توہین رسالت و کفر کے فتوے ، فتح مکہ اور رحمت اللعالمین ﷺ

ابو حسن نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جون 3, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    446
    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )


    رمضان المبارک میں سوچا تھا کہ کوئی تحریر نہیں لکھوں گا مگر حالات کے پیش نظر تحریر لکھنی پڑی ،اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ سچ لکھنے اور جھوٹ سے اجتناب برتنےکی توفیق عطا فرمائے، آمین

    یہی وہ بابرکت ماہ مبارک ہے جس میں سب سے بڑی فتح سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی معیت میں صحابہ کرام کوملی اور وہ تھی فتح مکہ اور دوسری بڑی فتح سیدنا عمر بن خطابؓ کے دور خلافت میں نصیب ہوئی اور وہ تھی بیت المقدس کی فتح جس کے عظیم اور تاریخی سفر پرسیدنا عمر بن خطابؓ مدینہ سے گئے اور چابیاں وصول کیں اور پھر وہ جملہ کہا کہ جسکو سونے کے پانی سے لکھا جائے تو بھی کم ہے یہ جملہ آپکو آئندہ حصہ میں پڑھنے کیلئے ملے گا ان شاءاللہ


    رسول اللہﷺ نے تیاری کا حکم دیتے ہوئے بتلایا کہ مکہ چلنا ہے اور ساتھ ہی یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! جاسوسوں اور خبروں کو قریش تک پہنچنے سے روک اورپکڑ لے تاکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے سر پر ایک دم جاپہنچیں۔

    پھر کمال اخفاء اور رازداری کی غرض سے رسول اللہﷺ نے شروع ماہ رمضان 8 ھ میں حضرت ابو قتادہ بن ربعی کی قیادت میں آٹھ آدمیوں کا ایک سریہ بطن اضم کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ مقام ذی خشب اور ذی المروہ کے درمیان مدینہ سے 36 عربی میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقصد یہ تھا کہ سمجھنے والا سمجھے کہ آپ اسی علاقے کا رخ کریں گے اور یہی خبریں اِدھر اُدھر پھیلیں۔ لیکن یہ سریہ جب اپنے مقررہ مقام پر پہنچ گیا تو اسے معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ مکہ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ چنانچہ یہ بھی آپ سے جاملا۔ یہی سریہ ہے جس کی ملاقات عامر بن اضبط سے ہوئی تو عامر نے اسلامی دستور کے مطابق سلام کیا۔ لیکن محلم بن جثامہ نے کسی سابقہ رنجش کے سبب اسے قتل کردیا اور اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کرلیا۔


    اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ...الآیہ یعنی ''جوتم سے سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔''

    اس کے بعد صحابہ کرام محلم کو رسول اللہﷺ کے پاس لے آئے کہ آپ اس کے لیے دعاء مغفرت کردیں۔ لیکن جب محلم آپ کے سامنے حاضر ہوا تو آپ نے تین بار فرمایا : اے اللہ ! محلم کو نہ بخش۔ اس کے بعدمحلم اپنے کپڑے کے دامن سے آنسو پونچھتا ہوااٹھا۔

    (قارئین !نبی الرحمہ ﷺ نے اسی وقت ان کیلئے بدعا کی ، کیوں ؟ کیونکہ انہوں نے مسلمان کے قتل کو برا جانا اور آج ہم مسلمان کو ہی کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں اوریہانپر ایک بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کوئی قادیانی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان نہ گرداننے کی کوشش کرے اور نہ ہی اس خوش فہمی میں رہے، مرزا غلام لعین قادیانی خود بھی کفر پر تھا اور غلیظ ترین موت مرا اور اسکے پیروکار بھی کافر ہیں چاہے وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہیں اور ہم انکے ساتھ وہی سلوک روا رکھیں گے جو صحابہ کرام نے مسیلمہ کذاب ، اسود عنسی اور دوسرے نبوت کے دعوی داروں اور انکے پیروکاروں کے ساتھ کیا ، حیرت ہوتی ہے شبدہ بازوں ،چوروں و لٹیروں کو لوگ نبی مان کر بیٹھ جاتے ہیں ، کوئی بھی صاحب عقل انسان مرزا غلام لعین قادیانی کی سیرت کو پڑھ کر اس پر تھوکنا پسند کرے گا کجا اسکو نبی مانے ، جو شرابی ، زانی ،چور ، دھوکہ باز ، سینما بین اور جھوٹا شخص ہو وہ کیسے نبوت کے منسب پر فائز ہونے کی کوشش کرسکتا ہے ؟ جس کسی کوثبوت و حوالے درکار ہوں دینے کا میں ذمہ دار ہوں)

    ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ بعد میں محلم کے لیے رسول اللہﷺ نے مغفرت کی دعا کردی تھی

    حاطب ابی بلتعہؓ نے قریش کو ایک رقعہ لکھ کر یہ اطلاع دے بھیجی کہ رسول اللہﷺ حملہ کرنے والے ہیں
    رسول اللہﷺ نے حضرت حاطب کو بلا کر پوچھا کہ حاطب ! یہ کیا ہے ؟

    انہوں نے کہا : اے محمدﷺ ! میرے خلاف جلدی نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان ہے۔ میں نہ تو مرتد ہوا ہوں اور نہ مجھ میں تبدیلی آئی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں خود قریش کا آدمی نہیں۔ البتہ ان میں چپکا ہوا تھا اور میرے اہل وعیال اور بال بچے وہیں ہیں۔ لیکن قریش سے میری کوئی قرابت نہیں کہ وہ میرے بال بچوں کی حفاظت کریں۔ اس کے بر خلاف دوسرے لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں جو ان کی حفاظت کریں گے۔ اس لیے جب مجھے یہ چیز حاصل نہ تھی تو میں نے چاہا کہ ان پر ایک احسان کردوں جس کے عوض وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں۔ اس پر حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن ماردوں۔ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی ہے اور یہ منافق ہوگیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : دیکھو! یہ جنگِ بدر میں حاضر ہوچکا ہے۔ اور عمر ! تمہیں کیا پتہ ؟ ہوسکتا ہے اللہ نے اہلِ بدر پر نمودار ہوکر کہا ہو تم لوگ جو چاہو کرو ، میں نے تمہیں بخش دیا یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں

    (قارئین ! یہانپرعمر بن خطابؓ اجازت مانگ رہے ہیں گردن مارنے کی اور نبی الرحمہ ﷺ خود حاطب ابی بلتعہؓ دفاع کررہے ہیں اور آج کفر و توہین رسالت کے فتوے مسلمان پر ہی لگائے جارہے ہیں؟ امت کس طرف جارہی ہے ؟ )


    10 رمضان المبارک 8 ھ کو رسول اللہﷺ نے مدینہ چھوڑ کر مکے کا رخ کیا۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام تھے، مدینہ پر ابو رھم غفاریؓ کی تقرری ہوئی۔

    جحفہ میں یااس سے کچھ اوپر آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب ملے۔ وہ مسلمان ہوکر اپنے بال بچوں سمیت ہجرت کرتے ہوئے تشریف لارہے تھے۔ پھر اَبوَاء میں آپﷺ کے چچیرے بھائی ابو سفیان بن حارث اور پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن اُمیہ ملے۔ آپ نے ان دونوں کو دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ کیونکہ یہ دونوں آپ کو سخت اذیت پہنچایا کرتے اور آپ کی ہجو کیا کرتے تھے۔ یہ صورت دیکھ کر حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے چچیرے بھائی اور پھوپھی زاد بھائی ہی آپ کے یہاں سب سے بدبخت ہوں۔

    ادھر حضرت علیؓ نے ابو سفیان بن حارث کو سکھا یا کہ تم رسول اللہﷺ کے سامنے جاؤ ، اور وہی کہو جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا تھا کہ قَالُوا تَاللَّـهِ لَقَدْ آثَرَ‌كَ اللَّـهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِين'اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور یقینا ہم خطا کار تھے۔'' کیونکہ آپﷺ یہ پسند نہیں کریں گے کہ کسی اور کا جواب آپ سے عمدہ رہا ہو۔

    (قارئین ! صحابہ بھی تو معلم اعظم ﷺ کے شاگرد تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ نبی الرحمہ ﷺ کس بات پر فوری نرمی اختیار کر جائیں گے ؟ اللہ بہترین اجر عطا فرمائے حضرت علیؓ کو جنہوں نے کیا خوبصورت انداز اپنایا اور کیسے الفاظ سیکھائے جسکا نتیجہ اگلی سطروں میں آپ پڑھیں گے)

    چنانچہ ابو سفیان نے یہی کیا اور جواب میں فوراً رسول اللہﷺ نے فر مایا: قَالَ لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ‌ اللَّـهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ 'آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔''اس پر ابو سفیان نے آپ کو چند اشعار سنائے۔ جن میں سے بعض یہ تھے


    لـعـمرک إنـي حـین أحمل رأیۃ لـتـغـلب خیــل اللات خیل محمد

    لکالمدلج الحیران أظلم لیلــہ فہـذا أوانـي حین أہـدی فأہتـــدی

    ہدانی ہاد غیر نفسی ودلـــنی علی اللہ من طردتہ کل مطـــــــرد



    ''تیری عمر کی قسم! جس وقت میں نے اس لیے جھنڈا اٹھایا تھا کہ لات کے شہسوار محمد کے شہسوار پر غالب آجائیں تو میری کیفیت رات کے اس مسافر کی سی تھی جو تیرہ وتار رات میں حیران وسرگردان ہو ، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مجھے ہدایت دی جائے ، اور میں ہدایت پاؤں۔ مجھے میرے نفس کی بجائے ایک ہادی نے ہدایت دی اور اللہ کا راستہ اسی شخص نے بتایا جسے میں نے ہر موقع پر دھتکاردیا تھا۔ '' یہ سن کر رسول اللہﷺ نے اس کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا : تم نے مجھے ہر موقع پر دھتکارا تھا ، اللہ اکبر ایسے اخلاق نبی الرحمہ ﷺ کے ہی تھے اور آج امت کس جانب چل نکلی ؟


    بعد میں ابو سفیان کے اسلام میں بڑی خوبی آگئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا حیاء کے سبب رسول اللہﷺ کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا۔ رسول اللہﷺ بھی ان سے محبت کرتے تھے اور ان کے لیے جنت کی بشارت دیتے تھے۔ اور فرماتے تھے: مجھے توقع ہے کہ یہ حمزہ کا بدل ثابت ہوں گے جب ان کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے : مجھ پر نہ رونا۔ کیونکہ اسلام لانے کے بعد میں نے کبھی کوئی گناہ کی بات نہیں کہی

    رسول اللہﷺ نے اپنا سفر جاری رکھا۔ آپ اور صحابہ روزے سے تھے لیکن عسفان اور قُدَید کے درمیان کدید نامی چشمے پر پہنچ کر آپ نے روزہ توڑ دیا۔ آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام نے بھی روزہ توڑدیا۔ اس کے بعد پھر آپ نے سفر جاری رکھا یہاں تک کہ رات کے ابتدائی اوقات میں مرالظہران -وادی فاطمہ - پہنچ کر نزول فرمایا۔ وہاں آپﷺ کے حکم سے لوگوں نے الگ الگ آگ جلائی۔ اس طرح دس ہزار (چولہوں میں) آگ جلائی گئی۔ رسول اللہﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو پہرے پر مقرر فرمایا۔

    مر الظہران میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حضرت عباسؓ رسول اللہﷺ کے سفید خچر پر سوار ہوکر نکلے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی لکڑہارا یا کوئی بھی آدمی مل جائے تو اس سے قریش کے پاس خبر بھیج دیں تاکہ وہ مکے میں رسول اللہﷺ کے داخل ہونے سے پہلے آپ کے پاس حاضر ہوکر امان طلب کرلیں۔

    ادھر اللہ تعالیٰ نے قریش پر ساری خبروں کی رسائی روک دی تھی۔ اس لیے انہیں حالات کا کچھ علم نہ تھا، البتہ وہ خوف اور اندیشے سے دوچار تھے اور ابو سفیان باہر جاجاکر خبروں کا پتہ لگا تا رہتا تھا۔ چنانچہ اس وقت بھی وہ اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء خبروں کا پتہ لگانے کی غرض سے نکلے ہوئے تھے۔

    حضرت عباسؓ کا بیان ہے کہ واللہ ! میں رسول اللہﷺ کے خچر پر سوار جارہا تھا کہ مجھے ابو سفیان اور بدیل بن ورقاء کی گفتگوسنائی پڑی۔ وہ باہم ردوقدح کررہے تھے۔

    ابو سفیان کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں نے آج رات جیسی آگ اور ایسا لشکر تو کبھی دیکھا ہی نہیں، اور جواب میں

    بدیل کہہ رہا تھا : یہ اللہ کی قسم! بنو خزاعہ ہیں۔ جنگ نے انہیں نوچ کر رکھ دیا ہے، اور اس پر

    ابوسفیان کہہ رہا تھا :خزاعہ اس سے کہیں کمتر اور ذلیل ہیں کہ یہ ان کی آگ اور ان کا لشکر ہو۔
    حضر ت عباس کہتے ہیں کہ میں نے اس کی آواز پہچان لی اور کہا ابو حنظلہ ؟ اس نے بھی میری آواز پہچان لی اور

    بولا : ابو الفضل ؟

    میں نے کہا : ہاں

    اس نے کہا : کیا بات ہے ؟ میرے ماں باپ تجھ پر قربان

    میں نے کہا: یہ رسول اللہﷺ ہیں لوگوں سمیت۔ ہائے قریش کی تباہی -- واللہ !

    اس نے کہا : اب کیا حیلہ ہے ؟ میرے ماں باپ تم پر قربان۔ میں نے کہا: واللہ! اگر وہ تمہیں پاگئے تو تمہاری گردن ماردیں گے۔ لہٰذا اس خچر پر پیچھے بیٹھ جاؤ۔ میں تمہیں رسول اللہﷺ کے پاس لے چلتا ہوں ، اور تمہارے لیے امان طلب کیے دیتا ہوں۔ اس کے بعد ابو سفیان میرے پیچھے بیٹھ گیا اور اس کے دونوں ساتھی واپس چلے گئے۔

    حضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ابو سفیان کو لے کر چلا۔ جب کسی الاؤ کے پاس سے گزرتا تو لوگ کہتے : کون ہے ؟ مگر جب دیکھتے کہ رسول اللہﷺ کا خچر ہے اور میں اس پر سوار ہوں تو کہتے کہ رسول اللہﷺ کے چچا ہیں اور آپ کے خچر پر ہیں۔ یہاں تک کہ عمر بن خطابؓ کے الاؤ کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے کہا : کون ہے ؟ اور اٹھ کر میری طرف آئے۔ جب پیچھے ابو سفیان کو دیکھا تو کہنے لگے : ابو سفیان ؟ اللہ کا دشمن ؟ اللہ کی حمد ہے کہ اس نے بغیر عہدوپیمان کے تجھے (ہمارے ) قابو میں کردیا۔ اس کے بعد وہ نکل کر رسول اللہﷺ کی طرف دوڑے۔ اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی۔ میں آگے بڑھ گیا۔ اور خچر سے کود کر رسول اللہﷺ کے پاس جاگھسا۔ اتنے میں عمر بن خطاب بھی گھس آئے اور بولے کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ابو سفیان ہے۔ مجھے اجازت دیجیے میں اس کی گردن ماردوں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔ پھر میں نے رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھ کر آپ کا سر پکڑ لیا۔ اور کہا : اللہ کی قسم آج رات میرے سوا کوئی اور آپ سے سرگوشی نہ کرے گا۔ جب ابو سفیان کے بارے میں حضرت عمرؓ نے بار بار کہا تو میں نے کہا : عمر ! ٹھہرجاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم ایسی بات نہ کہتے۔ عمرؓ نے کہا : عباس ! ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارا اسلام لانا میرے نزدیک خطّاب کے اسلام لانے سے - اگر وہ اسلام لاتے - زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی وجہ میرے لیے صرف یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے نزدیک تمہارا اسلام لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔

    (اللہ اکبر کبیرا ، قارئین ! عمرؓ نے کیا ہی خوبصورت الفاظ کہے "عباس ! ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارا اسلام لانا میرے نزدیک خطّاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ رسول اللہﷺ کے نزدیک تمہارا اسلام لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسندیدہ ہے " یہ ہے حب نبی ﷺ اور آج ہم دیندارمسلمان پر ہی توہین رسالت کے فتوے تھوپ رہے ہیں)

    رسول اللہﷺ نے فرمایا : عباس ! اسے (یعنی ابوسفیان کو ) اپنے ڈیرے میں لے جاؤ۔ صبح میرے پاس لے آنا۔ اس حکم کے مطابق میں اسے ڈیرے میں لے گیا اور صبح خدمتِ نبویﷺ میں حاضر کیا۔ آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ا بو سفیان! تم پر افسوس ، کیا اب بھی تمہارے لیے وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ، آپ کتنے بردبار ، کتنے کریم اور کتنے خویش پرورہیں۔ میں اچھی طرح سمجھ چکاہوں کہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہوتا تو اب تک میرے کچھ کام آیا ہوتا۔

    آپ نے فرمایا : ابو سفیان تم پر افسوس ! کیا تمہارے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابو سفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا۔ آپ کس قدر حلیم ، کس قدر کریم اور کس قدر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ اس بات کے متعلق تو اب بھی دل میں کچھ نہ کچھ کھٹک ہے۔ اس پر حضرت عباسؓ نے کہا: ارے ! گردن مارے جانے کی نوبت آنے سے پہلے پہلے اسلام قبول کرلو !اور یہ شہادت واقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا اور حق کی شہادت دی۔

    حضرت عباس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ابوسفیان اعزاز پسند ہے، لہٰذا اسے کوئی اعزاز دے دیجیے۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے۔ جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے اسے امان ہے اور جو مسجد ِ حرام میں داخل ہوجائے اسے امان ہے۔


    اسی صبح -منگل 17 رمضان 8 ھ کی صبح - رسول اللہﷺ مر الظہران سے مکہ روانہ ہوئے اور حضرت عباس کو حکم دیا کہ ابو سفیان کو وادی کی تنگنائے پر پہاڑکے ناکے کے پاس روک رکھیں تاکہ وہاں سے گزرنے والی الٰہی فوجوں کو ابو سفیان دیکھ سکے۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ ادھر قبائل اپنے اپنے پھریرے لیے گزر رہے تھے۔ جب وہاں سے کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب میں حضرت عباس - بطورِ مثال- کہتے کہ بنو سلیم ہیں۔ تو ابوسفیان کہتا کہ مجھے سلیم سے کیا واسطہ ؟ پھر کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ اے عباس !یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ کہتے: مُزَیْنَہ ہیں۔ ابو سفیان کہتا:، مجھے مزینہ سے کیا مطلب ؟ یہاں تک کہ سارے قبیلے ایک ایک کرکے گزر گئے۔ جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا توابو سفیان حضرت عباس سے اس کی بابت ضرور دریافت کرتا اور جب وہ اسے بتاتے تو وہ کہتا کہ مجھے بنی فلاں سے کیا واسطہ ؟

    (قارئین ! اب وہ ہستی تشریف فرما ہورہی ہے کہ جن کے گرد وہ جانباز چل رہے تھے جن کی ہیبت دشمن پر لرزہ طاری کیے ہوئے تھی اور یہ وہ تھے جن سے انکا رب راضی ہوچکا تھا بے شک اللہ تعالی سبھی صحابہ کرام سے راضی ہوچکا ہے اور انکا ٹھکانہ الفردوس الاعلی ہے)

    یہاں تک کہ رسول اللہﷺ اپنے سبز دستے کے جلو میں تشریف لائے۔ آپ مہاجرین وانصار کے درمیان فروکش تھے۔ یہاں انسانوں کے بجائے صرف لوہے کی باڑھ دکھائی پڑرہی تھی۔

    ابو سفیان نے کہا : سبحان اللہ ! اے عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟

    انہوں نے کہا : یہ انصار ومہاجرین کے جلو میں رسول اللہﷺ تشریف فرماہیں۔ ابو سفیان نے کہا : بھلا ان سے محاذآرائی کی طاقت کسے ہے ؟

    اس کے بعد اس نے مزید کہا کہ ابو الفضل ! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت تو واللہ بڑی زبردست ہوگئی۔ حضرت عباسؓ نے کہا : ابو سفیان ! یہ نبوت ہے۔ ابو سفیان نے کہا: ہاں ! اب تو یہی کہاجائے گا۔
    اس موقع پر ایک واقعہ اور پیش آیا۔ انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس تھا۔ وہ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو بولے

    الیوم یوم الملحمۃ الیوم تستحل الحرمۃ
    ''آج خونریزی اور مار دھاڑ کادن ہے۔ آج حرمت حلال کرلی جائے گی۔''
    آج اللہ نے قریش کی ذلت مقدر کردی ہے۔ اس کے بعد جب وہاں سے رسول اللہﷺ گزرے تو ابو سفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سعد نے کہی ہے ؟ آپ نے فرمایا :سعد نے کیا کہا ہے ؟ ابو سفیان نے کہا: یہ اور یہ بات کہی ہے۔ یہ سن کر حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں سعد قریش کے اندر مار دھاڑ نہ مچا دیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ آج کا دن وہ دن ہے جس میں کعبہ کی تعظیم کی جائے گی۔ آج کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ قریش کو عزت بخشے گا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت سعد کے پاس آدمی بھیج کر جھنڈا ان سے لے لیا اور ان کے صاحبزادے قیس کے حوالے کردیا۔ گویا جھنڈا حضرت سعد کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ اور کہاجاتاہے کہ آپ نے جھنڈا حضرت زبیر کے حوالے کردیا تھا

    اس کے بعد حضرت خالدؓ مکہ کے گلی کوچوں کو روندتے ہوئے کوہِ صفا پر رسول اللہﷺ سے جاملے۔
    ادھر حضرت زبیرؓ نے آگے بڑھ کر حجون میں مسجد فتح کے پاس رسول اللہﷺ کا جھنڈا گاڑا۔ اور آپﷺ کے لیے ایک قُبہّ نصب کیا۔ پھر مسلسل وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ تشریف لے آئے۔

    اس کے بعد رسول اللہﷺ اُٹھے اور آگے پیچھے اور گرد وپیش موجود انصار ومہاجرین کے جَلو میں مسجد حرام کے اندر تشریف لائے۔ آگے بڑھ کرحجرِ اسود کو چوما اور اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس وقت آپﷺ کے ہاتھ میں ایک کمان تھی ، اور بیت اللہ کے گرد اور اس کی چھت پر تین سو ساٹھ بُت تھے۔ آپﷺ اسی کمان سے ان بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے تھے ، اور کہتے جاتے تھے

    جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
    ''حق آگیا اور باطل چلاگیا، باطل جانے والی چیز ہے۔''
    ''حق آگیا اور باطل کی چلت پھرت ختم ہوگئی۔''
    اور آپﷺ کی ٹھوکر سے بُت چہروں کے بل گرتے جاتے تھے

    آپﷺ نے طواف اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر فرمایا تھا اور حالتِ احرام میں نہ ہونے کی وجہ سے صرف طواف ہی پر اکتفاکیا۔ تکمیل ِ طواف کے بعد حضرت عثمان بن طلحہؓ کو بلا کر ان سے کعبہ کی کنجی لی۔ پھر آپﷺ کے حکم سے خانہ کعبہ کھولا گیا۔ اندر داخل ہوئے تو تصویریں نظر آئیں ، جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں ،اور ان کے ہاتھ میں فال گیری کے تیر تھے۔ آپﷺ نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا: اللہ ان مشرکین کو ہلاک کرے۔ اللہ کی قسم ! ان دونوں پیغمبروں نے کبھی بھی فال کے تیر استعمال نہیں کیے۔ آپﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتری بھی دیکھی اسے اپنے دست مبارک سے توڑدیا اور تصویریں آپﷺ کے حکم سے مٹادی گئیں۔


    قریش (سامنے ) مسجد حرام میں صفیں لگائے کھچاکھچ بھرے تھے۔ انہیں انتظار تھا کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ آپﷺ نے دروازے کے دونوں بازوپکڑ لیے۔ قریش نیچے تھے۔ انہیں یو ں مخاطب فرمایا

    اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کردکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا سارے جتھوں کو شکست دی۔ سنو ! بیت اللہ کی کلیدبرداری اور حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ سارا اعزاز یاکمال یا خون میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ یادرکھو ، قتل ِ خطا شبہ عمد میں - جو کوڑے یاڈنڈے سے ہو - مغلظ دیت ہے ، یعنی سو اونٹ جن میں سے چالیس اونٹنیوں کے شکم میں ان کے بچے ہوں۔

    اے قریش کے لوگو! اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کردیا۔ سارے لوگ آدم سے ہیں اور آدم مٹی سے۔ اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی
    يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ‌ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَ‌فُوا ۚ إِنَّ أَكْرَ‌مَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‌
    ''اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے باعزت وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔''

    اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا : قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے۔ میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں ؟ انہوں نے کہا : اچھا۔ آپ کریم بھائی ہیں۔ اور کریم بھائی کے صاحبزادے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا : تو میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔

    (قارئین ! یہ وہی لوگ تھے جو خون کے پیاسے اور جان کے دشمن بنے ہوئے تھے اور جہنوں نے ايذاء دینے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی اور حتی کہ عرصہ دراز تک محصور کردیئے گئے اور شعب ابی طالب میں مسلمان کھانے پینے کے ہاتھوں مجبور تھے لیکن آج نبی الرحمہ ﷺ انہی لوگوں کو فرمارہے ہیں " آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو ")

    اس کے بعد رسول اللہﷺ مسجد حرام میں بیٹھ گئے۔ حضرت علیؓ نے جن کے ہاتھ میں کعبے کی کنجی تھی حاضر خدمت ہوکر عرض کی : حضور ہمارے لیے حجاج کو پانی پلانے کے اعزاز کے ساتھ خانہ کعبہ کی کلید برداری کا اعزاز بھی جمع فرمادیجیے۔ اللہ آپﷺ پر رحمت نازل کرے۔ ایک اور روایت کے بموجب یہ گذارش حضرت عباسؓ نے کی تھی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : عثمان بن طلحہ کہاں ہیں ؟ انہیں بلایا گیا۔ آپﷺ نے فرمایا ! عثمان ! یہ لو اپنی کنجی ، آج کا دن نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔ طبقات ابن سعد کی روایت ہے کہ آپﷺ نے کنجی دیتے ہوئے فرمایا : اسے ہمیشہ ہمیش کے لیے لو۔ تم لوگوں سے اسے وہی چھینے گا جو ظالم ہوگا۔ اے عثمان ! اللہ نے تم لوگوں کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے۔ لہٰذا اس بیت اللہ سے تمہیں جو کچھ ملے اس سے معروف کے ساتھ کھانا۔

    اسی روز رسول اللہﷺ اُ مِّ ہانیٔ بنت ابی طالب کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں غسل فرمایا اور ان کے گھر میں ہی آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ اس لیے کسی نے اس کو چاشت کی نماز سمجھا اور کسی نے فتح کی نماز۔ اُمِّ ہانی ٔ نے اپنے دو دیوروں کو پناہ د ے رکھی تھی۔


    آپﷺ نے فرمایا : اے ام ہانی !جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی۔ اس ارشاد کی وجہ یہ تھی کہ اُم ہانی ٔ کے بھائی حضرت علی بن ابی طالبؓ ان دونوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے ام ہانی ٔ نے ان دونوں کو چھپا کر گھر کا دروازہ بند کررکھا تھا۔ جب نبیﷺ تشریف لے گئے تو ان کے بارے میں سوال کیا اور مذکورہ جواب سے بہرہ ور ہوئیں۔

    (قارئین ! آج نبی الرحمہ ﷺ نے کافروں کو بھی معاف کیا اور سیدہ ام ہانی کا اکرام کرتے ہوئے انکے دیوروں سے بھی درگزر فرمادیا اور یہ دونوں کفر پر تھے اور آج ہم مسلمان کو معاف کرنا تو درکنار اس سے بڑھ کر اسے کافر اور توہین رسالت کا مرتکب بنانے پر تلے ہوئے ہیں )

    آئندہ قسط میں ان شاءاللہ مختلف علماء و شیخ احمد دیدات ، ڈاکٹر ذاکر نائیک ،قاری خلیل الرحمان ، مفتی حنیف قریشی ، علامہ کوکب نورانی اور عامر لیاقت کے متعلق بات ہوگی

     
    Last edited: ‏جون 4, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    446
    فتح مکہ کا واقعہ ذکر ہورہا ہے تو یہاں سیدہ شیماء بنت حارث کے وہ اشعار جو بھائی کی محبت میں چور ہوکر انہوں نے بچپن میں کہے تھے جب وہ رسول اللہﷺ کو کھیلایا کرتی اور لوری سنایا کرتی تھیں کیا ہی خوب بہن تھی اور کیا اعلی اور افضل بھائی ؟ اللہ اکبر

    سيدة شيماء بنت حارث رضى الله عنها کو خود بھی خبر نہیں کہ جن ﷺ کیلئے وہ یہ دعائیں کہہ رہی ہیں ان ﷺ کے رب نے اس مبارک ہستی کو سیدالاولین و الاخرین ﷺ بنانا ہے ، اللہ اکبر کبیرا

    اللہ تعالی بہترین جزاء عطاء فرمائے سیدہ شیما بنت حارث رضى الله عنها کو جنہوں نے اتنے اعلی اشعار کہے کہ دل مسرور ہوگیا


    يا ربنا أبق لنا محمدا حتى أراه يافعا وأمردا

    اے میرے رب(میرے بھائی) محمد ﷺ کو ہمارے لئے سلامت رکھ یہاں تک کہ میں آپﷺ جوان دیکھوں

    ثم أراه سيدا مسودا واكبت أعاديه معا والحسدا

    یہاں تک کہ میں آپﷺ سردار دیکھوں جس کی سب اطاعت کرتے ہوں اور (اے میرے رب) انکے دشمنوں و حاسدوں کو ذلیل و رسوا کر

    وأعطه عزا يدوم أبدا

    اور انکو دائمی عزت عطا فرما

    اور اس پر مزید اُمّ ِ معبد خُزاعیہ الله عنها کے وہ الفاظ بھی ذکر کردوں جو انہوں نے رسول اللہﷺ کے انکے خیمہ سے رخصت ہونے کے بعد اپنے شوہر سے ذکر کیے ،اللہ تعالی اُمّ ِ معبد خُزاعیہ کی قبر کو منور کرے اور انکے درجات کو بلند فرمائے کیا ہی خوبصورت نقشہ کھینچا کہ آج بھی امت انکے الفاظ پر فدا ہے ،اللہ اکبر

    ہجرت کے وقت رسول اللہﷺ اُمّ ِ معبد خُزاعیہ کے خیمے سے گذرے تو اس نے آپﷺ کی روانگی کے بعد اپنے شوہر سے آپﷺ کے حلیہ مبارک کاجو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا۔


    چمکتا رنگ ، تابناک چہرہ ، خوبصورت ساخت ، نہ توند لے پن کا عیب ، نہ گنجے پن کی خامی ، جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر ، سرمگیں آنکھیں ، لمبی پلکیں ، بھاری آواز، لمبی گردن ، سفید وسیاہ آنکھیں ، سیاہ سرمگیں پلکیں ، باریک اور باہم ملے ہوئے ابرو ، چمکدار کالے بال ، خاموش ہوں تو باوقار ، گفتگو کریں تو پرکشش ، دور سے (دیکھنے میں) سب سے تابناک و پُر جمال ،قریب سے سب سے خوبصورت اور شیریں ، گفتگو میں چاشنی، بات واضح اور دوٹوک ، نہ مختصر نہ فضول ، انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں۔ درمیانہ قد ، نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے، نہ لمبا کہ ناگوار لگے ، دوشاخوں کے درمیان ایک شاخ جو تینوں میں سب سے زیادہ تازہ وخوش منظر وپُر رونق ، رفقاء آپﷺ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ، کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں۔ کوئی حکم دیں تو لپک کر بجالاتے ہیں مطاع ومکرم نہ ترش رو، نہ لغو گو

    اللہ تعالی نے اس امت سے اپنے حبیب ﷺ کی ہر وہ ادا محفوظ کروائی جو اس نے محفوظ کروانی چاہی ،چلتے چلتے حضرت علیؓ کا خوبصورت انداز بیان بھی ذکر کردوں

    حضرت علیؓ آپﷺ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں

    آپ نہ لمبے تڑنگے تھے نہ ناٹے کھوٹے ، لوگوں کے حساب سے درمیانہ قد کے تھے ، بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل کھڑے کھڑے ، دونوں کے بیچ بیچ کی کیفیت تھی ، رخسار نہ بہت زیادہ پُر گوشت تھا ، نہ ٹھڈی چھوٹی اور پیشانی پست ، چہرہ کسی قدر گولائی لیے ہوئے تھا۔ رنگ گورا گلابی، آنکھیں سرخی مائل ، پلکیں لمبی ، جوڑوں اور مونڈھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی ، سینہ پر ناف تک بالوں کی ہلکی سی لکیر ، بقیہ جسم بال سے خالی ، ہتھیلی اور پاؤں پر گوشت ، چلتے تو قدرے جھٹکے سے پاؤں اٹھا تے۔ اور یوں چلتے گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے ہیں، جب کسی طرف ملتفت ہوتے تو پورے وجود کے ساتھ ملتفت ہوتے ، دونوںکندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آپﷺ سارے انبیاء کے خاتم تھے۔ سب سے زیادہ سخی دست اور سب سے بڑھ کر جرأت مند، سب سے زیادہ صادق اللہجہ اور سب سے بڑھ کر عہد وپیمان کے پابندِ وفاء۔ سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے شریف ساتھی۔ جو آپﷺ کو اچانک دیکھتا ہیبت زدہ ہوجاتا۔ جوجان پہچان کے ساتھ ملتا محبوب رکھتا۔ آپﷺ کا وصف بیان کر نے والا یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے آپﷺ سے پہلے اور آپﷺ کے بعد آپﷺ جیسا نہیں دیکھا ( یہ وہ الفاظ ہیں کہ روح تک کو سرشار کر دیتے ہیں )

    ربیع بنت معوذ کہتی ہیں کہ اگر تم حضور کو دیکھتے تو لگتا کہ تم نے طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھا ہے۔


    حضرت جابر بن سمرہؓ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار چاندنی رات میں آپﷺ کو دیکھا ، آپ پر سُرخ جوڑا تھا۔ میں رسول اللہﷺ کو دیکھتا ، اور چاند کودیکھتا۔ آخر (اسی نتیجہ پر پہنچا کہ ) آپ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔


    حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی لگتا تھا سورج آپﷺ کے چہرے میں رواں دواں ہے۔ اور میں نے رسول اللہﷺ سے بڑھ کر کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا۔ لگتا تھا زمین آپ کے لیے لپیٹی جارہی ہے۔ ہم تو اپنے آپ کو تھکا مارتے تھے۔ اور آپ بالکل بے فکر۔


    حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے کہ جب آپﷺ خوش ہوتے تو چہرہ دمک اٹھتا ، گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔


    ایک بار آپﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف فرماتھے۔ آپﷺ جوتا سی رہے تھے۔ اور وہ دھاگا کات رہی تھیں۔ پسینہ آیا تو چہرے کی دھاریاں چمک اٹھیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عائشہؓ مبہوت ہوگئیں۔ اور کہنے لگیں کہ اگر ابو کبیر ہذلی آپﷺ کو دیکھ لیتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کے اس شعر کے حقدار کسی اور سے زیادہ آپ ہیں:

    وإذا نظرت إلی أسرۃ وجہہ برقت کبرق العارض المتہلل

    جب ان کے چہرے کی دھاریاں دیکھو تو وہ یوں چمکتی ہیں جیسے روشن بادل چمک رہا ہو

    اور پھر آپﷺ کے بارے میں ہے کہ جب آپﷺ غضب ناک ہوتے تو چہرہ سرخ ہوجاتا گویا دونوں رخساروں میں دانۂ انار نچوڑ دیا گیا ہے


    قارئین ! ذکر حبیب ﷺ آیا تو یہ سب خصائل بھی ذکر دئیے اب گزشتہ سے پیوستہ کی طرف آتے ہیں


    فتح مکہ کے روز رسول اللہﷺ نے اکابر مجرمین میں سے نو آدمیوں کا خون رائیگاں قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ اگر وہ کعبے کے پردے کے نیچے بھی پائے جائیں تو انہیں قتل کردیا جائے۔ ان کے نام یہ ہیں
    1-عبد العزیٰ بن خَطل

    2عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح

    3 عکرمہ بن ابی جہل

    4 حارث بن نُفیل بن وہب

    5 مقیس بن صبابہ

    6 ہبّار بن اسود

    7/8 ابن ِ خطل کی دولونڈیاں جو نبیﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں

    9 سارہ ، جو اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کی لونڈی تھی، اسی کے پاس حاطب کا خط پایا گیا تھا۔
    ابن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ اسے حضرت عثمان بن عفانؓ نے خدمت نبویﷺ میں لے جاکرجان بخشی کی سفارش کردی اور آپﷺ نے اس کی جان بخشی فرماتے ہوئے اس کا اسلام قبول کرلیا لیکن اس سے پہلے آپﷺ کچھ دیر تک اس امید میں خاموش رہے کہ کوئی صحابی اٹھ کر اسے قتل کردیں گے۔ کیونکہ یہ شخص اس سے پہلے بھی ایک بار اسلام قبول کرچکا تھا اور ہجرت کرکے مدینہ آیا تھا لیکن پھر مرتد ہو کر بھاگ گیا تھا (تاہم اس کے بعد کا کردار ان کے حسنِ اسلام کا آئینہ دار ہے۔ؓ )
    عکرمہ بن ابی جہل نے بھاگ کر یمن کی راہ لی۔ لیکن اس کی بیوی خدمتِ نبویﷺ میں حاضر ہوکر اس کے لیے امان کی طالب ہوئی اور آپﷺ نے امان دے دی۔ اس کے بعد وہ عکرمہ کے پیچھے پیچھے گئی اور اسے ساتھ لے آئی۔ اس نے واپس آکر اسلام قبول کیا اور اس کے اسلام کی کیفیت بہت اچھی رہی۔
    ابن خطل خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر لٹکا ہوا تھا۔ ایک صحابی نے خدمتِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر اطلاع دی۔ آپﷺ نے فرمایا : اسے قتل کردو، انہوں نے اسے قتل کردیا۔
    مقیس بن صبابہ کو حضرت نُمیلہ بن عبد اللہ نے قتل کیا۔ مقیس بھی پہلے مسلمان ہوچکا تھا لیکن پھر ایک انصاری کو قتل کرکے مرتد ہوگیا اور بھاگ کر مشرکین کے پاس چلاگیا تھا۔
    حارث ، مکہ میں رسول اللہﷺ کو سخت اذیت پہنچایا کرتا تھا۔ اسے حضرت علیؓ نے قتل کیا۔
    ہَبَّار بن اسود وہی شخص ہے جس نے رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کو ان کی ہجرت کے موقع پر ایسا کچوکا مارا تھا کہ وہ ہودج سے ایک چٹان پر جاگری تھیں اور اس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا تھا۔ یہ شخص فتح مکہ کے روز نکل بھاگا، پھر مسلمان ہوگیا اور اس کے اسلام کی کیفیت اچھی رہی۔
    ابن خطل کی دونوں لونڈیوں میں سے ایک قتل کی گئی۔ دوسری کے لیے امان طلب کی گئی اوراس نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح سارہ کے لیے امان طلب کی گئی اور وہ بھی مسلمان ہوگئی۔ (خلاصہ یہ کہ نو میں سے چار قتل کیے گئے ، پانچ کی جان بخشی ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کیا)
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں جن لوگوں کا خون رائیگاں قرار دیا گیا ان کے ضمن میں ابو معشر نے حارث بن طلال خزاعی کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسے حضرت علیؓ نے قتل کیا۔ امام حاکم نے اسی فہرست میں کعب بن زہیر کا ذکر کیا ہے کعب کا واقعہ مشہور ہے۔ اس نے بعد میں آکر اسلام قبول کیا اور نبیﷺ کی مدح کی۔

    (اسی فہرست میں ) وحشی بن حرب اور ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ ہیں ، جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ابن خطل کی لونڈی ارنب ہے جو قتل کی گئی۔ اور امِ سعد ہے ، یہ بھی قتل کی گئی۔ جیسا کہ ابن ِ اسحاق نے ذکر کیا ہے۔ اس طرح مردوں کی تعداد آٹھ اور عورتوں کی تعداد چھ ہوجاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دونوں لونڈیاں ارنب اور ام ِ سعد ہوں اور اختلاف محض نام کا ہو یا کنیت اور لقب کے اعتبار سے اختلا ف ہوگیا ہو۔

    صفوان کا خون اگر چہ رائیگاں نہیں قرار دیا گیا تھا لیکن قریش کا ایک بڑا لیڈر ہونے کی حیثیت سے اسے اپنی جان کا خطرہ تھا۔ اسی لیے وہ بھی بھاگ گیا۔ عُمیر بن وَہب جمحی نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکراس کے لیے امان طلب کی۔ آپﷺ نے امان دے دی اور علامت کے طور پر عمیر کو اپنی وہ پگڑی بھی دے دی جو مکہ میں داخلے کے وقت آپﷺ نے سر پر باندھ رکھی تھی۔ عمیر ، صفوان کے پاس پہنچے تو وہ جدہ سے یمن جانے کے لیے سمندر پر سوار ہونے کی تیاری کررہا تھا۔ عُمیر اسے واپس لے آئے۔ اس نے رسول اللہﷺ سے کہا: مجھے دومہینے کا اختیار دیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا: تمہیں چار مہینے کا اختیار ہے۔ اس کے بعد صفوان نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کی بیوی پہلے ہی مسلمان ہوچکی تھی۔ آپ نے دونوں کو پہلے ہی نکاح پر برقرار رکھا۔
    فضالہ ایک جری آدمی تھا۔ جس وقت رسول اللہﷺ طواف کررہے تھے وہ قتل کی نیت سے آپ کے پاس آیا لیکن رسول اللہﷺ نے بتادیا کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ اس پر وہ مسلمان ہوگیا

    (قارئین ! آج نبی الرحمہ ﷺ جن کے قتل کا خود حکم صادر فرمایا ،جب ان میں سے بعض نے اسلام لانا پسند کیا تو آپ نے انہیں بھی معاف فرمادیا ، صفوان دو ماہ کی مدت مانگ رہا ہے اور نبی الرحمہ ﷺ اسے دو ماہ مزید دے رہے ہیں اور آج یہ امت کسی کو ایک پل بھی نہیں دے رہی بلکہ اسی وقت اسے کافر اور توہین رسالت کا مرتکب بنارہی ہے ، آئندہ سطروں میں جو واقعہ آرہا ہے بہت دلچسپ اور ایمان میں اضافہ کا سبب بنے والا واقعہ ہے جس میں ابو سفیان بن حرب نے وہ الفاظ کہے کہ عام مسلمان شدد رہ جاتا ہے ، اللہ اکبر)

    اب نماز کا وقت ہوچکا تھا۔ رسول اللہﷺ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ کعبے پر چڑھ کر اذان کہیں۔ ا س وقت ابو سفیان بن حرب ، عتاب بن اَسِید اور حارث بن ہشام کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔ عتاب نے کہا : اللہ نے اسید کو یہ شرف بخشا کہ انہوں نے یہ (اذان) نہ سنی ، ورنہ انہیں ایک ناگوار چیز سننی پڑتی۔ اس پر حارث نے کہا : سنو! واللہ ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ وہ برحق ہیں تو میں ان کا پیروکار بن جاؤں گا۔ اس پر ابو سفیان نے کہا : دیکھو ! واللہ ! میں کچھ نہیں کہوں گا۔ کیونکہ اگر میں بولوں گا تو یہ کنکریاں بھی میرے متعلق خبر دے دیں گی۔ اس کے بعد نبیﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : ابھی تم لوگو ں نے جو باتیں کی ہیں ، وہ مجھے معلوم ہوچکی ہیں۔ پھر آپﷺ نے ان کی گفتگو دہرادی۔ اس پر حارث اور عتاب بول اٹھے : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کی قسم ! کوئی شخص ہمارے ساتھ تھا ہی نہیں کہ ہماری اس گفتگو سے آگاہ ہوتا اور ہم کہتے کہ اس نے آپ کو خبر دی ہوگی

    (قارئین ! آج نبی الرحمہ ﷺ اس بابرکت شہر میں ہیں جہانپر انکی پیدائش ہوئی جہاں بچپن گزرا اور جوانی کے ایام گزارے اور پہلی رفیق حیات سیدہ خدیجہ سے نکاح ہوا اور انکے ساتھ آپ نے خوبصورت ماہ و سال بتائے اور جہاں آپ پر وحی کے نزول کی ابتدا ہوئی اور پھر توحید کی دعوت دینے پر کفار مکہ جان کے دشمن بن گئے اور ہجرت پر مجبور کیا گیا ،آج وہی شہر ہے اور انصار مدینہ نے اپنے خدشات کا اظہار ایک دوسرے سے کیا اور سیدالاولین و الاخرین ﷺ کو جب خبر ہوئی تو وہ الفاظ کہے کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں، اللہ اکبر)

    جب رسول اللہﷺ فتح مکہ کی تکمیل فرماچکےاورمعلوم ہے کہ یہی آپ کا شہر ، آپ کی جائے پیدائش اور وطن تھا

    تو انصار نے آپس میں کہا

    کیا خیال ہے ؟ اب اللہ نے رسول اللہﷺ کو آپ کی اپنی سرزمین اور آپ کا شہر فتح کرا دیا ہے تو آپ یہیں قیام فرمائیں گے ؟

    اس وقت آپﷺ صفا پر ہاتھ اٹھائے دعا فرمارہے تھے

    دعا سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ تم لوگوں نے کیا بات کی ہے ؟

    انہوں نے کہا کچھ نہیں یا رسول اللہ! مگر آپﷺ نے اصرار فرمایا تو بالآخر ان لوگوں نے بتلادیا

    آپﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ !اب زندگی اور موت تمہارے ساتھ ہے

    قارئین ! یہ انصار سے محبت کا اظہار خود رسول اللہﷺ نے کیا بلکہ آپﷺ نے انصار کو ایسی فضلیت سے نوازا کہ انکی خدمات رسول ﷺ کا بدلہ چکا دیا، فرمایا کہ "ایمان کی نشانی انصار کی محبت ہے " پھر دوسری جگہ ارشاد فرمایا "انصار سے محبت صرف مومن ہی کرتا ہے۔ ان سے منافق کے علاوہ کوئی بغض نہیں رکھتا۔ تو جو ان سے پیار کرتا ہے اللہ ان سے انس رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے اللہ ان سے بغض رکھتے ہیں"

    اور پھر اہل مدینہ کی شان کچھ یوں بیان فرمائی ، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو شخص ظلم کرتے ہوئے اہل مدینہ کو ڈرائے تو اللہ تعالی اسے ڈرائے گا، اور اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، اللہ تعالی قیامت کے روز اس سے کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا


    مکہ میں رسول اللہﷺ نے اُنیس ۱۹ روز قیام فرمایا اس دوران آپ نقوش ِ اسلام کی تجدید کرتے رہے۔ اور لوگوں کو ہدایت وتقویٰ کی رہنمائی فرماتے رہے۔ انہی دنوں آپﷺ کے حکم سے حضرت ابو اسید خزاعی نے نئے سرے سے حدود حرم کے کھمبے نصب کیے۔ آپﷺ نے اسلام کی دعوت اور مکہ کے آس پاس بتوں کو توڑنے کے لیےمتعدد سرایا بھی روانہ کیے اور اس طرح سارے بت توڑ ڈالے گئے۔ آپ کے منادی نے مکے میں اعلان کیا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے گھر میں کوئی بت نہ چھو ڑے بلکہ اسے توڑ ڈالے۔


    اب آتے فتح فلسطین کی طرف اور اس عظیم جملہ کی طرف جو عمر رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر کہا

    سن 15 ہجری میں نبی کریم ﷺ کی پیشنگوئی پوری ہوگئی۔ مسلمان فلسطین میں داخل ہوگئے اور وہاں کے لوگوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس کی چابیاں خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو نہ دینگے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صفات بھی ہماری کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔

    پھر ایک تاریخی سفر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ سے شام چلے گئے۔ بڑی عزت سے بیت المقدس کی چابیاں وصول کیں۔ اور ایسی تاریخ رقم کی کہ جسے نور کی روشنائی سے لکھنا چاہیے

    آپ المکبر پہاڑی پر چڑھے، سارے بیت المقدس کو دیکھا، اللہ اکبر کی آواز بلند کی اور ساتھ مسلمانوں نے بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی آوازیں بلند کرنا شروع کر دیں۔ پھر آپ نے اپنا وہ مشہور جملہ بولا


    نحن قومٌ أعزَّنَا الله بالإسلام، فمهمَا ابتغَيتُم العِزَّةَ بغيرِه أذلَّكُم الله

    ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے،
    اسے چھوڑ کر ہم جس چیز میں بھی عزت تلاش کریں گے اللہ ہمیں رسوا ہی کرے گا


    اسلام کی عزت سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المقدس میں داخل ہوئے اور یہ عظیم جملہ بولتے ہوئے اسے فتح کیا

    آپ نے مسجد اقصیٰ میں قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کی، پھر اس پتھر کے متعلق پوچھا جس سے براق کو باندھا گیا تھا۔ وہ پتھر گندگی اور کوڑے کے ڈھیر کے نیچے آ چکا تھا۔ آپ نے اپنی چادر سے گندگی ہٹانا شروع کی اور پھر لوگوں نے بھی مدد کرنا شروع کر دی یہاں تک کہ ساری جگہ بالکل پاک ہو گئی۔

    پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اہل علاقہ کے لیے سلامتی اور حفاظت کا معاہدہ لکھا، تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق محفوظ کیے۔ کسی کو اپنی عبادت کرنے سے نہیں روکا، کسی راہب کی عبادت گاہ نہ توڑی یہاں تک کہ دین کے نام پر اگر کوئی دیوار بھی بنی تھی تو اسے بھی نہ چھیڑا۔ نہ کسی رہائشی کو اپنے گھر سے نکالا، نہ کسی کا گھر گرایا، نہ کسی کی عبادت گاہ توڑی اور نہ کسی کی رہائش گاہ کو خراب کیا۔


    قارئین ! اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ عزت اسلام کے ذریعہ سے ہی ملے گی اور وہ چاہے کوئی بھی ہو اور اللہ کے ہاں وہی مقرب ہوگا جو شرک سے پاک اور سنت مطہرہ ﷺ کے سب زیادہ نزدیک ہو، اب چاہے وہ کوئی بھی ہو اور سنت مطہرہ ﷺ کے سب زیادہ نزدیک جناب صحابہ کرام کی جماعت تھی پھر تابعین اور تبع تابعین

    اس ماہ مبارک میں ایک ٹی چینل پر مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کا ایک گھناؤنا منظر دیکھنے کو ملا جس میں ڈاکٹر عامر لیاقت اور مفتی حنیف قریشی ، علامہ کوکب نورانی پیش پیش تھے

    ڈاکٹر عامر لیاقت تو مداری کے بندر جیسا کردار ہے جہاں مرضی ڈگ ڈگی بجا کر تماشہ کروا لو وہ جس پر اپنی زبان کھول رہا تھا اس ذاکر نائیک کو اللہ تعالی نے عزت بخشی اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلموں کے اسلام میں داخل ہونے کا ذریعہ بنا

    اور سوشل میڈیا پر وہ کلپ ابھی بھی موجود ہے جس میں عامر لیاقت اپنی گندی زبان صحابہ کرام کیلئے استعمال کررہا ہے

    اور جناب مفتی حنیف قریشی ، علامہ کوکب نورانی صاحب آپ اپنے آپکو بہت بڑا مناظر سمجھتے ہیں ؟ جناب مولانا گھمن صاحب آپکو بھی مخاطب کررہا ہوں آپ لوگ اس وقت کہاں تھے جب ڈاکٹر ویلیم کیمبل قرآن کے خلاف لکھ کر بیٹھا تھا ؟ اپنے آپکو مناظر کہنے والے خاموش تھے اور اسی ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ہاتھوں اللہ تعالی نے ڈاکٹر ویلیم کیمبل کو ذلیل کروایا

    مناظر اسلام تو شیخ احمد دیدات تھے جنہوں نے مغربی دنیا کے کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کیا ہوا تھا اللہ کے حکم سے ، چھ جماعت پاس شیخ احمد دیدات کو اللہ تعالی نے اس علم نے نوازا کے عسائیت کے بڑے بڑے برج ان کے سامنے ڈھے گئے وہ خود فرماتے ہیں کے پاسٹر کا نام بہت مشہور تھا اور بہت سوں نے مجھے اس سے مناظرہ کرنے سے منع کیا لیکن میں نے توفیق باللہ اس سے مناظرہ کیا اور اللہ تعالی نے فتح سے ہمکنار کیا

    آپ لوگ آپس میں ہی مناظرے کرتے پھرتے ہو اور وہ کفر سے مناظرے کرتے تھے اور ڈاکٹر ذاکر نائیک انہی کے شاگرد ہیں

    جناب مفتی حنیف قریشی صاحب آپکا کلپ بھی موجود ہے جس میں اپنی زبان سے صحابہ کرام کا بغض بیان کررہے ہو اور کہہ رہے ہو کہ حضرت علیؓ کے مقابلہ میں آنے والے غلط تھے حق پر صرف یہی تھے ،اللہ تعالی نے آپکی زبان سے بغض صحابہ واضح کردیا ،آپ کون ہو ؟ آپ کی حیثیت کیا ہے ؟ صحابہ رضوان اللہ سبھی حق پر تھے صرف سبائی ٹولہ باطل پر تھا جنہوں نے اپنی منافقانہ سازشوں ہے مسلمانوں کے درمیان تفریق ڈالنے کی کوشش کی اور منہ کی کھانی پڑی آپ اپنی عاقبت کو خود اپنی زبان کے ہاتھوں برباد نہ کریں

    اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كى حالت درست كرے اور ہم سب كو صحيح راہ كى توفيق نصيب فرمائے، يقينا اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا اور قريب ہے، اللہ تعالی ہمیں اس دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس دین کو لیکر سیدالاولین و الاخرین ﷺ آئے اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارا اور جنت کی بشارتیں پاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ تعالی ہمیں بھی ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.آمین
     
    Last edited: ‏جولائی 2, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں