لیلۃ الجائزہ یا جواز کے دن کا تصور

ابوعکاشہ نے 'ماہِ شوال' میں ‏جون 14, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,280
    لیلۃ الجائزہ اور يوم الجوائز کاتصور

    بعض لوگ ایک غیر ثابت حدیث کی بنیاد پر عیدالفطر کی رات کو لیلۃالجائزہ کانام دیکر اس میں شب قدر کی طرح عبادات کااہتمام کرتے ہیں،اس حدیث کوامام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: من قام ليلتي العيدين محتسبا لله لم يمت يوم تموت القلوب
    ’’جس نے عید الفطر اور عید الأضحی کی دونوں راتوں کواجر وثواب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کے لئے قیام کیااس کادل اس دن مردہ نہیں ہوگاجس دن دل مرجائیں گے۔
    (سنن ابن ماجہ:1782)
    حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    *’’ یہ حدیث غریب اور مضطرب الإسناد ہے‘‘*
    (الفتوحات الربانیۃ:235/4)
    امام نووی رحمہ اللہ نے *ضعیف* کہاہے۔
    (الخلاصۃ:847/2،المجموع:42/5)
    علامہ عراقی ؒ نے فرمایا : *’’اسنادہ ضعیف‘‘* اس کی سند ضعیف ہے۔
    (تخریج الإحیاء:475/1)
    اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ رقم الحدیث:521‘‘میں ذکرکرنے کے بعد *ضعیف جدا* کہاہے۔اور ضعیف ابن ماجہ میں *موضوع* کہا ہے.
    لہذا اس پر عمل کرنادرست نہیں۔

    اسی طرح عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفا مروی راویت میں عیدالفطر کے دن کو یوم الجوائز کہا گیا ہے.
    عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:" يوم الفطر يوم الجوائز، إذ خرجوا إلى المصلى أعطوا جوائزهم"
    (مسلسل العيدين:21)
    يعنى سيدنا عبدالله بن عباس رضي الله عنهما فرماتے ہین: عید کا دن انعام ملنے کا دن ہے،جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو ان کو انعامات دیئے جاتے ہی.
    *اس حدیث کی سند بھی ضعیف جدا یعنی نہایت کمزور ہے*

    منقول :بشکریہ. عبداللہ صلاح الدین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,274
    جزاک اللہ خیرا
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    404
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,334
    جزاک اللہ خیرا!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں