خطبہ حرم مکی 08/06/2018 ۔۔۔۔ آخری عشرے کی برکتیں از فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس

سیما آفتاب نے 'خطبات الحرمین' میں ‏جون 10, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس
    جمعۃ المبارک 23 رمضان المبارک 1439ھ بمطابق 8 جون 2018
    عنوان: آخری عشرے کی برکتیں۔
    ترجمہ: عاطف الیاس
    بشکریہ: کتاب حکمت ویب

    پہلا خطبہ:
    یقینًا! ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ اے اللہ! ہم تیری حمد وثنا بیان کرتے ہیں، تجھ ہی سے معافی مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے توبہ کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں۔ اسی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اسی نے ہمیں دس بابرکت خیر اور برکات والی راتوں سے نوازا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی روزہ داروں اور تہجد گزاروں کو اجر عظیم عطا فرمانے والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ مخلوق میں افضل ترین ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، اصحاب توفیق صحابہ کرام پر، تابعین عظام پر اور قیامت تک طالب نجات لوگوں پر جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔
    بعدازاں!
    اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور یاد رکھو کہ آپ پرہیز گاری کے بابرکت موسم میں ہو۔ اللہ تعالیٰ روزے کی فرضیت والی آیت کے آخر میں فرمایا ہے:
    ’’اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی‘‘
    (البقرۃ: 183)
    اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    امت اسلامیہ ان دنوں گراں قدر اوقات سے گزر رہی ہے۔ یہ اوقات رمضان کے آخری عشرے کے اوقات ہیں۔ سال کے کچھ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جھونکے بڑی کثرت سے آتے ہیں، رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔
    کچھ ہی دن پہلے ہم رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ بڑے شوق اور محبت بھرے جذبات سے اس کا استقبال کر رہے تھے اور کچھ ہی دن بعد ہم اسے الوداع کہہ رہے ہوں گے اور اس کے کھاتے اللہ تعالیٰ کے یہاں جمع کرا رہے ہوں گے۔
    اے ماہ رمضان! اتنی تیزی کیوں گزرتے جا رہے ہو؟ تم ہمارے آسمان کی رونق ہو۔ ذرا آہستہ چلو۔ ہمارے دلوں پر رحم کرو۔ ہمارے دل تو تمہاری برکت سے مانوس ہو چکے ہیں۔
    اے روزہ دارو اور تہجد گزارو!
    آئیے رمضان کے آخری حصے کی شاندار خوشبو سے معطر ہو جائیں اور اپنے دلوں کو اس کی زینت سے مزین کر لیں۔ اس کی برکتوں سے اپنے دلوں کو شفایاب کریں۔
    اس ماہ مبارک کے جانے کے افسوس میں آنکھیں اشک بار ہیں، بلکہ ان سے بارش کی طرح آنسو برس رہے ہیں۔ دل بھی بڑا اداس اور پریشان ہے۔ اب اپنے محبوب کو الوداع کہنا ہے اور ہم میں روزے اور پرہیز گاری کے مہینے کو الوداع کہنے کی ہمت کہاں ہے؟
    اللہ آپ کی نگہبانی کرے۔ خوش خبری اور نعمت بھری خبر یہ ہے کہ ابھی اس ماہ مبارک کے چند دن باقی ہیں۔ ان میں فرائض اور نوافل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور گزشتہ دنوں میں ہونے والی کمی کو پورا کرو۔
    کمر کس لو، راتوں کو عبادت کرو، ندامت کے آنسو بھاؤ۔ ہمارا رب بڑا ہی معاف کرنے والا، نرم، حلیم، کریم، بے شمار نعمتوں والا اور رحم کرنے والا ہے۔
    اے مسلمانو!
    نبی کریم ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ﷺ رمضان المبارک کی آخری راتوں میں اتنی زیادہ عبادت کرتے تھے جتنی وہ دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔
    صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ جب رمضان کی آخری دس راتیں آ جاتیں تو آپ ﷺ ساری رات جاگتے، اپنے گھر والوں کو جگاتے اور عبادت کے لیے کمر کس لیتے۔
    اللہ کے بندو! ابھی عمر کی رسی دراز ہے تو عبادت میں خوب محنت کرو۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ یہ تجارت بڑی نفع بخش ہے۔ آخری عشرے کی بقیہ ایام کو غنیمت جانو اور اجر وثواب کمانے کی خوب کوشش کرو۔
    مشرق ومغرب میں امت اسلامیہ کے لوگو! ان بابرکت راتوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم رات کا تحفہ دیا ہے۔ وہ رات بڑی قدر اور مرتبے والی رات ہے۔ انتہائی بابرکت ہے اور اس کا ذکر بھی بڑا بلند ہے۔ جو خیر، رحمت اور سلامتی سے بھر پور ہے۔ اسی میں قرآن بھی نازل ہوا اور اسی میں فرشتے بھی نازل ہوتے ہیں۔ یہ رات ان شاء اللہ ہم سے بالکل قریب ہے۔ یہ رات لیلۃ القدر ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ (2) شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘
    (القدر: 2-3)
    امام بخاری نے سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت کیا کہ چند صحابہ کرام نے خواب میں دیکھا کہ یہ رات آخری سات راتوں میں ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی خواب ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔ تو جو اسے تلاش کرنا چاہتا ہو، وہ اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔
    تو اے عبادت میں محنت کرنے والو! رمضان کی سات راتیں آپ کے آگے ہیں۔
    لیلۃ القدر ان ہی میں ہے اور وہ ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اسے مخفی رکھا گیا ہے تاکہ لوگوں کا امتحان ہو سکے، محنت کرنے والے اور سست الگ الگ ہو سکیں۔ جس کی زندگی با مقصد ہوتی ہے وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے سنجیدگی دکھاتا ہے اور اس راہ میں آنے والی پریشانیاں بھی اسے آسان لگنے لگتی ہیں۔ یہ وہ رات ہے کہ جس میں تقدیر کا قلم سعادت مندوں کی سعادت اور بد بختوں بد بختی تحریر کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ‘‘
    (الدخان: 4)
    نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: جس نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ لیلۃ القدر کا قیام کیا، اس کے پچھلے سارے گناہ معاف ہو گئے۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
    اللہ اکبر! اللہ اکبر! یہ کتنی بابرکت رات ہے! اور اس کے قیام کا کتنا زیادہ اجر ہے!
    یہ وہ رات ہے کہ جس میں صبح تک اللہ کے فرشتے نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر آپ اسے پانے میں کامیاب ہو گئے تو اس میں کی گئی عبادت ایک ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے۔
    ام المؤمنین سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے پتا چل جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے، تو میں کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دعا کرو کہ اے اللہ! یقینًا! تو معاف کرنے والا ہے۔ معافی تجھے پسند ہے۔ تو ہمیں معاف فرما!
    اے اللہ! یقینًا! تو معاف رکنے والا ہے۔ تجھے معافی پسند ہے۔ ہمیں معاف فرما!
    سنو! اس رات کی تلاش میں خوب محنت کرو! اسے پانے کے لیے خوب کوشش کرو۔ اس کی گھڑیوں میں نفس کو پاکیزہ کرنے کی کوشش کرو، اسے صاف کرو، اسے نیکی سے معمور کرو اور اس کا تزکیہ کرو۔
    اے رات میں عبادت کرنے والو! خوب محنت کرو! امید ہے کہ اس رات کو دعا کرنے والا خالی ہاتھ نہ لوٹے گا اور رات کی عبادت بھی وہی شخص کر سکتا ہے کہ جس کی ہمت بلند اور عزم پختہ ہو۔
    اے مؤمنو!
    غیرت مند مسلمان کے ذہن میں اس ماہ مبارک کے آخر میں بڑی بے تابی کے ساتھ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہماری امت نے روزے کی حقیقی روح کو سمجھ لیا ہے اور اس کے تمام تر پہلو اس پر عیاں ہو گئے ہیں؟ کیا وہ جان گئی ہے کہ اس سے شریعت کی نصوص کو پر ایمان بڑھتا ہے، عقل بہتری ہوتی ہے، دل صاف ہوتا ہے، روح مانوس ہوتی ہے، سوچ پرہیز گاری کی طرف مائل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق علم حاصل ہوتا ہے۔
    کیا ہم یہ سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ رمضان ایک ایسا نور ہے کہ جس سے اپنے نفس اور دل کو روشناس کرنا ہی ہمیں زیب دیتا ہے۔ اسی کی بدولت امت اسلامیہ تبدیلی اور اصلاح کی راہ پر چل سکتی ہے اور اپنی سوچ کو شہوات نفس اور خواہشات کی پیروی سے بچا سکتی ہے اور ثابت قدم رہ سکتی ہے۔ کیا ہم نے اس چیز کو صحیح طرح سمجھ لیا ہے یا پھر رمضان ہمارے نزدیک بس وہی معروف مہینہ ہے جو ہر سال میں آتا ہے اور جس کا ہمارے حالات سے اور کردار سے کوئی تعلق نہیں۔ بالکل ویسا جیسا کہ سورج طلوع ہوتا ہے یا ہلال نظر آتا ہے!؟
    خدا کی قسم! ہم بہت ہی خوش قسمت ہوں گے اگر ہم اس ماہ مقدس کو ایک بابرکت اور مضبوط کورس بنا لیں جس میں ہم اپنے نفس کو قابو میں رکھنا سیکھیں، پورے یقین اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا جانیں اور بلند درجات پانے کی کوشش کریں۔
    کیا ہم نے رمضان المبارک ایک دوسرے پر رحم کرنے اور معاف کرنے کا مہینہ سمجھا ہے؟ کیا ہم نے اسے نفس کے محاسبے کا مہینہ سمجھا ہے، کیا ہم نے اس میں اپنے اعمال کو درست کیا ہے اور کیا ہم نے اس کے عظیم سبقوں سے کچھ سیکھا ہے۔ یہ ہمیں بھلائی کے کاموں میں مقابلہ کرنا سکھاتا ہے اور نیکی کے کاموں میں پیش قدمی کا درس دیتا ہے۔
    کیا امت اسلامیہ نے دین اسلام کا روشن چہرہ بے داغ رکھنے کی کوشش کی ہے اور اسے میانہ روی اور اعتدال والا دین ہی سمجھا ہے کہ جس میں نہ غلو ہے، نہ انتہا پسندی اور نہ دہشتگردی؟ کیا ہم نے واقعی یہ سمجھ لیا ہے کہ دین ان جرائم سے پاک ہے اور اس کا دور دور تک ان برائیوں سے اور ان کے مدد گاروں اور ان کے ساتھ سہولتیں مہیا کرنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے؟
    کیا ہم نے نسل پرستی اور تعصب جیسی بیماروں کو ختم کرنے کے لیے معافی اور رواداری کو رائج کرنے کی کوشش کی ہے؟
    کیا ہم نے ان طاقتوں کا مقابلہ کیا ہے جو امت کے امن اور اس کی سلامتی سے کھیلنا چاہتی ہیں؟ کیا ان کا راستہ بھی روکنے کی کوشش کی ہے جو امت کی طے شدہ بنیادوں کو ہلانا چاہتے ہیں اور اس کی مبادیات سے کھیلنا چاہتے ہیں اور ناقابل تردید اصولوں کو مسخ کرنا چاہتے ہیں؟
    اے امت اسلامیہ کے لوگو!
    آج ہم بابرکت وقت میں انتہائی بابرکت جگہ پر موجود ہیں اور بہترین فضا سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، مکمل امن وامان میں ہیں اور بڑے ہی روح پرور ماحول میں ہیں۔ مگر ہم اپنے مظلوم اور مصیبت زدہ بھائیوں کو نہیں بھول سکتے جو قبلۂ اول اور نبی کریم ﷺ کی جائے اسرا ، مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے قریب قریب ہیں۔ جو فلسطین کی مبارک سرزمین پر ہیں اور شام کے علاقے میں ہیں، برما، ارکان اور عراق اور یمن وغیرہ میں ہیں۔
    کیا ان مظلوم یتیموں کی رونے کی آوازیں، ٹوٹے ہوئے گھروں کے ملبے کے نیچے سے آنے والی چیخ وپکار کی آوازیں، اندھیوں میں بیواؤں سسکیاں اور خیموں کے مکین بے گھر لوگوں کے جذبات دہشتگردی کے خلاف آوازیں بلند کرنے والوں اور انسانی حقوق کے دعوے داروں اور سلامتی کا شعار اٹھانے والوں کو بھی ہلاتی ہیں یا ان میں کوئی حرکت پیدا کرتی ہیں؟
    نہیں! بلکہ یہ تو ایسے لوگ ہیں کہ جن کے خون میں وعدہ خلافی اور جھوٹ رچ بس چکا ہے۔
    رمضان المبارک کے آخر میں ہم یہ آواز بلند کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو پکارتے ہیں کہ وہ حق اور خیر کی ایک دوسرے کو نصیحت کریں، بھلائی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور کتاب وسنت پر قائم رہیں۔
    اے قلم کارو! اے میڈیا کے لوگو! آئیے! ہم ایک ایسا اخلاقی معاہدہ کرتے ہیں جس سے ہمارے اصول ومبادی محفوظ ہو جائیں، جس سے ہمارے دینی اخلاق کی حفاظت ہو جائے اور فضیلت اور انسانیت کی عمارت کو پھر سے بلند کرے جو زمین بوس ہو جانے والی ہے۔
    آئیے! مل کر اسلام پر، مسلمانوں پر اور اسلامی امت پر کیے جانے والے حملوں کا مقابلہ کرتے ہیں، گمراہی اور فتنے پھیلانے والے چینلز کا اور جھوٹی خبریں پھیلانے اور بہتان تراشنے والی ویب سائٹس کا سختی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ آئیے اسلامی میڈیا کو اپنی محفلوں اور زبانوں سے نکال کر عملی زندگی میں لے آئیں اور سب کو اس سے مستفید کریں۔
    یہی امید ہے اور یہی آرزو اور نیک اعمال کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی عطا فرماتا ہے اور ہم اسی سے مانگتے ہیں۔
    فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریا ئی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو‘‘
    (البقرۃ: 185)
    بہت عطا کرنے والا پروردگار میرے لیے اور آپ کے لیے قرآن کریم کو باعث برکت بنائے، نبی مصطفیٰ کی سیرت سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ وہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔
    دوسرا خطبہ:
    الحمد للہ! ہم روزے کے ذریعے اسی کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی سے ہم برائی سے حفاظت کی امید رکھتے ہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، لوگوں کو بہت فائدہ دینے والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، ان اہل بیت اور صحابہ کرام پر کہ جن کے اخلاق اور طبیعت کو روزے نے پاکیزہ بنا دیا تھا اور تابعین پر بھی جب تک رمضان آتا رہے اور اس میں توبہ کرنے والوں کے آنسو گرتے رہیں، ان پر بھی سلامتی نازل ہوتی رہے۔
    بعدازاں!
    اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اپنے اس مہینے کے آخری میں توبہ میں جلدی کرو اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کماؤ۔ استغفار کرو۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرو، اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اعمال کا دار ومدار ان کے آخری حصے پر ہوتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریا ئی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو‘‘
    (البقرۃ: 185)
    اے امت اسلام!
    اس مہینے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے بہت سی بابرکت عبادتیں رکھی ہیں۔ جن میں سے ایک فطرانے کی ادائیگی ہے۔ اسے عید کی نماز سے پہلے خوش دلی کے ساتھ داد کرو۔ اگر عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی دے دی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی مقدار شہر میں کھائی جانے والی خواراک کا صاع ہے۔
    صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الفطر کے موقع پر کھجور کا ایک صاع، یاجو کا ایک صاع ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض کیا ہے۔
    اے بابرکت روزہ دارو!
    امت کو ثابت قدمی، پرہیز گاری اور فرمان برداری کی ضرورت ہے۔ تو اللہ سے ڈرو اور گناہوں کا رخ نہ کرو۔ اب تو تم عبادت کا مزہ چکھ چکے ہو۔ جو گناہوں کی طرف جائے گا وہ اسے ہلاک کر دین گے۔ نیکی پر ثابت قدمی نصیب ہونا عبادت کی قبولیت کی دلیل ہے۔
    سیدنا علی بن ابی طالب فرماتے ہیں: عبادت سے زیادہ عبادت کی قبولیت کی فکر کیا کرو۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ:
    ’’اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے‘‘
    (المائدہ: 27)
    اللہ تعالیٰ نے عبادت کا موت تک جاری رکھا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    ’’اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے‘‘
    (الحجر: 99)
    اللہ کے بندو!
    اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ایک نعمت یہ ہے کہ عمرہ کرنے والوں کو حرمین شریفین میں مکمل خدمات حاصل ہیں اور ساتھ ہی ساتھ امن اومان کا تاج بھی ان کے سر پر ہے۔ وہ مکمل سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی عبادتیں ادا کر رہے ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہے اور پھر اللہ کے مہمانوں کی سہولیت کے لیے کی جانے والی ہماری حکومت کی کاوشوں کا نتیجہ۔
    ان کی یہ کوشش کرنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس جیسے عظیم کام کے لیے چنا ہے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ اسے ثابت قدمی نصیب فرمائے اور اس جیسے عظیم مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
    اس موقع پر میں اپنے فوجیوں اور سرحدوں کے محافظ جوانوں اور حرمین اور ان کے قاصدوں کے خدمت گزاروں کو بھی سلوٹ پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اجر وثواب سے کبھی محروم نہ کرے۔ وہ بڑا ہی عطا کرنے والا اور کریم ہے۔
    درود وسلام بھجیے نبی خاتم پر، بہترین عبادت گزار اور روزہ دار پر، افضل ترین تہجد گزار پر۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم میں یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا:
    ’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘
    (الاحزاب: 56)
    اللہ کی رحمتیں ہوں مخلوق میں بہترین ہستی پر۔ رحمتیں جاری رہیں جب تک ہواؤں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اہل بیت پر، صحابہ کرام اور تابعین عظام پر بھی اللہ کی رحمتیں ہوں۔
    اے اللہ! خلفائے راشدین، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، تمام صحابہ کرام، تابعین عظام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے اللہ اپنا خاص فضل اور احسان فرمان کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا فرما! دشمنان دین کو ہلاک فرما! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما!
    اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے اماموں اور حکمرانوں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ خادم حرمین کی تائید فرما! اے اللہ! اسے ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے نیکی اور بھلائی کی طرف لیجا! حق میں اس تائید اور مدد فرما! اس کا نگہبان بن جا۔ اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو، اس کے معاونین کو اور بھائیوں ان کاموں کی توفیق عطا فرمان جن میں اسلام اور مسلمانوں کی فلاح وبہبود ہے اور جن میں ملک اور قوم کی بہتری ہے۔
    اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو شریعت اسلامیہ پر عمل کرنے اور نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ انہیں اپنے بندوں پر رحم رکنے والا بنا۔
    اے اللہ! ہمیں نیک لوگوں کی راہ پر چلا۔ ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرما! ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما! ہمیں، ہمارے والدین کو، حکمرانوں کو، علما کو، بھائیوں کو، بیویوں کو اور اولاد کو اور تمام مسلمانوں کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرما! اے عزت والے اور معاف کرنے والے!
    اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے ۔ معافی تجھے پسند۔ تو ہمیں معاف فرما!
    اے اللہ! مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما! اے اللہ! مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما! اے اللہ! غاصب صہیونی حملہ آواروں سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما! اے اللہ! قیامت تک اسے عزت اور سربلندی نصیب فرما!
    اے اللہ! اے رب ذو الجلال! اے نعمتیں دینے والے اور فضل وکرم عطا فرمانے والے! فلسطین، شام، عراق، یمن، لیبیا، برما اور ہر جگہ ہمارے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد فرما!
    اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانی دور فرما! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت دور فرما! قرض داروں کا قرض ادا فرما! ہمارے اور تمام مسلمان بیماروں کو شفا عطا فرما! ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما!
    اے اللہ! اے رب ذو الجلال! اے نعمتیں دینے والے اور فضل وکرم عطا فرمانے والے! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما کہ جنہیں لیلۃ القدر کی عبادت کی توفیق ملی ہے۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما کہ جنہیں لیلۃ القدر کی عبادت کی توفیق ملی ہے۔ جنہیں تو بخش دیا ہے، جن کے تو نے درجات بلند کر دیے ہیں۔ جنہیں تو نے اجر عظیم عطا فرمایا ہے۔
    اے اللہ! امن کے محافظوں اور سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کی مدد فرما! اے اللہ! ان کے شہداء کی شہادت قبول فرما! اے اللہ! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما! بیماروں کو عافیت نصیب فرما! انہیں اپنے گھر والوں تک امن وسلامتی کے ساتھ پہنچا۔
    اے اللہ! ہمارے ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو چال بازوں کی چالوں سے، حسد کرنے والوں کے حسد سے، کینہ رکھنے والوں کے شر سے، حملہ آوار ہونے والے دشمنوں سے محفوظ فرما! اے اللہ! جو ہمارے بارے میں، ہمارے ملک کے بارے میں، ہمارے دین کے باے میں، ہمارے امن کے بارے میں، ہماری وحدت کے بارے میں برا ارادہ رکھے، یا اللہ! تو اسے خود ہی میں مصروف فرما دے۔ اس کی چال اسی پر الٹی کر دے۔ اسے اپنی ہی چال میں ہلاک فرما دے!
    اے پروردگار! ہم سے قبول فرما! تو قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ہماری توبہ قبول فرما! یقینًا تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم فرمانے والا! ہمیں، ہمارے والدین کو اور تمام زندہ اور مردہ مسلمان مردوں اور عورتوں کو معاف فرما!
    اے اللہ! ہمارا مہینہ بھلائی پر ختم فرما! ہمارے تمام معاملات کی عاقبت درست فرما! ہمیں بہت سے اور رمضان نصیب فرما! اس حال میں کہ ہم مکمل صحت، سلامتی اور بھلی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔
    ’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے‘‘
    (الصافات: 180-182)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,205
    جزاک اللہ خیرا سسٹر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,281
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    وایاک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں