کس کس سے آزادی؟

اظہر عباس نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اگست 16, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. اظہر عباس

    اظہر عباس -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 25, 2010
    پیغامات:
    16
    کس کس سے آزادی؟

    السلام علیکم.
    اس بار بھی ہم نے ’’یوم آزادی‘‘ انتہائی جوش و خروش اور اہتمام سے منایا۔ یقیناً آپ نے بھی خوشی منائی ہوگی اور آزادی کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہوگا۔ بحیثیت ایک پاکستانی مجھے بھی یوم آزادی کی خوشی تھی اور الحمد للہ اب بھی ہے۔ آزادی عظیم نعمت ہے اور پاکستان تو اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام و احسان ہے، اس کے شکرانے کا حق ہم سے اداء نہیں ہو سکتا۔ پاکستان ہماری جان ہے، ہماری آن بان شان ہے، ہماری اسلام کے بعد دوسری پہچان ہے۔ الحمد للہ رب العالمین۔ لیکن کیا اس نعمت کا شکر یہی ہے جس کا مظاہرہ ہم بحیثیت قوم یوم آزادی پر کرتے ہیں؟

    سوال یہ ہے کہ ہم کس سے آزدی کی خوشی منا رہے ہیں؟

    کیا انگریزوں سے آزادی کی خوشی؟ نہیں! ایسا تو کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا، نہ لباس میں، نہ چال ڈھال میں نہ انداز جشن میں بلکہ ہم تو آج ان کی مکمل غلامی میں دھنسے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

    تو پھر کیا ہندوئوں سے آزادی کی خوشی؟ نہیں صاحب! ایسا بھی کچھ نہیں بلکہ ہم نے تو اپنی آج کی خوشی میں رنگ ہی ہندوئوں کے بھرے ہوئے تھے، ہم نے اپنے یوم آزادی کو بالکل ہی ہولی اور دیوالی جیسا تہوار تو بنا لیا تھا، اسی طرح پٹاخے، رنگ بازی، بھڑکیلے لباس اور انڈین گانوں کی اونچی تان، سب کچھ ہمارے ہندو دوستوں کا دیا ہوا ہے تو ان سے آزادی کیسی۔

    بہت غور کرنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ
    دراصل آج ہم بدقسمتی سے قرآن سے آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔
    میری بات کا برا منانے کی بجائے ٹھنڈے دل سے اس پر غور فرمائیے!۔
    قرآن نے ہمیں حکم سنایا ہے کہ نماز ادا کرو اور بے نمازی بن کر مشرکین کی صفوں میں شامل مت ہو۔
    14اگست کے دن مسجدیں نمازیوں سے خالی، صفیں حیرت سے یہ سوال کر رہی تھیں کہ مشرکین سے آزادی پانے والے اہل ایمان آج خود کیوں ان کی صفوں میں شامل ہونے کیلئے نماز سے غافل ہو گئے؟

    قرآن پاک میں بے حیائی کے کاموں سے بچنے کا حکم ہے اور مومن مردوں، عورتوں کو اپنی نگاہیں نیچے رکھنے کا امر ہے، ہم نے جشن آزادی پر بے حیائی کے کاموں کو کتنا فروغ دیا؟
    ہر سینماکے باہر لکھا تھا ’’آج جشن آزادی کی خوشی میں چار شو ہوں گے‘‘۔
    اخباری رپورٹوں کے مطابق کئی سینمائوں میں اس آزادی کا نشہ دوبالا کرنے کیلئے ننگی فلموں کے ٹوٹے بھی چلائے گئے۔
    تھیٹروں میں ڈراموں کے خصوصی شو ہوئے اور مجروں کے طوفان بھی خصوصی طور پر برپا کیے گئے۔
    ہوٹل ان پروگراموں کیلئے خصوصی طور پر کئی دن قبل بک کرا لئے گئے۔
    آنکھیں جھکاتا کون، یہاں تو سارے سامان آنکھیں اٹھانے کے بہم پہنچائے گئے اور پھر اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں کئی آنکھیں ایسی اٹھیں کہ نیچے آ ہی نہ سکیں۔
    سابقہ سال لاہور کے مال روڈ پر ارد گرد کے پلازوں کی چھتوں پر برپا جشن آزادی کو آنکھیں اٹھا کر دیکھنے میں مگن ایک نوجوان گاڑی کے نیچے آکر مارا گیا۔
    میں نے اخبار میں تصویر دیکھی، اسکی آنکھیں مکمل کھلی ہوئی تھیں۔ کاش!
    اس کے جیتے جی کھل گئی ہوتیں…
    ہوٹلوں اور حویلیوں میں جو کچھ ہوا ۔۔۔ اس سے قطع نظر سڑکوں پر ہی ہماری نوجوان نسل نے بے حیائی اور بدتمیزی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے اور یہ ثابت کر دیا کہ ہم خوب ترقی کر رہے ہیں۔

    قرآن پاک شراب اور زناء کو حرام قرار دیتا ہے اور ان سے بچنے کا حکم کرتا ہے اور ان کا ارتکاب کرنے پر دنیا و آخرت کی سزائیں سناتا ہے۔

    جشن آزادی پر شراب نوشی کھلم کھلا کی گئی۔ میونسپل کمیٹیوں والے دوسرے دن سڑکوں سے صبح صبح وہ بوتلیں چنتے پھر رہے تھے جو قوم کے مستقبل کے معمار نوجوانوں نے رات خالی کر کے پھینکی تھیں۔ بڑے ہوٹلوں میں شراب و شباب کے خصوصی پیکجز متعارف کرائے گئے اور قرآن کے اس حکم سے آزادی کا بھرپور سامان مہیا کیا گیا۔یوم آزادی کی رات اداکارائوں، ماڈلوں اور پیشہ ور عورتوں کی بکنگ کی بڑی بڑی خبریں آج بھی اخباروں میں چھپ رہی ہیں اور شرافت کہیں چھپ کر اپنا منہ پیٹ رہی ہے۔ بعض بڑے لوگوں نے تو ہندوئوں سے اپنی مائوں بہنوں کی عصمت دری کا بدلہ چکانے کیلئے ہندوستان سے فاحشائیں بلوائیں اور آزادی کے جشن کو چار چاند لگائے۔

    قرآن پاک میں فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ آپ نے خود ہی اپنے اردگرد ماحول میں نظر فرمائی ہوگی۔ لائٹوں، بڑے بڑے ڈیکوں اور ناچ گانے کی محفلوں پر غریب اور مقروض قوم نے کتنی فیاضی اور زندہ دلی سے مال اڑایا اور کتنے بھوکے، مفلس ونادار، یتیم، بیوائیں، مریض اس رات بھی بھوکے سوئے قرآن نے جنہیں کھانا کھلانے اور ان کی مدد کرنے کی ہمیں ترغیب دی ہے۔

    قرآن پاک میں مومن خواتین کو حکم کیا گیا ہے کہ لباس سے مکمل جسم ڈھک کر اس کے اوپر کوئی بڑی چادر یا عباء اوڑھ لیں تاکہ کوئی انہیں تنگ نہ کر سکے اور ان پر بری نظر نہ ڈال سکے۔

    مجھے یہ بات کرتے ہوئے بھی بہت شرم آتی ہے کہ پاکستانی بہنوں نے اللہ کے اس حکم سے کس انداز میں آزادی منائی؟
    زرق برق، بھڑکیلئے تنگ چست آدھے ننگے لباس، میک اپ سے لدے پھندے چہروں اور زیورات کی چمک دکھاتے خواتین کے جلوس اور ان کے پیچھے سیٹیاں بجاتے، تالیاں پیٹتے اور جملے کستے جوانوں کی فوجیں۔

    بس ہم بھی انگریزوں جتنی آزادی سے چند قدم ہی پیچھے رہ گئے ہیں۔ دو تین جشن آزادی اور آئیں گے تو ہم ان کے برابر پہنچ ہی جائیںگے۔ ہندوئوں کے ہم پلہ تو ہم ہو ہی گئے ہیں۔

    قرآن ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتاہے۔ جشن آزادی کے موقع پر چلنے والی اندھی گولیوں، فضاء میں تیرتی فولادی ڈوروں اور آزادی کی خوشی میں ٹریفک قوانین سے آزاد ہو کر روڈوں پر دندناتی گاڑیوں نے درجنوں قتل کر دیئے۔ کتنی بہنوں کے سہاگ اجڑے، کتنے بچوں کے سر سے سائبان ہٹے، نہ کوئی پرچہ کٹا اور نہ ہی رپورٹ درج ہوئی اور انتہاء پسندی اور روشن خیالی کے شور میں ان بیوائوں اور یتیموں کی آواز تو ویسے ہی کسی کان تک نہیں پہنچ پائے گی۔

    قرآن نے مسلمانوں کو کفار سے ایسے معاہدے کرنے سے منع کیا ہے جو دوسرے مسلمانوں کے خلاف ہوں اور کفار سے دوستی کرنے سے بھی روکا ہے۔

    ہم نے قرآن کے اس بار بار کے تاکیدی حکم سے آزادی تو عرصہ ہوا حاصل کر لی تھی اس جشن آزادی کے موقع پر بھی ہم نے ضروری سمجھا کہ ان معاہدوں کی تجدید کر لی جائے اور ہمارے تمام اہل اقتدار نے اپنی سرکاری تقریروں میں اس سارے عہدو پیمان کا اعادہ کیا جو ہم نے اپنے اصلی دشمنوں سے کر رکھا ہے اور اس موقع پر ان لوگوں کو جنہوں نے ہمیشہ اس ملک کی سا لمیت اور بقاء کی جدوجہد کی ہے ایک بار پھر دھمکیوں اور گالیوں سے نوازا گیا اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

    *آلم سے والناس تک پورا قرآن پڑھتے جائیں شرماتے جائیں، کوئی ایک آیت تو ہو جس سے ہم بدنصیبی سے آزاد نہیں ہو چکے؟ یہی ایک چیز تھی جس کی غلامی ہمارے لئے ہر آزادی اور ہر سعادت کا حصول تھی، اس سے آزاد ہوئے تو آج غلامی ہی غلامی ہے۔ نفس کی غلامی، پیٹ کی غلامی، مال کی غلامی اور کافروں کی غلامی *۔

    انگریز خوش ہے کہ اس نے ہمیں پھر غلام بنا لیا ہے ۔ ہمارے اموال، ہماری زمینوں، ہمارے ذہنوں اور ہماری حکومتوں پر اس کا مکمل تسلط ہے۔ اس کی نقالی ہمارے لئے سر مایہ افتخار اور اس کی آشیر باد ہمارا اعزاز ہے۔ اس کے ایک اشارے پر ہم کئی سر تن سے جدا کر کے تھالیاں سجا کر اس کی نظرکرچکے اور کئی سر ابھی انتظار میں ہیں۔

    ہندو بھی محو رقص ہے کہ اس نے ہم سے تقسیم ہند کا بدلہ لے لیا۔ ہمارا ایک حصہ کاٹ دیا اور باقی پر اپنا ثقافتی تسلط قائم کر لیا۔ اندرا گاندھی نے دو قومی نظریہ بحیرئہ عرب میں غرق کرنے کا جشن منایا تھا اس کی بہو سونیا گاندھی نے ہماری تہذیب ہمارے گھر میں دفن کرنے کا اعلان سرعام کیا اور اپنے مشن کی کامیابی پر خوشی کے شادیانے بھی میڈیا کے سامنے بجائے، مودی آج پوری دنیا کے سامنے ہمارے کشمیر، بلوچستان اور گلگت کے بارے میں اپنے مکروہ عزائم کا برملا اعلان کررہا ہے اور ہم آزادی کے جشن اس زور سے منا رہے ہیں، کیوں نہ منائیں! اسلام سے آزادی، قرآن سے آزادی، غلامی کے احساس سے آزادی… اتنی ساری آزادیاں ہمیں ملی ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ جشن نہ منایا جائے۔

    14اگست کے دن شاید تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء، سکھوں کی انیوں پر چڑھائے جانے والے معصوم بچے، کنوئوں میں گر کر جان دینے والی عفت مآب بہنیں، ہندوئوں، سکھوں کے قبضے میں رہ جانے والی پچپن ہزار عورتیں اور تکمیل پاکستان کی جنگ میں شہید ہونے والے لاکھوں کشمیری اور پاکستانی بھائی بہنیں انتظار کرتے ہوں کہ کہیں ان کی یاد میں کسی کے آنسو بہیں یا کوئی انہیں قرآن پڑھ کر ایصال ثواب کرے۔ کوئی اس نظریے کے تحفظ کی قسم کھائے جس کی خاطر ہمارا خون بہا گھر لٹے، تو وہ ایسا کرنا چھوڑ دیں۔ ان کی روحوں سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہم ان کے ساتھ اپنے سابقہ تعلق سے بھی آزاد ہو چکے ہیں۔

    آزادی زندہ باد… جشن آزادی زندہ باد

    از .طلحہ السیف
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں