بے عمل کو دنیا میں راحتیں نہیں ملتیں

صدف شاہد نے 'شعری مجلس' میں ‏اگست 1, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    201
    بے عمل کو دنیا میں راحتیں نہیں ملتیں
    دوستو دعاؤں سے جنتیں نہیں ملتیں

    اس نئے زمانے کے آدمی ادھورے ہیں
    سورتیں تو ملتی ہیں سیرتیں نہیں ملتیں

    اپنے بل پہ لڑتی ہے اپنی جنگ ہر پیڑھی
    نام سے بزرگوں کے عظمتیں نہیں ملتیں

    جو پرندے آندھی کا سامنا نہیں کرتے
    ان کو آسمانوں کی رفعتیں نہیں ملتیں

    اس چمن میں گُل بوٹے خون سے نہاتے ہیں
    سب کو ہی گلابوں کی قسمتیں نہیں ملتیں

    شہرتوں پہ اترا کر خود کو جو خدا سمجھے
    منظر ایسے لوگوں کی تربتیں نہیں ملتیں


    شاعر نامعلوم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں