جمہوریت کا خنجر

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏جولائی 13, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    390
    جمہوریت کا خنجر

    چنگیز خان بڑی خوشگوار موڈ میں اپنی ایک چہیتی بیوی کو پہلو میں لئے خوش گپیوں میں مشغول تها- اسی دوران اس نے اپنی چہیتی بیوی سے پوچها کہ اگر تمہاری کوئی دلی خواہش ہو تو بتاو .. بیوی چنگیز خان کو خوشگوار موڈ میں دیکهتے ہوئے گویا ہوئی : میری خواہش ہے کہ " آنجناب کی پہلو میں ہی میری جان نکلے "
    چنگیز خان نے کہا: " بس اتنی سی بات، لو تمہاری یہ خواہش میں ابهی پوری کر دیتا ہوں" -
    یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا خنجر اپنی چہیتی بیوی کے سینے میں پیوست کر دیا -
    چنگیز خان کو ساری دنیا ایک جابر ظالم حکمران کے طور پر جانتی ہے
    لیکن
    آج کے حکمران ظلم و بربریت میں چنگیز خان سے کہیں زیادہ ہیں -
    چنگیز خان نے تو اپنی ایک چہیتی بیوی کے سینے میں خنجر اتارا تها جس سے وہ اسی وقت اس کے پہلو میں تڑپ کر مر گئی تهی جبکہ آج کے حکمران 22 کڑوڑ عوام کے سینوں میں ہر لمحہ خنجر پیوست کرتے رہتے ہیں اور انہیں تڑپ کر مرنے بهی نہیں دیتے -
    لیکن قصوروار تو یہ عوام ہی ہیں جو ہر الیکشن میں ان چنگیزیوں سے بیاہ رچا کر انہیں دولہا (حکمران) بناتی ہے اور خود ان کی چہیتی بیوی بنتی ہے ، پهر اپنے دولہا میاں (حکمران) کو خوشگوار موڈ میں دیکه کر اپنی خواہش کا اظہار کرتی ہے جس کے بدلے ان کے سینوں میں جمہوریت کا خنجر پیوست کیا جاتا ہے-
    اور جمہوریت کے نام پر یہ کهیل پچهلے 70 سال سے کهیلا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا جب تک کہ یہ شرکیہ و کفریہ جمہوریت کا نظام کو نہ بدلا جائے-

    یاد رکهیں : جمہوریت ایک " شرکیہ و کفریہ " نظام ہے
    لہذا
    اس کے انڈے بچے " فسق و فجور " ہی بکیں گے (نواز شریف کا استقبال حج سے بڑا کام ہے .... )
    اور
    عوام کو فرقہ واریت کی شرک میں ہی مبتلا کریں گے
    کیونکہ اسی میں جمہوریت کی بقاء ہے
     
    Last edited: ‏جولائی 14, 2018
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں