محاسبہ

سیما آفتاب نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جون 12, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    کتنے ہی لوگوں کو ہم جانتے ہیں جو ایک "بھر پور" زندگی گزار کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو چکے. کچھ نے طویل عمر پائی اور کچھ نے مختصر. کچھ اچھی گزار گئے اور کچھ بری. آج ان کی ساری حیات محض ایک یاد (خوشگوار یا نا خوشگوار) بن کر ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہے. سمٹ کر، کسی زِپ فائل کی طرح!

    ان میں کچھ وہ تھے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو بطریق احسن نبھانے کی کوشش میں لگے رہے. اپنی ذات، اعمال، صلاحیتوں، مال اور وقت کے بہترین استعمال سے ہر کسی کو نفع، سکون اور فائدہ پہنچانے کی سعی کرتے رہے. ان کا ساتھ ہر ایک کے لیے مثبت توانائی کا باعث تھا. مسائل تو ان کو بھی بہت سے درپیش رہے کیونکہ دنیا ہے ہی دارالامتحان، ہر اگلا سوال پہلے سے زیادہ پیچیدہ، مگر وہ صبر، شکر، رضا، دعا اور درگزر کی راہ پر گامزن رہے.

    پھر کچھ وہ تھے جنہیں نہ کبھی اللہ کی کسی نعمت نے اس کے شکر پر متوجہ کیا، نہ انسانوں سے ان کی بن سکی. ہر ایک سے شکایت، ہر ایک کی غیبت، ہر ایک سے گلے شکوے، ہر ایک سے بد ظن. اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے رہے. وہ اپنے ہر برے عمل کو ردعمل کہتے رہے اُس "برے" سلوک کا جو ان کی دانست میں دنیا نے ان کے ساتھ کیا. یوں اپنے ہر کیے دھرے سے خود کو بآسانی بری الذمہ قرار دے لیتے. زندگی کو کوستے رہے. اس طرز عمل سے اپنی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں ایک مَیںس (بے ترتیب و غیر منظم شے) بنا لیا. ان کا ساتھ ہر ایک کے لیے منفی و غیر تعمیری انرجی کا ذریعہ بنا رہا.

    زندگی کا جہاں ایک آغاز ہے، وہیں انجام بھی یقینی ہے.

    آئیے آج ایک کام کریں:

    تھوڑا سا وقت نکال کر کم از کم پانچ ایسے لوگوں کو (جو اب اس دنیا میں نہیں رہے) جنہیں آپ خود ذاتی طور پر جانتے تھے، اپنے ذہن میں لائیں جن کا تعلق پہلے گروپ سے ہے.

    پھر کم از کم پانچ ایسے لوگوں کو جن کا تعلق دوسرے گروپ سے ہے.

    اب سوچیں دونوں طرح کے لوگ زندگی گزار کر چلے گئے. موازنہ کریں، فرق کیا ہے؟ دنیا میں ان کے گزارے گئے وقت کے اُن پر اور دوسروں پر کیا اثرات مرتب ہوئے. وہ جاتے ہوئے اپنے ساتھ کیا لے گئے؟

    پھر ہم اپنی اپنی ذات کو محاسبے کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور سوچیں میرا تعلق کس گروپ سے ہے؟ گرد و نواح پر کیا اثرات مرتب کر رہا/رہی ہوں؟ پیچھے کیا چھوڑ رہا/رہی ہوں؟ آگے کیا بھیج رہا/رہی ہوں؟

    دونوں گروپس کے لیے مغفرت کی دعا کریں کیونکہ ان کے اعمال کا دفتر بند اور توبہ کی مہلت ختم ہو چکی. سوائے ان اچھے یا برے اثرات کے جن میں سے ان کا حصہ انہیں بعد از وفات بھی ملتا رہے گا.

    ہمارے پاس مہلت ابھی باقی ہے. اسے غنیمت جانیں.

    کل کو دانا ترین شخص بھی اللّه تعالٰی سے یہی کہے گا کہ دنیا میں تو میں نے محض ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی گزارا ہے.

    دنیا کی زندگی متاع الغرور ہے، کہیں ہم اس کے دھوکے میں نہ آ جائیں

    خلاصہ موت و حیات بس یہی ہے جو اللہ رب العزت نے سورہ الملک میں بیان کر دیا:

    الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ

    جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی.

    اچھی زندگی، پیچھے اپنے ذکرِ خیر اور اچھے انجام کے لیے یہ دعا مانگتے رہنا چاہیے،

    رَبِّ ھَبْ لِیْ حُكْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِيْنَ. وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِيْنَ. وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيْمِ… وَلَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ.

    اے میرے رب! مجھے قوتِ فیصلہ عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں سے ملا دے. اور بعد میں آنے والوں میں میری سچی ناموری باقی رکھ اور مجھے نعمتوں بھری جنت کے وارثوں میں سے بنا دے... اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن وہ (لوگ) اٹھائے جائیں گے. (سورۃ الشعراء)

    تحریر: حنا نرجس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,280
    جزاک اللہ خیرا، عمدہ شیئرنگ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جزاک اللہ خیرا
    موت کی یاد انسان کو اپنے اعمال پر نظر ڈالنے پر مجبور کرتی ہے اور نیکی کی طرف لگا تی ہے اللہ سمجھنے کی توفیق دے امین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,433
    قرآنی محاسبہ
    خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز

    ميں قرآن ميں کہاں ہوں ؟
    -------
    ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی

    لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
    (ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔

    وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟

    انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی

    كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
    (ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔

    کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
    تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
    (ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔

    کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
    وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
    (ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔

    اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
    الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
    (ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔

    اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
    وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9)
    (ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔

    اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
    وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
    (ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔
    اور کچھ کا ذکر یوں تھا،
    وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
    (ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔

    وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!

    پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،

    إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
    (ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟

    پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
    وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
    (ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔

    کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
    مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ ooوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
    (ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔

    يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔

    اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
    وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
    (ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔

    اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے !!

    تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟
    سوچئے گا !
    ( منقول من وٹس ایپ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,213
    شکریہ بھائی .
    بظاہر یہ محاسبہ متاثر کن لگ رہا ہے. لیکن یہ روایت سند و متن کے اعتبار سے درست نہیں . احنف بن قیس تہجد گزار، متقی و قابل قائد تھے.ان کے سیرت سے ان کی شخصیت و محاسبہ نفس کا اندازہ ہوتا ہے. مگر یہ روایت ثابت نہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,433
    جزاک اللہ خیرا.ابوعکاشہ بھائ.
     
  7. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    جزاک اللہ خیرا،بہت عمدہ شیئرنگ!
    شاد و آباد رہیں آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,817

    یہ قصہ "محدث ابو عبداللہ محمد بن نصر مروزی بغدادی کی کتاب قيام الليل سے ايک عبرت انگيز قصہ" سے ہے جو 19 دسمبر 2016 کو ڈیلی آزاد اخبار میں شائع ہوا۔
    ح
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں