عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں

محمد اویس مصباحی نے 'اسلامی مہینے' میں ‏اگست 15, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد اویس مصباحی

    محمد اویس مصباحی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 2, 2017
    پیغامات:
    6
    بسم الله الرحمٰن الحيم
    الحمد لله رب العٰلمين والصلاة والسلام علي سيد المرسلين وأحبابه المعارضين لأعدائه أجمعين

    عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں

    اس كائنات میں اللہ تعالی نے بعض اشیاء کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی رسولان عظام کوانبیاء عظام پر اور انبیاء عظام کو تمام مخلوق پر، ایک مومن کو تمام انسانوں پر، ایک ولی کو تمام مومنوں پر، ایک صحابی کو تمام ولیوں پر، رسول اکرم سرور عالم، عالِم ماکان ومایکون صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری کائنات پر۔اسی طرح ایک صدی کو دوسری صدی پر جیساکہ "خير القروني قرني"سے ظاہر ہے ۔سال کے بارہ مہینوں میں ماہ رمضان کو تمام مہینوں پر فضیلت حاصل ہے اللہ تعالی فرماتا ہے"شھرُرمضانَ الذی انزل فیہ القرآن الآیۃ"یوم جمعہ کو تمام ایام پر ایک طرح کی فضیلت حاصل ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "إن من أفضل أيامِكم يوم الجمعةالحدیث"اسی طرح ایک رات کو دوسری راتوں پر برتری حاصل ہے مثلاً شبِ قدر کو تمام راتوں پر، اللہ فرماتا ہے "ليلة القدر خير من الف شهر"اسی طرح ذی الحجہ کے عشرہ اول کو ایام رمضان کے بعد تمام ایام پر فضیلت و برتری حاصل ہے۔یہ وہ عشرہ ہے جس میں اللہ وحدہ لاشریک کا دریائے رحمت جوش میں ہوتا ہے اور اس کی رحمت کی فراوانی خشک وادیوں کو سیراب اور مردہ دلوں کو زندہ کردیتی ہے۔اسی عشرہ کی فضیلت و عظمت کو قرآن و احادیث کی روشنی میں واضح کیا جاتا ہے۔

    عشرہ ذی الحجہ آیاتِ قرآنیہ کی روشنی میں
    آیت:١ وَالْفَجْرِ(١)
    اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کے متعلق مفسرین کی مختلف آراء ہیں لیکن مفسرین کی ایک بہت بڑی تعداد نے ان دونوں آیات کو ماہِ ذی الحجہ کے عشرہ اول کی فضیلت و عظمت کو بحسن و خوبی عیاں کرنے والی قرار دیاہے۔کچھ مفسرین کے افکار و نظریات کو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے.
    قال ابن کثیر:أما الفجر فمعروف ، وهو : الصبح . قاله علي ، وابن عباس ، ومجاهد ، وعكرمة ، والسدي . وعن مسروق ، ومجاهد ، ومحمد بن كعب : المراد به فجر يوم النحر خاصة ، وهو خاتمة الليالي العشر . (تفسیر ابن کثیر)
    ابن کثیر فرماتے ہیں :لیکن فجر تو اس کا معنی مشہور ومعروف ہے یعنی صبح اور یہی قول حضرت علی، ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاھد، عکرمہ اور سدی رحمہم اللہ کا ہے۔اور مسروق، مجاھد اور محمد بن کعب سے مروی ہے کہ فجر سے مراد آیت میں خاص طور طورپر قربانی کے دن کی صبح ہے یعنی ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی دسویں رات کی صبح۔
    قال الإمام الرازي؛ أَمَّا قَوْلُهُ : ( وَالْفَجْرِ ) فَذَكَرُوا فِيهِ وُجُوهًا :
    أَحَدُهَا : مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَجْرَ هُوَ الصُّبْحُ الْمَعْرُوفُ
    وَثَانِيهَا : أَنَّ الْمُرَادَ نَفْسُ صَلَاةِ الْفَجْرِ ....كَمَا قَالَ تَعَالَى : ( إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ) [ الْإِسْرَاءِ : 78 ] أَيْ تَشْهَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ .
    وثالثها : أنه فجر يوم معين ، وعلى هذا القول ذكروا وجوها :
    الْأَوَّلُ : أَنَّهُ فَجْرُ يَوْمِ النَّحْرِ ۔
    الثَّانِي : أَرَادَ فَجْرَ ذِي الْحِجَّةِ لِأَنَّهُ قَرَنَ بِهِ قَوْلَهُ : ( وَلَيَالٍ عَشْرٍ ).
    الثَّالِثُ : الْمُرَادُ فَجْرُ الْمُحَرَّمِ(تفسيرالكبير، ج؛ ٣٢،ص:١٤٨)
    امام رازی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے قول والفجر کے متعلق مفسرین نے چند وجوہات ذکر کی ہیں ۔
    وجہ اول:حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ تعالي عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد ہر دن کی صبح ہے۔
    وجہ دوم:یہ ہے کہ اس سے مراد نماز فجر ہے۔جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا "بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں( ترجمہ کنز الایمان) یعنی رات و دن کے فرشتے نماز فجر کی قراءت کے وقت حاضر ہوتے ہیں ۔
    وجہ سوم:یہ ہے کہ اس سے مراد کسی معین دن کی صبح ہے۔اس قول کی بنا پر بہت ساری وجوہات مفسرین نے ذکر فرمائی ہیں (یعنی معین سے کون سا دن مراد ہے)
    پہلی وجہ:یہ ہے کہ اس سے مراد یوم النحر یعنی قربانی کے دن کی صبح ہے۔
    دوسری وجہ:یہ ہے کہ اس سے مراد ذی الحجہ کی صبح ہے، اس لیے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان( وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) موجود ہے ۔(اور یہاں لیالی عشر سے مراد ذی الحجہ کی راتیں ہیں)
    تیسری وجہ :محرم کی صبح مراد یے۔(تفسیر کبیر، جلد:٣٢،ص:148
    علامہ صدرالافاضل مفسر مرادآبادی فرماتے ہیں :
    مراد اس (فجر) سے یا یکم محرم کی صبح ہے جس سے سال شروع ہوتا ہے یا یکم ذی الحجہ جس سے دس راتیں ملی ہوئی ہیں یاعید الاضحی کی صبح اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ مراد اس سے ہر دن کی صبح ہے کیونکہ وہ رات کے گزرنے اور روشنی کے ظاہر ہونے اور تمام جانداروں کے لئے طلب رزق کے لیے منتشر ہونےکا وقت ہے اور یہ مُردوں کے قبر سے اٹھنے کے وقت کے ساتھ مناسبت و مشابہت رکھتا ہے۔
    آيت:٢ وَلَيَالٍ عَشْرٍ(٢)
    قال محمد بن أحمد الأنصاري القرطبي:
    قَوْلِهِ : وَلَيَالٍ عَشْرٍ هُوَ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ ( الجامع لأحكام القرآن ،سورة الفجر » قوله تعالى والفجر وليال عشر)
    امام قرطبی فرماتے ہیں :
    لیالی عشر سے ماہ ذی الحجہ کے دس دن مراد ہیں (تفسیر قرطبی)
    قال ابن كثير:
    والليالي العشر : المراد بها عشر ذي الحجة . كما قاله ابن عباس ، وابن الزبير ، ومجاهد ، وغير واحد من السلف والخلف ( تفسير القرآن العظيم تفسير سورة الفجر،تفسير قوله تعالي، والفجر وليال عشر.)
    اور دوسری آیت میں لیالی عشر سے مراد ماہ ذی الحجہ کے دس دن ہیں ۔یہی قول حضرت عبد اللہ بن عباس، ابن زبیر رضی اللہ عنہما، مجاھد اور بے شمار سلف و خلف رحمھم اللہ کا ہے۔(تفسير ابن كثير)
    قال محمد بن جرير الطبري:
    وَقَوْلُهُ : ( وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) اخْتَلَفَ أَهْلُ التَّأْوِيلِ فِي هَذِهِ اللَّيَالِي الْعَشْرِ أَيُّ لَيَالٍ هِيَ،فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هِيَ لَيَالِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ .
    (١)عنِ ابْنِ عباسٍ ، قَالَ : إِنَّ اللَّيَالِيَ الْعَشْرِ الَّتِي أَقْسَمَ اللَّهُ بِهَا ، هِيَ لَيَالِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ .
    (٢)عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ( وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) أَوَّلُ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ .
    (٣) عَنْ مَسْرُوقٍ ( وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) قَالَ : عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ .
    (٤)عَنْ عِكْرِمَةَ ( وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) قَالَ : عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ .
    (٥)عن عُبَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الضَّحَّاكَ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ : ( وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) يَعْنِي : عَشْرَ الْأَضْحَى
    وَالصَّوَابُ مِنَ الْقَوْلِ فِي ذَلِكَ عِنْدَنَا : أَنَّهَا عَشْرُ الْأَضْحَى لِإِجْمَاعِ الْحُجَّةِ مِنْ أَهْلِ التَّأْوِيلِ عَلَيْهِ....... عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) قَالَ : عَشْرُ الْأَضْحَى.

    (تفسير الطبري تفسير سورة الفجر القول في تأويل قوله تعالى " والفجر وليال عشر،الجزء العشرون،ص:٦٣٩)
    امام طبری فرماتے ہیں :
    اللہ تعالیٰ کے قول( وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) میں جن دس راتورکا تذکرہ ہے ان کے بارے میں اہل تاویل کا اختلاف ہے کہ آیا ان سے کون سی دس راتیں مراد ہیں ۔بعض نے کہا ہے کہ اس سے ماہ ذی الحجہ کی پہلے عشرہ کی راتیں مراد ہیں ۔(دلائل مندرجہ ذیل ہیں)
    (١)عبد الله بن عباس فرماتے ہیں:بے شک وہ دس راتیں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ان سے مراد ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی راتیں ہیں ۔
    (٢)عبد اللہ بن زبیر فرماتے ہیں ماہ ذی الحجہ کے اول دن سے یوم النحر یعنی قربانی کے دن تک۔
    (٣)حضرت مسروق اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :اس سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں ۔
    (٤)حضرت عکرمہ فرماتے:ماہ ذی الحجہ کے شروع کے دس دن مراد ہیں۔
    (٥)حضرت عبید کہتے ہیں کہ میں نے ضحاک کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ وہ اس سے ذی الحجه کے پہلے دس دن مراد لیتے تھے۔
    اس کے بعد امام طبری فرماتے ہیں کہ اس بارے ميں ہمارے نزدیک درست قول یہ کہ اس سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں اس لیے کہ تمام اہل تاویل کا اس پر اجماع ہے۔۔۔۔۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کے اس فرمان کے متعلق ارشاد فرمایا "عَشْرُ الْأَضْحَى"یعنی ذی الحجہ کے شروع کے دس دن مراد ہیں ۔
    قال الإمام الرازي؛ إَنَّهَا عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ لِأَنَّهَا أَيَّامُ الِاشْتِغَالِ بِهَذَا النُّسْكِ فِي الْجُمْلَةِ ، وَفِي الْخَبَرِ : مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ
    امام رازی فرماتے ہیں :بیشک اس سے ذی الحجہ کے دس دن مراد ہیں اس لیے کہ یہ فی الجملہ اس قربانی کے ساتھ مشغولیت کے ایام ہیں اور حدیث شریف می آیا ہے کہ عشرہ ذی الحجہ کی عبادت سے کسی اور دن کی عبادت افضل نہیں۔
    وَقَالَ الزَّمَخْشَرِيُّ : وَأَرَادَ بِاللَّيَالِي الْعَشْرِ عَشْرَ ذِي الْحِجَّةِ(الكشاف)
    زمخشری نے کہا:لیالی عشر سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں ۔
    علامہ صدرالافاضل مفسر مرادآبادی فرماتے ہیں :
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے مراد ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ زمانہ اعمال حج میں مشغول ہونے کا ہے اور حدیث شریف میں اس عشرہ کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں یہ بھی مروی ہے کہ رمضان کے عشرہ اخیرہ کے آخری راتیں مراد ہیں یا محرم کے پہلے عشرہ کی۔(خزائن العرفان)
    آيت:٣وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ
    قرآن مجید میں جن ایام معلومات میں ذکر اللہ کا بیان خصوصیت سے کیا گیا ہے جمہور اہل علم کے نزدیک ان ایام معلومات سے مراد عشرۂ ذی الحجہ ہی کے ابتدائی دس دن ہیں۔اللہ عزوجل ماہ ذی الحجہ کی عظمت و فضیلت اور ان ایام میں خاص طور پرذکر الہی کی طرف ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ (سورة الحج. آيت:٢٨)اور اللہ کا نام لیں جانے ہوئے دنوں میں(ترجمہ کنز الایمان، آیت:٢٨) ذیل میں کچھ مفسرین کی تشریحات کو پیش کیا جاتا ہے۔
    قالعبد الله بن أحمد بن محمود النسفي:
    هِيَ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَآخِرُهَا يَوْمُ النَّحْرِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَأَكْثَرِ الْمُفَسِّرِينَ رَحِمَهُمُ اللَّهُ وَعِنْدَ صَاحِبَيْهِ هِيَ أَيَّامُ النَّحْرِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - (تفسير النسفي، تفسير سورة الحج،تفسير قوله تعالى ليشهدوا منافع لهم ويذكروا اسم الله الخ)
    امام نسفی فرماتے ہیں:امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایام سے مراد ذی الحجہ کے دس دن اور ان کا آخری دن یوم النحر ہے ،یہی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور اکثر مفسرین کا قول ہے اور صاحبین کےنزدیک ایام سے مراد ایام النحر ہیں، یہی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔(تفسیر نسفی)
    قال الحسين بن مسعود البغوي: يَعْنِي عَشْرَ ذِي الْحِجَّةِ في قَوْلِ أَكْثَرِ الْمُفَسِّرِينَ ( تفسير البغوي سورة الحج» تفسير قوله تعالى " ليشهدوا الخ)
    امام بغوی فرماتے ہیں :ایام معلومات سے مراد اکثر مفسرین کے قول کے مطابق ماہ ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں (تفسیر بغوی)
    قال ابن کثیر:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : الْأَيامُ الْمَعْلُومَاتُ : أَيْامُ الْعَشْرِ ،
    إِنَّهَا يوْمُ عَرَفَةَ ، وَيَوْمُ النَّحْرِ ، وَيَوْمٌ آخَرُ بَعْدَهُ . وَهُوَ مَذْهَبُ أَبِي حَنِيفَةَ . (تفسير القرآن العظيم تفسير سورة الحج،تفسير قوله تعالى لیشھدوا الخ)
    امام ابن کثیر فرماتے ہیں :حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ ان ایام سے ذی الحجہ کے دس دن مراد ہیں ابن کثیر نے احادیث کی روشنی میں اسی مذہب کو راجح قرار دیا ہے۔
    امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک ان ایام سے مراد یوم عرفہ، یوم نحر یعنی دسویں ذی الحجہ اور نحر کا آخری دن یعنی بارہویں ذی الحجہ ہے۔(تفسیر ابن کثیر)

    عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

    (١)عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ ِقَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ (جامع الترمذي، بَاب مَا جَاءَ فِي الْعَمَلِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ، رقم الحديث:٧٥٧)
    ترجمہ :حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں“، لوگوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
    تشریح:اس حدیث پاک میں ایام عشر سے مراد ماہ ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں کیونکہ دیگر احادیث میں عشرة ذي الحجه کے الفاظ موجود ہیں جیساکہ سنن الدارمی کی اس روایت سے بخوبی معلوم ہو جائیگا ۔
    (٢)عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْ الْعَمَلِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ قِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ(سنن الدارمي كتاب الصوم باب في فضل العمل في العشر، رقم الحديث:١٧٧٣)
    قال المنذری:وإسناده جيد.
    ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عشرہ ذی الحجہ کی عبادت سے کسی اور دن کی عبادت افضل نہیں، لوگوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا“۔(سنن دارمی، حدیث:1773
    امام منذری نے فرمایا کی اس حدیث کی اسناد جید ہے۔
    شارحین حدیث نے بھی اس کی تشریح عشره ذي الحجه سےفرمائی ہے۔
    قال الملا علي القاري؛ أَيِ : الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ (مرقاۃ المفاتیح، ح:١٤٦٠)
    ملا علی فرماتے ہیں :یعنی ماہ ذی الحجہ کے پہلے دس دن مراد ہیں۔
    اس حدیث کی بنیاد پر محدثین و فقہا کے مابین اختلاف ہوگیا کہ آیا اس عشرہ کے ایام افضل ہے یا ماہ رمضان کے ایام فضیلت والے ہیں ۔اس تعلق سے ملا علی قاری نے بیت ہی جامع گفتگو فرمائی ہے اسی کو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے ۔
    قال علي بن سلطان محمد القاري:اخْتَلَفَتِ الْعُلَمَاءُ فِي هَذِهِ الْعَشْرِ وَالْعَشْرِ الْأَخِيرِ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هَذِهِ الْعَشْرُ أَفْضَلُ لِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَشْرُ رَمَضَانَ أَفْضَلُ لِلصَّوْمِ وَالْقَدْرِ ، وَالْمُخْتَارُ أَنَّ أَيَّامَ هَذِهِ الْعَشْرِ أَفْضَلُ لِيَوْمِ عَرَفَةَ ، وَلَيَالِي عَشْرِ رَمَضَانَ أَفْضَلُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ; لِأَنَّ يَوْمَ عَرَفَةَ أَفْضَلُ أَيَّامِ السَّنَةِ ، وَلَيْلَةَ الْقَدْرِ أَفْضَلُ لَيَالِي السَّنَةِ۔( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح كتاب الصلاة، باب في الأضحية، ح:١٤٦٠)
    علما کا اس سلسلہ میں اختلاف یے رمضان کا آخری عشرہ افضل ہے یا عشرہ ذی الحجہ تو بعض علماء نے فرمایا کہ اس حدیث کی وجہ سے یہ عشرہ افضل ہے اور بعض علما نے فرمایا کہ روزہ اور لیلۃ القدر ہونے کی وجہ سے رمضان کا عشرہ اخیرہ افضل ہے ۔اور مختار مذہب یہ کہ دن تو ماہ ذی الحجہ کے عشرہ اول کے افضل ہیں اس لیے کہ ان ایام میں یوم عرفہ ہے۔اور راتیں رمضان کے آخری عشرہ کی افضل ہیں شب قدر کی وجہ سے۔اس لیے کہ یوم عرفہ سال کے تمام دنوں میں افضل ہے اور شب قدر سال کی تمام راتوں میں افضل ہے۔(مرقاۃ)
    (٣)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ))(جامعالترمذي، باب مَا جَاءَ فِي الْعَمَلِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ، رقم الحديث:٧٦٣)
    حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے“۔(ترمذی، حدیث نمبر:763)
    (٤)عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ أَمَامَهُ وَسَنَةٌ بَعْدَهُ .(سنن ابن ماجه، باب صيام يوم عرفة، رقم الحديث:١٧٣١)
    حضرت قتادہ بن نعمان نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا تو اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔(ابن ماجہ، جلد:٢،حدیث:1731
    ٥)(عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ لِلَّهِ مُحْتَسِبًا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ))سنن ابن ماجه، باب فِيمَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ، رقم الحديث:١٨٥٤)
    ترجمہ:حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے اللہ کی عبادت کرے گا، تو اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دل مردہ ہو جائیں گے ۔(سنن ابن ماجہ، حدیث:1854
    مذکوررہ آیات بینہ و احادیث مبارکہ کی روشنی میں عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت و عظمت روز روشن کی طرح عیاں اور ہویدہ ہو جاتی ہے ۔اب ان قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے جو خاص طور پر یوم النحر کی فضیلت و احکام کے تعلق سے وارد ہوئی ہیں ۔
    یوم النحر کی فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں
    قربانی کی اپنی مخصوص حیثیت ہے اور اس کی اپنی جداگانہ شان ہے گزشتہ تمام قوموں، ایماندار امتوں میں قربانی کا وجود رہا ہے ۔جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ (سورة الحج. آيت:٣٤)
    ترجمہ کنز الایمان:اور ہر امت کے لیےہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بےزبان چوپایوں پرتو تمہارا معبود ایک معبود ہےتو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو۔
    علامہ صدرالافاضل مفسر مرادآبادی فرماتے ہیں:
    اس آیت میں دلیل ہے اس پر کہ ذبح کے لیے خدا کا نام ذکر کرنا شرط ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر ایک امت کے لیے مقرر فرمادیا تھا کہ اس کے لیے بطریق تقرب قربانی کریں اور تمام قربانیوں پر اسی کا نام لیا جائے ۔(خزائن العرفان)
    اس آیت سے اس بات کا ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ قربانی تمام قوموں اور تمام امتوں میں تھی اور اسے اس امت کے لیے بھی باقی رکھا گیا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ (سورة الصافات، آيت:١٠٨)اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی.
    آيت:٢فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
    اس آیت میں وَانْحَر کی تفسیر میں مفسرین کےمتعدد اقوال ہیں ۔بعض نے اس کےمعنی وَضَعَ الْيَمِينُ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلَاةِ یعنی نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا مراد لیے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد قربانی کرنا ہی ہے جیساکہ قتادہ، مجاھد، ابن عباس، سعید ابن جبیر اور مالک بن انس وغیرہ بے شمار مفسرین و محدثین نے اس کے معنی قربانی کرنا اور راہ خدا میں خون بہانا مراد لیے ہیں ۔جیساکہ مندرجہ ذیل اقوال کی روشنی یہ بات عیاں ہوجاتی ہے۔
    قالمحمد بن جرير الطبري:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ( فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ) قَالَ : الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ ، وَالنَّحْرُ : النُّسُكُ وَالذَّبْحُ يَوْمَ الْأَضْحَى . (تفسير الطبري تفسير سورة الكوثر، المجلدالرابع والعشرون)
    امام طبری فرماتے ہیں :عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول (تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو) میں صلاۃ سے مراد فرض نماز ہے اور نحر کا معنی عید الاضحیٰ کے دن قربانی کرنا اور جانور ذبح کرنا ہے(تفسیر طبری)
    عَنْ ِعكْرِمَةَ : فَصَلِّ الصَّلَاةَ ، وَانْحَرِ النُّسُكَ .
    حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا معنی ہے کہ اے محبوب نماز ادا کرو اور قربانی کرو۔
    عَنْ قَتَادَةَ ( فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ) قَالَ : صَلَاةُ الْأَضْحَى ، وَالنَّحْرُ : نَحْرُ الْبُدْنِ
    حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ آیت میں صلاۃ سے مراد عید الاضحی کی نماز ہے اور نحر کا معنی بدنہ ذبح کرنا ہے ۔
    ان کے علاوہ دیگر صحابہ و تابعین کے اقوال بھی ہیں ۔ان تمام اقوال کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو قربانی کرنے کا حکم دے رہا ہے۔

    آيت:٣
    إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ .(سورة الأنعام، آيت:١٦٢)
    تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا (ترجمہ، کنز الایمان)
    قال ابن كثير:
    وَقَوْلُهُ تَعَالَى : ( قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) يَأْمُرُهُ تَعَالَى أَنْ يُخْبِرَ الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ يَعْبُدُونَ غَيْرَ اللَّهِ وَيَذْبَحُونَ لِغَيْرِ اسْمِهِ ، أَنَّهُ مُخَالِفٌ لَهُمْ فِي ذَلِكَ ، فَإِنَّ صَلَاتَهُ لِلَّهِ وَنُسُكَهُ عَلَى اسْمِهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ تَعَالَى : ( فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ) [ الْكَوْثَرِ : 2 ] أَيْ : أَخْلِصْ لَهُ صَلَاتَكَ وَذَبِيحَتَكَ ،
    کفار و مشرکین غیر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے اور غیر اللہ کے نام پر اپنے جانوروں کو ذبح کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہا ہے کہ اے محبوب آپ ان کو باخبر کردیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب سے مخالفت و انحراف کا حکم دیتا ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کے سے اخلاص کے ساتھ نیت و عزم کا حکم ہے چنانچہ فرمایا کہ میری نماز، میری قربانی اسی کے لیے ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ،یعنی اے محبوب اپنی نماز اپنی قربانی کو اللہ ہی کے لیے خالص کیجئیے ۔
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ بِكَبْشَيْنِ وَقَالَ حِينَ ذَبَحَهُمَا : " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، ( إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ) . (تفسير ابن كثير،تفسير سورة الأنعام،تفسير قوله تعالى " قل إن صلاتي الخ.الجزء الثاني)
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے روز دو مینڈھے ذبح فرمائے اور ان کو ذبح کرتے وقت ان الفاظ کا خروج آپ کے لبہائے مبارکہ سے ہوا،"میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہو کراور میں مشرکین میں نہیں،بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا ۔(تفسیر ابن کثیر)
    يوم النحر/عيد الأضحي احاديث کی روشنی میں
    یوم النحر/عيد الأضحي کی فضیلت میں بہت ساری احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے چند احادیث کو پیش کیا جاتا ہے۔
    (١)عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلاَفِهَا وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الأَرْضِ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا)).قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((فِي الأُضْحِيَةِ لِصَاحِبِهَا بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ)). وَيُرْوَى: ((بِقُرُونِهَا))(جامع الترمذي، باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الأُضْحِيَة، رقم الحديث:١٥٧٢)
    ترجمہ:ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی“،یہ بھی مروی ہے کہ جانور کی سینگ کے عوض نیکی ملے گی۔(سنن ترمذی، حدیث:1572)
    (٢)عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الأَضَاحِيُّ قَالَ: ((سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ)). قَالُوا فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ((بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ)). قَالُوا فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ((بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ)).سنن ابن ماجہ، باب ثَوَابِ الأُضْحِيَّة، رقم الحدیث:٣٢٤٧)
    ترجمہ : حضرت زید بن ارقم سےبروایت ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ میں (بھی) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔(سنن ابن ماجہ، حدیث:3247

    (٣)َ عن عَلیٍ اّنرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " { يَا فَاطِمَةُ قُومِي أُضْحِيَّتِك فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ فَإِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا مغفرة لِكُلِ ذَنْبٍ،أما إنَّهُ يُجَاءُ بِلَحْمِهَا وَدَمِہَا تُوْضَعُ فِي مِیزَانِکِ سَبعینَ ضِعْفًا۔ قالَ ابوسعید: یا رسول اللّٰہﷺ! ہذا لآل محمدٍ ﷺخاصَّةً، فَإنَّهُمْ أہلٌ لِمَا خُصُّوا بِهِ مِنَ الْخَیْرِ، أوْلِلْمُسْلِمِینَ عامَّةً؟ قال: لآل محمد ﷺخاصَّةً، وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً (الترغيب والترهيب للمنذري، الترغيب في الأضحية، المجلدالثاني، ص:٩٩)
    ترجمہ:حضرت علی ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے) فرمایا: اے فاطمہ! اٹھو اور اپنی قربانی کے پاس (ذبح کے وقت )موجود رہو، اس لئے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی تمہارے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، یہ قربانی کا جانور قیامّت کے دن اپنے گوشت اور خون کے ساتھ لایا جائے گا اور تمہارے ترازو میں ستر گنا(زیادہ) کرکے رکھا جائے گا، حضرت ابوسعیدؓنے عرض کیا :اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! یہ فضیلت خاندان نبوت کے ساتھ خاص ہے جو کسی بھی خیر کے ساتھ مخصوص ہونے کے حقدار ہیں یا تمام مسلمانوں کے لئے ہے؟ فرمایا: یہ فضیلت آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خصوصاً اور عموماً تمام مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ (الترغیب والترہیب:حدیث:قربانی میں رغبت دلانے کا بیان، ص:99، ،جلد:02
    قال المنذري:وقد حَسَّن بعضُ مشائخنا حديثَ عليٍّ
    امام منذری فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث (اسی حدیث) کو حسن کا درجہ دیا ہے۔
    (٤)عن ابنِ عباسٍ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی یومِ أضْحیٰ: ما عَمِلَ آدَمِیٌّ فِي ھذا الیَومِ أفْضَلَ مِنْ دَمٍ یُھْرَاقُ إلّا أنْ یکونَ رَحِماً تُوْصَلُ“۔(الترغيب والترهيب،الترغيب في الأضحية، المجلدالثاني، ص:٩٩)
    ترجمہ:۔”حضرت اِبن عباس سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نے عید الاضحی کے دِن اِرشاد فرمایا: آج کے دِن کسی آدمی نے خون بہانے سے زیادَہ افضل عمل نہیں کیا،البتہ اگر کسی رشتہ دار کے ساتھ حسن سلوک کیا تو وہ اس سے بڑھ کر ہوسکتا ہے ۔((الترغيب والترهيب، جلد:02 ص:٩٩)
    امام منذری فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبير میں روایت کیا ہے اور اس حدیث کی سند میں ایک راوی یحيٰ بن حسن خشنی ہیں جن کا حال مجھے معلوم نہ ہو سکا۔
    (٥)عن علیٍّ رضی اللہ عنہ عنِ النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: یَا أیُّہَا النَّاسُ! ضَحُّوْا واحْتَسُِبوُا بِدِمَائِهَا، فَإنَّ الدَّمَ وَإنْ وَقَعَ فِي الأرْضِ، فَإنَّهُ یَقَعُ فِي حِرْزِ اللّٰہ عز وجل.(الترغيب والترهيب،الترغيب في الأضحية، المجلدالثاني، ص:١٠٠)
    ترجمہ:حضرت علی رَضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! تم قربانی کرو اور ان قربانیوں کے خون پر حصول ثواب کی امید رَکھو؛ اِس لیے کہ قربانی کاخون اگرچہ زمین پر گرتا ہے؛ لیکن وہ اللہ کے حفظ وامان میں چلاجاتاہے۔
    امام ہیثمی فرماتے ہیں:اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الوسط میں روایت کیا ہے ،اس حدیث میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہیں جو کہ متروک الحدیث ہیں۔(مجمع الزوائد، جلد،:4 ص:5حدیث:5936
    (٦)عن أبي هريرة رضي اللّه عنه قال: قال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم:" اسْتَفْرِهُوا ضَحَايَاكُمْ ، فَإِنَّهَا مَطَايَاكُمْ عَلَى الصِّرَاطِ".( مسند الفردوس للديلمي، المجلد الرابع، ح:٢١٩)
    ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :فربہ اور تروتازہ قربانیاں کرو کیونکہ وہ پلصراط پر تمہاری سواریاں ہوںگے(مسند الفردوس للديلمي،جلد:4حدیث:219)
    اس حدیث کو امام دیلمی اور عبد الجبار نے عبد اللہ ابن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے۔اس حدیث کی سند میں ایک راوی یحيٰ بن عبید اللہ ہیں جنہیں ابن حجر عسقلانی اور امام سخاوی نے ضعیف راوی قرار دیا ہے۔امام دیلمی فرماتے ہیں کہ دیلمی نے اس حدیث کو سندِضعیف کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    اعلی حضرت امام احمد رضا فرماتے ہیں :مسلمانوں! اپنے نبی رؤف رحیم کی رحمت دیکھو حدیث میں ارشاد یے(ْاستَفْرِهُوا ضَحَايَاكُمْ ، فَإِنَّهَا مَطَايَاكُمْ عَلَى الصِّرَاطِ".:فربہ اور تروتازہ قربانیاں کرو کیونکہ وہ پلصراط پر تمہاری سواریاں ہوںگی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ میری امت میں کروڑوں وہ ہوںگے جو قربانی سے عاجز ہوں گے یا ان ہر واجب نہ ہونے کے سبب قربانی نہ کریں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ صراط پر بے سواری کے رہ جائیں ،ان کی طرف سے خود قربانی فرمادی کہ اگر وہ اپنی جان بھی قربان کرتے تو ان کے دست مبارک کی فضیلت کو نہ پہنچتے صل اللہ علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم۔(ملفوظ ،حصہ دوم، ص:١٢١)
    (٧)عن حسین بن علی رضی اللہ عنہما قال:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:مَنْ ضَحَّیٰ طَیِّبَةً نَفْسُهُ مُحْتَسِباً لِأُضْحِیَّتِهِ کَانَتْ لَهُ حِجَاباً مِنَ النَّارِ.((الترغيب والترهيب،الترغيب في الأضحية، المجلد الثاني، ص:١٠٠)
    ترجمہ :حضرت امام حسین بن علی رَضی اللہ عنہما سے مروِی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نے فرمایا: "جو شخص خوش دِلی کے ساتھ حصولِ اجر وثواب کی اُمید رَکھتے ہوئے قربانی کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رُکاوَٹ اور ڈھال بن جائے گی“۔(الترغيب والترهيب، ج:٢،ص:١٠٠)
    امام ہیثمی فرماتے ہیں :اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے ۔اس میں ایک راوی سلیمان بن عمرو نخعی ہے جو کہ کذاب ہے۔(مجمع الزوائد، ح:5937ج:4ص:5
    مشہور غیر مقلد عالم قاضی شوکانی کہتے ہیں کہ یہ حدیث ابو داؤد نخفی کے طریق سے بھی مروی ہے جو کہ کذاب ہےاور امام احمد نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ وہ حدیث گڑھا کرتا تھا۔(نَیلالاوطار شرح منتقي الاخبار من احاديث سيد الاخيار ۔جلد :05
    (٨)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا))(سنن ابن ماجه، باب الأَضَاحِيُّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لاَ،رقم الحديث:٣٢٤٢)
    ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو (قربانی کی) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ۔(ابن ماجہ، حدیث:3242.
    شارح بخاری مفتی شریف الحق فرماتے ہیں :مسلمان، عاقل، بالغ، آزاد، مقیم پر قربانی کے دن جو مالک نصاب ہو اس پر قربانی کرنا واجب ہے ہماری دلیل یہی حدیث پاک ہے جسے ابن ماجہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔(نزھۃ القاری ملخصاً) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
    ان تمام آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں عشرہ ذی الحجہ، یوم النحر اور عید الاضحیٰ کی فضیلت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے ۔ان کے علاوہ بھی آیات و احادیث ہیں جو عشرہ ذی الحجہ و یوم النحر کی فضیلت اور ایام رمضان کے بعد عشرہ ذی الحجہ کی برتری کو واضح کرتی ہیں ۔
    جزاک اللہ تعالیٰ خيرا فی الدارین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں