لَيْلَـةُ الْقَدْر: سو لگاکر تین لاکھ پائیں

سیما آفتاب نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جون 4, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    501
    لَيْلَـةُ الْقَدْر: سو لگاکر تین لاکھ پائیں - تحریر: یوسف ثانی

    رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ وہ عشرہ جس کی پانچ طاق راتوں میں ایک ایسی رات بھی آتی ہے جو 83 سال کی ہزار راتوں سے بھی بہتر اور افضل ہے، اسے لَيْلَـةُ الْقَدْر کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس رات کے بارے میں قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں کہ لَيْلَـةُ الْقَدْرہزار مہینوں سے بہتر ہے۔( سورت القدر: آیت۔ 3)۔ یعنی اگر کوئی اس رات عبادت میں گزارے تو اس کا اجر و ثواب عام ہزار راتوں کی عبادت کے مساوی بلکہ اس سے بھی بہتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ لَيْلَـةُ الْقَدْر کو پالے۔ لیکن اسے یقینی طور پر پانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم رمضان المبارک کے آخری پانچ طاق راتوں کی شب بیداری کریں، جو آج کے مصروف ترین دور میں سب کے لئے بہت مشکل ہے کہ اگر پانچ راتیں، شب بیداری میں گزاریں تو اگلے پانچ دنوں کے کام کاج اور غم روزگار کا کیسے انتظام کریں گے؟ آئیے ہم آپ کو ایک ایسے انتہائی آسان اور سب کے لئے قابل عمل طریقہ سے آگاہ کرتے ہیں جس کے ذریعہ آپ ایک بھی مکمل شب بیداری کئے بغیر شب قدر کو بھی پالیں گے، اللہ کی راہ میں محض ایک سو روپے صدقہ کرکے تین لاکھ روپے صدقہ کا ثواب حاصل کرلیں گے اور ساتھ ہی ساتھ تیس ہزار قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب، تیس ہزار شب بیداریوں اور ساٹھ ہزار رکعتوں کا ثواب بھی حاصل کرلیں گے۔

    ائمہ بیت اللہ شریف میں سے ایک کے نام سے لَيْلَـةُ الْقَدْر سے متعلق ایک پیغام ان دنوں سوشل میڈیا میں گردش کر رہا ہے۔ چونکہ اس پیغام کا مذکورہ امام کعبہ سے منسوب ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے لہٰذا ہم امام کعبہ کا نام لئے بغیر ہی اس پیغام کو آپ سے شیئر کرتے ہیں کیونکہ یہ تمام باتیں قرآن و سنت سے پہلے سے ثابت شدہ ہیں۔ اس پیغام پر عمل کرکے آپ مندر جہ بالا تمام کے تمام انعامات سے آخری پانچ طاق راتوں تک مکمل شب بیداری کی مشکلات اٹھا ئے بغیر ہی مستفید ہوسکتے ہیں۔ بس آپ کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ہر رات کو یہ چند نہایت آسان کام کرنے ہیں تاکہ رویت ہلال میں کسی ممکنہ غلطی کے سبب طاق اور جفت راتوں کا باہم بدلنے کے خطرے کا امکان بھی صفر ہوجائے اور آپ کی ملاقات لازما لَيْلَـةُ الْقَدْر سے بھی ہوجائے۔

    سب سے پہلے آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیسویں روزہ کے بعد آنے والی تمام دس کی دس راتوں میں نماز عشاء اور نماز فجر با جماعت ادا کریں گے۔ کیونکہ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آخری طاق راتوں میں شب بیداری کا اہتمام کرنے والوں سے بھی مصروفیت، تھکن اور نیند کے سبب عشاء اور فجر کی نمازوں میں سے کو ئی ایک نماز جماعت سے ادا ہونے سے رہ جاتی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ: نمازِ عشاء اور نمازِ فجر منافقین پر بہت بھاری ہیں۔ مسلم اور ترمذی کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: جو جماعت کے ساتھ نمازِفجر ادا کرتا ہے، تو گویا اس نے تمام رات عبادت کی۔ لہٰذا اگر آپ نے ان دس راتوں میں عشا اور فجر کی باجماعت نمازوں کو یقینی بنا لیا تو انہی میں سے ایک رات شب قدر بھی تھی، جس میں عشاء اور فجرکی باجماعت نماز ادا کرنے کے سبب آپ کو پوری شب بیداری کا ثواب مل گیا۔ اور شب قدر کی شب بیداری کا اجر ہزار مہینوں کی تیس ہزار شب بیداریوں کے مساوی بلکہ اس سے بھی بہتر ہے۔ جو آپ کو محض آخری عشرہ کی تمام راتوں میں عشاء اور فجر کی باجماعت نمازوں کا اہتمام کرنے سے حاصل ہوگیا۔

    دوسرا کام آپ یہ کیجئے کہ آخری عشرہ کی ہر رات سونے سے قبل تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھ کر سو ئیں۔ سورہ اخلاص اجر و ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (مسلم) گویا تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھنے کا اجر ایک قرآن پڑھنے کے اجر کے مساوی ہے۔ آپ نے دس راتوں تک مسلسل ایک قرآن پڑھنے کا اجر و ثواب سمیٹا، جس میں شب قدر بھی شامل ہے، جس میں کی گئی ایک عبادت ہزار مہینوں (تیس ہزار شب) کی عبادت کے مساوی ہے۔ اس طرح آپ نے اس شب تیس ہزار قرآن پڑھنے کا اجر حاصل کرلیا۔ آخری عشرہ کی ہر رات سحری کرنے سے قبل کم از کم دو رکعت نفل نماز ادا کرنے کو یقینی بنا کر آپ شب قدر کی دو رکعت کو پالیں گے، جس کا اجر و ثوب ساٹھ ہزار رکعت نفل کے مساوی ہوگا۔

    آخری عشرہ کی ہر رات (بعد مغرب تا قبل فجر) روزانہ کم از کم دس روپیہ (یا 100 روپیہ، یا حسب توفیق زائد) صدقہ بھی کریں۔ دس راتوں تک مسلسل آپ محض دس روپیہ یومیہ (کل سو روپیہ) صدقہ کریں گے تو شب قدر والے دس روپیہ کے صدقہ کا اجر تیس ہزار گنا بڑھ کر تین لاکھ روپے صدقہ کرنے کے اجر کے مساوی بلکہ اس سے بھی افضل ہوجائے گا۔ رمضان کے آخری عشرہ کی دس راتوں میں سو روپیہ صدقہ کے کر تین لاکھ روپیہ صدقہ کا اجر حاصل کرنا کتنا آسان ہے۔ اللہ ہم سب کو سہولتوں کے ساتھ شب قدر کی زیادہ سے زیادہ فضیلتوں سے استفادہ کرنے کی توفیق دے۔ دلیل کے انہی صفحات پر اس احقر کی مرتب کردہ "قرآن مجید میں موجود اوامر و نواہی" (قسط (1، 2، 3، 4، 5، 6) اور "احادیث میں موجود اوامر و نواہی" (قسط 1، 2، 3، 4) کو قسط وار شائع کیا گیا ہے۔ اگر ہم رمضان المبارک کے اس آخری عشرہ میں اوسطاً ایک قسط یومیہ بھی پڑھ لیں تو اسی عشرہ میں ہم قرآن و سنت کے بیشتر اوامر و نواہی سے بھی آگاہ ہوجا ئیں گے۔ ماہ رمضان میں قرآن کا ہم پر اتنا تو حق بنتا ہے کہ ہم اس سے ثواب حاصل کرنے ساتھ ساتھ اسے کسی حد تک سمجھ کر بھی پڑھیں تاکہ قرآن و سنت پر مبنی اصل شریعت پرعمل کرنے میں آسانی ہو۔
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    ہہہہہ خوب مول تول کر کے شب قدر کا حساب کتاب کیا گیا ہے اور اسے امام حرم سے منسوب کر کے خوب پھیلایا جا رہا ہے، حیرت کی بات ہے کہ شب قدر کا یہ شارٹ کٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم، صحابہ کرام اور کبار آئمہ میں سے کسی نے نہیں سمجھایا۔ کوئی تو وجہ ہوگی، ثواب کا کوئی مخصوص پیمانہ نہیں ہوتا کہ اتنے رکعت نفل، اتنی قرآنی آیات یا اتنے روپے صدقہ کرنے پر اتنے کلو ثواب ملے گا۔ یہ تو خلوص نیت اور تقوی پر منحصر ہے، ہو سکتا ہے کہ کسی کی ساری عبادتیں لاکھوں روپے کا صدقہ کسی کے ایک گلاس پانی پلانے کے آگے ہیچ ہو جائیں۔ خلوص، شرک سے پاک، تقوی سے بھرپور کوئی بھی عبادت اللہ کے فضل کی امید رکھ کر کی جائے ان شاء اللہ مقبول ہو گی۔ اس طرح مول تول والی عبادت اپنی تسلی کے لئھ تو کافی ہیں لیکن اگر ہمارے گناہوں کا حساب بھی اسی طرح ہو تو شاید ہمارے پلے ککھ نہ رہے۔ واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    سبحان اللہ.
    شب قدر کے طاق راتوں میں شب بیداری کیسے کی جائے. درج ذیل کی تحریر مفید ہو سکتی ہے
    http://www.urdumajlis.net/threads/23866/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    501
    یہ حساب کتاب خود ساختہ نہیں ہے مستند اور صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہے ۔۔ تو جب یہ کام شب قدر میں کیے جائیں تو ان کا اجر اللہ سے بڑھا کردینے پر قادر ہے۔ انسان فطرتا" لالچی ہے اور کم وقت میں زیادہ فائدہ کہ تلاش میں ہوتا ہے اور جب وہ فائدہ احادیث سے ثابت شدہ ہو تو اس پر عمل کرنے میں ضرور آگے آتا ہے۔ اخلاص اور نیت کی بحث نہیں ہے یہاں پر جو اجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیا ہے تو اس میں شک کی گنجائش نہیں۔ اللہ ہمیں ہر عمل چھوٹا ہو یا بڑا اخلاص سے انجام دینے کی توفیق دے آمین۔
     
  5. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    501
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    شکریہ سس ایک سنجیدہ اور علمی بحث شروع کرنے پر امید ہے کہ اس کے ذریعے ہمارے علم میں نئی اور مفید باتیں آئیں گی بہرحال
    جہاں تک مجھے معلوم ہے شب قدر کو عبادت کرنے کی تاکید کی گئی ہے جتنی ہو سکے کم ہے، اس عبادت کا ثواب اگر کہیں کیلکولیٹ کر کے دیا گیا ہے تو پلیز شیئر کر کے میرے علم میں بھی اضافہ فرمائین۔ بے شک ہزار مہینوں سے بہتر یہ رات ہے جس میں آنے والے سال بھر کے معاملات کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی حالت میں ہمیں جتنا ہو سکے اپنے رب کو راضی کرنا چاہئے نہ کہ دس روپے روز کے حساب سے صدقہ کی ترغیب دلا کر لوگون کو لاکھوں نیکیوں کا ثواب دلا کر انہیں اس رات کی عظمت و برکت سے محروم کر دیا جائے جس کا ہم ادراک ہی نہیں کر سکتے۔

    رہی بات ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کی تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہمیں اس کا ادراک نہیں۔ اس لئے اس سلسلے میں اس کی کوئی توجیہہ کرنا ممکن ہی نہیں۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ اگر آپ کراچی کو ہزار شہروں سے بہتر مان لیں جو کہ ہے بھی تو کیا کراچی کی ہر چیز دوسرے شہروں کے عام چیزوں سے ہزار گنا بہتر سمجھنا عقل مندی ہوگی۔ یقینا پہلے ہمیں اس کو ڈھونڈنا ہو گا کہ کراچی کی کونسی خوبیاں باقی ہزار شہروں سے بہتر ہیں۔ پھر ان کوالٹیز پر فخر کیا جائے گا۔
    اسی طرح شب قدر کو ہزار مہینوں سے افضل کا تو بتا دیا گیا لیکن یہ بھی کہا گیا کہ تم اس کا ادراک نہیں کر سکتے یا تعین نہیں کر سکتے کہ کیسے ہزار مہینوں سے افضل ہے، اس لئے ہمیں اس میں صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے اور عبادت کے ذریعے شب قدر تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ اس رات کی فضیلت کے سبب اپنے معمولی صدقات و عبادت کو لاکھوں گنا مہنگا کر کے پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔
     
    Last edited: ‏جون 6, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    آپ کی بات درست ہے کہ فجر و عشاء کی نماز و سورت الاخلاص کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہیں. مگر عبادت کی کچھ شروط ہیں. جب تک عبادت میں موجود نا ہوں وہ عمل لائق اتباع نہیں.
    جیسے سونے سے پہلے تین کا عدد گن کراخلاص پڑھنا. اور پھر اس کا اجر ہزاروں سالوں تک پہنچا دیناوغیرہ.
    یہاں تفصیل موجود ہے.
    https://islamqa.info/ur/21519


     
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    رمضان المبارک کی مناسبت سے اولا ہمیں اس بات کی خبر دینی ہوگی جو رمضان کی خصوصیات ہیں یعنی اس ماہ مبارک میں رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے ۔ شب قدر کے تعلق سے جو آسان نسخہ پیش کیا گیا ہے خواہ اس نسخے کی نسبت کسی کی جانب ہو درست نہیں ہے ۔
    ہمیں آخری عشرے اور طاق راتوں میں اولا ان عبادتوں کی ترغیب دینی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں اور شب قدر میں انجام دینے والی ہیں پھر جو عمومی مسنون اعمال ہیں ان کی بھی ساتھ ساتھ کوئی ترغیب دے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ روزانہ کے عمومی اعمال مسنونہ اور اعمال واجبہ اپنی جگہ روز انجام دینا چاہئے رمضان ہو یا غیر رمضان اور جب رمضان ہوتو اس کے جو مستحب اعمال ہیں انہیں انجام دے کر کسب فیض کرنا چاہئے ۔
    سورہ اخلاص کے متعلق جو توجیہ پیش کی گئی ہے صحیح نہیں ہے ، سورہ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے مگر یہ برابری قرات کے اعتبار سے نہیں ہے ۔
    صدقہ وخیرات کے متعلق بھی عمومی انداز میں ہمیں دعوت دینی چاہئے اور اسے فکس کرکے ، اس کا حساب وکتاب جوڑ کر بتلانے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  10. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    501
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں