صیام رمضان کا حقیقی پیغام

حافظ عبد الکریم نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جون 5, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    551
    صیام رمضان کا حقیقی پیغام
    تحریر:حافظ عبدالرشید عمری

    (عربی خطبہء جمعہ کی سماعت کے بعد راقم سطور نے اپنے علم و فہم کے مطابق یہ مختصر مفید تحریر لکھنے کی کوشش کی ہے،
    یہ تحریر گزشتہ رمضان المبارک میں تحریر کردہ تحریر ہے جس میں کچھ ترمیم کرتے ہوئے آخری عشرے کی مناسبت سے ارسال کی جارہی ہے )

    ياأيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون
    ( البقرة )

    اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقوی اختیار کرو ۔
    ان شاء اللہ کل رات سے رمضان المبارک کے آخری عشرے کا آغاز ہو جائے گا،
    اور دس دن بعد ماہ مبارک رمضان ہم سے جدا ہو جائے گا،
    اس کی برکت،فضیلت اور سعادت ہم سے چھوٹ جائے گی،
    ہر مسلم بندہ اللہ تعالٰی کی توفیق کے مطابق کوئی کم اور کوئی زیادہ ماہ مبارک رمضان میں بہت سی چھوٹی بڑی عبادتوں اور نیکیوں کو انجام دیا ہے اللہ تعالٰی آخری عشرے میں بھی زیادہ سے زیادہ عبادتوں اور نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے،
    اللہ تعالٰی نے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس ماہ مبارک رمضان میں صیام،قیام،طعام ،تلاوت قرآن، دعاؤں،صدقہ و خیرات،ذکر و اذکار اور توبہ و استغفار وغیرہ بہت سی عبادات کا فرض اور نفل دونوں صورتوں میں حکم دیا ہے،
    یعنی رمضان المبارک کی بعض عبادات فرض کی حیثیت رکھتی ہیں اور بعض عبادات (بہت زیادہ فضیلت کی حامل)نفل کی حیثیت رکھتی ہیں،
    رمضان کی روح اور جان لیلةالقدر ہے
    اسی لئے حدیث میں کہا گیا:
    من حرم خیرھا فقد حرم الخیر کله .
    جو لیلةالقدر کی فضیلت اور اجروثواب سے محروم رہا وہی حقیقی محروم ہے
    اور رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا سب سے اہم اور بڑا مقصد تقوی کا حصول ہے،

    اور تقوی اللہ تعالٰی کی حقیقی اطاعت وفرمانبرداری
    کے عملی جذبہ کا نام ہے،
    یعنی نیکیوں کو اختیار کرنے اور گناہوں کو چھوڑنے کا نام ہی تقوی ہے ۔
    اور تقوی ایسا ایمانی وصف ہے جو ایک مسلمان کے اقوال واعمال اور اخلاق وکردار کے سنوارنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے،
    اپنے دامن کو نیکیوں کے بھرپور اجر و ثواب سے بھرنے کے لئے ہر مسلم بندہ کے لئے
    رمضان المبارک کا آخری عشرہ جس کی پانچ طاق راتوں میں سے ایک رات لیلةالقدر ہوگی
    ہر مسلمان اس شب قدر کی فضیلت کے اجر و ثواب کے حصول کے لئے ہر طاق رات کو غنیمت جان کر عبادتوں دعاؤں ذکر و اذکار،توبہ و استغفار اور صدقہ خیرات تلاوت قرآن اور قیام اللیل کی نماز وغیرہ جیسی اہم عبادتوں کو انجام دینے کی کی بھر پور کوشش کرے
    اور مختلف قسم کی انجام دی گئی عبادتوں اور نیکیوں کی قبولیت کے لئے رب العالمین کی بارگاہ میں عاجزی وانکساری اور گریہ وزاری کے ساتھ دعاء کا اہتمام کرے،
    اور جہنم سے آزادی اور نجات کی خصوصی طور پر کثرت سے دعا کرے
    اللہ تعالٰی رمضان المبارک کی ہر رات کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے ۔
    جنت میں داخل ہونا اور جہنم سے نجات پانا یہی ہر مسلمان کی حقیقی کامیابی ہے
    فمن زحزح عن النار و أدخل الجنة فقد فاز (آل عمران)
    جو آگ سے دور کردیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے یقینا وہ کامیاب ہو گیا۔

    اور حقیقت میں ہر مسلم بندہ
    کو ہر چھوٹی بڑی عبادت اور نیکی کی توفیق اللہ ہی نے دی ہے اس نعمت توفیق پر اللہ کا شکر ادا کرے،

    ہر چھوٹی بڑی عبادت میں
    کوتاہی،کمی اور غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے توبہ و استغفار کا کثرت سے اہتمام کرے تاکہ اللہ کے پاس ہماری ہر چھوٹی بڑی عبادت کا مکمل اجروثواب محفوظ رہے،

    عبادات اور نیک اعمال پر غررو و تکبر کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو حقیر سمجھنا اور اللہ پر احسان جتانے کی ناپاک کیفیت دل میں پالنا یہ سب سے بری صفت ہے،
    اس بری صفت سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے اپنی عبادتوں کی حفاظت کرے ۔

    ایک حقیقی مسلم بندہ کے لئے ضروری ہے کہ جتنی فکر اس کونیک اعمال کی ادائیگی کی ہے
    اس سے کہیں زیادہ فکر اس کو نیک اعمال کی قبولیت کی ہونی چاہئے،

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلاف کرام اپنے اعمال کی قبولیت کے لئے کثرت سے دعاؤں کا اہتمام کیا کرتے تھے،

    اور جو لوگ اللہ سے بے نیاز ہو کر دعائیں کرنا ترک کردیتے ہیں ان کے لئے حدیث میں شدید وعید آئی ہے ،

    من لم يسأل الله يغضب عليه
    جو اللہ سے نہیں مانگتا ہے تو اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے،

    اور اللہ تعالٰی نے سورہء فاطر میں فرمایا:
    يا أيها الناس أنتم الفقراء إلى الله والله هو الغني الحميد
    اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو
    اور اللہ بے نیاز خوبیوں والا ہے.

    رمضان المبارک کے اس آخری عشرے کے ایام میں اپنی عبادات کا جائزہ لیں کہ اللہ نےروزوں کی فرضیت کا سب سے بڑا مقصد تقوی کا قرار دیا ہے ،

    آیا ہمارے اندر تقوی (نیکیوں پر عمل پیرا ہونے اور گناہوں سے بچنے کا حقیقی عملی جذبہ )پیدا ہوا ہے یا نہیں ؟

    جس طرح روزہ سے ہمارے اندر اللہ تعالٰی کی حقیقی اطاعت وفرمانبرداری کا یہ جذبہ پیدا ہوا کہ ہم صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی خواہش کی تکمیل سے بچتے ہیں،
    اللہ تعالٰی نے دن میں ان حلال اشیاء کو ہمارے لئے حرام کیا ہے،
    اس میں یہی حکمت پنہاں ہے کہ اطاعت وفرمانبرداری کا عملی جذبہ ( تقوی ) بلوغت سے لے کر موت تک اللہ تعالٰی کے تمام اوامر کو بجا لانے اور اللہ تعالٰی کے تمام حرام کردہ امور سے بچنے کا ہمارے اندر حقیقی عملی جذبہ پیدا ہو،

    یقینا وہ مسلم بندہ سب سے خوش نصیب ہے جس کے اندر تقوی پیدا ہوا،

    اور یقینا وہ سب سے خوش نصیب ہے جو لیلةالقدر کی فضیلت کا مستحق قرار دیا گیا،

    یقینا وہ مسلم خوش نصیب ہے جس کو صیام رمضان، اورقیام رمضان کی توفیق نصیب ہوئی،

    یقینا وہ مسلم خوش نصیب ہے جس کو اللہ نےخوف و رجاء(امید )کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ کی گئی عبادتوں اور دعاؤں کو شرف قبولیت بخش کر جہنم سے
    آزادی کا پروانہ عطا کردیا،

    اے اللہ تو اپنے فضل وکرم سے ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادتوں نیکیوں اور دعاؤں کو شرف قبولیت بخش دے،

    اے اللہ! ہمیں رمضان المبارک کی ساری ہی برکتوں،فضیلتوں سعادتوں کا مستحق بنا دے،

    اے اللہ! ہمیں لیلةالقدر کی فضیلت کا مستحق بنادے ،

    اےاللہ! ہمارے ہر چھوٹے بڑے گناہ کو معاف کردے،

    اے اللہ! تادم حیات تیری مرضیات کے مطابق ہمیں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما،

    اے اللہ! تو ہمیں اپنے بےحدوحساب فضل وکرم سے اور اپنی بےپایاں رحمت ومغفرت سے جنت کا مستحق بنا اور جہنم سے نجات کا مستحق بنا ،آمین ۔

    وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں