڑے کرکےسوالات کرتا ہے اور بڑی حقارت سے کہتا ہے جاؤ نیا چندہ نہیں دیتا،جاؤ ابھی حساب نہیں کیا ہوں،چلوچلو چندہ ختم ہوگیااتنا لیٹ کیوں آئے؟وہ جیسے داخل آفس ہوا تھا بس ویسے ہی الٹے قدم چلتا بنتا ہے۔بے چارہ آفس میں تھوڑا دم لینے کیلیے بیٹھ بھی نہیں سکتا کیونکہ بیٹھنے کو کہا ہی نہیں گیا۔وہ تھکا ہارا بھوکا پیاسا کسی اور دروازے کیطرف بڑھ رہا ہوتا ہے اس امید کیساتھ کہ آگے شاید کچھ رسیدیں کٹ جائیں لیکن پتہ یہ چلتا ہے کہ کانچ کے پیچھے بیٹھا ہوا سیٹھ خود پیغام بھجوارہا ہے کہ کہدو سیٹھ نہیں ہے بعد میں آؤ۔وہ روزہ دارعالم دین جسکے پیروں میں اب چلنے کی سکت نہیں ہے وہ پھر کوئی سایہ ڈھونڈنے لگ جاتا ہے جہاں وہ بعد میں آگے بڑھنے کیلیے تازہ دم ہوسکے۔

    پھر کیسے دل خون ہوتا ہے جب علماء کو آفسوں کے باہر قطاروں میں کھڑا رکھا جاتا ہے۔پوری دنیا علماء کی تذلیل کے تماشے دیکھ رہی ہوتی ہے اور آفس میں بیٹھا سیٹھ لمبی لائین دیکھ کر خوش ہورہا ہوتا ہیکہ آج دنیا کو پتہ چلے گا کہ میں کتنی زکوۃ بانٹتا ہوں اور کتنا سخی ہوں۔وہ جہلاء جنھیں پورے سال کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا آج اپنی نامراد حسرتوں کے پھول کھلتا ہوا دیکھتے ہیں تو جیسے ان پر نشہ طاری ہوجاتا ہےکیونکہ آج انکے آگے پیچھے علماء رسیدیں لے کر گھوم رہے ہیں اور بڑی شان بے نیازی سے لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ روزآنہ چار پانچ ہزار بس ایسے ہی چلا جاتا ہے۔

    اس طرح وارثین انبیاء ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتے ہیں اور ایک مہینے کی دلخراش اور روح فرسا صبح وشام کا سفر طے کرکےمدارس وجامعات کی نبض ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔قوم تو خوش ہیکہ مدرسے چل رہے ہیں۔کاروبار دین پھل پھول رہا ہے لیکن مدارس وجامعات کی بقا کیلیے وارثین انبیاء کس طرح اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ایک ایک پیسہ جوڑتے ہیں یہ پتہ بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے؟

    ایک بہت بڑی قربانی علماء کی یہ ہوتی ہے کہ پورا رمضان وہ عبادت وتلاوت کے مواقع سے محروم ہوتے ہیں۔چندہ دہندگان کے وقت کا پابند ہوکر انکو چلنا پڑتا ہے۔سو اور پچاس روپیے کیلیے مخیرین اپنے دکان کے کئی چکر لگواتے ہیں۔عبادت کیلیے یکسوئی چاہیے فراغت چاہیے لیکن چندے کے خار زار میں لمحات صبح وشام اسطرح الجھے ہوتے ہیں کہ دم مارنے کی فرصت نہیں بس جیسے تیسے یہ فرآئض سے عہدہ برآ ہوپاتے ہیں۔ اگر کوئی تن من دھن سے چندہ نہ کرے تو وہ ناکام مچند ٹھہرتا ہے اور مدرسے پر بوجھ قرار دیا جاتا ہے۔کارکردگی بہتر نہ ہونے کے سبب ملازمت سے بھی علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ایسے کتنے ہیں جو چاہت وصلاحیت کے باوجود پیشہ تدریس سے الگ ہیں کیونکہ وہ ایک اچھے مچند نہیں ہیں۔

    میں اس سے منکر نہیں کہ اس میدان میں دھاندلی یا خیانت نہیں ہے بلکہ بعض لوگ تو مفادات کے پیش نظر ہی چندہ کرتے ہیں اور چند پیسوں کے لیے ہر حد سے گزر جانا چاہتے ہیں ۔جھوٹ بولنا خوشامد کرنا,فیصد پر چندہ کرنا،جعلی رسید چھپوانااور کاغذی مدارس کیلیے چندہ کرنا انکا معمول بن گیا ہے۔ لیکن جولوگ ایسا کرتے ہیں انکی وجہ سے سب کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔ایک لاٹھی سے سب کو ہانکنانا انصافی ہے۔چند کرپٹ افراد کے سبب ہر کسی پر شک کی چھری چلاتے پھرنا ظلم ہے۔

    مچندین میں وہ شریف النفس علماء بھی ہوتے ہیں جو بصورت مجبوری چندہ کرتے ہیں۔چندہ کرتے ہوئے،روداد ورسیدکیساتھ لوگوں کے دروازے پر جوتے چٹخاتے ہوئے انکا دل کڑھ رہا ہوتا ہے ضمیر ملامت کررہا ہوتا ہے پورے سفرمیں احساس شرمندگی کے ساتھ ایک ایک رسید کاٹ رہے ہوتے ہیں لیکن مرتا کیا نہ کرتا،بادل نخواستہ سب کچھ گواراکرتے ہیں۔

    اگر پیشہ تدریس سے جڑا رہنا ہے۔تعلیم وتعلم کو مقصد زندگی بنائیے رکھنا ہے تو چندے کا بندہ بن کر رہنا ہوگا۔نہیں تو جائیے دروازہ کھلا ہے۔ایک عالم دین مدرسہ اور تعلیم وتعلم کی راہ سے کنارہ کش ہوکر کہاں جاییگا۔ہر کسی کیلیے دوسرے میدانوں میں مواقع اور امکانات نہیں ہواکرتے۔ہاں جن کے لیے مواقع ہموار ہوتے ہیں وہ مدرسہ چھوڑنے کے بعد پلٹ کر نهیں دیکھتے۔وہ ایسا بدظن ہوکرجاتے ہیں کہ زندگی بھر انکے دل و دماغ میں مدارس وجامعات کے خلاف زہر بھرا ہوتا ہے اوروہ گاہے بگاہ اسکا اظہار کرتے بھی رہتے ہیں۔لیکن وہ مجبور محض علماء کیا کریں جنکے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔کہاں جائیں کس کو اپنا غم سنائیں۔کون انکی مدد کرے گا کون انکی ڈھارس بندھانے گا۔سب کچھ نا گوار ہونے کے باوجود اپنے گھراور بچوں کی کفالت کیلیے انھیں بادل نا خواستہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔چندے کی تاریخ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہےکہ مدارس وجامعات کی بقاء کیلیے بصورت مجبوری اٹھایا گیا ایک ایسا قدم تھا جسکے علاوہ امت کے پاس کوئی چارہ کار نہ تھا۔آغازکار میں لوگوں میں جذبہ تھا شوق تھا تڑپ تھی اور شفاف طریقے سے سلسلہ چل رہا تھا لیکن مرور ایام کے ساتھ خرابیاں اور دھاندلیاں اور بیزاری آتی گئی اور اب تو معاملہ بہت ہی زیادہ فساد کا شکار ہوچکا ہے۔

    بد قسمتی سے اب ذلت ورسوائی کے اس کوچے میں آبلہ پا علماء ووارثین نبوت ہو رہے ہیں۔مدرسوں کے ذریعے پوری امت کے دینی وجود وتہذیبی شناخت کو بچانے کا ذمہ جیسے انکے ہی سر رکھا گیا ہو۔سوال یہ ہیکہ مولوی اگرچندے سے دستبردار ہوجائے تو کیا ہوگا؟ ٹھیک ہے مسجد ومدرسہ کی چاکری چھوڑنی پڑیگی تو کیا ہوا کیا دوسرے علماء اس سے دور رہکر نہیں جی رہے ہیں یا بھوکوں مرگئے؟

    دوسروں کی طرح اللہ نے انھیں بھی اعضاء و جوارح اور ایک عدد دماغ سے نوازا ہے جس کے ذریعہ یہ بھی اپنا رزق تلاش لینگے اپنے بچوں کا پیٹ پال لینگے۔قوم کو تو انکا زیر بار احسان ہونا چاہیے کہ انکی محنت اور کد وکاوش سے گاڑی چل رہی ہے خود ہی بچوں کو پورے سال تعلیم دیتے ہیں اور رمضان میں گداگری کرنے نکل پڑتے ہیں جو بھی جمع کرکے لاتے ہیں اس پر ناظم کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے اور اسی مولوی پر حکومت کرتا ہے جسکے کیے ہوئے چندے پر وہ ناظم بنا پھرتا ہے۔ہمارے قائدین کو اس مسئلے پر غور کرنا ہوگا۔اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تلاشنا ہوگا۔کہیں خرابیاں صورتحال کو مزید سنگین نہ بنا دیں۔

    مرکزی جمعیتوں کو آگے بڑھ کر اسکا کوئی متبادل پیداکرنا چاہیے۔یہ سچ ہیکہ وصولی کے اس منتشر انداز میں بہتوں کو فائدہ ہوگا اور مدرسوں کو بھی خطیر رقم مل جاتی ہے۔لیکن اس راستے کے کرپشن ،بدعنوانی اور علماء کو تذلیل سے بچانے کے ہی خاطر کچھ کیا جایے۔کیا اچھا لگتاہے یہ سن کر کہ جاہل سیٹھ ایک عالم دین کو سستے میں اپنی آفس اور دکان میں بے یار و مددگار پاکرطنز وتحقیر کے تیر برساتا ہے۔اور علماء خاموش خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے ہیں۔مچندین جب اپنے تلخ تجربات بتا رہے ہوتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اور یہ تحریر درحقیقت تکرار کے ساتھ ایسے ہی واقعات و احوال کو سن کر مجھے لکھنا پڑرہا ہے۔

    آخر مدارس وجامعات کی بقاء کیلیے تذلیل وتحقیر کی مسموم ہواوں کا سامنا علماء ہی کیوں کریں؟
    علماء ہی کیوں خوار ہوں؟
    کیاامت کی ذمے داری صرف مجبور ومظلوم علماء کا محاسبہ اور تذلیل ہے؟
    کیاقیامت تک علماء کو امت کی طرف سے زبانی ہمدردی اور صبر کی تلقین ہی ملے گی یا پھر عملا بھی پیش رفت ہوگی۔

    چندے کے بگڑتی صورتحال سے کب تک چشم پوشی کی جائیگی؟
    کیا یہ امت کا مسئلہ نہیں ہے؟ اور شاید نہ بھی ہو کیونکہ یہاں داؤ پر اہل علم کا وقار لگا ہوتاہے۔طبقہ علماء کی عزت وآبرو پامال ہوتی ہے۔اسلیے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    201
    یہ تلخ حقائق ہیں
    بے شک ان علماء اور چندہ جمع کرنے والوں کا احترم لازم ہے۔ کیونکہ جو رقم چندہ کے طور پر دی جاتی ہے وہ زیادہ تر مساجد کی تعمیر و مرمت اور مدارس کے کاموں میں خرچ کی جاتی ہے جن سے صدقات کی صورت آپ کی بلائیں بھی دور ہوتی ہیں اور رقم ایسے نیک کاموں میں خرچ کی جاتی ہے جن کے لئے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے وہ اس لئے میں نے اکژیہی سُن رکھا ہے کہ مسجد کی تعمیر و مرمت میں جو رقم خرچ کرتا ہے اُس کے لئے جنت کی خوشخبری نبوی ہے
    یہ لوگ تو مسیحا ہیں جو ہمارے مال کو پاک صاف کرنے میں ہم سے تعاون کرتے ہیں

    بہت عمدہ شئیرنگ اور پیغام
    جزاک اللہ خیرا
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    چندہ لینے والوں نے بھی تو حد کی ہوئی ہے، ہمارے علاقے میں ایک سڑک پر میرے بچپن سے اک مسجد بن رہی ہے، جس کا چندہ مانگنے والا آج بھی اس زیر تعمیر مسجد کے نام پر ہر گزرتی گاڑی سے چندہ مانگتا ہے۔ اس کے بچے بلکہ بچوں کے بچے جوان ہو گئے، شادیاں ہو گئیں ہر ایک کا گھر بن گیا مسجد پھر بھی مکمل نہ ہوئی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں