حجر اسود کے 24 پہرے دار اور ان کی امتیازی خصوصیات

کنعان نے 'اسلامی ذرائع ابلاغ' میں ‏جون 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,792
    حجر اسود کے 24 پہرے دار اور ان کی امتیازی خصوصیات
    [​IMG]
    غلاف کعبہ سے متصل رکن یمانی اور الملتزم کے درمیان ایک پہرے دار ہمہ وقت چوکس کھڑا رہتا ہے جس کی واحد ذمہ داری حجر اسود کی حفاظت اور زائرین کی حجر اسود کو چومنے کے عمل کی نگرانی کرنا اور انہیں اس عمل کی ادائیگی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حجر اسود کی حفاظت پر چوبیس گھنٹوں میں 24 سیکیورٹی اہلکار مامور ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک اہلکار ایک گھنٹہ تک اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔

    حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داریوں میں زائرین کی جانب سے مقدس پتھر کو بوسہ دینے کے عمل کی نگرانی کرنا، کمزور، ناتواں، عمر رسیدہ اور معذور معتمرین کی مدد کرنا ہے۔

    حرم مکی کے ایک سیکیورٹی ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر گھنٹے بعد حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داری تبدیل ہوتی ہے اور اس کی جگہ دوسرا چاک وچوبند محافظ ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ چونکہ محافظوں کو ہر طرح کے سخت گرم اور سرد موسم اور زائرین کے ھجوم کے ماحول میں مشقت بھری ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے اس لیے حجر اسود کے پہرے دار مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ حجر اسود کی حفاظت پر ایسے اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے جو امن وامان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے بھی ممتاز مقام رکھتے ہیں۔
    [​IMG]

    مسجد حرام اور مسجد نبوی کی جنرل پریزیڈنسی ہر نماز سے قبل تطہیر کعبہ کے ساتھ حجر اسود پر خوشبو چھڑکتی ہے۔ مسجد حرام کے فرش اور قالینوں پر بھی چوبیس گھنٹوں کی بنیاد پر خوشبو کا باقاعدگی کے ساتھ چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔

    چھوٹے ٹکڑے اور خالص چاندی

    حجراسود‘ کو بیت اللہ کا اہم ترین حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ حجر اسود کی تاریخ کے بارے میں کئی آراء پائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت حجر اسود کو محفوظ رکھنے کے لیے ہرممکن حفاظتی انتظامات کرتی ہے تاکہ زائرین کی جانب سے اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچ پائے۔
    [​IMG]

    مسجد حرم میں خوش بو کے چھڑکاؤ کی یونٹ کے سربراہ محمد عقالہ الندوی کا کہنا ہے کہ حجر اسود دراصل 8 چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا مجموعہ ہے، جبکہ کل چھوٹے ٹکڑوں کی تعداد 15 بیان کی جاتی ہے۔ ان میں سے سات ٹکڑے مٹی کی تہوں کے نیچے ہیں۔ ان میں بڑا ٹکڑا 2 اور چھوٹا ٹکڑا ایک سینٹی میٹر ہے۔ ان تمام ٹکڑوں کو درختوں سے حاصل ہونے والے للبان العربی الشحری یا الحوجری بروزہ مادے جسے خوشبو داری دھونی کے سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے سب سے چھوٹے ٹکڑے کا سائز ایک جب کہ بڑے ٹکڑوں کا سائز دوسینٹی میٹر ہے۔ حجر اسود کو بچانے کے لیے اس پر سونے اور چاندی کی قلعی بھی کی جاتی ہے۔

    حجراسود کی حفاظت کے لیے اس کی مسلسل دیکھ بحال کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلسل چھونے، گرمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے حجر اسود متاثر ہوتا ہے۔ سعودی حکام ایک جانب تو حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں دوسری طرف حجاج و معتمرین کو اس کی حفاظت کے لیے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ حجر اسود کا کوئی ٹکڑا توڑنے سے گریز کیا جائے۔ ماضی میں غلاف کعبہ کی طرح حجر اسود کے ٹکڑے بھی توڑنے کی کوشش کی جاتی رہی رہے ہے۔
    [​IMG]

    حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے دو سال میں ایک بار ایک یا دو گھنٹے کے لیے حفاظتی مراحل سے گذارا جاتا ہے۔ جہاں کہیں اس کے اندر کسی جگہ کی مرمت کی ضرور ہوتی ہے سے مرمت کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کی دیکھ بحال معمول کے مطابق جاری رہتی ہے۔

    تاریخی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ سب سے طویل حجر اسود چوتھی صدی ہجری میں محمد بن نافع الخزاعی نے دیکھا۔ اس کا ایک حصہ سیاہ اور باقی سفید تھا۔ اسی طرح سلطان مراد العثمانی ابن علان المکی نصف زراع، ایک تہائی زراع، سفید پتھر اور اس کا سیاہ دھانا دیکھا۔
    [​IMG]

    حجر اسود کا حلقہ

    حجر اسود کے گرد چاندہ کا حلقہ سب سے پہلے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لگایا، اس کے بعد مختلف ادوار میں خلفاء اور دولت اس کے گرد سونے اور چاندے کے حلقے بناتے رہے۔
    آل سعود حکومت کے قیام سے قبل آخری بار سطلان محمد رشاد خان نے 1331ھ میں حجر اسود کے سنہری حلقے کا ھدیہ کیا۔ یہ خالص سونے سے تیار کیا گیا تھا۔
    بعد ازاں سنہ 1366ھ میں شاہ عبدالعزیز نے اس کے ایک حصے کی مرمت کرائی
    جبکہ 1375ھ کو الرشادی حلقہ ہٹا کر اس کی جگہ نیا حلقہ لگایا گیا۔

    حجر اسود کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ طواف کا آغاز اور اختتام اسی سے ہوتا ہے۔
    خانہ کعبہ اور حجر اسود کے درمیان ملتزم ہے جس کی لمبائی دو میٹر ہے
    جب کہ جنوب مغرب میں رکن کعبہ، رکن الیمانی،
    جنوب مشرق میں رکن الموازی واقع ہے جہاں سے طواف کا آغاز ہوتا ہے، اسے رکن الیمانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چونکہ دائیں جانب واقع ہے اس لیے اسے رکن یمانی کہا جاتا ہے۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پر دائیں ہاتھ سے استلام فرمایا۔


    العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ نادیہ الفواز
    منگل 26 جون 2018م
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,111
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,211
    عمدہ معلومات شیئر کرنے کا شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں