شب قدر کو پائیے گارنٹی کے ساتھ

عبد الرحمن یحیی نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جون 5, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    شب قدر کو پائیے گارنٹی کے ساتھ
    ‏️ علامہ ابن باز رحمه الله کہتے ہیں :

    جس نے ( آخری ) سارا عشرہ قیام کیا
    وہ ضرور لیلة القدر کو پا لے گا ۔


    " من قام العـشْر جميعاً ، أدرك ليلة القدر "
    الفتاوى ٤٣٠/١٥


    تفسیر سورۃ القدر ( فضیلۃ الشیخ ابو عبدالرحمن بھٹوی حفظہ اللہ ) :
    (١) انا انزلنہ فی لیلۃ القدر : ” ہم نے اسے قدر کی رات میں نازل کیا “
    یعنی قرآن مجید کو ۔ جب کوئی چیز اتنی مشہور ہو کہ خود بخود ذہن میں آ جاتی ہو تو اس کی عظمت واضح کرنے کے لئے نام لینے کے بجائے اس کی ضمیر پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔
    (٢) ” القدر “ کا معنی قدیر ہے ، یعنی قدیر کی رات ۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے :
    ( فیھا یفرق کل امر حکیم ) (الدخان : ٣)
    ” اس رات میں ہر ممکن کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ “
    یعنی سال بھر میں جو کام ہونا ہوتا ہے اس رات میں لوح محفوظ سے نقل کر کے ان فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے جو اسے سر انجام دیتے ہیں ۔
    القدر “ کا دوسرا معنی عظمت ہے ، یعنی عظمت والی رات ۔ اس کے بعد اس کی عظمت پر دلالت کرنے والی چیزیں بیان کی ہیں ، یعنی اس کا ہزار مہینے سے بہتر ہونا ، اس میں ملائکہ اور جبریل ( علیہ السلام ) کا اترنا اور اس کا سراسر سلامتی والی ہونا ۔ لیلتہ القدر کے مفہوم میں یہ معنی بھی شامل ہے ۔
    (٣) لیلتہ القدر میں قرآن مجید اتارنے کا مطلب سیدنا عبداللہ بن عباس ( رضی اللہ عنھما ) نے یہ بیان فرمایا ہے کہ لیلتہ القدر میں پورا قرآن ایک ہی دفعہ آسمان دنیا پر نازل کیا گیا ، پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا کر کے کئی سالوں میں رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر نازل ہوا ۔ تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے سورة بنی اسرائیل کی آیت (١٠٦) ( وقرانا فرقنہ لتقراہ علی الناس علی مکث ) کی تفسیر کی تحقیق میں سیدنا ابن عباس ( رضی اللہ عنھما ) کے اس قول کے متعلق فرمایا ہے کہ اسے طبری ، نسائی ( سنن کبریٰ ، تفسیر سورة فرقان ) حاکم ( مستدرک خ ٢/٣٦٨) اور بیہقی ( دلائل النبوۃ : ٧/١٣١) نے روایت کیا ہے اور سب نے اسے داؤد بن ابی ھند عن عکرمۃ عن ابن عباس “ کی سند سے بیان کیا ہے ۔ حاکم نے اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی فتح الباری (٩/) میں ان کی موافقت کی ہے ۔
    دوسرا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر قرآن مجید کے نزول کی ابتدا لیلتہ القدر میں ہوئی ۔ یہ معنی شعبی ( رحمہ اللہ ) نے کیا ہے ۔ ( طبری )
    اور زمین پر قرآن مجید کے لیلتہ القدر میں اترنے کا معنی اس کے سوا ہو بھی نہیں سکتا ۔
    (٤) اس رات کے رمضان میں ہونے کی تصریح خود قرآن میں ہے ، فرمایا :
    ( شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ) (البقرۃ : ١٨٥)
    ” رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ۔ “
    اور صحیح احادیث میں ہے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی کوئی ایک طاق رات ( ٢١ ، ٢٣ ، ٢٥ ، ٢٧ ، ٢٩) ہے ۔ متعین نہ کرنے میں یہ حکمت ہے کہ مسلمان ان راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرلیں ۔ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پورے آخری عشرے ہی میں شب بیداری ، اعتکاف اور گھر والوں کو جگانے کا اہتمام کرتے تھے ۔
    (دیکھیے بخاری، فضل لیلۃ القدر، باب العمل فی العشر الاواخر من رضمان : ٢٠٢٣)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ، بارک اللہ فیک!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں