قرآن کریم کے حقوق

عبد الرحمن یحیی نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏جون 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,314


    قرآن کریم کے حقوق

    إِنَّ هَـٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا ﴿٩﴾
    یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے (9) سورة الإسراء
    قرآن کریم ایک خوبصورت نوشتہ ھدایت ہے قرآن کریم اپنے ساتھ وابستگی قائم کرنے والوں کو خوشخبریاں بھی سناتا ہے کہ بہت بڑا اجر تمہیں عطا کیا جائے گا
    قرآن کریم جب میرے اور آپ کے لیے دستور حیات ہے تو جس طرح ہم زندگی کے ہر زاویے میں ہم اپنے حقوق کے تقاضوں کو پورا کرنا پسند کرتے ہیں
    اسی طرح ایک مسلمان ہونے کے ناتے میرے اور آپ پر قرآن کریم کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں
    آج کی ہماری اس گفتگو کا محور وہ بنیادی پانچ حقوق ہوں گے جو ایک مسلمان کو پورے کرنے چاہیئں
    قرآن کریم کے پانچ حقوق کون سے ہیں

    پہلا حق :
    اس قرآن پر ایمان لایا جائے کہ یہ اللہ تعالٰی کی حقیقی کلام ہے ، یہ وہ کلام مقدس ہے جو جبریل امین علیہ السلام کے ذریعے آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی
    اس پر ایمان لایا جائے کہ جس طرح یہ قرآن نازل ہوا ، من وعن آج ہمارے پاس موجود ہے اور اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں
    نہ اس میں کوئی اضافہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کمی کی جاسکتی ہے کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ ذوالجلال نے خود اٹھائی ہے
    ارشاد ربانی ہے :

    فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ ۖ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ
    پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی سے جم جائیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے ۔ ۔ ۔ سورة الشورى
    دوسری جگہ اللہ ذو الجلال فرماتے ہیں :

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١٣٦﴾ سورة النساء
    اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا (136)
    رب تعالٰی ہمیں گمراہیوں سے بچائے
    ایمان لایا جائے کہ اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی نہیں کی جاسکتی
    کیونکہ ارشاد ربانی ہے :

    لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ﴿٤٢﴾
    جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے (42)سورة فصلت
    خالق اور مالک نے اس کی ذمہ داری اٹھائی ہے ، تو ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیئے کہ یہ حقیقی کلام ہے اور لاریب کلام ہے اس میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہوئی ۔

    قرآن کریم کا دوسرا حق :
    جو ایک مسلمان کو ادا کرنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ اس قرآن کو پڑھا جائے ، جس طرح اس قرآن کے پڑھنے کا حق ہے
    پڑھنے کا حق کیا ہے ؟ اس کے تین بنیادی اصول یاد رکھیے
    اس قرآن مجید کو خوبصورت انداز سے پڑھیے

    " ليس منا من لم يتغن بالقرآن " .
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے ، وہ ہم میں سے نہیں ۱؎“۔
    تخریج دارالدعوہ: « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:۳۹۰۵، ۱۸۶۹۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۷۲، ۱۷۵، ۱۷۹)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ۳۴ (۳۵۳۱) (صحیح) »
    فرمایا : " زينوا القرآن بأصواتكم ، فإن الصوت الحسن يزيد القرآن حسنا "
    ”قرآن مجید کو اپنی آوازوں کے ساتھ مزین کرو، بیشک خوبصورت آواز اس کے حسن میں اضافہ کرتی ہے۔“
    سلسلہ احادیث صحیحہ: 771
    قرآن کریم کو خوبصورت انداز میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ غور کر کے معانی کو سمجھ کر پڑھیے ، لذتوں میں اور اضافہ ہوگا ،
    اور تیسری بات رب تعالٰی کی خوشنودی کے لیے پڑھیئے، پڑھتے وقت ظاہر ہو کہ اللہ تعالٰی سے خوف کھا رہا ہے
    اسی لیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب سوال کیا گیا :

    أي الناس أحسن صوتاً للقرآن ؟ و أحسن قراءة ؟
    سب سے پیارا پڑھنے والا قاری کون ہے َ؟
    " إن من احسن الناس صوتا بالقرآن الذي إذا سمعتموه يقرا حسبتموه يخشى الله " .
    فرمایا : ” لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۔ ۱؎۔
    تخریج دارالدعوہ: « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : ۲۶۴۶ ، ومصباح الزجاجة : ۴۷۱ ) ( صحیح ) » ( دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس حدیث کی سند میں دو راوی عبد اللہ بن جعفر اور ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف ہیں ، ملاحظہ ہو : مصباح الزجاجة : ۴۷۵ ، بتحقیق عوض الشہری )
    اور سب سے پیاری تلاوت ہوتی ہی وہ ہے جو رب تعالٰی کو پسند آجائے
    جو شرف قبولیت سے نوازی جائے اور وہ وہی ہوتی ہے جو خوبصورت دل سے پڑھی جائے


    قرآن مجید کا تیسرا حق :
    قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھا جائے ، رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : كان الرجلُ منا إذا تعلَّم عشرَ آياتٍ لم يجاوزْهنَّ حتى يعرفَ معانيهن والعملَ به
    صحابہ کرام کی یہ عادت تھی کہ ان میں جب کوئی شخص دس آیتیں پڑھ لیتا ، تو جب تک اِن دس آیات کے معانی کو سمجھ نہ لیتا ، گیارویں آیت کی طرف منتقل نہیں ہوا کرتے تھے ، اور صحیح بات بھی یہی ہے کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے سے جو لذتیں نصیب ہوتی ہیں ان لذتوں سے آشنا وہی ہوتا ہے جس کو یہ نصیب ہوتی ہیں ، اسی لیے امام طبری رحمہ اللہ کہا کرتے تھے : اني لتعجب ممن قرأ القرآن ولم يعلم تأويله کیف یلتذ بتلاوته
    مجھے تعجب ہے اس انسان پر جو قرآن کے معانی سے واقف نہیں پھر وہ قرآن سے کیسے لذت حاصل کرتا ہے ۔
    ‏‏‏‏‏‏‏ الإمام زركشي رحمه الله تعالى کہا کرتے تھے :
    ومن لم يكن له علم وفهم وتقوى وتدبر لم يدرك من لذة القرآن العظيم شيئاً
    جس کے پاس قرآن کا علم نہ ہو ، فھم نہ ہو ، تقوی نہ ہو ، تدبر اور غور و فکر کی صلاحیت نہ ہو ، وہ قرآن کی لذتوں سے آشنا نہیں ہو سکتا ۔
    شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله کہا کرتے تھے :

    من تدبر القرآن طالبا للهدى منه . . تبين له طريق الحق.
    الفتاوى (١٣٧/٣).

    جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اور غور بھی کرتا ہے ، اُس کے ترجمے ، اُس کے معانی ، اُ س کے مفاہیم ، اُس کے مدعا سے واقفیت حاصل کرتا ہے ، اور اُس کی طلب یہ ہے کہ ھدایت مل جائے ، رب تعالٰی اُس کے لیے جنت کے راستے کو ظاہر اور واضح کر دیتا ہے ۔

    قرآن کریم کا چوتھا حق :
    یہ ہے کہ اِس قرآن پر عمل کیا جائے ، اور حسن بصری رحمہ اللہ کہا کرتے تھے : " أمر الناس أن يعملوا بالقرآن فاتخذوا تلاوته عملا "
    لوگوں کو حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم پر عمل کریں ، انہوں نے تلاوت کو ہی عمل سمجھ لیا ( اور بقیہ اعمال کو ترک کر دیا )
    رسول اللہ ﷺ نے اس لیے فرمایا :
    أَمَّا الَّذِي يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالحَجَرِ ، فَإِنَّهُ يَأْخُذُ القُرْآنَ ، فَيَرْفِضُهُ ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلاَةِ المَكْتُوبَةِ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ قرآن کا حافظ تھا مگر وہ قرآن سے غافل ہو گیا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جایا کرتا تھا ۔
    صحيح البخاري كتاب التهجد باب عقد الشيطان على قافية الرأس إذا لم يصل بالليل حديث رقم 1104
    اللہ ذوالجلال ہمیں عمل کرنے والا بنائے

    پانچواں حق :
    اس قرآن کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش ، تڑپ ، شوق اور ذوق ہونا چاہیئے
    اس لیے اللہ ذوالجلال نے اپنے پیغمبر ﷺ کو اس بات کو حکم دیا تھا :

    يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ﴿٦٧﴾ سورة المائدة
    اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے ۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی ، اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچا لے گا بے شک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (67)
    یہ آیت ہمیں ایک سبق دے رہی ہے ، ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہم سب کی ذمہ داری ہے ، کہ ہم لوگوں کو صرف وہی بات بتائیں ، تبلیغ ، دعوت اِس چیز کی دیں جس کو اللہ تعالٰی نے اُتارا ہے ، اور اللہ تعالٰی نے قرآن اُتارا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین قرآن کریم کی وضاحت ہیں
    اس لیے دعوت اور تبلیغ اور اسلام کا پرچار اور اسلام کی دعوت جب تک قرآن و سنت کی سرپرستی میں نہ ہو ، اس کو دعوت اور تبلیغ کیسے کہا جا سکتا ہے
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اندر یہ شوق رسول اللہ ﷺ نے پیدا کیا ، حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا :
    الا ليبلغ الشاهد منكم الغائب
    سن لو ! یہ خبر ( جو میں بیان کر رہا ہوں ) حاضر غائب کو پہنچا دے ۔
    صحيح بخاري ،كتاب العلم ،بَابُ لِيُبَلِّغِ الْعِلْمَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ رقم الحدیث : 105
    بلکہ فرمایا :
    بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
    ” میرا پیغام لوگوں کو پہنچاؤ ! اگرچہ ایک ہی آیت ہو ۔
    صحيح البخاري كتاب أحاديث الأنبياء باب ما ذكر عن بني إسرائيل
    اسی لیے سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہا کرتے تھے :
    لَوْ وَضَعْتُمُ الصَّمْصَامَةَ عَلَى هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ- ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوا عَلَيَّ لأَنْفَذْتُهَا.
    صحيح بخاري ، كتاب العلم ، باب العلم قبل القول والعمل
    کہ اگر تم اس پر تلوار رکھ دو ، اور اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا ، اور مجھے گمان ہو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ایک کلمہ سنا ہے ، گردن کٹنے سے پہلے بیان کر سکوں گا تو یقیناً میں اسے بیان کر ہی دوں گا ۔
    رسول اللہ ﷺ نے خوشخبری سنائی :

    نضر الله امرا سمع مقالتي فوعاها وحفظها وبلغها
    ( سنن ترمذي ، كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى تَبْلِيغِ السَّمَاعِ)
    اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے ، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ۔
    رب تعالٰی ہمیں قرآن کریم کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے
    اللہ تعالٰی قیامت کے دن صاحب قرآن ﷺ کی رفاقت نصیب فرمائے اور جنت الفردوس میں اپنے دیدار کا مستحق بنائے
    اللھم آمین
    وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين .


    ( محترم قاری صہیب احمد میر محمدی حفظہ اللہ کا ایک لیکچر ، جسے تحریر شکل دی گئی ہے )
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 1, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں