شیر شاہ آبادی قوم کی تعلیمی صورتحال: ایک جائزہ

صادق تیمی نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏اگست 27, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صادق تیمی

    صادق تیمی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 21, 2018
    پیغامات:
    25
    *شیرشاہ آبادی قوم کی تعلیمی صورتحال :ایک جائزہ *

    تحریر: محمد صادق جمیل تیمی

    یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ تعلیم کی اہمیت و افادیت ہر دور ،ہر زمانہ ،ہر شہر و ہر جگہ رہی ہے -اس کی اہمیت اہل عقل و خرد سے ڈھکی چھپی نہیں ہے -مذہب اسلام نے جہاں اپنی پہلی وحی "اقرء باسم ربك الذي خلق "کہ کر امت مسلمہ کو پڑھنے کی تاکید کی ہے وہیں پر علم کے حامل افراد کو افق مرتبت کی اعلی چوٹی پر فائز بھی کیا ہے "یرفع اللہ الذین آمنوا منکم والذین أوتوا العلم درجات "یعنی اللہ صاحبان علم اور ایمان کے کئی درجات بلند فرماتا ہے (المجادلۃ: 11)تو کہیں اسی کوچے کی خاک چھانی کرنے والے کو دین کی سمجھ میں اللہ نے اپنی خصوصی توجہ کا حامل قرار دیا "من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین "جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ دیتا ہے (جامع الترمذی ،حدیث صحیح رقم: 4526)
    تعلیم کی انہی اہمیتوں کے پیش نظر اسلاف کرام نے اس میدان میں کافی آبلہ پائی کی ہے کوئی خدا کے پیغمبر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے رب خداوند سے علم و حکمت کا خزانہ لیتے ہیں ،تو کوئی صحابی رسول سیدنا ابو ھریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلنے والا ہر ہر علم کے موتی کی حصول کی خاطر اپنی شبانہ روز کی محنتوں کو صرف کرتے ہیں، تو کہیں اندلس سے آنے والا علم کے متلاشی امام دارالھجرۃ سیدنا مالک کے شاگرد خاص محدث کبیر یحیی بن یحیی مطالعہ و دراسہ ہی میں منہمک رہتے ہیں جب کہ ان کے پورے کلاس ساتھی ہاتھی دیکھنے نکل جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ "کیا میں اندلس سے یہی ہاتھی دیکھنے کے لئے آیا ہوں "
    واقعی یہ ہمارے علم کے متلاشیان و طالبان علوم نبوت کے لئے مشعل راہ ہے -تعلیم ہی کے ذریعے ہم اغیار پر اپنا رعب و دبدبہ اور علمی ہیبت ورعونت ڈال سکتے ہیں شاعر مشرق علامہ اقبال نے انہیں افکار و خیالات کو اپنے خوبصورت شعری قالب میں ڈھالا ہے کہ-
    تعلیم سے آتی ہے اقوام میں بیداری
    ہے علم کے پنجہ میں شمشیر جہانداری
    تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ وہی قوم دنیا میں ترقی کی ہے جو تعلیم کے میدان میں مضبوط و مستحکم ہو-ایک سروے کے مطابق پوری دنیامیں سنگاپور ،چاپان ،ناروے ،آئرلینڈ اور امریکہ کے نظام تعلیم معتبر و قابل تقلید مانا جاتا ہے -اور اقوام عالم میں سب سے تعلیم یافتہ قوم یہودیوں کو تسلیم کیا جاتا ہے جب کہ یہ تعداد میں بہت کم ہے اور مسلمان تعلیم میں سب سے پیچھے ہے جب کہ اقوام عالم میں شرح تناسب ان کا زیادہ ہے -تو آئیے جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر تعلیمی معیار کیا ہے ؟متمدن و تعلیم یافتہ اقوام کے گراف میں ان کا شمار کتنے نمبر پر آتا ہے ؟!خصوصاً ان سے ہی جڑا ہوا ایک الگ تہذیب و تمدن کے حامل طبقہ "شیر شاہ آبادی "کی تعلیمی واقتصادی صورتحال کیا ہے ؟ذیل کے سطور میں اختصار کے ساتھ اس کا لکھا جوکھا پیش خدمت ہے ملاحظہ ہو -
    بہلول لودھی کے زمانہ میں شیر شاہ سوری کے دادا ابراہیم خاں افغانستان کے سور سے ہریانہ میں آکر سکونت اختیار کی ،یہی پر فرید خان (شیر شاہ سوری )پیدا ہوئے ،بڑے ہوئے، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھے ،شروع ہی سے بڑے دلیر تھے -ہمایوں کے ساتھ جنگ لڑی اور بازی مار گیے ،اور کرسی حکومت پر فائز ہوئے -اور ملک کو ترقی کے گراف میں ایک قدم آگے لے گیے - بڑے بڑے عہدے افسر شاہی ،پولیس اور افواج جیسے اہم عہدے پر اپنی قوم کے لوگوں کو مامور کیا - لیکن جب 1576ء میں شیر شاہ سوری کا انتقال ہوگیا اور حکومت کی باگ ڈور اکبر کے ہاتھ آیی ،تو اکبر کے افواج اور سوری کے افواج میں جنگ لڑی گیی، جس میں سوری کے افواج کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا- اس شرمناک شکست و ہزیمت اور اکبر کے افواج کے مظالم کی تاب نہ لاکر یہ قوم جنگلوں ،بیابانوں ، پہاڑوں کے نیچے اور ندی و دریاؤں کے کنارے اپنی بستی بسایی -تو اس وقت یہ قوم جس پوزیشن پر پہنچی ، وہ ایسی تھی کہ انہیں معاش کی سخت ضرورت پیش آئی ،چنانچہ یہ لوگ معاش کی تلاش میں ادھر ادھر کی خاک چھانی کرنے لگے ، مچھلی و جنگلی جانوروں کا شکار کرکے کسی طرح اپنی گزر بسر کرنے لگے - ایسے میں اپنے آپ کو مضبوط اور مستقل طور پر کسی بھی جگہ کی آب و ہوا کے موافق بنانا تھا اس وجہ سے شروع میں تعلیم کی طرف بالکل توجہ نہ رہی -بعد میں جب زمانہ نے کروٹ لیا ،گروکولز ،اسکولز اور تعلیم گاہیں کھلنے لگیں ، دوسرے اقوام تعلیمی میادین میں اپنے سکے جمانے لگے تو پھر انہیں شعور ہوا اور اپنے بچے کو اسکول،کالج بھیجنے لگے اور ان کے اندر کچھ تعلیمی جوت جگائی گیی -تاہم آج بھی اس تیز رفتار دور میں شرح خواندگی میں پیچھے ہے -

    تعلیم کے تئیں ان کا رجحان اس وقت کھل کر سامنے آیا جب مسیحا قوم شیر شاہ آبادی سابق ایم ایل اے مرحوم مبارک حسین کے ذریعہ سے اسے سرکاری طور پر ریزرویشن دی گیی اور حکومتی سطح پر ان کے لئے خصوصی توجہ دی گیی- اس کے بعد سے یہ اپنی اولاد کو دینی علوم و معارف کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی متعارف کر وایا ،سرکاری نوکری ملی -آج اللہ کے فضل سے تقریبا یہ قوم (21)سے (22)فیصد تعلیم یافتہ ہے -البتہ گزیٹیڈ نوکری بہت کم لوگوں کو ملی -IAS ,DM, DSP, JUDGE جیسے اعلی عہدوں پر خال خال نظر آتے ہیں -
    اسی طرح وزارت عظمیٰ و اقتدار ملک اور ایڈمنیسٹریشن(ADMINISTRATION ) میں نا کے برابر ہے -اسی طرح لڑکیوں کی شرح خواندگی تقریبا دو ڈھایی فیصد ہے جو قابل رحم اور افسوس کا مقام ہے - تاہم اس قوم کے افراد ہر میدان میں آبلہ پایی کی ہے اور جس شعبہ ہائے حیات میں ہاتھ ڈالا، بڑی کامیابی حاصل کی ہے ،چونکہ ان کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو دوسروں کو اس سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے ان کی جفاکشی،کسی بھی کام میں لگن اور پوری تندہی کے ساتھ اسے تکمیل تک پہنچانا -اس قوم چند بڑی شخصیات نے تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دییے ہیں اور ان کی یہ نمایاں خدمات تاہنوز جاری و ساری ہیں، جیسے ہندوستان کی ممتاز و منفرد خالص سرکاری یونیورسٹی جواہر لال نہرو کے شعبہ عربی کے ممتاز پروفیسر مجیب الرحمان اور مسلم علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے صدر پروفیسر ثناءاللہ اسی قوم کے خوشہ چیں ہیں -دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اشفاق احمد اور کٹیہار ڈی ایس کالج کے پروفیسر عبد اللطیف حیدری اور کے بی جھا کالج کے سابق پروفیسر مرحوم عبد اللطیف اسی قوم کے جیالے ہیں -اسی طرح شعبہ ارسال و ترسیل میں بھی پیچھے نہیں رہے- اس میدان کا ایک بہت بڑا نام ابراہیم سجاد تیمی کا ہے جو بیک وقت صحافی و شاعر ہونے کے ساتھ ایک کامیاب مضمون نگار بھی ہیں، ان کی درجنوں کتابیں زیر طبع ہیں اوراپنی مستعار زندگی میں ملک سے نکلنے والے کئی علمی وادبی مجلات کے مدیر بھی رہ چکے ہیں -اسی طرح مشتاق احمد ندوی بھی اس کاروان صحافت کا ایک حصہ ہیں -خطابتی میدان میں امر ء القیس ،عبد اللہ بن ادریس ،داود اسلامی ،نور محمد اہم ہیں -
    ان کے علاوہ زمینی سطح پر کام کرنے والے افراد میں سے مولانا عبد المتین سلفی رحمہ اللہ علیہ ہیں جنہوں نے بنگال و نیپال کی سرحد پر موضع کشن گنج میں ایک عظیم تعلیم گاہ بنام "جامعۃ البخاری "کی بنیاد رکھی ،جہاں کے فارغین ملک و بیرون ملک میں دعوت و تبلیغ کی راہ میں منہمک ہیں -اسی طرح مولانا اختر عالم سلفی رحمہ اللہ علیہ نے نیپال کی سرحد سے متصل مشہور علاقہ "موتی ٹاپو "میں ایک ادارہ "جامعہ ریاض العلوم "کے نام سے کھولا -جو دن بہ دن اقبال مندی و فیروزمندی کی منزل طیے کرتے جا رہا ہے -ان کے علاوہ بہت سارے تعلیمی ادارے ہیں جن کی بنیاد اسی قوم کے افراد کے دست مبارک سے رکھی گئی اور آج اپنی مشن میں رواں دواں ہیں-!!!
    لیکن ایک بات جو حقیقت کو چھوتی ہے وہ یہ کہ آج کی اس ترقی یافتہ دنیا میں مری ہوئی قومیں بھی بڑی تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں،ساری اقوام اپنی اپنی تہذیب و تمدن کی بقا و تحفظ کی خاطر اپنی شام سحر صرف کر رہی ہیں،تحقیقات و دقیقات اور تعلیمات و تجربات کی ساری راہیں وا ہو چکی ہیں -لیکن اس سب کے باوجود بھی آج یہ قوم جن کی پہلی وحی "اقراء " یعنی تعلیم وتعلم کی ترغیب کے ذریعہ سے ہوئی ،وہ تعلیم میں سب سے پیچھے ہے -اسے "امت اقراء "کہا گیا ،ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ تمام میادین میں یہ آگے ہوتے لیکن ان کی حثییت دیکھ کر حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہتی ہے!!!!
    ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے سربراہان و اہالیان سر جوڑ کر بیٹھیں اور تعلیمی و اقتصادی معیار کو آگے بڑھانے کے لئے ایک کامیاب اسکیم و پلاننگ کی تشکیل دیں -اور نسل نو کے مستقبل تابناک و روشن بنانے کے لئے کامیاب و دوررس منصوبہ عمل میں لائیں - تاکہ اس کی پرورش و پرداخت اسی تیار شدہ منہج پر ہوسکے اور بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ دوسری متمدن اقوام کے شانہ بہ شانہ چل کر دنیا میں اپنے وجود کا ثبوت فراہم کرے اور ایک اچھے و باعزت شہری کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کرے - اللہ ہمیں حسن عمل کی توفیق دے!!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں