شوہر اوربیوی کے درمیان لا زوال محبت کا ایک قیمتی اور مجرب نسخہ

عطاءالرحمن منگلوری نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏جولائی 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,421
    *کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کر سکتا ہے؟*
    __________________

    (سوشل میڈیا پر وائرل ایک عربی پوسٹ کی اردو ترجمانی. عبدالغفار سلفی، بنارس)

    ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سےہنسی خوشی گزارا

    خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟ کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟ یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟ یا ڈھیر سارے سارے بچوں کا ہونا اس کی وجہ ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟

    بوڑھی خاتون نے جواب دیا : پرسکون شادی شدہ زندگی کا دار و مدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور وہ چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے.

    اس سلسلے میں مال کا نام مت لیجیے، بہت ساری مالدار عورتیں جن کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، شوہر ان سے بھاگا بھاگا رہتا ہے

    خوشحال شادی شدہ زندگی کا سبب اولاد بھی نہیں ہے، بہت ساری عورتیں ہیں جن کے دسیوں بچے ہیں پھر بھی وہ شوہر کی محبت سے محروم ہیں بلکہ طلاق تک کی نوبت آ جاتی ہے

    بہت ساری خواتین کھانا پکانے میں ماہر ہوتی ہیں، دن دن بھر کھانا بناتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی انہیں شوہر کی بدسلوکی کی شکایت رہتی ہے

    انٹرویو لینے والی خاتون صحافی کو بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا : پھر آخر اس خوشحال زندگی کا راز کیا ہے؟

    بوڑھی خاتون نے جواب دیا : جب میرا شوہر انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو میں خاموشی کا سہارا لے لیتی ہوں لیکن اس خاموشی میں بھی احترام شامل ہوتا ہے، میں افسوس کے ساتھ سر جھکا لیتی ہوں. ایسے موقع پر بعض خواتین خاموش تو ہو جاتی ہیں لیکن اس میں تمسخر کا عنصر شامل ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے، سمجھدار آدمی اسے فوراً بھانپ لیتا ہے

    نامہ نگار خاتون نے پوچھا : ایسے موقعے پر آپ کمرے سے نکل کیوں نہیں جاتیں؟

    بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں، ایسا کرنے سے شوہر کو یہ لگے گا کہ آپ اس سے بھاگ رہی ہیں، اسے سننا بھی نہیں چاہتی ہیں. ایسے موقعے پر خاموش رہنا چاہیے اور جب تک وہ پرسکون نہ ہو جائے اس کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے.

    جب شوہر کسی حد تک پرسکون ہو جاتا ہے تو میں کہتی ہوں : پوری ہو گئی آپ کی بات؟ پھر میں کمرے سے چلی جاتی ہوں کیونکہ شوہر بول بول کر تھک چکا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے کے بعد اب اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے. میں کمرے سے نکل جاتی ہوں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہوں.

    خاتون صحافی نے پوچھا : اس کے بعد آپ کیا کرتی ہیں؟ کیا آپ بول چال بند کرنے کا اسلوب اپناتی ہیں؟ ایک آدھ ہفتہ بات چیت نہیں کرتی ہیں؟

    بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں! اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے، یہ دودھاری ہتھیار ہے، جب آپ ایک ہفتے تک شوہر سے بات چیت نہیں کریں گی ایسے وقت میں جب کہ اسے آپ کے ساتھ مصالحت کی ضرورت ہے تو وہ اس کیفیت کا عادی ہو جائے گا اور پھر یہ چیز بڑھتے بڑھتے خطرناک قسم کی نفرت کی شکل اختیار کر لے گی.

    صحافی نے پوچھا : پھر آپ کیا کرتی ہیں؟

    بوڑھی خاتون بولیں : میں دو تین گھنٹے بعد شوہر کے پاس ایک گلاس جوس یا ایک کپ کافی لے کر جاتی ہوں اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہوں: پی لیجیے. حقیقت میں شوہر کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے. پھر میں اس سے نارمل انداز میں بات کرنے لگتی ہوں. وہ پوچھتا ہے کیا میں اس سے ناراض ہوں؟ میں کہتی ہوں : نہیں. اس کے بعد وہ اپنی سخت کلامی پر معذرت ظاہر کرتا ہے اور خوبصورت قسم کی باتیں کرنے لگتا ہے.

    انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا : اور آپ اس کی یہ باتیں مان لیتی ہیں؟

    بوڑھی خاتون بولیں : بالکل، میں کوئی اناڑی تھوڑی ہوں، مجھے اپنے آپ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے. کیا آپ چاہتی ہیں کہ میرا شوہر جب غصے میں ہو تو میں اس کی ہر بات کا یقین کر لوں اور جب وہ پرسکون ہو تو تو اس کی کوئی بات نہ مانوں؟

    خاتون صحافی نے پوچھا : اور آپ کی عزت نفس(self respect) ؟

    بوڑھی خاتون بولیں : پہلی بات تو یہ کہ میری عزت نفس اسی وقت ہے جب میرا شوہر مجھ سے راضی ہو اور ہماری شادی شدہ زندگی پرسکون ہو

    دوسری بات یہ کہ شوہر بیوی کے درمیان عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی .( منقول)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,112
    بہت خوب شئرنگ
    جزاک اللہ خیرا منگلوری بھائ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    جب انٹرویو لینے والی انٹرویو ختم کر کے باہر نکلی تو باہر گلی میں بیچارے شوہر کو نظریں نیچے کئے کھڑا پایا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ پچھلے پچاس سال سے اس کا وقت اسی طرح سکون سے گزر رہا ہے :p
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,133
    بہت خوب.
    پتہ نہیں یہ کس نے کہا ہے. انٹرویو بیوی سے لیا گیا ہے. وہ بھی عمر کے آخری حصہ میں!.جب سر تسلیم خم کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا. سمایل!!شوہر و بیوی کے درمیان بھی عزت نفس ہے.جیسے دونوں کے حقوق ہیں.مگر اسلام میں شوہر کی عزت نفس کو برتری حاصل ہے. بیوی کو صرف وہاں اپنی خوشی و رضا قربان کرنی ہے، تواضع اختیار کرنی ہے .جہاں اللہ کا حکم ہے. ورنہ غیرت کا تقاضا ہے کہ اسے خواہ مخواہ اپنی عزت نفس قربان کر کے ذلت و رسوائی برداشت نہیں کرنی چاہیے. مرد کو تو خیر ویسے بھی تکلف کی ضرووت نہیں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,421
    کائنات کا پورا نظام ہی محبت کا عکس ہے
    پهربهی نا جانے کیوں محبت پہ لوگوں کی سوچ
    صرف مرد اور عورت کے تعلق تک محدود ہو جاتی ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    بالکل صحیح، محبت تو اپنے پالتو کتے، بلیوں سے بھی ہوتی ہے، بیوی، اولاد، بہن بھائیوں اور والدین سے بھی ہوتی ہے، اسے مرد اور عورت کے تعلق تک محدود کرنا کم عقلی ہی ہے، البتہ مرد و عورت کا تعلق ضرورت تک محدود ہو سکتا ہے۔ بعض خواتین و حضرات سچی محبت کی تلاش میں بیٹھے رہ کر عمر گنوا دیتے ہیں اور پھر طرح طرح کی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بعض کو نو نو بچے پیدا کرنے کے بعد بھی "سچا پیار نہیں ملا" کہتے پایا جاتا ہے :p
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  7. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    201
    بہت عمدہ شئیرنگ
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں