صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی مجموعی فضیلت

ابو حسن نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اگست 27, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ===================
    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )

    کیا ہی اعلی ہستیاں تھیں جن کو صحبت سیدالاولین و الاخرین ﷺ ملی اور پھر انہوں نے ساتھ بھی ایسا نبھایا کہ نہ ان جیسا کوئی پہلے آیا نہ ہی قیامت تک کوئی آئے گا


    سیدالاولین و الاخرین ﷺ کے سبھی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین آسمان پر چکمتے ستاروں کی ماند ہیں جیسے کہ آسمان پر کچھ ستارے دور دکھائی دیتے اور کچھ نزدیک پر ہیں سبھی روشن اور بے شک سبھی رسول اللہ ﷺ کی منور سنتوں پرعمل پیرا تھے

    جنہوں نے سیدالاولین و الاخرین ﷺ کے نواسے کو دھوکہ دیا اور کوفہ بلوا کر انسے آنکھیں پھیر لیں، اگلے ماہ یعنی " محرم الحرام " میں آپ انکی آل اولاد کو دیکھیں گے جو کہ قیامت تک یونہی سروں پر خاک پیٹھ پر زنجیر زنی اور سینہ کوبی کرتے رہیں گے

    ان پر اللہ کی طرف سے پھٹکار پڑ چکی ہے ،اور ان کے سینے ان فضل والی ہستیوں جن سے اللہ راضی ہوچکا ہے جناب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے بغض سے ابل رہے ہیں جیسے گند سے بھرا گٹر ابلتا ہے

    کیا انصار کیا مہاجرین سبھی نےسیدالاولین و الاخرین ﷺ کی بڑھ چڑھ کر خدمت کرنے کی کوشش کی اور اپنے اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور آپ ﷺ کے سامنے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں اور غزوات میں شامل ہوئے

    اور پھر اللہ تعالی نے انکی کیسے خوبصورت انداز میں شان بیان کی

    اللہ تعالی کا فرمان ہے

    وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

    اور انصاریوں نے مدینہ میں اور ایمان میں مہاجرین سے پہلے جگہ بنا لی ، انصاری اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس کے متعلق اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود انہیں اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں گو انصاریوں کو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو۔ اور جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا وہی کامیاب اور با مراد ہے۔ [الحشر: 9]

    اور پھر اللہ تعالی نے دوسری جگہ یوں فرمایا

    مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا(29)

    محمدﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے اللہ نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے( الفتح : 29)

    اور پھر سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے بھی اپنے اصحاب کی کیا ہی اعلی فضیلت بیان کی اور اس میں کسی کو بھی خاص نہیں کیا بلکہ سبھی کو عمومی طور پر اس میں شامل کیا امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے

    وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَو رأى من رَآنِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

    جابر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس مسلمان کو ، جس نے مجھے دیکھا یا اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ، جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی


    اور پھر سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے دوسرے مقام پر اپنے بارے اور پھر صحابہ کی شان اور فضیلت میں انکو امت کی حفاظت قرار دیا ، اللہ اکبر


    وَعَن أبي بردة عَن أَبيه قَالَ: رَفَعَ - يَعْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم - رَأسه إِلَى السَّمَاء وَكَانَ كثيرا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ. فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومَ أَتَى السَّمَاءَ مَا توعَدُ وَأَنا أَمَنةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمتي مَا يُوعَدُون» . رَوَاهُ مُسلم

    ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، آپ یعنی نبی ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ، اور آپ اکثر اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے ،

    آپ ﷺ نے فرمایا

    ’’ ستارے آسمان کی حفاظت کا باعث ہیں ، جب ستارے جاتے رہیں گے تو آسمان وعدہ کے مطابق ٹوٹ پھوٹ جائے گا

    اور میں اپنے صحابہ کی حفاظت کا باعث ہوں ، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ کو ان فتنوں کا سامنا ہو گا جس کا ان سے وعدہ ہے

    اور میرے صحابہ میری امت کی حفاظت کا باعث ہیں ، جب میرے صحابہ جاتے رہیں گے تو میری امت میں وہ چیزیں (بدعات وغیرہ) آ جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔‘‘ ( رواہ مسلم )



    اور پھر سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے ایک اور مقام پر اپنے صحابہ کی شان اور فضیلت میں ان میں سے کسی ایک کا کسی جنگ میں شامل ہونا اللہ تعالی کی طرف سے فتح کا سبب بنادیا جانا اور صرف یہی نہی بلکہ جس نے ان میں سے کسی کی صحبت اختیار کی یعنی تابعی کا بھی جنگ میں شامل ہونا اللہ تعالی کی طرف سے فتح کا سبب بنادیا جانا اور اسی طرح تابعی کی صحبت اختیار کی یعنی تبع تابعی کا بھی جنگ میں شامل ہونا اللہ تعالی کی طرف سے فتح کا سبب بنادیا جانا

    یعنی پہلے تین قرون کے لوگ ، اللہ اکبر



    ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    ’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی


    ان سے کہا جائے گا : کیا تم میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی صحابی بھی ہے ؟

    وہ کہیں گے : ہاں ، انہیں فتح ہو گی

    پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی تو

    ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی صحبت اختیار کی ہو ؟

    وہ کہیں گے ہاں ، تو انہیں فتح حاصل ہو گی

    پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی

    ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں کوئی تبع تابعین ہے ؟

    وہ کہیں گے : ہاں ، تو انہیں فتح حاصل ہو گی ۔‘‘

    اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے

    فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ان میں سے ایک لشکر بھیجا جائے گا تو

    ان سے کہا جائے گا : دیکھو ، کیا تم اپنے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا کوئی صحابی پاتے ہو ؟

    ایک صحابی مل جائے گا تو انہیں فتح نصیب ہو جائے گی

    پھر دوسرا لشکر بھیجا جائے گا ،
    تو ان سے کہا جائے گا : کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو ؟


    انہیں فتح حاصل ہو گی ۔

    پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا ،
    تو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو ؟


    پھر چوتھا لشکر ہو گا
    ، کہا جائے گا : کیا تم ان میں کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہو جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھنے والے شخص کو دیکھا ہو


    ایسا شخص مل جائے گا تو انہیں فتح حاصل ہو جائے گی ۔‘‘ (متفق علیہ )



    اور پھر سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے انصار سے محبت اور بغض رکھنے والے کی حالت بیان فرمائی جس سے بہت آسانی سے آپ خاص طور پر محرم الحرام میں کچھ لوگوں کی پہچان کرسکتے ہیں اور حدیث کی رو سے آپ جان جائیں گے کہ صحابہ پر زبان درازی کرنے والوں کا شریعت میں کیا مقام ہے ؟



    عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ آيَةُ الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ ‏"

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا

    انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے ( بخاری)


    اللہ تعالی ہمارے دلوں میں انصار و مہاجرین اور ہر ایک صحابی کی پکی سچی اور کھری محبت پیدا فرما دے اور جو کوئی ان مبارک ہستیوں سے بغض رکھے ہمیں اس سے بغض رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اورآخرت میں جنت الفردوس میں ان صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی مجلسوں میں شرکت کی توفیق عطا فرمائے،،، آمین
     
    Last edited: ‏اگست 28, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,253
    جزاک اللہ خیرا!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں