محبت اور محبت کی شادی

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اگست 28, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    396
    محبت ایک فطر ی عمل ہے اور اسلام فطرت کا ترجمان ہے اس لحاظ سے محبت کا اسلام سے گہرا تعلق ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    ''اس اللہ نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی۔۔۔۔۔۔ ''[آل عمران:103]

    اس کی تاکید نبی مکرم ﷺ نے بھی ان الفاظ میں فرمائی ہے:

    ''آپس میں تحفے تحائف دو اور محبت کرو۔۔۔۔۔۔''[مؤطأ :1413]

    لہٰذا محبت فطری عمل ہونے کے ساتھ اسلام کا مطالبہ بھی ہے ۔ علاوہ ازیں اسلام ہمیں محبت کرنے اور اس کو ترقی دینے کے ایسے مواقع بھی فراہم کرتا ہے جن پر عمل پیرا ہو کر آپس میں محبت بڑھتی ہے ۔جیسے اخوت ، بھائی چارہ ، ایثار وقربانی وغیرہ۔

    اب ایک ایسا حکم جو اسلام نے دیا ہو جس کے نتائج بھی خوش کن ہوں اور اس کے ذریعے راحت و سکون اور نرمی کی فضا قائم ہو کیا اسکی وجہ سے بے حیا ئی پھیل سکتی ہے ؟

    لیکن افسوس کہ میڈیا (الیکڑونک اور پرنٹ میڈیا ) نے ’ پیار‘ محبت یا love جیسے پاکیزہ انسانی جذبے کو لڑکا اور لڑکی یا مرد اور عورت کی بے راہ روی، بے حیائی اور فحاشی پر مبنی ایک دنیاوی اور معاشرتی قبیح عمل بنا دیاہے اور اس عمل کی تمام تر برائیوں کے باوجود پرنٹ و الکٹرونک اور سوشل میڈیا کی یلغار کی وجہ کر محبت کرنے والے ‘ محبت پر مر مٹنے والے اور محبت کی شادیا ں کرنے والوں کی تعداد اب روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔

    محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گزرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
    آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 50000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 30000 ” لو میرجز ” تھیں ۔

    آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔
    آپ کراچی کی مثال لے لیں جہاں 2010 میں طلاق کے 40410کیسسز رجسٹرڈ ہوئے ۔ 2015 میں صرف خلع کے 13433 سے زیادہ کیسسز نمٹائے گئے ۔

    محبت کی شادی حرام نہیں لیکن ایک جائز کام کیلئے ناجائز اور حرام طریقہ اختیار کرنا ہے ۔

    شادی سے پہلے محبت کے نام پر گناہ و عصیان اور بے حیائی و فحاشی میں پڑنا (جیسے ڈیٹنگ وغیرہ ) حرام ہے۔ آپ اپنی محبت کو کتنا ہی پاکیزہ کہیں لیکن اس راہ میں شیطان پوری طرح اپنا جال بچھائے بیٹھا رہتا ہے جس سے بچنا ممکن نہیں، اس لئے اس سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    محبت کی ابتداء بڑی شاندار اور پُرلذت ہوتی ہے اور انجام انتہائی کرب ناک اور پریشان کن ہوتا ہے کیونکہ لڑکا اور لڑکی کی یہ محبت صرف شکل وصورت یا ایک دوسرے کی ظاہری وبناوٹی عادات سے ہوتی ہے جو پہلی نظر میں مشاہدے میں آتی ہیں۔

    اکثر محبت کی شادی کرنے والے خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں اور شادی کے بعد جب خوابوں کی دنیا سے نکلتے ہیں تب حقیقی زندگی بڑا تکلیف دہ بن جاتا ہے۔ویسے بھی محبت اندھی ہوتی ہے ۔ اس لئے محبت کرنے والے اپنے آئیڈیل کو بے عیب دیکھتے ہیں‘ اس کی کمزوریوں اور خامیوں کو نہیں دیکھتے۔ جب شادی ہو جاتی ہے تب یہ کمزوریاں اور خامیاں سامنے آنا شروع ہو تی ہیں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عفو اور درگزر کے سہارے قبول نہ کیا جائے تو پھر نفرت ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس لئے شادی کے بعد خیالی دنیا سے نکلنا اور حقیقی دنیا کی ہر آزمائش کا مقابلہ کرنا ضروری ہے تاکہ رشتے قائم رہیں ‘ زندگی خوشگوار اور پرمسرت گزرے۔

    گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں ایک دوسرے کے شکر گزار رہیں ۔

    سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔

    پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا۔ شوہر شام میں گھر آتا ، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔ لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا دیا گیا۔ یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔

    مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔

    لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گزاری کی عادت ڈالنے سے سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔

    آپ کی شادی ہوگئی ۔ آپ کو آپ کا آئیڈیل مل گیا۔ اب اپنے آئیڈیل کو فلم اور ڈرامے کے اکٹرز اکٹریسز کے مثالی کردار کے طور پر نہ دیکھیں۔ اب آپ دونوں کردار نہیں بلکہ حقیقی دنیا کے ا فراد ہیں۔ پیار و محبت اور عفو و درگزر کے ذریعے ایک دوسرے کی خامیوں کو دور کرنے کی سعی کریں۔

    اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر اپنے سابقہ گناہوں پر معافی مانگئے اور مزید گناہوں سے بچنے کی کوشش کیجئے۔

    دین کا علم حاصل کیجئے۔ ایک دوسرے کو دین کا علم سکھائیے اور اس کے مطابق صبر و شکر کے ساتھ اپنے گھر کو مثالی اور خوشگوار بنائیے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ایک دوسرے کو اور اپنے بچوں کو جہنم کی آگ سے بچایئے۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:

    ’’ اے ایمان والو! اپنے آپ اوراپنے گھر والوں کواس (جہنم کی) آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اورپتھر ہیں ، جس پر سخت دل اور مضبوط فرشتے مقرر ہيں جنہیں اللہ تعالی جوحکم دے وہ اس کی نافرمانی نہيں کرتے اورجو انہيں حکم دیا جائے وہ اسے بجا لاتے ہیں ‘‘۔ ( التحریم : 6 ) ۔

    اور نبی اکرم ﷺنے فرمایا ہے:

    ’’ خبردار تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارہ میں پوچھا جائے گا ، جو لوگوں پر امیر مقرر ہے وہ حاکم ہے اوراسے اس کی رعایا کے بارہ میں پوچھا جائے گا ، اور مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے وہ ان کا بارہ میں جواب دہ ہے ، اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد پر حاکم ہے وہ ان کے بارہ میں جواب دہ ہے ، اور غلام اپنے مالک کے مال پر حاکم ہے اسے اس کے بارہ میں جواب دینا ہوگا ، خبردار تم میں سے ہر ا یک حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعایا کے بارہ میں جواب دہ ہے ‘‘۔۔ [صحیح بخاری حدحث نمبر ( 7138 ) صحیح مسلم حديث نمبر ( 1829 ) ]۔

    ایک دوسرے کی خلوص، محبت، ایثار اور قربانی کی قدر کریں۔

    بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔ زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔

    خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں۔ ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔

    جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں ۔
    یاد رکھیں مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہیں گے تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائے گا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔

    ارشادباری تعالیٰ ہے:

    ’’ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک رکھو‘‘۔(النساء:۱۹)

    یہ حسن سلوک ہی گھر کو مثالی گھر بناتا ہے اور ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے جو کہ ایک مثالی معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔

    جس اللہ کو گواہ بنا کر آپ نے نکاح کیا ہے‘ زندگی کی ہر آزمائش میں اسی اللہ پر کامل ایمان کے ساتھ مکمل بھروسہ کیجئے، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں زندگی گزارئیے اور نیک اعمال میں سبقت کیجئے اللہ دنیا اور آخرت میں آپ کو اچھی زندگی سے نوازے گا۔

    کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے:

    ’’ جو کوئی بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن بھی ہو تو ہم اسے (دنیا) میں پاک و پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ (جنت) دیں گے‘‘﴿٩٧﴾ سورة النحل
    اپنے گھر کو ٹوٹنے سے بچائیے۔

    اپنے گھر کو مثالی گھر بنائیں۔
    اپنے خاندان کو مثالی خاندان بنائیے اور مثالی اسلامی معاشرے کی تشکیل دیجئے۔
    تحریر: محمد اجمل خان
     
    Last edited: ‏اگست 28, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 2
    • اعلی اعلی x 1
  2. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    بہت عمدہ
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    396
    و ایاک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    471
    کسی جگہ بطور لطیفہ ایک بات لکھی تھی
    "شادی ہونے کے بعد سمجھ آیا ہے کہ ہیرو اور ہیروئین کے ملتے ہی فلم کیوں ختم ہو جاتی ہے"


    بہت عمدہ تحریر ۔۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  5. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    کیوں کنواروں کو ڈرا رہی ہیں سسٹر
    ہُن ایسی وی کوئی گل نہیں ساڈی والی تے شاندار چل رہی ہے
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 2
  6. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    471
    ہا ہا ہا نہیں میں کوئی ڈرا نہیں رہی ۔۔ تحریر سے مطابقت رکھتی ایک بات یاد آگئی تھی بس :D
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں